Home Minister Amit Shah

میگھالیہ میں بی جے پی  کےوزیر سنبور شولئی۔ (فوٹو: ٹوئٹر/ @PRAMODJ406)

مرغے اور بکرے کا گوشت یا مچھلی کھانے کے بجائے بیف زیادہ کھاؤ: میگھالیہ میں بی جے پی وزیر

پچھلے ہفتے میگھالیہ سرکار میں کابینہ وزیر کاحلف لینے والے بی جے پی رہنماسنبور شولئی نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں ہر کوئی اپنی پسند کا کھانا کھانے کے لیے آزاد ہے۔ میگھالیہ اور آسام کے بیچ کشیدگی اورسرحدی تنازعہ پر انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اپنے لوگوں کی حفاظت کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے، ہمیں اپنے فورس کا استعمال کرنا چاہیے۔ پولیس کو آسام پولیس سے بات کرنے کے لیے جانا چاہیے۔

(فوٹو:  رائٹرس)

صحافیوں، کارکنوں، رہنماؤں کے خلاف کارروائی اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی: ٹوئٹر

ٹوئٹر انڈیا نے کہا کہ حکومت ہندکی ہدایت کےمطابق کچھ کارروائی کی ہے لیکن وہ میڈیا اداروں ، صحافیوں،کارکنوں اور رہنماؤں سے متعلق اکاؤنٹ کو بلاک نہیں کرےگا۔ مائیکروبلاگنگ پلیٹ فارم نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے اور متاثر ہوئے اکاؤنٹ دونوں کے لیے ہندوستانی قانون کے تحت متبادل تلاش کر رہا ہے۔

WhatsApp Image 2021-02-01 at 09.56.11

گولی یا حادثہ: کیا ہے نوریت سنگھ کے موت کی سچائی؟

ویڈیو: 26 جنوری کوزرعی قوانین کی مخالفت میں نکالے گئے کسانوں کے ٹریکٹر پریڈ کے دوران راجدھانی دہلی میں تشددہو گیا تھا۔ اس دوران اتر پردیش کے رام پور ضلع کے 25سالہ نوریت سنگھ کی موت ہو گئی تھی۔ معاملے کے عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ ان کی موت گولی لگنے سے ہوئی، وہیں پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کی موت ٹریکٹر پلٹنے کی وجہ سے ہوئی۔

ٹوئٹر کی جانب سے روک لگائے گئے اکاؤنٹ کے اسکرین شاٹ۔ (فوٹو: @zoo_bear)

ٹوئٹر اکاؤنٹ بلاک معاملہ: سرکار نے ٹوئٹر کو حکم کی تعمیل یا نتائج بھگتنے کی وارننگ دی

گزشتہ سوموار کو مرکزی حکومت کی درخواست پر ٹوئٹر نے کئی اکاؤنٹس پر روک لگا دی تھی۔ حالانکہ اسی دن دیر رات تک یہ روک ہٹا دی گئی۔ اب سرکار کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر ہیش ٹیگ مودی پلاننگ فارمر جینوسائیڈ لکھنے والے اکاؤنٹ ہٹانے سے متعلق اس کے آرڈر مانے یا پھر اس کا نتیجہ بھگتنے کو تیار رہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

زرعی قانون: مظاہرین نے چھ فروری کو تین گھنٹے کے ملک گیر ’چکہ جام‘ کا اعلان کیا

کسان رہنماؤں نے کہا کہ وہ احتجاج کی جگہوں کےقریبی علاقوں میں انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے،حکام کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور دیگر مدعوں کے خلاف تین گھنٹے تک قومی اور ریاستی شاہراہوں کو جام کرکے اپنی مخالفت درج کرائیں گے۔

ٹوئٹر کی جانب سے روک لگائے گئے اکاؤنٹ کے اسکرین شاٹ۔ (فوٹو: @zoo_bear)

وزارت داخلہ کی ’درخواست‘ پر ٹوئٹر نے کسانوں کی تحریک کے بارے میں ٹوئٹ کر نے والے کئی اکاؤنٹس پر روک لگائی

ٹوئٹر نے جن اکاؤنٹ پر روک لگائی ہے ان میں کارواں میگزین، کسان ایکتا مورچہ، سی پی آئی ایم کے محمد سلیم، کارکن ہنس راج مینا، ایکٹر سشانت سنگھ، پرسار بھارتی کے سی ای او سمیت کئی صحافی اور قلمکار بھی شامل ہیں۔

(فوٹو : رائٹرس)

یوپی: مودی اور شاہ کو لے کر قابل اعتراض وہاٹس ایپ پوسٹ کے الزام،  چار کے خلاف مقدمہ درج

معاملہ اتر پردیش کے فیروزآباد کا ہے۔مقامی بی جے پی رہنما نے پولیس سے کی گئی شکایت میں الزام لگایا ہے کہ ایک وہاٹس ایپ گروپ میں کیے جا رہے پوسٹ لوگوں کے جذبات کو مشتعل کر سکتے ہیں۔

فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر سے اردو کو ہٹانے کا کیا اثر ہوگا؟

کشمیری لسانی منظرنامے سے اردو کو ہٹانے سے اردو بولنے والوں اور دیگرزبان کے بولنے والوں میں شورِش پیدا ہونے کا خدشہ ہے ، جبکہ کشمیری پہلے ہی بہت چوٹ کے شکار بن چکےہیں۔ کیایہ ایک مناسب وقت ہے کہ کسی زبان کی بحث کے ذریعے ان زخموں پر ابلتے ہوئے تیل کو پھینک دیا جائے، جس کے خطرات ابھی پوری طرح ماپے نہیں گئے ہیں؟

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

امت شاہ نے سکیورٹی اہلکاروں کو دفتروں میں سردار پٹیل کی تصویر لگانے کی ہدایت دی

ایک دوسرے حکم میں مرکزی وزارت داخلہ نے تمام نیم فوجی دستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے کینٹین اور دفتروں میں غیر ملکی برانڈ کو چھوڑ‌کر دیسی سامان اپنائیں۔ حالانکہ، وزارت نے ان دستوں اور نیم دستوں کی جی ایس ٹی میں چھوٹ کی مانگ کو ٹھکرا دیا ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

آرٹیکل 370 کے بعد کشمیری زبان اور اس کے رسم الخط پر حملہ کیوں؟

کشمیری زبان کے رسم الخط کو قدیمی شاردا اور پھر دیوناگری میں تبدیل کرنے کی تحویز اس سے قبل دو بار 2003اور پھر 2016 میں ہندوستان کی وزارت انسانی وسائل نے دی تھی۔ مگر ریاستی حکومت نے اس پر سخت رخ اپنا کر اس کو رد کردیا۔

وزیر داخلہ امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سمجھوتہ ایکسپریس بلاسٹ معاملے کو لے کر کیے گئے امت شاہ کے دعووں میں کتنی سچائی ہے؟

وزیر داخلہ امت شاہ کا دعویٰ ہے کہ پچھلی حکومت نے ہندو مذہب کو دہشت گردی سے جوڑنے کے لئے اصلی مجرموں کو چھوڑ دیا تھا، اگر ایسا ہے تو این آئی اے ان کو پکڑنے کی سمت میں کوئی قدم کیوں نہیں اٹھا رہی ہے؟

(فوٹو : پی ٹی آئی)

لشکر طیبہ سے جڑے ہونے کے الزام میں بند شخص  نے رہا ہونے کے بعد کہا؛ این آئی اے کے مشورہ پر الزام قبول‌ کر لیا تھا

سال 2012 میں پانچ لوگوں کو لشکر طیبہ سے جڑے ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 7 سال بعد اس ہفتے بامبے ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ہونے والے ان میں سے ایک محمد عرفان غوث نے دعویٰ کیا ہے کہ ہ وہ بےقصور تھے اور لمبی سماعت سے بچنے اور اپنی فیملی کو بگڑتے اقتصادی حالات سے بچانے کے لئے انہوں نے جرم قبول‌کر لیا تھا۔

Don`t copy text!