Gujarat

آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس اور بی جے پی رہنما جئے نارائن ویاس(فوٹو : پی ٹی آئی)

بی جے پی رہنما کی آر بی آئی گورنر پر چٹکی؛کہیں ریزرو بینک کو ہی تاریخ نہ بنا دیں

گجرات کے وزیر صحت رہ چکے جئے نارائن ویاس نے ریزرو بینک کے نئے گورنر شکتی کانت داس کی تعلیمی صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرے حساب سے بینک کا چیف ایک اہل ماہر اقتصادیات ہونا چاہیے۔

فوٹو: وکی پیڈیا

گجرات: ٹاٹا، اڈانی، ایسار کو کوئلے کی اونچی لاگت بجلی خریداروں سے وصول کرنے کی چھوٹ ملی

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے ٹاٹا پاور، اڈانی پاور اور ایسار پاور کو امپورٹ کیے گئے کوئلے کی اونچی لاگت کا بوجھ منتقل کرنے کے لیے کسی طرح کے Compensatory فیس نہیں لینے کا حکم دیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور آر بی آئی گورنرارجت پٹیل(فوٹو : پی ٹی آئی/رائٹرس)

ریزرو بینک تنازعہ میں مرکز ی حکومت بھلےہی پیچھے ہٹتی  نظر آرہی ہو، لیکن مسائل  اب بھی برقرار ہیں

اگر کل ممکنہ این پی اے کا تقریباً40 فیصد 10 کے قریب بڑے کاروباری گروپوں میں پھنسا ہوا ہے، تو بینک اس کا حل کئے بغیر قرض دینا شروع نہیں کر سکتے ہیں۔یہ بات واضح ہے لیکن حکومت بڑے بقائے والے بڑے کاروباری گروپوں کے لئے الگ سےاصول چاہتی ہے، جو ان کے مفادات کا خیال رکھتے ہوں۔

فوٹو: آندھر پردیش حکومت

آندھر پردیش: مجوزہ اسمبلی بلڈنگ کی اونچائی اسٹیچیو آف یونیٹی سے زیادہ ہوگی

نائیڈو نے ایسے وقت میں یہ اعلان کیا ہے جب اسٹیچیو آف یونیٹی کے افتتاح کے بعد اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ایودھیا میں مبینہ طور پر 201 میٹر اونچا بھگوان رام کا مجسمہ بنانے کا دعویٰ کرچکے ہیں ۔

امت شاہ (فوٹو : رائٹرس)

امت شاہ اور ڈی جی ونجارہ، تلسی رام پرجاپتی قتل معاملے  کے اہم سازش کرنے والے ہیں: سی آئی او

تلسی رام پرجاپتی فرضی انکاؤنٹر کیس کے سی آئی او سندیپ تمگڑے نے سی بی آئی کورٹ کو بتایا کہ امت شاہ اور ڈی جی ونجارہ، دنیش ایم این اور راج کمار پانڈین جیسے آئی پی ایس افسر اس معاملے کے اہم سازش کرنے والے تھے۔

امت شاہ اور سہراب الدین شیخ (فوٹو : رائٹرس)

 سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر سے امت شاہ کو سیاسی اور اقتصادی فائدہ ہوا: سابق انکوائری آفیسر

سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر معاملے میں سابق چیف انکوائری آفیسر امیتابھ ٹھاکر نے بتایا کہ امت شاہ کو اس معاملے میں 70 لاکھ کی ادائیگی کی گئی تھی۔ سابق آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارہ، سابق ایس پی (ادئےپور) دنیش ایم این، سابق ایس پی (احمد آباد) راج کمار پانڈین اور سابق ڈی سی پی (احمد آباد) ابھئے چوڑاسما کو بھی فائدہ ہوا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

رویش کا بلاگ: کیا ریزرو بینک کے ریزرو پرحکومت کی نظر ہے؟

این ڈی ٹی وی کی ویب سائٹ پر مہر شرما نے لکھا ہے کہ ریزرو بینک اپنے منافع سے ہرسال حکومت کو 50 سے 60 ہزار کروڑ دیتی ہے۔ اس کے پاس ساڑھے تین لاکھ کروڑ سے زیادہ کا ریزرو ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس ریزرو سے پیسہ دے تاکہ وہ انتخابات میں عوام کے بیچ گل چھرے اڑا سکے۔

ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل اور سابق گورنر رگھو رام راجن (فوٹو : رائٹرس)

بڑے کاروباریوں کی مدد کے لئے آر بی آئی پر حکومت کا حملہ مہلک ثابت ہوگا

آر بی آئی ایکٹ کی دفعہ 7 کا استعمال مفاد عامہ میں نہیں ہے-یہ موقع کےتلاش میں بیٹھے کاروباریوں کو آر بی آئی کے ذریعے پیسہ دینے کے لئے مجبور کرنے کے ارادے سے اٹھایا گیا ایک بےشرمی بھرا قدم ہے۔

سردار پٹیل کا مجسمہ(فوٹو : پی ٹی آئی) 

گجرات: اسٹیچیو آف یونیٹی کے افتتاح کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں ہزاروں آدیواسی؟ 

وزیر اعظم نریندر مودی 31 اکتوبر کو سردار پٹیل کے مجسمہStatue of Unityکی نقاب کشائی کرنے والے ہیں۔آدیواسیوں کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ ان کے لئے تباہ کن ہے۔اس کی مخالفت میں 72 گاؤں میں کھانا نہیں پکے‌گا۔

گزشتہ  دنوں گجرات میں ایک معصوم کے ساتھ ریپ کے بعد شمالی ہندوستان سے گجرات گئے مزدوروں کے خلاف تشدد شروع ہو گیا۔ احمد آباد اسٹیشن پر ٹرین سے واپس اپنی ریاست لوٹنے کے لئے لگی لوگوں کی قطار۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

بہاری مزدوروں کی نقل مکانی  :’ہمیں ماں بہن کی گالیاں دےکر گجرات خالی کرنے کو کہا گیا تھا ‘

28 ستمبر کو گجرات کے سابرکانٹھا ضلعے‎ میں 14 مہینے کی معصوم سے ریپ کا الزام بہار کےرہنے والے ایک آدمی پر لگنے کے بعد ریاست کے آٹھ ضلعوں میں شمالی ہندوستان کے مزدوروں کے خلاف تشدد شروع ہو گیا جس کے بعد وہاں سے نقل مکانی جاری ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

تشدد کے بعد یوپی اور بہار کے لوگوں کا گجرات چھوڑنا جاری، 431 لوگ گرفتار

اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گجرات کے وزیراعلیٰ کے حوالے سے بیان دیا کہ پچھلے تین دنوں میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جو لوگ گجرات کی ترقی سے جلتے ہیں، انہوں نے یہ افواہ پھیلائی ہے۔

فوٹو: رائٹرس

اٹل بہاری واجپائی کی کوشش کارگر ہوئی ہوتی تو…!

لوگوں کا ماننا ہے کہ آگرہ سربراہ کانفرنس اور رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ حل کرنے میں اٹل بہاری واجپائی کو کامیابی ملی ہوتی تو ملک کی صورتِحال آج کچھ اور ہوتی۔ لیکن تاریخ میں اگر مگر کی گنجائش ہی کہاں ہوتی ہے!

فائل فوٹو: رائٹرس

ہمیں واجپائی کے بنا ’مکھوٹے‘ والے اصلی چہرے کو نہیں بھولنا چاہیے

1984کے راجیو گاندھی اور 1993 کے نرسمہا راؤ کی طرح واجپائی تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کے طور پر بھی یاد کیے جائیں گے ،جنہوں نے سبق کو رواداری کا پڑھایا ،مگر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی طرف سے آنکھیں موند لیں ۔

فوٹو : پی ٹی آئی

واجپائی کے بارے میں ایک ہی بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے؛ وہ ہمیشہ سنگھ کے وفادار رہے

نریندر مودی سے الگ وہ اپنے خلاف لکھنے والے یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ذریعے تعمیرکی گئی ان کی عالمی شناخت سے اتفاق نہ رکھنے والے صحافیوں کے متعلق بھی خاکساری اور نرمی کے ساتھ پیش آتے تھے۔