Gender

ایس چندیرا پریانگا۔ (تصویر بہ شکریہ: ایکس)

پڈوچیری: واحد خاتون وزیر نے ذات پات اور صنفی امتیاز کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دیا

پڈوچیری کی آل انڈیا این آر کانگریس – بھارتیہ جنتا پارٹی گٹھ بندھن سرکار میں ٹرانسپورٹ کی وزیر ایس چندیرا پریانگا نے کہا ہے کہ ‘مجھے احساس ہو رہا تھا کہ مجھے ذات اور جنس کی بنیاد پر مسلسل تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔’ ان کا تعلق دلت برادری سے ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

یوپی: مظفر نگر کی کھاپ پنچایت نے خواتین کے جینس اور مردوں  کے شارٹس پہننے پر پابندی لگائی

راجپوت کمیونٹی کی کھاپ پنچایت نے کہا کہ جینس جیسےملبوسات مغربی کلچر کا حصہ ہیں اور خواتین کو ساڑی، گھاگھرا اورسلوارقمیص جیسے روایتی ہندوستانی ملبوسات پہننا چاہیے۔ پنچایت نے وارننگ دی ہے کہ جو بھی اس حکم کی خلاف ورزی کرتے پائے جا ئیں گے انہیں سزا دی جاسکتی ہےاوران کا بائیکاٹ کیا جا سکتا ہے۔

(علامتی  تصویر: پی ٹی آئی)

کیا ہندوستانی سماج کے طبقاتی نظام  نے فیمنزم کو بھی بانٹ دیا ہے

معاشرتی عدم مساوات سے گھرے ہوئے ہندوستانی قصبوں اورگاؤں کی عورتیں اپنے حالات کو بدلنے کی جدوجہد میں مصروف اپنی سطح پر کسی بھی طرح اگر پدری نظام کو چیلنج دے رہیں ہیں تو کیا وہ بڑے شہروں میں تانیثیت کی آواز بلند کر رہی خواتین سے کسی طور پرکمتر ہیں؟

2007 amu.00_23_51_06.Still004

اے ایم یو حجاب تنازعہ: ’میں ہندو ہوں مجھے مذہب نہیں صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا احساس ہوتا ہے‘

ویڈیو: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایک بار پھر سوشل میڈیا پر شروع ہوئے حجاب تنازعہ کے بعد سے سرخیوں میں ہے۔ آخر کیا ہے پورا معاملہ اور لڑکیاں کیوں اٹھا رہی ہیں ہاسٹل کے ضابطوں پر سوال۔