Delhi High Court

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات:  قومی ترانہ گانے پر مجبور کیے گئے نوجوان کی موت کی جانچ کی مانگ کو لے کر عرضی

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی دنگے کے دوران 23 سالہ فیضان کی موت کے معاملے میں عدالت کی نگرانی میں جانچ کی مانگ سےمتعلق عرضی پر دہلی سرکار اور کرائم برانچ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دنگوں کے دوران ایک ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار زمین پر فیضان سمیت کچھ زخمی نوجوانوں سے قومی ترانہ گانے کو کہتے دکھ رہے تھے۔ فیضان کی اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔

عمر خالد، ٖفوٹو بہ شکریہ: فیس بک

جو عوام  آج عمر کو دہشت گرد کہہ ر ہی ہے، وہ انہی  کے لیے کام کرنا چاہتا تھا…

دہلی پولیس نے لکھا ہے کہ عمر خالد سیکولرازم کا نقاب اوڑھ کر شدت پسندی کو بڑھاوا دیتا ہے۔آپ کو بھی یہی لگتا ہے تو کم سے کم یہ مطالبہ تو کر ہی سکتے ہیں کہ دہلی پولیس کے افسروں کو فلم ہدایت کار بن جانا چاہیے کیونکہ وہ لوگوں کے اندر چھپے اداکار کو پہچان لیتے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

عبادت گاہوں کی آڑ میں سرکاری زمین پر تجاوزات نہیں کر سکتے: دہلی ہائی کورٹ

دہلی کے نیو پٹیل نگر میں دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ذریعےچار مندروں کو توڑنے کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی پر شنوائی کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ کئی معاملوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مندر یادیگر عبادت گاہوں کی آڑ میں سرکاری زمین پر دعویٰ کیا جاتا ہے۔

2307 Gondi.00_12_44_11.Still215

سی اے اے کی مخالفت کیوں ضروری تھی اور ہے؟

ویڈیو: حکومت ہند کی جانب سے لائے گئے شہریت قانون کی مخالفت11دسمبر 2019 سے دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے شروع ہوئی تھی۔ اس قانون کے پاس کیے جانے اور اس کی مخالفت کے ایک سال مکمل ہونے پر تحریک کی ضرورت اوراہمیت پر دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کا نظریہ۔

عمر خالد (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: جے این یو کے سابق اسٹوڈنٹ عمر خالد نے جیل میں طبی سہولیات نہیں ملنے کا الزام لگایا

جے این یواسٹوڈنٹ یونین کے سابق رہنما عمر خالد کو شمال-مشرقی دہلی فسادات معاملے میں گزشتہ ستمبر میں گرفتار کیا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ پچھلے تین دن سے دانت درد کی شکایت کے بعد بھی تہاڑ جیل انتظامیہ نے کوئی علاج مہیا نہیں کرایا ہے۔

WhatsApp Image 2020-12-15 at 14.44.35

جامعہ تشدد کا ایک سال: ’پولیس کی بربریت کو بھول پانا آسان نہیں‘

ویڈیو:گزشتہ سال دسمبر میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں ، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

دسمبر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری میں کی گئی توڑ پھوڑ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

جامعہ تشدد کے ایک سال بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں، اب امید بھی نہیں: وی سی

گزشتہ سال دسمبر میں شہریت قانون کے خلاف ہوئے مظاہرہ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ وہیں، ایک اسٹوڈنٹ کے ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی تھی۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات : پولیس کے انکار کے بعد کورٹ نے ایف آئی آر درج کر کے غیر جانبدارانہ جانچ کر نے کا حکم دیا

دہلی فسادات میں ملزم ایک شخص نے اپنے پڑوسیوں کے ذریعے ان کے گھر پر حملہ کرنے کاالزام لگایا تھا۔ پولیس نے ایسا کوئی جرم ہونے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ خود کو بچانے کے لیےملزم یہ الزام لگا رہا ہے۔

عمر خالد۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک@MuhammedSalih)

عمر خالد ’دہشت گرد‘ ہے کہ نہیں؟

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر بے قصور ہوگا تو اپنے آپ باہر آ جائےگا، ان کو میں کہہ دوں، کیوں نہ آپ کو سال بھر کے لیے جیل میں بند کر دیا جائے؟ کیوں نہ ملک کے ہر شہری کو 18سال کا ہوتے ہی سال بھر کے لیے جیل میں بند کر دیا جائے۔ ہم سب بے قصور ہیں، باہر آ ہی جائیں گے۔

جسٹس مدن لوکر، جسٹس اےپی شاہ، آر ایس سوڈھی، جسٹس انجنا پرکاش، جی کے پلئی اور میران چڈھا بورونکر۔

دہلی فسادات کی آزادانہ جانچ کے لیے سابق ججوں، سینئر آئی اے ایس-آئی پی ایس افسروں کی کمیٹی بنی

مرکز اورریاستی سرکاروں میں کام کر چکےسابق ملازمین کے ایک گروپ‘کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ’کے زیر اہتمام بنی اس کمیٹی کےصدر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن لوکر ہیں۔ یہ دہلی فسادات کے سلسلے میں سرکار، پولیس اور میڈیا کے رول کی بھی کی جانچ کرےگی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات: دہلی سرکار نے سات ویڈیو سونپے، دنگائیوں کے ساتھ پتھراؤ کرتی نظر آئی پولیس

دہلی سرکار کےمحکمہ داخلہ نے پانچ اکتوبر کو ایسے سات ویڈیو کلپ دہلی پولیس کو سونپے ہیں، جس میں سے کچھ میں دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران دو پولیس اہلکارمبینہ طور پر دنگائیوں کے ساتھ مل کر اینٹ اور انڈے پھینک رہے ہیں۔

دہلی پولیس اہلکاروں  کے ساتھ پولیس کمشنر ایس این شریواستو۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: پولیس نے جن ’سیکریٹ‘ گواہوں کی پہچان چھپانے کی بات کہی، چارج شیٹ میں دیے ان کے نام

دہلی پولیس نے کہا تھا کہ دہلی فسادات معاملے میں گواہی دینے والے 15گواہوں نے اپنی جان کو خطرہ بتایا ہے، جس کی وجہ سے عرفی ناموں کا استعمال کر کےان کی پہچان پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ حالاں کہ پچھلے دنوں دائر پولیس کی 17000صفحات کی چارج شیٹ میں ان سب کے نام پتے سمیت مکمل پہچان ظاہر کر دی گئی ہے۔

جعفرآباد میٹرو اسٹیشن کے نیچے سی اے اے مخالف مظاہرہ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نفرت بنام امن: دہلی فسادات کے متعلق دو وہاٹس ایپ گروپ کی کہانی

دہلی فسادات معاملے میں سامنے آئے دو وہاٹس ایپ گروپ میں سے ایک‘ہندو کٹر ایکتا گروپ’ہے، جہاں‘ملوں کو مارنے’کے دعوے کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب دہلی پروٹیسٹ سپورٹ گروپ میں سی اےاےمظاہرہ،تشدد نہ کرنے اورآئین میں بھروسہ رکھنے کی باتیں ہوئی ہیں۔ دہلی پولیس نے دوسرے گروپ کے کئی ممبروں کو فسادات کی سازش میں ملوث بتایا ہے۔

2307-Gondi.00_38_40_09.Still094

مذہب کی بنیاد پر شہریت قانون بنانا جائز نہیں

ویڈیو: پچھلے کچھ وقتوں سے اپوزیشن کی آواز کو پارلیامنٹ اورپارلیامنٹ سے باہر دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔سی اے اےمخالف مظاہروں میں حصہ لینے والوں کو جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔ انہیں دہلی فسادات میں پھنسایا جا رہا ہے۔ ان مدعوں پرسابق نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری سے د ی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

گل فشاں  فاطمہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات: گرفتار جامعہ اسٹوڈنٹ نے تہاڑ جیل کے اہلکاروں پرذہنی ہراسانی کے الزام لگائے

دہلی تشددسے جڑے معاملے میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار اسٹوڈنٹ گل فشا ں فاطمہ نے مقامی عدالت کی شنوائی میں الزام لگایا کہ جیل میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے، فرقہ وارانہ تبصرےکیے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ خود کو کوئی نقصان پہنچاتی ہیں، تو جیل انتظامیہ اس کی ذمہ دار ہوگی۔

الیاس اور مرسلین(فوٹو: تاروشی اسوانی)

دہلی فسادات: نوجوان کا دعویٰ-پولیس نے کہا تھا کہ 10 مسلمانوں کا نام لے لے تو رہا کر دیں گے

اٹھائیس سالہ الیاس کو پانچ مہینے سے زیادہ جیل میں رہنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ شمال -مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران دو اسکولوں کی ملکیت کوتباہ کرنے کے الزام میں ان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا گیا۔

نتاشا نروال(فوٹوبہ شکریہ : سوشل میڈیا)

دہلی فسادات: پنجڑہ توڑ ممبر نتاشا نروال کو ملی ضمانت، یو اے پی اے معاملے میں رہنا ہوگا جیل میں

نتاشا نروال کی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پولیس کی جانب سے دکھائے گئے ویڈیو میں وہ نظر تو آ رہی ہیں، لیکن اس میں ایسا کچھ نہیں دکھ رہا ہے، جو یہ اشارہ دیتا ہو کہ وہ تشدد میں شامل تھیں یا انہوں نے تشدد بھڑکایا ہو۔

(فوٹو: رائٹرس)

دہلی فسادات: نو سابق آئی پی ایس افسروں نے پولیس کی جانچ پر اٹھائے سوال

آئی پی ایس افسروں نے دہلی پولیس کمشنر کو خط لکھ کر فسادات سےمتعلق تمام معاملوں کی غیرجانبداری سےدوبارہ جانچ کرانے کی گزارش کی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ شہریت قانون کی مخالفت کر رہے لوگوں کو اس میں پھنسانا افسوس ناک ہے۔ بنا کسی ٹھوس ثبوت کے ان پر الزام لگاناغیرجانبدارانہ جانچ کے تمام ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔

جیتی گھوش، اپوروانند، سیتارام یچوری، راہل رائے اور یوگیندریادو۔

دہلی فسادات: پولیس نے ’سازش‘ کا دائرہ بڑھایا، کارکنوں اور ماہرین تعلیم کا نام گھسیٹا

دہلی پولیس نے تین ملزم طالبعلموں کے بیانات کےسہارے دعویٰ کیا ہے کہ یوگیندریادو، سیتارام یچوری،جیتی گھوش،پروفیسراپوروانندجیسےلوگوں نےسی اے اےکی مخالفت کر رہے مظاہرین کو‘کسی بھی حد تک جانے کو کہا تھا’اور سی اے اے-این آرسی کو مسلمان مخالف بتاکر کمیونٹی میں ناراضگی بڑھائی۔ حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے نام بطور ملزم شامل نہیں ہیں۔

دیوانگنا کلیتا(فوٹو: اکھل کمار)

دہلی فسادات: جے این یو اسٹوڈنٹ اور پنجرہ توڑ ممبر دیوانگنا کلیتا کو ہائی کورٹ سے ضمانت ملی

پنجرہ توڑ کی ممبر دیوانگنا کلیتا کو دہلی فسادات کےسلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ضمانت ملنے کے بعد بھی انہیں رہا نہیں کیا جائےگا کیونکہ ان پر یواے پی اے کے تحت بھی ایک معاملہ درج ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: جانچ سے متعلق  جانکاری میڈیا میں لیک کر نے پر پولیس کو ہائی کورٹ کا نوٹس

دہلی فسادات سے متعلق معاملے میں گرفتار ہوئے جامعہ کے ایک اسٹوڈنٹ نے الزام لگایا ہے کہ پولیس حساس جانکاری میڈیا کو لیک کر رہی ہے۔ ان کی عرضی پر ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کے ساتھ کچھ میڈیااداروں کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

دہلی فسادات: الیکشن کمیشن پر پولیس سے ووٹر لسٹ شیئر کر نے کا الزام، کمیشن نے کیا انکار

الیکشن کمیشن نے وضاحت جاری کرکے کہا کہ اس نے دیگر سرکاری محکموں کے ساتھ ووٹر لسٹ اور فوٹو شناختی کارڈ شیئر کرنے کے سال 2008 کے اپنے گائیڈ لائن سے کسی بھی طرح انحراف نہیں کیا ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند(فوٹو بہ شکریہ: یوٹیوب/Bytes Today)

دہلی فسادات: سازش کے جال میں پروفیسر اپوروانند کو پھنسانے کی کوشش

دہلی فسادات کےمعاملے میں دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے پوچھ تاچھ کے بعد کئی میڈیا رپورٹس میں دہلی پولیس کی جانب سے لیک جانکاری کی بنیاد پر انہیں‘فسادات کا ماسٹرمائنڈ’ کہا گیا۔ مصدقہ حقائق کے بغیر آ رہی ایسی خبروں کا مقصد صرف ان کی امیج کو خراب کرکے ان کے خلاف ماحول بنانا لگتا ہے۔

پروفیسر اپوروانند(فوٹو:دی وائر)

دہلی فسادات: پروفیسر اپوروانند سے پولیس نے پانچ گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی، موبائل ضبط

دہلی یونیورسٹی کےپروفیسر اپوروانند نے بتایا کہ دہلی فسادات کے معاملے میں ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پریشان کن بات ہے کہ ایک ایسااصول بنایا جا رہا ہے جہاں مظاہرین کو ہی تشدد کا ذریعہ بتایا جا رہا ہے ۔ امید کرتا ہوں کہ جانچ پوری طرح سے غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہو۔

عمر خالد۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک@MuhammedSalih)

دہلی فسادات: عمر خالد سے پوچھ تاچھ، موبائل ضبط

دہلی پولیس نے فروری میں دہلی میں ہوئے فسادات کی مبینہ سازش کو لےکر عمر خالد پر سنگین الزام لگائے ہیں۔ خالد نے تمام الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ فسادات کے لیےاصل میں ذمہ دار لوگوں کو پکڑنے کے بجائے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کو پھنسایا جا رہا ہے۔

Nargis 2

دہلی فسادات: کتابیں جلیں، پڑھنے کا جذبہ نہیں…

ویڈیو: شمال-مشرقی دہلی کے ایک سرکاری اسکول کی اسٹوڈنٹ نرگس نسرین نے فروری کے فسادات میں اپنا گھر اور اپنی کتابیں کھونے کے باوجود اچھےنمبرات کے ساتھ 12ویں بورڈ کا امتحان پاس کیا ہے۔ وہ کیسے اس دور سے گزریں اور کیسے گھروالوں کو سنبھالا، انہی کی زبانی۔

دیوانگنا کلیتا(فوٹو: اکھل کمار)

پنجرہ توڑ کارکن پر الزام طے ہو نے تک ان کے بارے میں جانکاری نشر نہ کرے پولیس: دہلی ہائی کورٹ

سی اے اے مظاہرہ سے متعلق معاملے میں گرفتار جے این یواسٹوڈنٹ اور پنجرہ توڑ کارکن دیوانگنا کلیتا نے ایک عرضی میں کہا تھا کہ کرائم برانچ ان پر لگے الزامات کے سلسلے میں چنندہ طریقے سے جانکاریاں عوام کر رہی ہے اور گمراہ کن جانکاری پھیلا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کی اور ان کے اہل خانہ کی جان کو خطرہ ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: ویڈیو فوٹیج نکالنے میں تاخیر پر ناراض عدالت نے دہلی پولیس کی سرزنش کی

ایک مقامی عدالت کو بتایا گیا کہ دہلی تشدد کے معاملے میں پولیس نے اب تک جعفرآباد اور موج پور میٹرو اسٹیشن کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور فوٹو قبضہ میں نہیں لی ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ پولیس کو یہ بتانا کہ کب اور کون سے ثبوت اکٹھے کرنے ہیں، کورٹ کا کام نہیں ہے۔

گل فشاں  فاطمہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات کے سلسلے میں گرفتار گل فشاں فاطمہ کی رہائی کے لیےشہریوں  نے اپیل کی

دہلی فسادات کےسلسلےمیں گرفتار گل فشاں فاطمہ سو دن سے زیادہ عرصے سے تہاڑ جیل میں ہیں۔سول سوسائٹی کے ممبروں، ماہرین تعلیم اور قلمکاروں سمیت450 سے زیادہ لوگوں نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس وباکا فائدہ اٹھاکر مظاہرین کو غیر قانونی طریقےسے گرفتار کر رہی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: کیا انصاف کا گلا گھونٹنے کے لیےمرکزی حکومت ’گجرات ماڈل‘ اپنا رہی ہے؟

گجرات فسادات کے بعد کی گئی کچھ ریکارڈنگس بتاتی ہیں کہ کس طرح سنگھ پریوار کے ممبروں کی پبلک پراسیکیوٹر کے طور پرتقرری کی گئی، جنہوں نے ان معاملوں کو ‘سیٹل’ کرنے میں مدد کی، جن میں ملزم ہندو تھے۔ اب دہلی فسادات کے معاملے میں مرکزی حکومت اپنی پسند کے پبلک پراسیکیوٹر چننا چاہتی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: ایک ہی معاملے میں دو عرضیاں دائر کر نے پر ہائی کورٹ نے دہلی پولیس کو پھٹکار لگائی

دہلی ہائی کورٹ نے ایک ہی معاملے میں الگ الگ عرضیاں دائر کرنے کے لیے دہلی پولیس پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی نظام کاغلط استعمال کر رہی ہےاور سسٹم کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

دیوانگنا کلیتا گرفتاری: ٹوئٹس سے ناراض ہوئی دہلی پولیس سے عدالت نے کہا، نشانہ آپ نہیں

پنجرہ توڑممبردیوانگنا کلیتا کی گرفتاری کے بعد ہوئے کچھ ٹوئٹس پر دہلی پولیس کو اعتراض تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس پر کہا کہ ٹوئٹس میں جہادی، لیفٹسٹ سازش جیسے نیریٹو‘ہندوتوا کی مشینری’کے ذریعے پھیلانے کی بات کی گئی ہے، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ پولیس یہ مشینری ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات میں رہنماؤں کے رول کے ثبوت نہیں: دہلی پولیس

دہلی ہائی کورٹ کے سامنے دہلی پولیس نے یہ جواب ان پی آئی ایل عرضیوں کے جواب میں دیا ہے، جن میں کپل مشرا سمیت بی جےپی، کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے کچھ رہنماؤں پر ہیٹ اسپیچ کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: پولیس نے کہا، ہندوؤں کی گرفتاری پر کمیونٹی میں غصہ، احتیاط برتنے کی ضرورت

دہلی فسادات کے سلسلے میں دہلی پولیس کی جانب سے کی جا رہی جانچ اورگرفتاریوں کے بیچ اسپیشل پولیس کمشنر پرویر رنجن نے ایک آرڈر میں خفیہ ان پٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات متاثرہ علاقوں میں کچھ ہندو نوجوانوں کوحراست میں لیے جانے سے کمیونٹی کے لوگوں میں غصہ ہے۔

کپل مشرا،فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات: دو شکایتوں میں کپل مشرا کا نام، عدالت نے پولیس سے جواب مانگا

شمال مشرقی دہلی کے دو لوگوں نے کڑکڑڈوما کورٹ میں عرضی دائر کر کے مانگ کی ہے ان کے حلقہ میں امن و امان اور ہم آہنگی کو خراب کرنے اورتشددکرانے میں مدد کرنے کے لیے بی جے پی رہنماکپل مشراکے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

پنجرہ توڑ کارکن کی عرضی کے جواب پر دہلی پولیس کو کورٹ کی پھٹکار

سی اے اے مخالف مظاہرے کے سلسلے میں گرفتار جے این یواسٹوڈنٹ اور پنجرہ توڑ کارکن دیوانگنا کلیتا کی ایک عرضی پر پولیس کی جانب سےدائر حلف نامے کو لےکر دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ اس میں کئی الزام لگائے گئے ہیں، جو غیرذمہ دارانہ ، غیرمناسب اور عرضی کے دائرے سے پرے ہیں اور انہیں واپس لیا جانا چاہیے۔

Don`t copy text!