Hindi Film Industry

ایکٹر جگدیپ۔ (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

اپنے فن سے بمل رائے جیسے ہدایت کاروں کو متاثر کر نے والے جگدیپ دنیا کو الوداع کہہ گئے

جگدیپ نے اپنے 50 سالہ کریئر میں تقریباً 400 فلموں میں کام کیا۔ 1975 میں آئی فلم شعلے کے سورما بھوپالی کے ان کے کردار کو مداح آج بھی یاد کرتے ہیں۔ ان کا ڈائیلاگ ‘ہمارا نام سورما بھوپالی ایسے ہی نہیں ہے’ کافی مشہور ہے۔

خیام، فوٹو: ٹوئٹر

خیام کی موجودگی میں یقین ہوتا ہے کہ آج کی موسیقی نظریں زیادہ چراتی ہے باتیں کم کرتی ہے

ویڈیو: ہندوستانی سنیما کے عظیم موسیقار خیام کے بارے میں بتارہی ہیں یاسمین رشیدی ۔ خیام ان موسیقاروں میں رہے جو مانتے ہیں کہ پہلے گیت لکھے جائیں دھن بعد میں تیا رہو۔یوں سوچیں تو آج کی موسیقی میں ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔

فوٹو: سوشل میڈیا

خیام، جن کی موسیقی میں خاموشی اپنی فطرت کے ساتھ بول اٹھتی ہے…

ایک مذہبی گھرانے میں بچپن سے ہی آوازوں کے پیچھے بھاگنے والے خیام کو ان کے جرم کی سزا سنائی گئی اور گھر کے دروازے بند کر دئے گئے۔اب فلموں کے عاشق خیام ہیں اور پیچھے بند دروازہ۔ مگر ان کی دستک کسی اور دروازے پر تھی ،جس کی تھاپ میں زندگی کو رقص کرنا تھا۔

فوٹو، یو ٹیوب/ پی ٹی آئی

خیام ہندوستانی موسیقی کے سنہری دور کے آخری رتن تھے…

یہ خیام کا فن تھا کہ انہوں نے قدامت کو یوں جدت دی کہ گویا لافانی کر دیا۔ اگر خیام نے صرف ایک دھن بنائی ہوتی تو وہ تب بھی اسی مرتبے پر فائز ہوتے جس پہ کہ ہوئے۔ اور وہ دھن تھی میر تقی میر کی غزل کی جوانہوں نے ساگر سرحدی کی فلم بازار کے لیے بنائی۔

photo: spandansansthan.wordpress.com

ادبی میلوں اورجاوید اختر جیسوں سے کیوں ناراض ہیں چترا؟

’ مجھے ان ہدایت کاروں کو ادبی کانفرنسوں کے منچ پر بلائے جانے کو لےکر اعتراض نہیں ہے، جنہوں نے ادبی تخلیقات پر فلمیں بنائی ہوں۔ ‘ اندور : ادبی کانفرنس میں  اسٹیج پر اہم مقررکے طور پر فلمی دنیا کے لوگوں کی تعداد کولےکر مشہور فکشن نویس […]

Don`t copy text!