Flood and Rain

سہرسہ میں باڑھ میں پھنسے لوگ،فوٹو :پی ٹی آئی

بہا ر:  اس سال ریاست میں باڑ ھ سے برباد ہوئی 7.54 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین

لوک سبھا میں اراکین پارلیامنٹ کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں مرکزی حکومت نے بتایا کہ سال 2019-20میں پورے ملک کی114.295لاکھ ہیکٹر فصل متاثر ہوئی، جس میں بہار میں باڑھ سے متاثرمجموعی فصل 2.61لاکھ ہیکٹر تھی۔

کھیتوں میں سے بالو نکال رہے 75 سالہ منگرو۔ (تمام  فوٹو: منوج سنگھ)

’بہار انتخاب: ہمرے دکھ میں کیہو ناہی آئل، ووٹ مانگے کے منھ کیہو کے نا با‘

گراؤنڈ رپورٹ:مغربی چمپارن ضلع کےلکشمی پور رمپروا گاؤں کےسرحدی پانچ ٹولے کے پانچ سو سے زیادہ لوگ گنڈک ندی کی باڑھ اور کٹان سے ہوئی بڑی تباہی کے بعد پھر سے زندگی کو پٹری پر لانے کی جدوجہد میں لگے ہیں۔ وجودکے بحران سےجوجھ رہے ان ٹولوں میں انتخابی ہنگامےکی گونج نہیں پہنچی ہے۔

سرنی کرماوا میں سڑک پر بہہ رہا پانی۔ (تمام فوٹو: ابھینو پرکاش)

’نیتا لوگ ہوائی جہاز سے بیٹھ کے دیکھتا ہے، او لوگ کو ناؤ میں آکے دیکھنا چاہیے کہ ہم کس حال میں ہیں‘

گراؤنڈ رپورٹ:کورونا وائرس کا مرکز بن کر ابھر رہے بہار کے کئی علاقے سیلاب کے خطرے سے بھی جوجھ رہے ہیں۔ شمالی بہار کے لگ بھگ تمام اضلاع سیلاب کی چپیٹ میں ہیں اور لاکھوں کی آبادی متاثر ہے۔ لیکن پانی میں ڈوبے گاؤں-گھروں میں جیسے تیسے گزارہ کر رہے لوگوں کو مدد دینا تو دور، سرکار ان کی خبرہی نہیں لے رہی ہے۔

پٹنہ کے راجیندرنگر علاقے سے ایک بزرگ کو سیلاب متاثر ہ علاقے سے نکالتےلوگ۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ملک بھر میں اس سال مانسونی بارش اور سیلاب سے تقریباً 1900 لوگوں کی موت: حکومت

بہار میں اس سال 161 لوگوں کی موت سیلاب اور بارش سے ہو چکی ہے۔گزشتہ27 سے 30 ستمبر کی بارش کے بعد ریاست میں مرنے والوں کی تعداد 73 ہوئی۔ راجدھانی پٹنہ کے کنکڑباغ، راجیندرنگر اور پاٹلی پتر میں بینک،دکانیں، پرائیویٹ ہاسپٹل اور کوچنگ سینٹر ایک ہفتے سے بند ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

بہار: ڈپٹی سی ایم سشیل مودی پر الزام، خود نکل گئے، ہماری کوئی مدد نہیں کی

دیڈیو میں لوگ پانی کی قلت اور دوسری پریشانیوں کا ذکر کر رہے ہیں ۔ویڈیو میں ایک خاتون کہتی ہیں کہ ہمارے گھر میں تین دن سے بجلی-پانی نہیں ہے۔ہم لوگ ان کو (سشیل مودی)بول- بول کر تھک گئے۔ وہ کھڑکی سے جھانک -جھانک کر ہٹ جا رہے تھے۔

پٹنہ میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کو جے سی بی سے نکالا گیا(فوٹو : پی ٹی آئی)

’ہم نے شدید بارش کی وارننگ دی تھی، تاکہ حکومت بہار صورتحال سے نپٹنے کے لئے تیار رہے‘

خصوصی رپورٹ : بہار کی راجدھانی پٹنہ واقع محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ 26 ستمبر سے ہی ہم لوگ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ریاست کی ایجنسیوں کو بتا رہے تھے کہ موسلا دھار بارش ہوگی۔ ہم نے ریاستی حکومت کو بھی اس کی اطلاع بھیجی تھی۔

پٹنہ میں بھاری بارش کے بعد پٹنہ میونسپل کارپوریشن (پی ایم سی) کے افسر جے سی بی سے لوگوں کو نکالتے ہوئے ، فوٹو: پی ٹی آئی

بھاری بارش سے ملک بھر میں 136 سے زیادہ لوگوں کی موت، پٹنہ میں عام زندگی متاثر

اتر پردیش سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں طوفانی بارش جاری ہے،جہاں جمعرات سے اب تک کم از کم 93 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔بہار میں اب تک کم از کم 29 لوگوں کی موت ہو گئی ہے ،جبکہ بارش سے عام زندگی بری طرح سے متاثر ہے۔

Don`t copy text!