electoral bonds

سابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور سابق آر بی آئی گورنر ارجیت پٹیل (فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت نے الیکٹورل بانڈ پر آر بی آئی کے سبھی اعتراضات کو خارج کر دیا تھا: رپورٹ

آر بی آئی نے کہا تھا کہ الیکٹورل بانڈ اور آر بی آئی ایکٹ میں ترمیم کرنے سے ایک غلط روایت شروع ہو جائے‌گی۔ اس سے منی لانڈرنگ کو بڑھاوا ملے‌گا اور م سینٹرل بینکنگ قانون کے بنیادی اصولوں پر ہی خطرہ پیدا ہو جائے‌گا۔

سینٹرل انفارمیشن کمیشن

سی آئی سی نے وزارت خزانہ سے کہا، سیاسی پارٹیوں کو چندہ دینے والوں کے بارے میں جانکاری دیں

وزارت خزانہ کے ڈپارٹمنٹ آف اکانومک افیئرس میں آر ٹی آئی داخل کرکے سیاسی پارٹیوں کو چندہ دینے کے دوران پہچان کی رازداری بنائے رکھنے کے بارے میں چندہ دینے والوں کے ذریعے لکھے گئے خط اور الیکٹورل بانڈ اسکیم کے ڈرافٹ کی کاپی کے بارے میں جانکاری مانگی گئی تھی۔

فوٹو: رائٹرس

آر بی آئی نے مودی حکومت کو 1.76 لاکھ کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا

آر بی آئی کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے سینٹرل بینک کے سابق گورنر بمل جالان کی صدارت والی کمیٹی کی سفارشوں کو منظور کرنے کے بعد یہ قدم اٹھایا ہے۔ آر بی آئی نے حکومت کو جو رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ پچھلے پانچ سالوں کے مقابلے تین گنا زیادہ ہے۔

اٹارنی جنرل  کے کے  وینو گوپال۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سی جے آئی جنسی استحصال معاملہ: مرکزی حکومت سے اختلاف کے سبب استعفیٰ دے سکتے ہیں اٹارنی جنرل

دی وائر کی خصوصی رپورٹ: سی جے آئی پر لگے جنسی استحصال کے الزامات کی جانچ‌کر رہی کمیٹی میں ایک باہری ممبر شامل کرنے کی مانگ کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کےکے وینو گوپال نے سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو خط لکھا تھا۔اس پر مرکزی حکومت کے ذریعے ان کو وضاحت دینے کو کہا گیا کہ یہ ان کی’ذاتی رائے ‘ہے نہ کہ مرکز کی۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

الیکٹورل بانڈ کے ذریعے ملے چندے کی جانکاری الیکشن کمیشن کو دیں سیاسی  پارٹیاں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سبھی پارٹیوں کو ہدایت دی ہے کہ 30 مئی تک وہ الیکٹورل بانڈ کی رقم اور اس کے چندہ دینے والوں کے نام سمیت تمام جانکاری سیل بند لفافے میں الیکشن کمیشن کو دیں۔ کورٹ نے کہا کہ اس معاملے میں آخری فیصلہ تفصیلی سماعت کے بعد لیا جائے‌گا۔

الیکشن کمیشن(فوٹو : رائٹرس)

رائے دہندگان کو سیاسی جماعتوں کو مل رہے پیسے کے ذرائع جاننے کا حق نہیں: اٹارنی جنرل وینو گوپال

سپریم کورٹ میں الیکٹورل بانڈ کے خلاف عرضی کی سماعت پوری، آج آئے‌گا فیصلہ۔ شنوائی میں مرکزی حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے کہا کہ الیکٹورل بانڈ بلیک منی پر روک لگانے کے لئے ایک تجربہ ہے اور لوک سبھا انتخاب تک عدالت کو اس میں دخل نہیں دینا چاہیے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں کہا، الیکٹورل بانڈ سے سیاسی چندے کی شفافیت پر خطرہ ہے

کمیشن نے کہا کہ الیکٹورل بانڈ اسکیم اور کارپوریٹ فنڈنگ کو محدود نہ کرنے سے سیاسی جماعتوں کو ملنے والے چندے کی شفافیت پر سنگین اثر پڑے‌گا۔ سیاسی جماعتوں کو غیر منضبط غیر ملکی فنڈنگ کی اجازت ملے‌گی اور اس سے ہندوستانی پالیسیاں غیر ملکی کمپنیوں سے متاثر ہو سکتی ہیں۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا مودی حکومت نے الیکٹورل بانڈ معاملے میں پارلیامنٹ کو گمراہ کیا ؟

الیکشن کمیشن نے گزشتہ 26 مئی 2017 کو وزارت قانون کے سکریٹری کو خط لکھ‌کر اپنی تشویش کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد وزارت قانون نے کمیشن کے اعتراضات کو شامل کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے محکمہ اخراجات کو تین خط بھیجا تھا۔

آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس اور بی جے پی رہنما جئے نارائن ویاس(فوٹو : پی ٹی آئی)

بی جے پی رہنما کی آر بی آئی گورنر پر چٹکی؛کہیں ریزرو بینک کو ہی تاریخ نہ بنا دیں

گجرات کے وزیر صحت رہ چکے جئے نارائن ویاس نے ریزرو بینک کے نئے گورنر شکتی کانت داس کی تعلیمی صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے حساب سے بینک کا چیف ایک اہل ماہر اقتصادیات ہونا چاہیے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور آر بی آئی گورنرارجت پٹیل(فوٹو : پی ٹی آئی/رائٹرس)

ریزرو بینک تنازعہ میں مرکز ی حکومت بھلےہی پیچھے ہٹتی  نظر آرہی ہو، لیکن مسائل  اب بھی برقرار ہیں

اگر کل ممکنہ این پی اے کا تقریباً40 فیصد 10 کے قریب بڑے کاروباری گروپوں میں پھنسا ہوا ہے، تو بینک اس کا حل کئے بغیر قرض دینا شروع نہیں کر سکتے ہیں۔یہ بات واضح ہے لیکن حکومت بڑے بقائے والے بڑے کاروباری گروپوں کے لئے الگ سےاصول چاہتی ہے، جو ان کے مفادات کا خیال رکھتے ہوں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: کیا ریزرو بینک کے ریزرو پرحکومت کی نظر ہے؟

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر مہر شرما نے لکھا ہے کہ ریزرو بینک اپنے منافع سے ہرسال حکومت کو 50 سے 60 ہزار کروڑ دیتی ہے۔ اس کے پاس ساڑھے تین لاکھ کروڑ سے زیادہ کا ریزرو ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس ریزرو سے پیسہ دے تاکہ وہ انتخابات میں عوام کے بیچ گل چھرے اڑا سکے۔

Don`t copy text!