guns

بٹو بجرنگی۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

ہریانہ: نوح تشدد بھڑکانے کے الزام میں دائیں بازو کے کارکن بٹو بجرنگی گرفتار

ہریانہ کی نوح پولیس نے 31 اگست کو ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے سلسلے میں گئو رکشک راجکمار عرف بٹو بجرنگی کو گرفتار کیا ہے۔ اس تشدد میں چھ افراد مارے گئے تھے۔ گئو رکشک مونو مانیسر بھی اس کیس میں ملزم ہیں۔ دونوں پر دائیں بازو کے گروپوں کی شوبھا یاترا سے پہلے مسلم اکثریتی ضلع نوح میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام ہے۔

(علامتی تصویر،بہ شکریہ: ٹوئٹر)

ہریانہ: مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے گرام پنچایتوں کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری

گزشتہ 31 اگست کو نوح میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے بعد، ریواڑی، جھجر اور مہندر گڑھ اضلاع کی کئی گرام پنچایتوں کی جانب سے اپنے گاؤں میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے کے لیے قراردادیں پاس کرنے کی خبریں موصول ہوئی تھیں۔ نوح میں وی ایچ پی سمیت دیگر دائیں بازو کے گروپوں کی طرف سے نکالی گئی ‘شوبھا یاترا’ کے دوران فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا تھا، جس میں چھ افراد کی موت ہو گئی تھی۔

ہریانہ کے پلوال ضلع میں 13 اگست کو ہندوتوا تنظیموں کی طرف سے منعقد  مہاپنچایت میں جمع لوگ ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ہریانہ: ہندوتوا تنظیموں کی مہاپنچایت میں اپنے ’دفاع‘ کے لیے بندوق لائسنس دینے کی مانگ

ہریانہ کے پلول ضلع میں منعقد ہندوتوا تنظیموں کی مہاپنچایت میں اعلان کیا گیا کہ گزشتہ31 جولائی کو فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہونے کے بعد وہ 28 اگست کو نوح ضلع میں وشو ہندو پریشد کی برج منڈل یاترا دوبارہ شروع کریں گے۔ اس یاترا کے دوران ہونے والے تشدد میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فیس بک کا لوگو (تصویر: پکسابے)

بجرنگ دل کے حمایتی فیس بک گروپ میں بندوقیں فروخت کرنے کی پیشکش کی گئی: وال اسٹریٹ جرنل

ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں کی نگرانی کرنے والے ایک ایکٹوسٹ کی جانب سے رپورٹ کیے جانے کے بعد فیس بک نے متعلقہ پوسٹ کو ہٹانے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم، جب وال اسٹریٹ جرنل نے اس حوالے سے استفسار کیا تو اس کو ہٹا دیا گیا۔