Hindu

ایودھیا زمین تنازعہ معاملے میں پانچ رکنی بنچ کے جج

ایودھیا معاملے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ جج کون ہیں؟

رام جنم بھومی- بابری مسجد زمینی تنازعہ معاملے میں سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس بنچ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدا لنذیر شامل ہیں۔

سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی(فوٹو: پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں لیکن ہم اس سے مطمئن نہیں: ظفریاب جیلانی

بابری مسجد-رام جنم بھومی زمینی تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ وہ وکیلوں سے بات کرنے کے بعد ریویوپیٹیشن دائر کرنے کے بارے میں فیصلہ لیں گے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : دی وائر)

ایودھیا تنازعہ: پڑھیں سپریم کورٹ کا مکمل فیصلہ

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 2010 کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر آیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں2.77 ایکڑ زمین کو سنی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا وراجمان کے بیچ برابر بانٹنے کی ہدایت دی تھی۔

اقبال انصاری(فوٹو بشکریہ: اے این آئی)

ایودھیا معاملے میں عدالت کے فیصلے سے خوش ہوں: مدعی اقبال انصاری

رام جنم بھومی بابری مسجد معاملے کے فریق رہے ہاشم انصاری کے بیٹے اور مدعی اقبال انصاری نے کہا کہ اس بات کی سب سے زیادہ خوشی ہے کہ یہ مسئلہ سلجھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو چیلنج نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

ایودھیا: فیصلے کا خیر مقدم کر تے ہو ئے رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کی

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد جہاں ملک کی اکثر سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام لوگوں سے امن و امان قائم رکھنے رکھنے کی اپیل کی، وہیں نرموہی اکھاڑہ نے کہا کہ اس کوفیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔

Ayodhya-Dispute-PTI-Wiki-1-e1573282871191

متنازعہ زمین پر مسلم فریق کا دعویٰ خارج، ہندو فریق کو ملے گی زمین: سپریم کورٹ

بابری مسجد-رام جنم بھامی تنازعہ: رام جنم بھومی نیاس کو ملے گا 2.77 ایکڑ زمین کا مالکانہ حق۔ مرکزی حکومت کو تین مہینے کے اندر بنانی ہوگی ٹرسٹ۔سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں ہی 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔

فوٹو: دی وائر

جھارکھنڈ: افواہوں کی وجہ سے 7 لوگوں کی لنچنگ ہوئی، این سی آر بی رپورٹ میں کہا-کوئی معاملہ نہیں

ریاست میں گزشتہ تین سال میں گئوکشی، چوری، بچہ چوری اور افواہوں کی وجہ سے 21 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ جنوری 2017 سے لےکر اب تک ریاست میں جادو-ٹونا کرنے کے شک کی بنیاد پر ہوئی ماب لنچنگ میں 90 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔

فوٹو: دی وائر

این سی آر بی رپورٹ: وزارت داخلہ نے کہا، قابل اعتماد نہ ہونے کی وجہ  سے 25 زمروں میں اعداد و شمار جاری نہیں کیے

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی)کی رپورٹ میں ماب لنچنگ کے اعداد وشمار کو شامل نہیں کیے جانے پر صفائی دیتے ہوئے وزارت داخلہ نے کہا کہ ان اعداد وشمار کو اس لیے شامل نہیں کیا گیا،کیونکہ وہ قابل اعتماد نہیں تھے اور ان میں غلط اطلاعات کے شامل ہونے کا خطرہ تھا۔

جھارکھنڈ ہائی کورٹ(فوٹو : وکی میڈیا کامنس)

قرآن تقسیم کرنے کے حکم پر چرچہ میں آئی طالبہ جھارکھنڈ پولیس کے خلاف ہائی کورٹ پہنچی

رانچی کی ایک طالبہ ریچا بھارتی کو سوشل میڈیا پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی پوسٹ کرنے کے الزام میں گزشتہ 12 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مقامی عدالت نے ان کو پانچ قرآن تقسیم کرنے کی شرط پر ضمانت دی تھی۔ بعد میں عدالت نے قرآن تقسیم کرنے کا حکم واپس لے لیا تھا۔

موہن بھاگوت(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

موہن بھاگوت کی تقریر: کیا آر ایس ایس کا قد مودی-شاہ کے سامنے چھوٹا پڑگیا ہے؟

مانا جاتا ہے کہ جب بھی این ڈی اے اقتدار میں آتی ہے، اس کی ڈور آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ لیکن 2019 کی وجئے دشمی کی تقریرکے زیادہ تر حصے میں سنگھ چیف موہن بھاگوت کا مودی حکومت کے بچاؤ میں بولنا ان کے گھٹتے قدکی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ناگپور میں سنگھ ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتے ہوئےموہن بھاگوت۔ (فوٹو :پی ٹی آئی)

آر ایس ایس چیف نے کہا؛لنچنگ ایک سازش ہے، ہندوستان کو بدنام کر نے کے لئے اس کا استعمال کیا جارہا ہے

آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ سنگھ کا نام لےکر،ہندوؤں کا نام لےکر ایک سازش چل رہی ہے، یہ سب کو سمجھنا چاہیے۔ لنچنگ کبھی ہمارے ملک میں رہا نہیں، آج بھی نہیں ہے۔

(علامتی فوٹو:پی ٹی آئی)

گنگا اور اس کی معاون ندیوں میں مورتی وسرجن پر روک، خلاف ورزی پر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ

نیشنل مشن فار کلین گنگا نے 11 ریاستوں کو اس بارے میں ہدایات جاری کی ہیں۔ ہدایات کے تحت گنگا اور اس کی معاون ندیوں میں مورتی وسرجن کے علاوہ پوجا کے سامان ڈالنے پر سختی سے روک لگانے کو کہا ہے۔

مدھیہ پردیش کی سابق وزیراعلیٰ اور بی جے پی کی سینئر رہنما اوما بھارتی (فوٹو : پی ٹی آئی)

سانسوں کی طرح معیشت بھی اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے: اوما بھارتی

دہرادون میں منعقد پروگرام میں بی جے پی کی سینئر رہنما اوما بھارتی نے کہا کہ جہاں تک اقتصادی بحران کے دور کی بات ہے، یہ سانسوں کے چڑھنے اور اترنے کی طرح ہوتا ہے۔ سانس نیچےاوپر ہوتی ہے لیکن جسم پورا چل رہا ہوتا ہے۔

ششی تھرور (فوٹو : پی ٹی آئی)

کانگریس کا فرض سیکولرزم کی حفاظت کرنا ہے، سافٹ ہندوتوا سے نہیں ٹلے‌ گا بحران: تھرور

کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے کہا کہ بی جے پی کی کامیابی سے خوف زدہ ہونے کے بجائے کانگریس کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ان اصولوں کے لئے کھڑی ہو، جن پر اس نے ہمیشہ ہی یقین  کیا ہے۔ نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما […]

کلیان سنگھ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

بابری مسجد انہدام معاملے میں کلیان سنگھ کو پیش کرنے کے لئے سی بی آئی نے دی عرضی

بی جے پی کے سینئر رہنما کلیان سنگھ حال ہی میں راجستھان کے گورنر کے عہدے سے ہٹے ہیں۔ سی بی آئی نے کہا کہ چونکہ اب کلیان سنگھ گورنر کے عہدے سے ہٹ چکے ہیں اس لئے بابری مسجد انہدام معاملے میں ان کے خلاف کارروائی شروع کی جانی چاہیے۔

Hindutva_Reuters-1

اگر یہ ہندو راشٹر نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

لبرل دانشور جماعت کے لئے ہندوستان بھلےہی اب تک ہندو راشٹر نہ بنا ہو، لیکن گلیوں میں گھومنے والے ہندتووادیوں کے لئے یہ ایک ہندو راشٹر ہے۔ اس کی علامت بھلے چھپی ہوئی ہوں، لیکن اس کے حمایتی اور متاثرین، دونوں ہی بہت واضح طور پر اس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ معاملے کو لے کر کیے گئے امت شاہ کے دعووں میں کتنی سچائی ہے؟

وزیر داخلہ امت شاہ کا دعویٰ ہے کہ پچھلی حکومت نے ہندو مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنے کے لئے اصلی مجرموں کو چھوڑ دیا تھا، اگر ایسا ہے تو این آئی اے ان کو پکڑنے کی سمت میں کوئی قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے؟

Court-Hammer-2

جھارکھنڈ: سوشل میڈیا پوسٹ کے لئے گرفتار طالبہ کو 5 قرآن عطیہ کرنے کی شرط پر ضمانت

رانچی کی ایک 19 سالہ طالبہ ریچا بھارتی کو سوشل میڈیا پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی پوسٹ کرنے کے الزام میں 12 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مقامی عدالت نے ان کو 5 قرآن عطیہ کرنے کی شرط پر ضمانت دی ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

گجرات میں 2 سال میں 800 سے زائد ہندوؤں اور 35 مسلمانوں نے مذہب تبدیل کرنے کی اجازت مانگی؛ وزیر اعلیٰ

گجرات اسمبلی میں وقفہ سوال کے دوران وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے بتایا کہ مذہب تبدیل کرنے کی اجازت مانگنے والے ہندوؤں میں سب سے زیادہ 474 لوگوں نے سورت سے،152 لوگوں نے جونا گڑھ سے اور 61 لوگوں نے آنند سے درخواست دی ہے۔

Hate

گجرات 2002 کے ’کل‘اور’آج‘ سے روشناس کرواتی ہوئی ایک کتاب

فسادات نہ ہوئے ہوتے تو مودی اس ملک کے وزیر اعظم نہیں بن سکتے تھے۔ آخر فسادات کے دوران کچھ لوگوں نے ایک فرقے کے تئیں شدید بلکہ شدید ترین ’نفرت‘ کا اظہار کیوں کیا؟ اور کیا ’نفرت‘ میں اچانک ہی شدت آئی تھی یا بتدریج اور کیا اس میں کبھی کوئی کمی بھی آسکتی ہے؟ ریواتی لعل نے تین بنیادی کرداروں پر ساری توجہ مرکوز کرکے مذکورہ سوالوں کے جواب دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

مودی حکومت کی واپسی: مسلمان فکرمند ہیں، خوفزدہ نہیں…

ہمارے لبرل صحافی اور روشن خیال دانشوران فاشزم اورکمیونلزم کے خلاف اپنی لڑائی کو مسلمانوں کے کندھوں پر رکھ کر کیوں لڑنا چا ہتے ہیں؟ ڈر کو مسلمانوں کے ساتھ کیوں چپکا دینا چاہتے ہے؟ جہاں تک مسلمانوں کے ڈر جانے کا سوال ہے تو یہ محض ایک فیک نیوز ہے۔ متھ ہے۔ اور کچھ نہیں۔ مسلمان فکر مند ضرور ہیں، خوف زدہ با لکل نہیں۔تقسیم کے بعد جن مسلمانوں نے پاکستان کو ٹھکرا دیا کم از کم ان کے بارے میں تو ایسا ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

لوک سبھا میں5 فیصد سے کم ہوئی مسلمانوں کی نمائندگی، بی جے پی سے ایک بھی مسلم ایم پی نہیں

لوک سبھا انتخاب میں جیت درج کرنے والی پارٹیوں میں سے بی جے پی واحد ایسی پارٹی ہے جس کی طرف سے ایک بھی مسلم ایم پی لوک سبھا نہیں پہنچا ہے۔ 542 سیٹوں پر ہوئے لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی نے 303 سیٹوں پرجیت درج کی ہے۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

کیا اب مسلمان سیاسی پارٹیوں کی مجبوری نہیں ہیں؟

کسی بھی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھولے سے بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا۔کانگریس نے تو انتخابی منشور کی رسم اجراء کی تقریب میں غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے قدآور لیڈروں کو بھی دوررکھا۔ بہار کی راشٹریہ جنتا دل ،جس کی پوری سیاست مسلمانوں اوریادو پر منحصر ہے اس نے بھی اپنے منشور میں ایک جگہ بھی مسلم لفظ نہیں لکھا۔

علامتی تصویر،فوٹو: رائٹرس

رام چندر گہا کا کالم : کیا ہندوستان ایک ہندو پاکستان بننے کی راہ پر گامزن ہے؟

2019 میں بی جے پی کی مہم خصوصی طور پر ہندو اکثریت کے لیے ہے۔ پارٹی ان کے خوف اور عدم تحفظ کے احساسات کو بنیاد بنا کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ اسی لیے امت شاہ مسلمانوں کو ‘دیمک’ بتا چکے ہیں، آدتیہ ناتھ بجرنگ بلی کو علی کے بالمقابل کھڑا کر چکے ہیں اور مودی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ مغربی بنگال میں ہندو ‘جئے شری رام‘ کا نعرہ بھی بلند نہیں کر سکتے۔

رام داس اٹھاولے ،فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر

مالیگاؤں دھماکے میں اے ٹی ایس کے پاس پرگیہ کے خلاف ثبوت تھے، ٹکٹ دیا جانا غلط: رام داس اٹھاولے

مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے کہا کہ لوگوں کو بچانے کے لیے دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے کرکرے شہید ہوگئے تھے ۔ میں کر ے کرے کو لے کر سادھوی کے بیان سے متفق نہیں ہوں ۔ ہم اس کی تنقید کرتے ہیں ۔یہ فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ اگر ہماری پارٹی کی بات ہوتی تو ہم ان کو امیدوار نہیں بناتے۔

 پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور آلوک سنجر(فوٹو :پی ٹی آئی/فیس بک)

بی جے پی ایم پی آلوک سنجر نے بھوپال لوک سبھا سیٹ سے پارٹی کے ڈمی امیدوار کے طور پر پرچہ بھرا

مالیگاؤں دھماکے کی ملزم پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے بھی بھوپال سے پرچہ داخل کیاہے۔ ڈمی امیدوار کو لےکر مدھیہ پردیش بی جے پی کے چیف ترجمان نے کہا کہ ایسا اس لئے کیونکہ اگر کہیں آفیشیل امیدوار کی نامزدگی کسی تکنیکی یا قانونی وجہوں سے رد ہوتی ہے تو پارٹی کے پاس اختیار موجود ہو۔

پرگیہ سنگھ ٹھاکر/ فوٹو: پی ٹی آئی

بابری مسجد پر متنازعہ تبصرہ کرنے کے معاملے میں پرگیہ ٹھاکر کے خلاف ایف آئی آر درج

پرگیہ ٹھاکر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ رام مندر ہم بنائیں گے اور شاندار بنائیں گے،ہم توڑنے گئے تھے ڈھانچہ، میں نے چڑھ کر توڑا تھا ڈھانچہ ،اس پر مجھے بہت فخر ہے۔مجھے ایشور نے طاقت دی تھی،ہم نے ملک کا کلنک مٹایا ہے۔

Don`t copy text!