Crime

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

امریکی لا فرم نے ’انکاؤنٹر‘ میں ہلاکتوں کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

امریکی وکیلوں کے ایک بین الاقوامی گروپ گورینیکا 37 نے یو ایس ٹریژری ڈپارٹمنٹ کے پاس جمع کرائی گئی ایک درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ سابق ڈی جی پی اوم پرکاش سنگھ اور کانپور کےایس پی سنجیو تیاگی کےخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔

ہاتھرس گینگ ریپ متاثرہ کے آخری رسومات کی ادائیگی کرتے پولیس اہلکار۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اتر پردیش میں لاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنانے کے بی جے پی کے دعووں میں کتنی سچائی ہے؟

گزشتہ پانچ سالوں میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے خواتین، اقلیتوں اور اختلاف رائے کا اظہار کرنے والوں پر ہوئے جبر واستبدادکو نظر انداز کیا ہے یا اس عمل میں خود اس کا رول رہا ہے۔ اس صورتحال میں بھی ستم ظریفی یہ ہے کہ بی جے پی ریاست میں امن و امان کے خودساختہ ریکارڈ کو کامیابی کےطور پر پیش کر رہی ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

بُلی بائی ایپ کے نشانے پر رہی خواتین کے پاس ایک ہی راستہ ہے … وہ ہے آگے بڑھتے رہنا

سال 2021 میں اقلیتوں کے خلاف ہیٹ کرائم میں اضافہ ہوا، لیکن میڈیا خاموش رہا۔ اس سال کی ابتدا اور زیادہ نفرت سے ہوئی، لیکن اس کے خلاف ملک بھر میں آوازیں بلند ہوئی۔ اقلیتوں اور خواتین سے نفرت کی مہم کا نشانہ بننے کے بعد میں اپنے آپ کو سوچنے سے نہیں روک پاتی کہ کیا اب بھی کوئی امید باقی ہے؟

بُلی بائی  ایپ پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر)

 بُلی بائی جیسے ایپ کو محض جرم سمجھنا اس میں پوشیدہ بدنیتی اور گہری سازش سے منھ موڑنا ہے

مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے پس پردہ ، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ اس قوم کو اس قدر ذلت دی جائے، ان کےعزت نفس کو اتنی ٹھیس پہنچائی جائے کہ تھک ہارکر وہ ایک ایسی’شکست خوردہ قوم’کے طور پر اپنے وجود کو قبول کر لیں، جوصرف اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو مجبور ہے۔

 (علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: پنچایت انتخاب میں ووٹ نہ دینے کا الزام  لگا کر دلتوں کو ہراساں کرنے والا شخص گرفتار

یہ بہار کے اورنگ آباد ضلع کے انبہ تھانہ حلقے کا معاملہ ہے۔ ملزم بلونت سنگھ نے ڈمری پنچایت کے مکھیا کےعہدے کےلیے الیکشن لڑا تھا لیکن اس شکست ملی تھی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو میں ملزم مبینہ طور پر کچھ لوگوں کو زمین پر تھوکنے اور اس کوچاٹنےپر مجبور کرتے ہوئے، جوتوں سے پیٹتے ہوئے اور ان کی ذات کونشانہ بناکر گالیاں دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: فیس بک)

یوپی پولیس نے شدت پسند ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند پر غنڈہ ایکٹ لگانے کی کارروائی شروع کی

شدت پسندہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند غازی آبادواقع ڈاسنہ دیوی مندر کے مہنت ہیں۔ وہ مسلم مخالف بیان بازیوں کو لےکرسرخیوں میں رہتے ہیں۔اس مہینے کی شروعات میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ایک مسلم لڑکے کو ان کی جاسوسی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اسی سال مارچ میں ڈاسنہ مندر میں ایک مسلم لڑکے کے پانی پینےکی وجہ سے اس کی پٹائی کی گئی تھی۔ جس شخص نے لڑکے کو پیٹا تھا، نرسنہانند نے اس کی حمایت کی تھی۔

ویڈیوگریب۔

بی جے پی اور نرسنہانند سے وابستہ ہندوتوا لیڈر نے ایک مسلمان کو ٹرین میں پیٹا

معاملے کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدت پسند ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند کی پیروکار مدھو شرما مسلمان شخص کا بال پکڑ کر کھینچ رہی ہیں اور انہیں تھپڑ مار رہی ہیں۔دھکا دینے کاالزام لگاتے ہوئے انہوں نے اس کو پاؤں چھونے کے لیے بھی مجبور کیا۔

بچے کے ساتھ کھڑا یتی نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: اسکرین گریب)

غازی آباد: ڈاسنہ مندر میں ’غلطی‘ سے جانے والے دس سالہ مسلم بچے سے پولیس کی پوچھ تاچھ

ڈاسنہ مندر کے پجاری اوررائٹ ونگ کےشدت پسند رہنمایتی نرسنہانند سرسوتی نےالزام لگایا کہ بچے کو ان پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچہ اس علاقے سے واقف نہیں تھا اور انجانے میں مندر میں چلا گیا تھا۔ اس کے بیان کی سچائی جاننے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

گجرات: خاتون سے کئی بار ریپ کرنے کے الزام میں ایک فوٹو گرافر، وکیل اور ڈاکٹر گرفتار

واقعہ گجرات کےآنند کا ہے،جہاں ایک خاتون نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں تینوں ملزمین نے سازش کےتحت کئی بار ان کاریپ کیا، جبراً ان کی نجی تصویریں کھینچی اور انہیں لیک کرنے کی دھمکی دی۔

2020 دہلی تشددکے دوران جعفرآباد میں جلتی  ایک گاڑی۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے معاملے لگ بھگ دوگنے ہوئے: این سی آر بی

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق، ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے 857 معاملے درج کیے گئے۔سال2019 میں ایسے معاملوں کی تعداد438 تھی، جبکہ 2018 میں ایسے 512 معاملے درج کیے گئے تھے۔

-

رابعہ سیفی مرڈر کیس: وکیل نے سازش کا الزام لگایا، سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

ویڈیو: گزشتہ 26 اگست کو 21 سالہ سول ڈیفنس افسر رابعہ سیفی کی لاش ہریانہ کے فریدآباد شہر کے سورج کنڈ پالی علاقے میں ملی تھی۔اس معاملے میں نظام الدین نام کے ایک شخص نے دہلی کے کالندی کنج پولیس اسٹیشن میں قتل کرنے کی بات قبول کرتے ہوئے خودسپردگی کی ۔پولیس کا کہنا ہے کہ نظام الدین کا دعویٰ ہے کہ اس کی شادی رابعہ سے ہوئی تھی، لیکن اہل خانہ نے اس بات کی جانکاری سے انکار کیا ہے۔ دی وائر نے رابعہ کے اہل خانہ اور وکیل سے بات کی۔

یتی نرسنہانند سرسوتی۔

یوپی: خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں یتی نرسنہانند پر تین ایف آئی آر درج

اس سے پہلے بھی غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری یتی نرسنہانند سرسوتی کے خلاف پیغمبر محمد پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔نرسنہانند تب سرخیوں میں آئے تھے، جب ڈاسنہ مندر میں پانی پینے کی وجہ سے ایک نابالغ مسلم لڑکے کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی تھی۔

یتی نرسنہانند اور سورج پال امو۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

نرسنہا نند اور سورج پال امو کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کرنے پر کورٹ نے دہلی پولیس سے رپورٹ طلب کی

گزشتہ4 اگست کو فیصل احمد خان نام کےقانون کے ایک استاذ نے رائٹ ونگ کے شدت پسند رہنماؤں یتی نرسنہانند اورسورج پال امو کے الگ الگ مواقع پرمسلم مخالف بیانات پر جامعہ نگر پولیس اسٹیشن میں شکایتیں کی تھیں۔ کوئی کارروائی نہ ہونے پر 7 اگست کو انہوں نے نے ساکیت ضلع کورٹ سے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کامطالبہ کیا۔

IMG-20210828-WA0003

راجستھان میں مسلمان بھکاری کو پیٹنے کے ملزم نے قبول کیا گناہ

ویڈیو: راجستھان کے اجمیرشہر میں کانپور کے رہنے والے عثمان علی کو ان کے نام اور مذہب کی وجہ سے ہی پیٹا گیا تھا۔ رائٹ ونگ کارکن للت شرما نے ان کی فیملی کے ساتھ بھی مارپیٹ کی تھی۔ اس کے باوجود پولیس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ دی وائر سے بات چیت میں للت شرما کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتے۔ چونکہ انہیں بجرنگ دل کے رہنماؤں اور مقامی پولیس کی بھی حمایت حاصل ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

مہا راشٹر: بین مذہبی شادی کا کارڈ لیک ہونے کے بعد اس کو ’لو جہاد‘ کا معاملہ بتاتے ہوئے مخالفت کی گئی

معاملہ ناسک کا ہے، جہاں ایک ہندو خاتون کی مسلمان مرد سے شادی کا کارڈ وہاٹس ایپ پر لیک ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے ‘لو جہاد’ بتاتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ گھر والوں کی رضامندی سے شادی کی تقریب 18 جولائی کو ہونی تھی، لیکن اب اسے رد کر دیا گیا ہے۔

(السٹریشن:پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

اس ملک میں مسلمانوں کو کھلے عام گالی دی جا سکتی ہے، ان کا خون کرنے کی بات کی جاسکتی ہے …

یہ ہندوستان کی معاشرتی فطرت بنتی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو کھلے عام مارا جا سکتا ہے، ان کے خلاف پرتشدد پروپیگنڈہ کیا جا سکتا ہے اور پولیس انتظامیہ سے لےکر سیاسی پارٹیوں تک کوئی بھی اسے سنگین معاملہ ماننے کو تیار نہیں۔

0304-HKB-07-April-Out.00_35_50_04.Still031

بلندشہر: گوشت فروش کے اہل خانہ کا الزام، انہیں یوپی پولیس نے مار ڈالا

ویڈیو: اتر پردیش کی بلندشہر پولیس کی ایک ٹیم کئی مجرمانہ معاملوں سمیت غیرقانونی گئوکشی کے الزام میں گوشت فروش محمد عقیل قریشی کو گزشتہ23 اور 24 مئی کی درمیانی شب میں گرفتار کرنے گئی تھی۔ اسی دوران مشتبہ حالات میں چھت سے گرکر قریشی شدید طورپرزخمی ہو گئے تھے۔ 27 مئی کو ان کی علاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔

(علامتی تصویر، فوٹو:اسپیشل ارینجمنٹ)

مسلمانوں کو  ہراساں کرنے کی وجہ اب پولرائزیشن نہیں

ملک کے رہنماگزشتہ کوئی بیس سالوں کی انتھک کوششوں سے سماج کا اتنا پولرائزیشن پہلے ہی کر چکے ہیں کہ آنے والے کئی سالوں تک ان کی انتخابی جیت یقینی ہے۔ پھر کچھ لوگ اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور انہیں ذلیل وخوارکرنے کے لیے جوش و خروش کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟

نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: فیس بک)

مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے معاملے میں نرسنہانند پر کارروائی کا مطالبہ

اس سے پہلےصدرجمہوریہ کو لکھے گئے میمورنڈم میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا نے ڈاسنہ مندر کے پجاری کی گرفتاری کا مطالبہ کیاتھا۔میمورنڈم میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ مختلف مذہبی گروپوں کے بیچ نفرت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کرنے والوں کو سزادینے کے لیے ایک خصوصی اور سخت قانون بنایا جانا چاہیے۔

نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: فیس بک)

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا نے ڈاسنہ مندر کے پجاری کی گرفتاری کا مطالبہ کیا

اس سے پہلے مذہبی رہنما اور غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری نرسنہانند سرسوتی کے خلاف مسلم کمیونٹی کے جذبات کو مبینہ طور پر ٹھیس پہنچانے کے لیے راجدھانی دہلی میں عآپ ایم ایل اے اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کی جانب سے گزشتہ تین اپریل کو ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔

Amanatullah Khan. Photo: PTI

مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے معاملے میں نرسنہا نند کے خلاف کیس کے بعد عآپ ایم ایل اے پر ایف آئی آر

عآپ ایم ایل اے امانت اللہ خان نے ہندوتوادی رہنما اور غازی آباد واقع ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری نرسنہانند سرسوتی کے خلاف پیغمبرمحمد اور مسلمانوں کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کے الزام میں شکایت درج کرائی ہے۔ نرسنہانند پچھلے مہینے تب چرچہ میں آئے تھے، جب ڈاسنہ مندر میں پانی پینے کی وجہ سے14 سالہ ایک مسلم لڑکے کی بے رحمی سےپٹائی کی گئی تھی۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

میرٹھ: ٹیوشن جا رہی طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ، پولیس نے کہا-زہر کھا کر جان دی

اتر پردیش میں میرٹھ ضلع کے تھانہ سردھنا علاقے کا معاملہ۔ گزشتہ یکم اپریل کو دسویں میں پڑھنے والی طالبہ کو گاؤں کے ہی چار نوجوانوں نے اغوا کرکےگینگ ریپ کیا تھا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ملزمین نے ریپ کے بعد زہر پلایا تھا۔ وہیں پولیس کہہ رہی ہے اس کے پاس سے سوسائیڈ نوٹ ملا ہے اس لیے یہ خودکشی ہے۔

WhatsApp Image 2021-03-24 at 23.37.24 (1)

بہار اسمبلی میں آر جے ڈی رہنماؤں کی پٹائی؛ جمہوریت  کے لیے شرمناک دن

ویڈیو: بہار اسمبلی میں رہنماؤں کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کے واقعہ کی پورے ملک میں مذمت کی جا رہی ہے۔ اس پورے معاملے پر راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان شکتی سنگھ، سینئر صحافی فیضان احمد اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت

Bulletin 16 March 2021.00_11_53_18.Still004

کیا ہندوؤں کو تشدد پسند بنایا جا رہا ہے؟

ویڈیو: اتر پردیش کے غازی آبادواقع شیو شکتی دھام ڈاسنہ مندر میں ایک مسلمان لڑکے کو پانی پینے کے لیےبے رحمی سے پیٹا گیا۔ ڈاسنہ میں ہونے والا یہ واقعہ نفرت کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ذہنیت کیوں پیدا ہوتی ہے؟ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟ ان باتوں کو سمجھنے کے لیےآزاد صحافی علی شان جعفری سے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔

ڈاسنہ کے مندر میں نابالغ مسلم لڑکے کی بے رحمی سےپٹائی کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ (بہ شکریہ: ویڈیوگریب)

ظلم و بربریت بھلے ہی معمول بن جائے اس کو فطری نہ تسلیم کرنے سے ہی انسانیت بچی رہتی ہے

ڈاسنہ کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کوتشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، پولیس اس کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ جس نے تشدد کیاپولیس اس کو ڈھونڈ کر اس کے ساتھ انصاف کاعمل شروع کر سکتی ہے۔ انسانیت کی بقا کی امیدقانون یا آئین کی فہم کے زندہ رہنے پر ہی منحصر ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

غازی آباد: مندر کے اندر پانی پینے گئے لڑکے کی بے رحمی سے پٹائی، ملزم گرفتار

اتر پردیش کے غازی آباد شہر کے مندر سے پانی پینے کے لیے 14سالہ ایک مسلم لڑکے کو گالیاں دینے اور اس کی بے رحمی سے پٹائی کرنے کے ملزم کو اس کے ایک ساتھی کے گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ مندر انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ ملزم کی قانونی مدد کریں گے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

راجستھان: زندہ جلائی گئی ریپ متاثرہ کی موت، ریپ کے ملزم سمیت دو لوگ حراست میں

راجستھان کے ہنومان گڑھ ضلع کا معاملہ۔ متاثرہ کی نانی کا الزام ہے کہ ان کی نواسی کے ساتھ ریپ کرنے والے پردیپ وشنوئی نے ہی اسے زندہ جلایا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی میں نظر آ رہے نوجوان کی پہچان نہیں ہو پائی ہے۔ وشنوئی کے رول کی جانچ کی جا رہی ہے۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئےروپانی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سخت قانون کے ذریعے ہندو لڑکیوں کے تبدیلی مذہب کو روکیں گے: وجئے روپانی

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے گودھرا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ ان کی سرکار ایک مارچ سے شروع ہو رہے ودھان سبھاسیشن میں لو جہاد کے خلاف قانون لانا چاہتی ہے تاکہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کو روکا جا سکے۔

(فوٹوبہ شکریہ : انڈین ریلوے ویب سائٹ)

مدھیہ پردیش: حاملہ خاتون سے بدسلوکی، نوجوان کو کندھے پر بٹھا کر چلنے کے لیے مجبور کیا

معاملہ گنا ضلع کا ہے۔ پانچ مہینے کی حاملہ خاتون کو شوہر کےچھوڑنے کے بعد ایک دوسرےشخص کے ساتھ رہنے سے ناراض سسرال والوں نے اس سے مارپیٹ کی اور کندھے پر ایک نوجوان کو بٹھا کر تین کیلومیٹر تک برہنہ پاؤں گھمایا۔ معاملے کا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد چار لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔

Nested Sequence 05.00_00_18_27.Still007

فوج میں ایڈلٹری قانون کو جاری رکھنے کی مانگ کیوں ہو رہی ہے؟

ویڈیو: ملک میں ایڈلٹری کو جرم کے خانے سے ہٹائے جانے کے تین سال بعد مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ فوج میں ایڈلٹری کو جرم ہی رہنے دیا جائے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ اس سے فوج میں ڈسپلن پر اثر پڑتا ہے۔

(علامتی تصویر ، فوٹو: رائٹرس)

مدھیہ پردیش: خاتون سے گینگ ریپ کے بعد پرائیویٹ پارٹ میں راڈ ڈالا

واقعہ مدھیہ پردیش کے سیدھی ضلع کے املیا تھانہ حلقہ میں گزشتہ نو جنوری کو رونما ہوا۔ پولیس نے چاروں ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ خاتون کو نازک حالت میں ریوا شہر کے سنجے گاندھی میڈیکل کالج میں بھرتی کرایا گیا ہے۔

قومی کمیشن برائے خواتین کی رکن  چندرمکھی دیوی(فوٹو: این سی ڈبلیو ویب سائٹ)

بدایوں گینگ ریپ: قومی کمیشن برائے خواتین کی رکن  نے کہا-شام کو خاتون اکیلی نہیں گئی ہوتی تو شاید یہ واقعہ نہیں ہوتا

قومی کمیشن برائے خواتین کی رکن چندرمکھی دیوی نے بیان پر تنازعہ ہونے کے بعد معافی مانگ لی ہے۔ اتر پردیش کے بدایوں ضلع میں گزشتہ تین جنوری کی شام مندر گئیں ایک50سالہ خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اسپتال میں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی تھی۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش: بدایوں گینگ ریپ معاملے کا کلیدی ملزم مہنت گرفتار

اتر پردیش کے بدایوں ضلع میں تین جنوری کی شام مندر پوجا کرنے گئیں پچاس سالہ خاتون کے ساتھ مندر کے مہنت سمیت تین لوگوں نے مبینہ طور پر گینگ ریپ کیا اور زخمی حالت میں خاتون کو اس کے گھر کے سامنے پھینک کر فرار ہو گئے تھے۔ علاج کے دوران اسپتال میں خاتون کی موت ہو گئی تھی۔

اتر پردیش کے دگمبر جین کالج میں جین کے مجسمے کے پاس اکٹھا اے بی وی پی کارکن۔ (ویڈیو اسکرین گریب: ٹوئٹر/@djohninc)

اتر پردیش: جین کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے اے بی وی پی کے چار کارکنوں کی رکنیت رد

گزشتہ 22 دسمبر کو بڑوت کے دگمبر جین کالج میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے چار ممبروں نے شرت دیوی کے مجسمے کو نقصان پہنچایا تھا، جس کے بعدتنظیم نے معافی مانگی تھی۔ ان چاروں کے خلاف دنگا کرنے سمیت آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

بامبے ہائی کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

محض گائے یا بیل کی کھال رکھنا جرم نہیں ہے: بامبے ہائی کورٹ

بامبے ہائی کورٹ کی بنچ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جانوروں کے تحفظ سےمتعلق ایکٹ کے تحت جانور کی کھال کو لےکر کوئی اہتمام نہیں ہے۔ اس لیے کھال رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور اس طرح جرم کا معاملہ نہیں بنتا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/MYogiAdityanath)

اترپردیش تبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قانون کی قانونی ’خامیاں‘ اس کے نفاذکی بدنیتی کو دکھاتی ہیں

مدھیہ پردیش اور اڑیسہ کےتبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قوانین میں کہیں بھی بین مذہبی شادی کا ذکر نہیں تھا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس پر کوئی تبصرہ کیا تھا۔ ایسے میں اتر پردیش سرکار کا ایسا کوئی اختیار نہیں بنتا کہ وہ بنا کسی ثبوت یادلیل کے بین مذہبی شادیوں کو نظم و نسق کے سوال سے جوڑ دے۔

Don`t copy text!