government data

 (علامتی تصویر بہ شکریہ: pixabay/public domain)

سال 2019-21 کے درمیان 35000 سے زیادہ طالبعلموں نے خودکشی کی: سرکاری ڈیٹا

سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت نے پارلیامنٹ کو بتایا کہ 2019 میں طالبعلموں کی خودکشی کے 10335 واقعات درج کیے گئے، 2020 اور 2021 میں یہ تعداد بالترتیب 12526 اور 13089 درج کی گئی۔ ایس سی اور ایس ٹی طالبعلموں کی خودکشی کی تعداد پر وزارت نے کہا کہ اس کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہے۔

(السٹریشن: پری پلب  چکرورتی)

حکومتیں بین مذہبی رشتوں  کے لیے فکرمند ہیں، تاکہ ’لو جہاد‘ کے پروپیگنڈے کو زندہ رکھ سکیں

لڑکیاں اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہیں۔ اپنی مرضی سے رشتے بنانا چاہتی ہیں۔ اس کے لیے انہیں اپنے لوگوں سے بھاگنے کی ضرورت نہ پڑے، ایسا معاشرہ بنانے کی ضرورت ہے۔ جب تک وہ نہ بنے، تب تک ان خواتین کو اگر بچایا جانا ہے تو ان کے خاندانوں سے، بابو بجرنگی جیسے غنڈوں سے اور بجرنگ دل جیسی پرتشدد تنظیموں سے۔ لیکن اب اس فہرست میں شامل کرنا ہوگا کہ انہیں اسٹیٹ سے بھی بچانے کی ضرورت ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

سال 2017 سے 2021 کے بیچ جہیز کی وجہ سےہر دن 20 موتیں ہوئیں: سرکاری ڈیٹا

ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے کمار مشرا نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ 2017 سے 2021 تک ملک بھر میں جہیز کی وجہ سے موت کے کل 35493 واقعات سامنے آئے۔ اس عرصے میں اتر پردیش میں میں یومیہ موت کی تعداد سب سے زیادہ تھی، جہاں روزانہ چھ موت درج کی گئی۔