GDP

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

لاک ڈاؤن کے بعد معیشت میں اصلاحات کے نریندر مودی کے دعوے کھوکھلے ہیں

اگلے چھ مہینوں میں دنیا کی دوسری معیشت کے مقابلے ہندوستانی معیشت میں زیادہ تیزی سے ہونے والی جن اصلاحات کو لےکر وزیر اعظم اتنے مطمئن ہیں، وہ بھاری بھرکم سرکاری خرچ کے بغیر ناممکن معلوم ہوتے ہیں۔معیشت کو اتنا نقصان پہنچایا جا چکا ہے کہ اصلاحات کاکوئی لائحہ عمل مرتب کرنے یا حکمت عملی پیش کرنے سے پہلے سنجیدگی سے اس کامطالعہ کرنا ضروری ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

دو دہائی سے زیادہ کے عرصے میں موڈیز  نے پہلی بار گھٹائی ہندوستان کی ریٹنگ

ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے اس سے پہلے 1998 میں ہندوستان کی ریٹنگ کو کم کیا تھا۔ موڈیز نے کہا کہ اصلاحات کی سست رفتاری اور پالیسیوں کی اثرپذیری میں رکاوٹ نےہندوستان کی سست نمو میں رول ادا کیا۔ یہ صورتحال کووڈ 19 کے آنے سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔

رگھو رام راجن (فوٹو: رائٹرس)

ملک میں غریبوں کی مدد کے لیے 65000 کروڑ روپے کی ضرورت ہوگی: رگھورام راجن

کانگریس کے سابق صدرراہل گاندھی کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے بات چیت میں راجن نے کہا کہ ہندوستان ایک غریب ملک ہے اور وسائل کم ہیں۔ یہ ملک زیادہ لمبے وقت تک لوگوں کو بٹھاکر کھلا نہیں سکتا، اس کی معیشت کو کھولنا ہوگا۔

وزیراعظم نریندر مودی(فوٹو: پی ٹی آئی)

کو رونا: ملک کی معیشت کو لاک ڈاؤن کے ’چکرویوہ‘ سے کیسے نکالیں گے مودی اور وزرائے اعلیٰ

اگر وزیراعظم نریندر مودی کو لگتا ہے کہ ہندوستان باقی ممالک کی طرح لگاتار چل رہے ایک مکمل لاک ڈاؤن کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بڑا اقتصادی پیکج نہیں دے سکتا تو انہیں لازمی طور پر لاک ڈاؤن میں چھوٹ دینے کے بارے میں سوچ سمجھ کر اگلا قدم اٹھانا چاہیے۔

(فوٹو : رائٹرس)

چالیس سال میں پہلی بار صارفین کے اخراجات میں آئی کمی سے متعلق رپورٹ جاری نہیں کرے گا این ایس او

یہ پہلی بار ہے جب مرکزی حکومت نے سرکاری طور پر سروے پورا ہونے کےبعد ایک سروے رپورٹ جاری نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہیں، حکومت نے رپورٹ کورد کرنے سے پہلے این ایس سی سے مشورہ نہیں کیا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

آر بی آئی اور ایل آئی سی کے دم پر کب تک اقتصادی بحران سے نبٹےگی سرکار؟

پچھلے سال سرکار نے ریزرو بینک آف انڈیا سے 1.76 لاکھ کروڑ روپے لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سال یہ ایل آئی سی سے 50000 کروڑ سے زیادہ لے سکتی ہے۔ بی پی سی ایل، کانکور جیسے کچھ پبلک سیکٹر کے انٹر پرائززکو پوری طرح سے بیچا جا سکتا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

ملک میں پچھلے 10سال میں معاف ہوا 4.7  لاکھ کروڑ روپے کا زراعتی قرض

حالانکہ، یہ قرض معافی اصل کے بجائے کاغذات پر ہی زیادہ ہوئی ہیں۔ ان میں سے 60 فیصد سے زیادہ قرض معاف نہیں کئے جا سکے ہیں۔ سب سےخراب مظاہرہ مدھیہ پردیش کا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں محض 10 فیصد قرض معاف کئے گئےہیں۔

فوٹو: رائٹڑس

سرکاری اعداد و شمار میں تصدیق، 2019-20 میں جی ڈی پی شرح نمو پانچ فیصدی رہنے کا امکان

سی ایس او نے منگل کوقومی آمدنی کا پہلا اندازہ جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی شرح نمو میں گراوٹ کی اہم وجہ مینو فیکچرنگ کی شرح نمو کا گھٹنا ہے۔مالی سال2018-19 میں اقتصادی شرح نمو6.8 فیصدی رہی تھی۔

 چیف اکانومک ایڈوائزرارویند سبرامنیم (فوٹو : پی ٹی آئی)

بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے ہندوستان، آئی سی یو میں جا رہی معیشت: سابق چیف اکانومک ایڈوائزر

نریندر مودی حکومت میں چیف اکانومک ایڈوائزر رہتے ہوئے ارویند سبرامنیم نے دسمبر 2014 میں دوہرے بیلنس شیٹ کا مسئلہ اٹھایا تھا، جس میں نجی صنعت کاروں کے ذریعے لئے گئے قرض بینکوں کےاین پی اے بن رہے تھے۔سبرامنیم نے کہا کہ ہندوستان کی معیشت ایک بار پھر سے دوہرےبیلنس شیٹ کے بحران سے جوجھ رہی ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ(فوٹو : پی ٹی آئی)

معیشت کی صورت حال تشویشناک، حالیہ جی ڈی پی اعداد و شمار پوری طرح ناقابل قبول: منموہن سنگھ

رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں اقتصادی شرح نمو 4.5 فیصد رہنے کو سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ناکافی بتایا۔ انہوں نے یہ بھی جوڑا کہ معیشت کی حالت تشویشناک ہے لیکن ہمارے سماج کی حالت زیادہ تشویشناک ہے۔

The latest GDP figures confirm the slump in growth of India's economy. Photo: Pixelbay

رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 4.5 فیصد رہا اقتصادی شرح نمو، 6 سال میں سب سے کم

این ایس او کے ذریعے جاری اعداد و شمار کے مطابق،مینوفیکچرنگ سیکٹر میں گراوٹ اور زراعتی شعبہ میں گزشتہ سال کے مقابلے کمزور مظاہرے میں مالی سال 2019-20 کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی شرح نمو 4.5فیصد رہ گئی۔ گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 7 فیصد تھی۔

(فوٹو : رائٹرس)

کارپوریٹ ٹیکس ریٹ میں کمی سے 145000 کروڑ روپے کے ریونیو کے نقصان کا آثار: مرکز

مرکزی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس میں کٹوتی کے ذریعےکی گئی حوصلہ افزائی سے معیشت میں جلد اثر ہونے کا اندازہ ہے۔ ہندوستان میں نئی سرمایہ کاری سے نہ صرف نئی نوکریاں پیدا ہونے کا امکان ہے بلکہ اس سے آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔

فوٹو بہ شکریہ/@SureshAngadi_

کوئی اقتصادی بحران نہیں کیونکہ لوگ شادی کر رہے اور ٹرینیں بھر کر جا رہی ہیں:مرکزی وزیر

مرکزی وزیرسریش انگڑی نے کہا ہےکہ لوگ اقتصادی بحران کا دعویٰ کرکے وزیر اعظم نریندر مودی کی امیج خراب کر رہے ہیں۔ ہر تین سال میں معیشت میں اور مانگ میں گراوٹ آتی ہے۔ یہ ایک چکر ہے۔ اس کے بعدمعیشت پھر پٹری پر آ جاتی ہے۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

دیہی علاقوں میں مانگ میں کمی کی وجہ سے 40 سال میں پہلی بارصارفین کی خرچ کرنے کی صلاحیت میں گراوٹ: لیک رپورٹ میں دعویٰ  

این ایس او کی ایک لیک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی ہندوستانی کے ذریعے ایک مہینے میں خرچ کی جانے والی اوسط رقم سال 2017-18 میں3.7 فیصدی کم ہوکر 1446 روپے رہ گئی ہے، جو کہ سال 2011-12 میں1501 روپے تھی۔

0309 Media Bol Thumbnail Without Text

میڈیا بول: اقتصادی بحران کے دور میں اقتدار کا مودی منتر کب تک؟

ویڈیو: میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے ہندوستانی اقتصادی بحران پرصحافی اور قلمکار پوجا مہرا، دہلی اسکول آف اکانومکس کی اسٹوڈنٹ آکرتی بھاٹیہ اور دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو سے سینئر صحافی ارملیش کی بات چیت۔

بہار کے نائب وزیراعلیٰ سشیل مودی(فوٹو : پی ٹی آئی)

بہار کے وزیر خزانہ سشیل مودی نے کہا، ساون-بھادو کے مہینے میں ہرسال رہتی ہے مندی

بہار کے نائب وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ سشیل مودی نے کہا کہ ویسے تو ہرسال ساون-بھادو میں مندی رہتی ہے، لیکن اس بار مندی کا زیادہ شور مچاکر کچھ لوگ الیکشن میں اپنی شکست کی شرمندگی اتار رہے ہیں۔

فوٹو: بہ شکریہ پی آئی بی

وزیر خزانہ اگر ’نیو انڈیا‘ میں نئی معاشی پالیسی کا جوکھم اٹھا لیتیں تو بہتر ہوتا

جب تک گلوبلائزیشن کی اقتصادی پالیسیوں میں کوئی فیصلہ کن تبدیلی نہیں ہوتی، ہندوستان وشوشکتی بن جائے توبھی، حکومت کا سارا بوجھ ڈھونے والے نچلے طبقے کی یہ تقدیر بنی ہی رہنے والی ہے کہ وہ تلچھٹ میں رہ‌کر عالمی سرمایہ داری کے رساؤ سے گزر بسر کرے۔

اروند سبرمنیم (فوٹو : پی ٹی آئی)

2011 سے 12اور 2016سے17 کے بیچ جی ڈی پی 7 فیصد نہیں، بلکہ 4.5 فیصد کی شرح سے بڑھی : اروند سبرمنیم

ملک کے سابق چیف اکانومک ایڈوائزراروند سبرمنیم کا کہنا ہے کہ سال 2011سے12 اور 2016سے17 کے دوران ملک کی جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو کافی بڑھاچڑھاکر بتایا گیا۔ اس دوران جی ڈی پی سات فیصد نہیں، بلکہ 4.5 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

پانچ سال کی سب سے نچلی سطح پر پہنچی جی ڈی پی شرح نمو، چین سے پچھڑا ہندوستان

مالی سال 2018سے19 کی چوتھی سہ ماہی میں جی ڈی پی شرح نمو 5.8 فیصد رہی جو چین کی جنوری-مارچ 2019 کو ختم سہ ماہی میں 6.4 فیصد اضافہ کے مقابلے کم ہے۔ قومی آمدنی پر سی ایس او کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2018سے19 میں پورے سال کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو بھی گھٹ‌کر پانچ سال کے کم از کم سطح 6.8 فیصد رہی ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

سال بھر میں اندازے سے تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے بڑھا سرکاری خزانے کا نقصان

کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے اعداد و شمار کے مطابق؛ اپریل 2018 سے فروری 2019 کے دوران سرکاری خزانےکا نقصان 8.51 لاکھ کروڑ روپے رہا ہے جو پورے سال کے لئے ترمیم شدہ بجٹ اندازہ 6.34 لاکھ کروڑ روپے سے 134.2 فیصد زیادہ ہے۔

منموہن سنگھ/ فوٹو: رائٹرس

میں ایسا وزیر اعظم نہیں تھا جو میڈیا سے بات کرنے میں ڈرتا ہو: منموہن سنگھ

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے پریس سے بات کرتے تھے اور ہر غیر ملکی سفر کے بعد پریس کانفرنس کرتے تھے۔ سنگھ کے اس بیان کو میڈیا سے بات چیت نہ کرنے کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Don`t copy text!