Gujarat Politics

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کیا گجرات میں سیاسی پھیر بدل اسمبلی انتخاب سے قبل بی جے پی کے عدم تحفظ کا اشاریہ ہے

پچھلی دہائیوں میں گجرات بی جے پی کامحفوظ ترین گڑھ رہا ہےاور آج کی تاریخ میں وہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی آبائی ریاست ہے۔اگر وہاں بھی بی جے پی کو ہار کا ڈر ستا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنی ناقابل تسخیر امیج کا جو متھ پچھلے سالوں میں بڑی کوشش سے گڑھا تھا، وہ ٹوٹ رہا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

گجرات: کانگریس کے سابق ایم ایل اے الپیش ٹھاکور اور دھول سنگھ جالا بی جے پی میں شامل

الپیش ٹھاکور اور دھول سنگھ جالا نے 5 جولائی کو ہوئے راجیہ سبھا ضمنی انتخابات میں مبینہ طور پر کانگریس امیدواروں کے خلاف ووٹ کرنے کے بعد ایم ایل اے کے عہدے سے استعفیٰ دے دیاتھا۔

بی جے پی صدر امت شاہ۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

7 سال میں امت شاہ کی جائیداد میں 3 گنا تو 5 سال میں ان کی بیوی کی جائیدادمیں 16گنااضافہ

بی جے پی صدر امت شاہ نے گاندھی نگر لوک سبھا سیٹ سے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ حلف نامہ کے مطابق، شاہ اور ان کی بیوی کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد 2012 کے 11.79 کروڑ روپے سے بڑھ‌کر 38.81 کروڑ روپے ہو گئی ہے۔

حلف برداری تقریب کے دوران کرناٹک کے وزیراعلیٰ بی ایس یدورپا ۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

بی ایس یدورپا : داغ اچھے ہیں؟

کرناٹک کے نئے وزیراعلیٰ بی ایس یدورپا کو غیر قانونی کان کنی معاملے میں بد عنوانی کی وجہ سے 2011 میں وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ حالانکہ 2016 میں اسپیشل سی بی آئی عدالت نے ان کو اس معاملے سے بری کر دیا تھا۔

سال 2012 میں گجرات اسمبلی کے صدر  بننے کے بعد ایم ایل ایز کا خیر مقدم کرتے وجوبھائی والا۔فائل فوٹو:  NarendraModi.in

وجوبھائی والا : جن سنگھ کے وفادار سپاہی سے لےکر کرناٹک کے گورنر تک  کا سفر

گجرات میں جن سنگھ کی بنیاد رکھنے والوں میں سے ایک وجوبھائی نے سال 2002 میں نریندر مودی کے لئے اپنی روایتی اسمبلی سیٹ چھوڑ دی تھی۔ نئی دہلی: کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والا گجرات میں بی جے پی کے سب سے سینئر رہنماؤں میں سے ایک رہے […]

Don`t copy text!