Ganga

فتح پور میں جل ستیاگرہ کرتے صحافی۔ (فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

اتر پردیش: استحصال کو لے کر فتح پور انتظامیہ کے خلاف صحافیوں کا جل ستیا گرہ

فتح پور کے صحافی اجئے بھدوریا نے گزشتہ13 مئی کو ٹوئٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ فتح پور کے وجئے پور میں ایک کمیونٹی کچن کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد جھوٹی خبر پھیلانے کے الزام میں انتظامیہ نے ان کے خلاف معاملہ درج کر لیا۔

(فائل فوٹو : رائٹرس)

گنگا ندی کا پانی  پینے اور نہانے لائق نہیں : مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ

مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ(سی پی سی بی) کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش سے لےکر مغربی بنگال تک گنگا ندی کا پانی پینے اور نہانے لائق نہیں ہے۔ بورڈ کے ذریعے جاری ایک نقشے میں ندی میں ‘کولیفارم ‘ جرثومہ کی سطح کو بہت بڑھا ہوا دکھایا گیا ہے۔

(فوٹو بہ شکریہ: پی آئی بی)

گنگا صفائی کے لیے ملی رقم سے مودی حکومت نے 100 کروڑ روپے کمایا

مودی حکومت کے دعوے اور ان کی زمینی حقیقت پر اسپیشل سیریز: مودی حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے مارچ 2014 تک گنگا صفائی کے لئے بنا ادارہ نیشنل مشن فار کلین گنگا کو ملی امداد اور غیر ملکی لون پر حکومت کو تقریباً 7 کروڑ روپے کا سود ملا تھا۔ لیکن مارچ 2017 آتےآتے یہ رقم بڑھ‌کر 107 کروڑ روپے ہو گئی۔

الٰہ آباد میں کمبھ میلے کے دوران غسل کرتے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

کمبھ میلے کے بعد جمع کچرے کو ہٹانے کے لئے فوراً قدم اٹھائے یوگی حکومت: این جی ٹی

این جی ٹی نے یہ ہدایت ایک رپورٹ کے حوالے سے دی، جس میں کہا گیا ہے کہ الٰہ آباد کے کچھ سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں اتنا آلودہ پانی جمع ہے کہ صرف 50 فیصد کا ہی تصفیہ ہو پا رہا ہے، باقی 50 فیصد آلودہ پانی بنا تصفیہ کے ہی گنگا میں چھوڑا جا رہا ہے۔

گنگا ندی (فوٹو : پی ٹی آئی)

2014 سےاب تک گنگا کی صفائی پر 3867 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ، نتیجہ صفر

حال ہی میں این جی ٹی نے کہا ہے کہ حکومت نے گنگا کی صفائی پر کروڑوں روپے خرچ تو کر دیے ہیں لیکن گنگا ابھی بھی ماحولیات کے لیے ایک سنگین موضوع بنا ہوا ہے۔اس کی صفائی کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

استاد بسم اللہ خاں (فوٹو :یوٹیوب)

یوم پیدائش پر خاص: استاد بسم اللہ خاں،ہندوستانی موسیقی کا سنت کبیر

یوم پیدائش پر خاص:استاد بسم اللہ خاں ایسے بنارسی تھے جو گنگا میں وضو کر کے نماز پڑھتے تھے اور سرسوتی کو یاد کر کے شہنائی کی تان چھیڑتے تھے ۔اسلام کے ایسے پیروکار تھے جو اپنے مذہب میں موسیقی کے حرام ہونے کے سوال پر ہنس کر کہتے تھے ،کیا ہو اسلا م میں موسیقی کی ممانعت ہے ،قرآن کی شروعات تو’ بسم اللہ‘ سے ہی ہوتی ہے۔

Don`t copy text!