Hindutva

MuslimVoters_PTI

کیا اب مسلمان سیاسی پارٹیوں کی مجبوری نہیں ہیں؟

کسی بھی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھولے سے بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا۔کانگریس نے تو انتخابی منشور کی رسم اجراء کی تقریب میں غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے قدآور لیڈروں کو بھی دوررکھا۔ بہار کی راشٹریہ جنتا دل ،جس کی پوری سیاست مسلمانوں اوریادو پر منحصر ہے اس نے بھی اپنے منشور میں ایک جگہ بھی مسلم لفظ نہیں لکھا۔

Bengal-Ram_Navami_Violence-PTI

ویڈیو: بنگال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی لمبی تاریخ ہے: نیلانجن مُکھوپادھیائے

ویڈیو:ان دنوں کے اس ایپی سوڈ میں سنیے بنگال میں حالیہ تشدد، ہندتوا کے ابھار ارو آر ایس ایس پر تازہ ترین کتاب (The RSS : Icons of the Indian Right) کے مصنف نیلانجن مُکھوپادھیائے کے ساتھ مہتاب عالم کی بات چیت۔

علامتی تصویر،فوٹو: رائٹرس

رام چندر گہا کا کالم : کیا ہندوستان ایک ہندو پاکستان بننے کی راہ پر گامزن ہے؟

2019 میں بی جے پی کی مہم خصوصی طور پر ہندو اکثریت کے لیے ہے۔ پارٹی ان کے خوف اور عدم تحفظ کے احساسات کو بنیاد بنا کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ اسی لیے امت شاہ مسلمانوں کو ‘دیمک’ بتا چکے ہیں، آدتیہ ناتھ بجرنگ بلی کو علی کے بالمقابل کھڑا کر چکے ہیں اور مودی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ مغربی بنگال میں ہندو ‘جئے شری رام‘ کا نعرہ بھی بلند نہیں کر سکتے۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

جئے شری رام کا نعرہ رام کی عظمت کا اقرار نہیں، غنڈہ گردی  کا اعلان ہے

لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ ان کی رام تحریک مذہبی نہیں تھی۔ وہ رام نام کے پس پردہ مسلمانوں سے نفرت والےسیاسی ہندو کو تیار کرنے کی تحریک تھی۔ جئے شری رام اسی گروپ کا ایک سیاسی نعرہ ہے۔ اس نعرے کا رام سے اور رام کے احترام سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں۔ آپ جب جئے شری رام سنیں تو مان لیں کہ آپ کو جئے آر ایس ایس کہنے کی اور سننے کی عادت ڈالی جا رہی ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

اس انتخاب میں مسلمانوں کے لئے کیا ہے؟

آج ہندوستانی سیاست ایک ایسے دور میں ہے جب کوئی بھی سیاسی پارٹی مسلم کمیونٹی کی بات نہیں کرنا چاہتی۔ وہ سیاسی طور پر اچھوت بنا دئے گئے ہیں۔ اب ان کا استعمال اکثریتی آبادی کو ووٹ بینک میں تبدیل کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

سمجھوتہ بلاسٹ کیس: اگر بری ہوئے لوگ بے گناہ ہیں تو ذمہ دارکون ہے؟

وزیر اعظم نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد جس طرح عدالت میں اس کیس کی پیروی ہورہی تھی، یہ فیصلہ توقع کے عین مطابق ہی تھا۔ملزمیں کا دفاع کوئی اور نہیں بلکہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی )کے لیگل سیل کے سربراہ ستیہ پال جین کر رہے تھے۔

modi-nitish-kumar-pti

نتیش کمار کا دعویٰ ؛ ہماری حکومت میں نہیں ہوئے فسادات، جانیے کیا ہے حقیقت

نتشب کمار نے ایک حالیہ انٹرویو مںم کہا تھا کہ ا ن کی 13 سالہ حکومت مں صرف ایک بار نوادہ مںا کرفوی لگا اور وہ بھی محض 48 گھنٹے کے لئے۔ مگر مڈییا رپورٹس کی مانں ، تو ان کا یہ دعویٰ بھی سچائی سے پرے ہے۔

گزشتہ اکتوبر میں مدھیہ پردیش کی دتیا کے پیتامبرا پیٹھ میں پوجا کرتے کانگریس صدر راہل گاندھی، مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ اور کانگریس رکن پارلیامان جیوترادتیہ سندھیا (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیا اس ملک میں اب بحث صرف اچھے ہندو اور برے ہندو کے بیچ رہ گئی ہے؟

کانگریس نے سیکولرازم کا نام لینا چھوڑ دیا ہے۔ ایک ایسا خیال جس میں اس پارٹی کی خاص خدمات تھیں، ہندوستان کو ہی نہیں، پوری دنیا کو، اب اس میں اتنا اعتماد نہیں رہ گیا ہے کہ انتخاب کے وقت اس کی بات بھی کی جا سکے۔

Muslim-India-Reuters

ہندوستان میں رہنے والا ہر ساتواں شہری مسلمان ہے، کیا اتنی بڑی تعداد کو ’غیر‘ بنایا جاسکتا ہے؟

ایک لبر ل ، روشن خیال مسلمان، جو ہندوستان کے سیکولر کلچر میں رچ بس گیا ہو، جن کے گھر پر عید اور محرم کے ساتھ ساتھ دیوالی اور ہولی بھی اتنی ہی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جاتی ہو، جن کی بیٹی، برادر ، بھانجی اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے ہندو خاندانوں میں شادیاں کی ہوں، اگر وہ اب اپنے آپ کو ’غیر‘ محسوس کرتے ہوں، تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام مسلمان کا کیا حال ہوگا۔

فوٹو : سوشل میڈیا

راہل گاندھی کو سمجھنا ہوگا کہ صرف کیلاش یاترا سے مودی کو نہیں ہرایا جاسکتا

کانگریس کا موقف ہے کہ راہل کی کیلاش مان سروور یاترا ایک ذاتی اور مذہبی یاترا ہے۔ راہل جب کرناٹک الیکشن کے دوران ایک ہوائی سفر میں حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچے تھے تو کانگریس صدر نے منت مانی تھی۔

فوٹو: رائٹرس

اٹل بہاری واجپائی کی کوشش کارگر ہوئی ہوتی تو…!

لوگوں کا ماننا ہے کہ آگرہ سربراہ کانفرنس اور رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ حل کرنے میں اٹل بہاری واجپائی کو کامیابی ملی ہوتی تو ملک کی صورتِحال آج کچھ اور ہوتی۔ لیکن تاریخ میں اگر مگر کی گنجائش ہی کہاں ہوتی ہے!

فائل فوٹو: رائٹرس

ہمیں واجپائی کے بنا ’مکھوٹے‘ والے اصلی چہرے کو نہیں بھولنا چاہیے

1984کے راجیو گاندھی اور 1993 کے نرسمہا راؤ کی طرح واجپائی تاریخ میں ایک ایسے وزیر اعظم کے طور پر بھی یاد کیے جائیں گے ،جنہوں نے سبق کو رواداری کا پڑھایا ،مگر بے گناہ شہریوں کے قتل عام کی طرف سے آنکھیں موند لیں ۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

بجرنگ دل پر اب تک پابندی کیوں نہیں؟

تنظیمیں چاہے کوئی بھی ہوں ان سب کی فکر ایک ہی ہے: ہندو دھرم کی رکشا کے نام پر مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں سے بے انتہا نفرت کا اظہار اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے جھوٹ اور فریب کے ساتھ تشدد اور دہشت گردی کا استعمال۔

Episode 51

میڈیا بول: کوبرا پوسٹ اسٹنگ اور توتی کورن تشدد

ویڈیو: میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے کوبرا پوسٹ ویب سائٹ کے ذریعے مختلف میڈیا ہاؤس پر کیے گئے اسٹنگ آپریشن اور تمل ناڈو کے توتی کورن میں ہوئے تشدد پر راجستھان پتریکا کے صلاح کار مدیر اوم تھانوی اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ ارملیش کی بات چیت۔

CobraPostII

کوبرا پوسٹ کا انکشاف،ٹائمس آف انڈیا ،انڈیا ٹو ڈے، ہندوستان ٹائمس،زی نیوز،وغیرہ پیڈ نیوز چھاپنے کے لئے تیار

کوبرا پوسٹ کے دوسرے حصے کو آج پریس کلب آف انڈیا میں جاری کیا جانا تھا۔ لیکن اس اسٹنگ آپریشن میں شامل میڈیاگروپ دینک بھاسکرنے دہلی ہائی کورٹ کی پناہ لے لی۔

کرن آچاریہ کی بنائی گئی ہنومان کی تصویر ان کی روایتی امیج سے الگ تاثر  پیش کرتی ہے(فوٹو: amazon.com )

’وزیر اعظم نے جس ہنومان کی تعریف کی ہے وہ ہندتووادی امیج کے ساتھ فٹ بیٹھتی ہے‘

بھگوا اور کالے رنگ سے بنی ہنومان کی تصویر ، جس میں ان کی بھنویں تنی ہوئی ہیں اور تیوریاں چڑھی ہوئی ہیں۔ ہندو گرنتھوں سے الگ موجودہ تصویرخود ساختہ ہندتووادی مرد کی امیج کے ساتھ فٹ بیٹھتی ہے۔

Hindu Putra News Laundry

خاص رپورٹ:بہارمیں رام نومی کی یاترا کے لیے کس نے دیں تلواریں؟

آن لائن ہزاروں کی تعداد میں تلواریں ایڈوانس میں ہی خریدی گئی تھیں۔یہاں ایک سوال اٹھ سکتا ہے کہ کیا واقعی آن لائن تلوار خریدنا اتنا آسان ہے کہ کوئی بڑی تعداد میں اس کو خرید سکتا ہے؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب ہے ہاں۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

ہر درد کی دوا—بھارت ماتا کی جے

انڈین نیشنل ازم:اگر آپ کو ڈر نہیں لگتا تو اس کا مطلب آپ ہوش میں نہیں ہیں…میں چاہتا ہوں کہ آپ ڈریں۔ جس دن ڈر سما جائے گا، آپ کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے۔ اور تب آپ بول اٹھیں گے۔ ہم سب بول اٹھیں گے۔