Delhi Police

بُلی بائی  ایپ پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر)

 بُلی بائی جیسے ایپ کو محض جرم سمجھنا اس میں پوشیدہ بدنیتی اور گہری سازش سے منھ موڑنا ہے

مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے پس پردہ ، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ اس قوم کو اس قدر ذلت دی جائے، ان کےعزت نفس کو اتنی ٹھیس پہنچائی جائے کہ تھک ہارکر وہ ایک ایسی’شکست خوردہ قوم’کے طور پر اپنے وجود کو قبول کر لیں، جوصرف اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو مجبور ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

کیا ہمارے گھروں میں تشدد اور جرائم پل رہے ہیں؟

سال 2014 کےبعدتشددجیسےاس معاشرے کےپور پورسے پھوٹ کر بہہ رہا ہے۔ یہ کہنا پڑے گا کہ ہندوستان کی ہندو برادری میں تشدد اور دوسری برادریوں کے تئیں نفرت کا احساس بڑھ گیا ہے۔غیر ہندو برادریوں میں ہندو مخالف نفرت کےپروپیگنڈے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ نفرت اور تشددیکطرفہ ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

بُلی بائی ایپ معاملہ: آسام سے انجینئرنگ کا طالبعلم گرفتار، اب تک چار لوگ پکڑے گئے

بُلی بائی ایپ پر نیلامی کے لیےسینکڑوں مسلم خواتین کی چھیڑچھاڑ کی گئی تصویروں کو ان کی اجازت کے بغیراپ لوڈ کرنےکےمعاملے میں گرفتار چوتھے شخص کی شناخت 21 سالہ نیرج وشنوئی کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ بشنوئی نے گٹ ہب پلیٹ فارم پر ‘بُلی بائی’ایپ بنایا تھا اور وہ ٹوئٹر پر ‘بُلی بائی’کاکلیدی اکاؤنٹ ہولڈر بھی ہے۔

ممبئی کے پولیس کمشنر ہیمنت ناگرالے نے 'بُلی بائی'ایپ کے حوالے سے میڈیا سے خطاب کیا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بُلی بائی ایپ معاملہ: ممبئی پولیس نے کہا-گمراہ کرنے کے لیے سکھ ناموں کا استعمال کیا گیا

ممبئی پولیس نے کہا کہ سکھ برادری سےمتعلق ناموں کا استعمال یہ ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا کہ یہ ٹوئٹر ہینڈل اسی کمیونٹی کے لوگوں نے بنایاہے۔ ‘بُلی بائی’ایپ کے ذریعے جن خواتین کو نشانہ بنایا گیا وہ مسلمان ہیں، اس لیے اس بات کا بہت امکان تھا کہ اس کی وجہ سے دونوں برادریوں کے بیچ دشمنی پیدا ہو سکتی تھی اور عوامی امن وامان میں خلل پڑ سکتا تھا۔

(فوٹو: رائٹرس)

بُلی بائی ایپ کا مقصد مسلم خواتین کے خلاف تشدد کو بڑھاوا دینا ہے: جرنلسٹس ایسوسی ایشن

دہلی جرنلسٹس ایسوسی ایشن اور انڈین ویمن پریس کورپس نے ایپ کے ذریعےمسلم خواتین کو نشانہ بنائے جانےپر شدیدبرہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ اگر پولیس بدنام زمانہ’سلی ڈیل’کے مجرموں کی پہچان کرلیتی تو یہ واقعہ دہرایا نہ جاتا۔

(علامتی تصویر بہ شکریہ: پکسا بے)

بُلی بائی ایپ معاملہ: ممبئی پولیس نے اتراکھنڈ سے ایک اور طالبعلم کو گرفتار کیا

گزشتہ سال ‘سلی ڈیلز’ نام کے ایپ کی طرح ‘بُلی بائی’ایپ پر ‘نیلامی’کے لیے مسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈکیے جانے کو لے کرممبئی پولیس نےمقدمہ درج کیا ہے۔اس سلسلے میں بنگلورو سے گرفتار کیے گئے طالبعلم کو ایک مقامی عدالت نے 10 جنوری تک عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

’مسلم خواتین کی تصویروں کی آن لائن نیلامی‘ معاملہ: ایک خاتون اور انجینئرنگ کا طالبعلم ممبئی پولیس کی گرفت میں

ممبئی پولیس نےہوسٹ پلیٹ فارم ‘گٹ ہب’کے ‘بُلی بائی’ایپ پرنیلامی کے لیےمسلم خواتین کی تصویریں اپ لوڈ کیے جانےکی شکایت موصول ہونے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ اسی طرح گزشتہ سال ‘سلی ڈیلز’ نامی ایپ پر ‘ مسلم خواتین کی تصویریں آن لائن نیلامی’کے لیےپوسٹ کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں دہلی اور نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔

بُلی بائی پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ (فوٹو: ٹوئٹر)

’بُلی بائی‘ سائٹ پرمسلم خواتین کی تصویریں ایک بار پھر نیلامی کے لیے پوسٹ کی گئیں

گزشتہ سال جولائی میں’سلی ڈیلز’نامی ایپ پر ‘آن لائن نیلامی’ کے لیے مسلم خواتین کی تصویریں پوسٹ کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں دہلی اور نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔ حالاں کہ اب تک اس کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ‘بُلی بائی’ پورٹل معاملے میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

یوپی: سی اے اے مخالف مظاہرین کی موت کے دو سال بعد آخرکار این ایچ آر سی نے جانچ شروع کی

اتر پردیش میں سی اے اے کے خلاف دسمبر2019 میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس نے کئی اضلاع میں مظاہرین پر فائرنگ کی تھی،جس میں 22 مسلمان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ سول سوسائٹی کی متعدد شکایتوں پرنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے اب اپنی جانچ شروع کی ہے۔

سابق چیف جسٹس اور راجیہ سبھا ایم پی رنجن گگوئی اپنی کتاب کے اجرا کے موقع پر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

رنجن گگوئی کی کتاب ’جسٹس فار دی جج‘ ان کی ناانصافیوں کا آئینہ ہے

سی جے آئی کےطور پرجسٹس رنجن گگوئی کے زمانے میں تین گناہ ہوئے۔ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے اس میں ایک چوتھائی کا مزید اضافہ بھی کیا۔ دراصل حال ہی میں منظر عام پر آئی ان کی کتاب کا مقصد ان گناہوں کا دفاع کرنا ہے،لیکن ہر معاملے میں یہ کتاب بدتر ہی ثابت ہوئی ہے۔

Press Club.00_00_20_21.Still001

ہم دیکھیں گے: سی اے اے مخالف مظاہروں اور دہلی فسادات کی حقیقت کو پیش کرتی کتاب

ویڈیو: شہریت قانون(سی اے اے)کے خلاف دہلی کےشاہین باغ میں احتجاجی مظاہرہ، جامعہ میں پولیس کی بربریت اور فسادات کی حقیقت کو پیش کرنے والی ایک فوٹو بک شائع کی گئی ہے، جس کا عنوان ہے’ہم دیکھیں گے’۔ اس تصویری کتاب میں شامل اکثر تصاویر جامعہ کے طلبا نے لی ہیں۔

1612 AKI.00_13_34_16.Still001

شاہین باغ تحریک کے دو سال: کب منسوخ ہوگا سی اے اے؟

ویڈیو: شہریت قانون(سی اے اے )کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں ہوئی تحریک کو دو سال ہو چکے ہیں۔اس قانون کو منسوخ کرنے کے مطالبات کے ساتھ تازہ احتجاجی مظاہرے میں شدت آنے لگی ہے۔ اس تحریک پر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

Screenshot 2021-12-16 at 7.11.55 AM

جامعہ میں پولیس تشدد کے دو سال: ’مظاہرین وکٹم نہیں، فائٹر تھے‘

ویڈیو: 15 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کے طلبہ پر پولیس نے تشدد کیا تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ کی طرف سے سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت کی جا رہی تھی۔ لائبریری میں طلبہ کو پیٹا گیا اور لائبریری میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی تھی۔ اس تشدد کے دو سال مکمل ہونے پر پریس کلب آف انڈیا میں اس دن کو اظہاررائے، تحریک اور جمہوریت پر حملے کے طور پر یاد کیا گیا۔

shaheen bagh .00_00_00_18.Still001

شاہین باغ تحریک کے دو سال: تیز ہوا سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

ویڈیو: سی اے اےمخالف مظاہرہ کےلیےمعروف شاہین باغ تحریک کے دو سال ہونے پرپرگتیشیل مہیلا سنگٹھن،نیشنل فیڈریشن فاروومین اور کمیشن آف دی اسٹیٹس آف وومین کی طرف سے دہلی کے جنتر منتر پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔اس تحریک میں حصہ لینے کے الزام میں قید افراد کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے طلبا، سول سوسائٹی کے ارکان اور کارکنوں نے دھرنا بھی دیا۔

سابق سی جے آئی ایس اے بوبڈے کے ساتھ اپنی کتاب کے اجرا میں سابق سی جے آئی اور راجیہ سبھا ایم پی رنجن گگوئی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اپنے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کی سماعت کرنے والی بنچ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا: رنجن گگوئی

سابق سی جے آئی اور راجیہ سبھا ایم پی رنجن گگوئی نے اپنی سوانح عمری‘جسٹس فار دی جج’کے اجرا میں کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کی ملازمہ کی طرف سے ان پر لگائے گئے جنسی ہراسانی کے الزامات کی شنوائی میں جج نہیں ہونا چاہیے تھا۔ گگوئی نے کہا، ‘ہم سبھی غلطیاں کرتے ہیں۔ اسے قبول کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔’

1410 Mukul.00_01_51_23.Still002

جے این یو کے طالبعلم نجیب احمد کے لاپتہ ہونے کے پانچ سال، انصاف کا مطالبہ

ویڈیو: جواہر لال نہرو یونیورسٹی(جے این یو)کےطالبعلم نجیب احمد کو لاپتہ ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ نجیب کہاں اور کس حالت میں ہیں، اس سوال کا جواب نہ تو جے این یوانتظامیہ کے پاس ہے اور نہ ہی کسی جانچ ایجنسی کےپاس۔گزشتہ دنوں طلبہ تنظیموں نے اس معاملے کی پھر سے جانچ کی مانگ کو لےکر یونیورسٹی کیمپس میں مارچ نکالا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات کی جانچ کو لے کر کئی بار پولیس پر سوال اٹھانے والے ایڈیشنل سیشن جج کا تبادلہ

ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو دہلی کےکڑکڑڈوما ضلع عدالت میں دنگوں سے متعلق کئی معاملوں کی شنوائی کر رہے تھے۔ ان کاتبادلہ نئی دہلی ضلع کےراؤز ایونیو عدالت میں خصوصی جج (پی سی قانون) (سی بی آئی)کے طور پر کیا گیا ہے۔جسٹس یادو نے دہلی دنگوں کو لےکر پولیس کی جانچ کو لےکر سوال اٹھاتے ہوئے کئی بار اس کی سرزنش کر چکے ہیں۔ انہوں نے اکثر معاملوں میں جانچ کے معیار کو گھٹیا بتایا تھا۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: متضاد بیانات پر عدالت نے کہا-حلف اٹھا کر جھوٹی گواہی دے رہے پولیس گواہ

دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے فسادات سےمتعلق ایک معاملے کو سنتے ہوئے کہا کہ پولیس گواہوں میں سے ایک حلف لےکر غلط بیان دے رہا ہے۔کورٹ نے ایسا تب کہا جب ایک پولیس اہلکار نے تین مبینہ دنگائیوں کی پہچان کی لیکن ایک اور افسر نے کہا کہ جانچ کے دوران ملزمین کی پہچان نہیں ہو سکی۔ یہ پہلی بار نہیں ہیں جب عدالت نے دہلی دنگوں کے معاملے میں پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات پل بھر میں نہیں ہوئے، منصوبہ بند سازش تھی: ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ فروری2020 میں ملک کی قومی راجدھانی کو ہلا دینے والے فسادات واضح طور پرپل بھر میں نہیں ہوئے اور ویڈیوفوٹیج میں موجود مظاہرین کے طرزعمل سے یہ صاف پتہ چلتا ہے۔یہ حکومت کے کام کاج میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ شہر میں لوگوں کی عام زندگی کو متاثرکرنے کے لیے سوچی سمجھی کوشش تھی۔

اسدالدین اویسی، فوٹو:پی ٹی آئی

دہلی: اویسی نے اپنے گھر پر ہندو سینا کے حملے کے بعد کہا-بی جے پی حکومت ملک کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟

اسد الدین اویسی نے وزیر اعظم کو نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹ کیاکہ ، دنیا کو شدت پسندی سے لڑنے کا سبق پڑھانے والے وزیر اعظم بتائیں کہ میرے گھر کو نشانہ بنانے والوں کو کس نے شدت پسند بنایا؟

2020 دہلی تشددکے دوران جعفرآباد میں جلتی  ایک گاڑی۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے معاملے لگ بھگ دوگنے ہوئے: این سی آر بی

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق، ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے 857 معاملے درج کیے گئے۔سال2019 میں ایسے معاملوں کی تعداد438 تھی، جبکہ 2018 میں ایسے 512 معاملے درج کیے گئے تھے۔

عمر خالد۔ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک@MuhammedSalih)

دہلی فسادات: ایک سال سے قید عمر خالد کی رہائی کا مطالبہ

گزشتہ سال 13 ستمبر کوشمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں یو اے پی اے کے تحت اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد کو گرفتار کیا تھا۔ یو اے پی اے کے ساتھ ہی اس معاملے میں ان کے خلاف فساد برپا کرنے اور مجرمانہ طور پر سازش کرنے کے بھی الزام لگائے گئے ہیں۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کےا سٹالن۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تمل ناڈو اسمبلی نے سی اے اے رد کیے جانے کی قرارداد منظور کی

اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے سے پہلےتمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ مرکز کو این پی آر اور این سی آرکی تیاری سے متعلق اپنی پہل کو بھی پوری طرح سے روک دینا چاہیے۔شہریت قانون کےخلاف قرارداد پاس کرنے والا تمل ناڈو ملک کا آٹھواں صوبہ بن گیا ہے۔

آصف اقبال تنہا۔ (فوٹو:  پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: آصف کے مبینہ اقبالیہ بیان کے میڈیا میں لیک ہونے کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ

دہلی فسادات معاملے میں ملزم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اسٹوڈنٹ آصف اقبال تنہا نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے الزام لگایا تھا کہ متعلقہ عدالت کےنوٹس لینے سے پہلے ہی جانچ ایجنسی کے ذریعے درج ان کے بیان کو مبینہ طور پر میڈیا میں لیک کرکے پولیس افسروں نےبدعنوانی کی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: کورٹ نے کہا-صحیح جانچ کرنے میں پولیس کی ناکامی ٹیکس دہندگان کے وقت اور پیسے کی بربادی ہے

فروری2020 میں دہلی کے چاندباغ علاقے میں فسادات کے دوران ایک دکان میں مبینہ لوٹ پاٹ اور توڑ پھوڑ سے متعلق معاملے میں عآپ کےسابق کونسلر طاہر حسین کے بھائی شاہ عالم اور دو دیگر کوبری کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ چشم دید گواہوں، حقیقی ملزموں اور تکنیکی شواہد کا پتہ لگانے کی کوشش کیے بنا ہی صرف چارج شیٹ داخل کرنے سے ہی معاملہ سلجھا لیا گیا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات میں بڑی تعداد میں جانچ کا معیار بہت گھٹیا ہے: عدالت

دہلی فسادات سےمتعلق ایک معاملے کی شنوائی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے کہا کہ پولیس آدھے ادھورے چارج شیٹ دائر کرنے کے بعد جانچ کو منطقی انجام تک لے جانے کی بہ مشکل ہی پرواہ کرتی ہے، جس وجہ سے کئی الزامات میں نامزد ملزم سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ زیادہ تر معاملوں میں جانچ افسر عدالت میں پیش نہیں ہو رہے ہیں۔

عمر خالد۔ (فوٹو: دی وائر)

دہلی فسادات: عمر خالد نے کہا، ٹی وی چینلوں نے ان کی تقریر  کے ترمیم شدہ حصے کو نشر کرکے انہیں پھنسایا

دہلی دنگوں کو لےکریو اے پی اے کےتحت گرفتار جے این یو کےسابق اسٹوڈنٹ عمر خالد نے اپنا دفاع کرتے ہوئے عدالت میں کہا کہ پولیس کے دعووں میں تضادات ہیں۔ ان کے خلاف یو اے پی اے کا معاملہ بی جے پی رہنما اور آئی ٹی سیل چیف امت مالویہ کی جانب سے ٹوئٹ کیے گئے ان کی مختصر تقریر کے ترمیم شدہ ویڈیو کلپ پر مبنی ہے۔ چارج شیٹ پوری طرح سے فرضی ہے۔ ان کے خلاف منتخب گواہ لائے گئے اور انہوں نے مضحکہ خیز بیان دیے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: زخمی نوجوانوں کو قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کی پہچان

گزشتہ سال دنگوں کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا،جس میں زخمی حالت میں پانچ نوجوان زمین پر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کم از کم سات پولیس اہلکارنوجوانوں کو گھیرکرقومی ترانہ گانے کے لیےمجبورکرنے کے علاوہ انہیں لاٹھیوں سے پیٹتے ہوئےنظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی، جس کی پہچان 23 سال کے فیضان کے طورپر ہوتی ہے۔ ان کی ماں کا کہنا تھا کہ پولیس کسٹڈی میں بےرحمی سے پیٹے جانے اور وقت پر علاج نہ ملنے سے ان کی جان گئی۔

1308 Mukul Haj Story.00_17_34_09.Still001

دہلی: حج ہاؤس کی حمایت میں اترے لوگ، بی جے پی پر تقسیم کی سیاست کا الزام

ویڈیو: دہلی کےدوارکا میں حج ہاؤس بننےکی مخالفت میں کچھ ہندوتوادی تنظیموں نے مظاہرہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں آل دوارکا ریذیڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے لیفٹیننٹ گورنر کو ایک خط لکھ کر کہا گیاتھا کہ حج ہاؤس بننے سے دوارکا کا ماحول کشمیر جیسا ہو جائےگا۔ دوارکا کے تقریباً 100باشندوں نے اس خط کی تردید کی ہےاور حج ہاؤس بننے کی حمایت کی ہے۔

ہندوتوادی نوجوان کو وارننگ دیتے ایس ایچ او سی پی بھاردواج۔

دہلی: مولوی کو پریشان کرنے سے رائٹ ونگ گروپ کو روکنے والے تھانہ انچارج سسپنڈ

یہ معاملہ دہلی کے آدرش نگر میں ایک فلائی اوور پر بنے مزار سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں ہندوتووادی تنظیم سے جڑے کچھ نوجوان وہاں پہنچتے ہیں اور مولوی سےسوال جواب کرتے ہوئے بحث کرنے لگتے ہیں۔تب بیچ بچاؤ کےلیےایس ایچ او آ جاتے ہیں۔اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کے مدنظر انہیں سسپنڈ کیا گیا ہے، لیکن کارروائی کو اس واقعہ سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

 (علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

مسلمان عورتوں کے بارے میں توہین آمیز پوسٹ کے سلسلے میں دہلی پولیس کو ڈی سی ڈبلیو کا نوٹس

گزشتہ مہینے کچھ نامعلوم لوگوں کے ذریعے ایک ایپ بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا، جہاں مسلمان عورتوں کو ‘آن لائن نیلامی’ کے لیے رکھا گیا تھا۔ اس سلسلےمیں دہلی اور اتر پردیش کی نوئیڈا پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھی۔

آصف اقبال تنہا۔ (فوٹو:  پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: پولیس نے عدالت کو بتایا-جانچ کی تفصیلات میڈیا کو کیسے ملی، اس کا پتہ نہیں چلا

دہلی فسادات معاملے میں ملزم جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالبعلم آصف اقبال تنہا نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے الزام لگایا تھا کہ متعلقہ عدالت کی طرف سے نوٹس لینے سے پہلے ہی جانچ ایجنسی کے ذریعے درج ان کے بیان کو مبینہ طور پرمیڈیا میں لیک کرکے پولیس حکام نے بدعملی کی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: مسلم نوجوان کے قتل معاملے میں سات لوگوں کے خلاف فرد جرم عائد

گزشتہ سال 25 فروری کو 18سالہ مونس اپنےوالد سے مل کر اور مٹھائیاں لےکر گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ تبھی دنگے بھڑک گئے۔ جب وہ دہلی کے یمنا بس اسٹینڈ پر اترا تو اس نے دنگوں کو بھڑکتے دیکھا۔ مشتعل بھیڑ نے اس کے مسلم ہونے کا پتہ چلنے کے بعد لاٹھی ڈنڈوں اور پتھروں سے پیٹ پیٹ کر اس کی جان لے لی۔

عمر خالد۔ (فوٹو: دی وائر)

دہلی فسادات: پولیس نے عمر خالد کی ضمانت عرضی کی مخالفت کی، کہا-اس میں دم نہیں

یو اے پی اے کے تحت گرفتار جے این یو کے سابق طالبعلم عمر خالد کی ضمانت عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس نے کہا کہ استغاثہ معاملے میں دائر چارج شیٹ کے حوالے سے عدالت میں ملزم کےخلاف پہلی نظرکامعاملہ دکھائےگا۔معاملہ ایک بڑی سازش کا حصہ ہے اور یہ چھ مارچ 2020 کو درج ہوا تھا۔ خالد کو فسادات سےمتعلق ایک دوسرے معاملے میں ضمانت مل چکی ہے۔

Don`t copy text!