Hate Speech

(السٹریشن: دی وائر)

ہیٹ اسپیچ معاملے میں ایف آئی آر درج  کرنے کے لیے پیشگی اجازت ضروری: عدالت

دہلی کی ایک عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے مطابق،ہیٹ اسپیچ وغیرہ کے معاملے میں کوڈ آف کریمنل پروسیجر (سی آر پی سی) کی دفعات کے تحت تحقیقات اور ایف آئی آر کے درج کرنے کے لیے حکومت کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

 جسٹس آر ایف نریمن(فوٹو : یوٹیوب)

سول عدالتوں کو بھی ہیٹ اسپیچ کے خلاف شنوائی کا اختیار دیا جائے: سپریم کورٹ کے سابق جج

سپریم کورٹ کے سابق جج روہنٹن فلی نریمن نے موجودہ دورمیں ملک میں اخوت اور بھائی چارے کے آئینی اصول کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم آہنگی کو بگاڑنے والے بیانات( ہیٹ اسپیچ) کے معاملوں میں دیوانی عدالتوں کو مالیاتی ہرجانہ لگانے کا اختیار دیا جانا چاہیے۔

(تصویر: دی وائر)

شکایت کا انتظار کیے بغیر ہیٹ اسپیچ کے خلاف از خود نوٹس لے کر مقدمہ درج کریں: سپریم کورٹ

ہیٹ اسپیچ کو انتہائی سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے دہلی، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ جرائم پر کی گئی کارروائی کے بارے میں رپورٹ داخل کریں۔ بنچ مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے اور دہشت زدہ کرنے کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے مداخلت کی مانگ والی عرضی پر سماعت کر رہی ہے۔

(السٹریشن : پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

ہیٹ اسپیچ پر مودی حکومت خاموش ہےکیوں کہ اس کاسب سے زیادہ فائدہ وہی اٹھا رہی ہے

سپریم کورٹ نے ہیٹ اسپیچ کی بات کر کے ملک کی دکھتی نبض پر ہاتھ رکھا ہے، لیکن جہاں تک اس سلسلے میں’مرکز کے خاموش تماشائی بن کر بیٹھنے’ والے سوال کی بات ہے تویہ سوال پوچھنے والے کو بھی پتہ ہے اور ملک کی عوام کو بھی کہ اس سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے۔

بجرنگ منی۔ (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

زبیر کیس: اے ایس جی کے ذریعے ’قابل احترام‘ کہے گئے بجرنگ منی نے مسلمانوں عورتوں کے ساتھ ریپ کی اپیل کی تھی

سپریم کورٹ میں صحافی محمد زبیر کی عرضی کی سماعت کے دوران حکومت کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا کہ بجرنگ منی ایک ‘قابل احترام ‘ مذہبی رہنما ہیں، جن کے بہت سے پیروکار ہیں۔بجرنگ منی کی مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کی وجہ سے انہیں ایک بار گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

1604 HKB.00_10_22_23.Still006

مسلمان عورتوں کو ریپ کی دھمکی دینے والے ملزم مہنت نے کب کب زہر فشانی کی

ویڈیو: اتر پردیش کے سیتا پور ضلع کے خیر آباد علاقے کے مہنت بجرنگ منی نے 2 اپریل کو ہندو نئے سال اور نوراتری کے موقع پر مسلمان عورتوں کو مبینہ طور پر ریپ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس معاملے میں اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش پولیس کے ایک سابق سب انسپکٹر کے بیٹے بجرنگ منی پہلے انوپم مشرا کے نام سے معروف تھے۔

اے آئی ایم آئی ایم ایم ایل اے اکبر الدین اویسی (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@imAkbarOwaisi)

تلنگانہ: ایم ایل اے اکبر الدین اویسی ہیٹ اسپیچ معاملے میں بری

یہ معاملے اکبر الدین اویسی کے خلاف 2013 میں درج کیے گئے تھے۔ ان پر ایک کمیونٹی کے خلاف اشتعال انگیز اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے کا الزام تھا۔ عدالت نے کہا کہ ملزم کے خلاف معاملوں کو ثابت کرنے کے لیے شواہد کافی نہیں ہیں، اس لیے انہیں شک کا فائدہ دیتےہوئے بری کر دیا۔

بجرنگ منی۔ (فوٹو بہ شکریہ: اے این آئی)

یوپی: مہنت بجرنگ منی ہیٹ اسپیچ اور مسلمان عورتوں کے ساتھ ریپ کرنے کی دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار

اتر پردیش کے سیتا پور ضلع کے خیر آباد کے مہرشی شری لکشمن داس اُداسی آشرم کے مہنت بجرنگ منی پر مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز تبصرے کے لیےگزشتہ 8 اپریل کوآئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مہنت نے یہ بیان نوراتری اور ہندو نئے سال کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران پولیس کی موجودگی میں دیا تھا۔

وائرل ویڈیو میں نظر آ رہے مہنت۔ (فوٹو بہ شکریہ: ویڈیو گریب)

اترپردیش: مہنت نے مبینہ طور پر مسلمان عورتوں کے ساتھ ریپ کی دھمکی دی، مقدمہ درج

بتایاجاتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ہیٹ اسپیچ ایک ویڈیو 2 اپریل کو ریکارڈ کیا گیا تھا، جب سیتا پور ضلع کے خیر آباد قصبے کے مہرشی شری لکشمن داس اُداسین آشرم کے مہنت بجرنگ منی داس کے طور پر شناخت کیے گئے ایک شخص نے نوراتری اور ہندو سال نو کے موقع پر جلوس نکالا تھا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

بُلی بائی ایپ کے نشانے پر رہی خواتین کے پاس ایک ہی راستہ ہے … وہ ہے آگے بڑھتے رہنا

سال 2021 میں اقلیتوں کے خلاف ہیٹ کرائم میں اضافہ ہوا، لیکن میڈیا خاموش رہا۔ اس سال کی ابتدا اور زیادہ نفرت سے ہوئی، لیکن اس کے خلاف ملک بھر میں آوازیں بلند ہوئی۔ اقلیتوں اور خواتین سے نفرت کی مہم کا نشانہ بننے کے بعد میں اپنے آپ کو سوچنے سے نہیں روک پاتی کہ کیا اب بھی کوئی امید باقی ہے؟

بُلی بائی  ایپ پلیٹ فارم کا اسکرین شاٹ۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر)

 بُلی بائی جیسے ایپ کو محض جرم سمجھنا اس میں پوشیدہ بدنیتی اور گہری سازش سے منھ موڑنا ہے

مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے پس پردہ ، اس سازش کا مقصد یہ ہے کہ اس قوم کو اس قدر ذلت دی جائے، ان کےعزت نفس کو اتنی ٹھیس پہنچائی جائے کہ تھک ہارکر وہ ایک ایسی’شکست خوردہ قوم’کے طور پر اپنے وجود کو قبول کر لیں، جوصرف اکثریت کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے کو مجبور ہے۔

فیس بک کے سی ای او مارک زکربرگ۔ (فوٹو: رائٹرس)

فیس بک کو پتہ تھا کہ اس کا استعمال مذہبی منافرت کے لیے ہو رہا ہے: رپورٹ

فیس بک کےمحققین کی تیارکردہ ایک رپورٹ کے مطابق، دہلی فسادات کے دوران فیس بک اور وہاٹس ایپ پرتشدد کے لیےاکسانے اور افواہوں پرمبنی پیغامات کی باڑھ آئی گئی تھی اور فیس بک کو اس بات کی جانکاری تھی۔ فیس بک کے ترجمان نے بتایا کہ یہ رپورٹ حتمی نہیں ہے۔ اس میں پالیسی کی سفارشات نہیں ہیں۔

(السٹریشن:پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

اس ملک میں مسلمانوں کو کھلے عام گالی دی جا سکتی ہے، ان کا خون کرنے کی بات کی جاسکتی ہے …

یہ ہندوستان کی معاشرتی فطرت بنتی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کو کھلے عام مارا جا سکتا ہے، ان کے خلاف پرتشدد پروپیگنڈہ کیا جا سکتا ہے اور پولیس انتظامیہ سے لےکر سیاسی پارٹیوں تک کوئی بھی اسے سنگین معاملہ ماننے کو تیار نہیں۔

(السٹریشن: دی  وائر)

فیس بک نے بنایا تھا فرضی اکاؤنٹس کو ہٹانے کا منصوبہ، بی جے پی ایم پی کا نام آنے پر کھینچ لیے قدم: رپورٹ

دی گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ فیس بک نے مبینہ طور پر فرضی اکاؤنٹ کے ذریعے بی جے پی ایم پی کی مقبولیت کو بڑھنے دیا، جبکہ مہینوں پہلے اس کے بارے میں ایک ملازم نے کمپنی کو واقف کرا دیا گیا تھا۔

(علامتی تصویر، فوٹو:اسپیشل ارینجمنٹ)

مسلمانوں کو  ہراساں کرنے کی وجہ اب پولرائزیشن نہیں

ملک کے رہنماگزشتہ کوئی بیس سالوں کی انتھک کوششوں سے سماج کا اتنا پولرائزیشن پہلے ہی کر چکے ہیں کہ آنے والے کئی سالوں تک ان کی انتخابی جیت یقینی ہے۔ پھر کچھ لوگ اقلیتوں کو ہراساں کرنے اور انہیں ذلیل وخوارکرنے کے لیے جوش و خروش کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں؟

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

ہندوستانی مسلمانوں کا المیہ: ہو ئے اپنے ہی گھر میں بیگانے

جس طرح ملک میں فرقہ وارانہ عداوتیں بڑھ رہی ہیں، اس سے مسلمانوں کے افسردہ اور اس سے کہیں زیادہ خوف زدہ ہونے کے متعدد اسباب ہیں۔سماج ایک‘بائنری سسٹم’سے چلایا جا رہا ہے۔ اگر آپ اکثریت سے متفق ہیں تو دیش بھکت ہیں، نہیں تو جہادی،اربن نکسل یاغدار، جس کی جگہ جیل میں ہے یا ملک سے باہر۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

فیس بک کی جانب سے بجرنگ دل پر کارروائی کی بات پر سیکورٹی ٹیم نے حملے کے خدشات کا اظہار کیا تھا: رپورٹ

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک کی سیکورٹی ٹیم نے سوشل میڈیا کمپنی کو وارننگ دی تھی کہ اگر پلیٹ فارم سے بجرنگ دل کو بین کیا گیا، تو جوابی طور پر ممکنہ حملہ ہو سکتا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

فیس بک کی سابق ڈیٹا سائنٹسٹ کا دعویٰ، فیس بک کے ذریعے دہلی انتخاب کو متاثر کر نے کی کوشش کی گئی

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق فیس بک کی ایک سابق ڈیٹا سائنٹسٹ نے فیس بک پر کئی ملکوں کے انتخابات کو متاثر کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی کوششوں سے نمٹے میں فیس بک شفافیت لانے یاوقت پر کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ (فوٹوبہ شکریہ: فیس بک)

فیس بک نے بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کے اکاؤنٹ پر پابندی لگائی

اگست مہینے میں ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستان میں فیس بک کی پبلک پالیسی ڈائریکٹر(جنوبی اور وسطی ایشیا)آنکھی داس نے بی جے پی رہنما ٹی راجہ سنگھ کے خلاف فیس بک کے ہیٹ اسپیچ ضابطوں کونافذ کرنے کی مخالفت کی تھی، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اس سے کمپنی کے تعلقات بی جے پی سے خراب ہو سکتے ہیں۔

فوٹو: رائٹرس

سال 2019 کے انتخاب سے پہلے بی جے پی کے کہنے پر فیس بک نے اس کے 14مخالف پیجوں کو بند کیا تھا: رپورٹ

پچھلے سال نومبر میں بی جے پی نے فیس بک انڈیا کو ڈیلیٹ کیے جا چکے 17 پیجوں کو بھی دوبارہ شروع کرنے کے لیے کہا تھا، جس میں دو نیوز ویب سائٹ ‘دی چوپال’ اور ‘آپ انڈیا’ شامل تھیں۔ جن فیس بک پیجوں کی پارٹی نے شکایت کی تھی، ان میں ‘بھیم آرمی’ کا اکاؤنٹ، ‘وی ہیٹ بی جے پی’، ‘دی ٹروتھ آف گجرات’ اورصحافی رویش کماراور ونود دوا کی حمایت والے پیج شامل تھے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

ایسا لگتا ہے دہلی فسادات میں فیس بک کا ہاتھ  تھا: دہلی اسمبلی کمیٹی

دہلی قانون ساز اسمبلی کی امن و ہم آہنگی کمیٹی کے چیئر مین راگھو چڈھا نے کہا ہے کہ دہلی فسادات کی جانچ میں فیس بک کو شریک ملزم کی طرح ماننا چاہیے اور اس کی جانچ ہونی چاہیے۔ کمیٹی نےتشدد پھیلانے میں وہاٹس ایپ کے رول کی جانچ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

آنکھی داس (فوٹو بہ شکریہ : لنکڈان)

فیس بک کی آنکھی داس نے کی تھی مودی کی حمایت، بی جے پی کو جیت حاصل کر نے میں بھی کی تھی مدد: رپورٹ

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں فیس بک کے انٹرنل گروپ کے پیغامات کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں کمپنی کی پبلک پالیسی ڈائریکٹر(جنوبی اور وسطی ایشیا)آنکھی داس سال 2012 سے بالواسطہ طور پرنریندر مودی اور بی جے پی کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ یہ دنیا بھر کے انتخاب میں غیرجانبدار رہنے کے فیس بک کے دعووں پر سوال کھڑے کرتا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس/پی ٹی آئی)

ہیٹ اسپیچ پر کارروائی نہ کر نے کو لے کر پارلیامانی کمیٹی  نے دو ستمبر کو فیس بک کو طلب کیا

پارلیامانی کمیٹی برائےانفارمیشن ٹکنالوجی کی مجوزہ میٹنگ میں شہری حقوق کے تحفظ اورسوشل میڈیا پلیٹ فارمز کےغلط استعمال پر روک لگانے پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔وہیں اس کمیٹی کے ممبر اوربی جے پی رہنما نشی کانت دوبے نے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین ششی تھرور کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

AKI-18-August-2020.00_17_26_25.Still005-1200x600 (1)

پی ایم کیئرس فند اور عامر خان پر ہنگامہ

ویڈیو: سپریم کورٹ نے اس عرضی کو خارج کر دیا جس کے تحت یہ مانگ کی گئی تھی کہ پی ایم کیئرس فند میں ملی رقم نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ (این ڈی آرایف)میں ٹرانسفر کی جائے۔ دوسری طرف عامر خان کی ترکی کی خاتون اول سے ملاقات پر ہنگامہ برپا ہے۔ ان مدعوں پر دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفا خانم شیروانی کا نظریہ۔

AKI 17 August 2020.00_21_51_04.Still002

نفرت کے کاروبار میں فیس بک اور بی جے پی کا یارانہ

ویڈیو: انفارمیشن ٹکنالوجی پر پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ پرغور کرےگی، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ فیس بک نے ناراضگی کے ڈر سےبی جے پی رہنما کی مسلم مخالف پوسٹ پر کارروائی نہیں کی۔ اس موضوع پرسینئر صحافی پرنجوئے گہا ٹھاکرتا سے د ی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(السٹریشن: رائٹرس)

فیس بک کے بی جے پی رہنما کی مسلم مخالف پوسٹ کی ان دیکھی کی رپورٹ پر غور کرے گی پارلیامانی کمیٹی

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ فیس بک نے ناراضگی کے ڈر سے بی جے پی رہنما کی مسلم مخالف پوسٹ پر کارروائی نہیں کی تھی۔انفارمیشن ٹکنالوجی پر پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین ششی تھرور نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں فیس بک کی بات سننا چاہیں گے۔

مارک زکربرگ کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی۔ (فائل فوٹو: رائٹرس)

فیس بک نے ناراضگی کے ڈر سے بی جے پی رہنما کی مسلم مخالف پوسٹ پر نہیں کی کارروائی: رپورٹ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں فیس بک کے ایک اعلیٰ افسرنے بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ کی پوسٹ پرفیس بک کے ہیٹ اسپیچ ضابطوں کےنفاذکی مخالفت کی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اس سے کمپنی کے بی جے پی کے ساتھ رشتے خراب ہو سکتے ہیں۔

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ  کیشو پرساد موریہ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: عدالت نے نائب وزیر اعلیٰ کے خلاف درج اشتعال انگیز تقریر کےمعاملے کو واپس لینے کی منظوری دی

سال 2011 میں اتر پردیش کے کوشامبی ضلع میں نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ پر ایک مظاہرہ کے دوران اشتعال انگیز تقریرکرنے اور ان کے پانچ ساتھیوں پر دوسری کمیونٹی کے ایک نوجوان کو ہراساں کرنے اور ان کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔

نریندر مودی /فائل فوٹو : رائٹرس

آٹھ سالہ بچی کے ساتھ وحشیانہ حرکت یہ دکھاتی ہے کہ ہم کمینگی کی کن گہرائیوں میں ڈوب چکے ہیں

وزیر اعظم کے نام لکھے ایک خط میں ریٹائرڈ نوکرشاہوں نے کہا کہ یہ خط صرف اجتماعی شرم یا اپنی تکلیف کو آواز دینے کے لئے نہیں بلکہ سماجی زندگی میں زبردستی شامل کر دی گئی نفرت اور تقسیم کے ایجنڈے کے خلاف لکھا گیا ہے۔

Don`t copy text!