India

2020 دہلی تشددکے دوران جعفرآباد میں جلتی  ایک گاڑی۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے معاملے لگ بھگ دوگنے ہوئے: این سی آر بی

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق، ملک میں 2020 میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فسادات کے 857 معاملے درج کیے گئے۔سال2019 میں ایسے معاملوں کی تعداد438 تھی، جبکہ 2018 میں ایسے 512 معاملے درج کیے گئے تھے۔

(فوٹو؛  شوم بسو)

کووڈ 19کے پھیلاؤ پر آئی سی ایم آر نے مودی حکومت کے ایجنڈے کے مطابق رپورٹ دیا: نیویارک ٹائمز

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق،انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ نے مودی سرکار کے ایجنڈے کےمدنظر کووڈ 19 کے خطرے کو کم دکھانے کے لیےسائنسدانوں پر دباؤ ڈالا۔ اخبار نے ایسے کئی شواہد پیش کیےہیں، جو دکھاتے ہیں کہ کونسل نے سائنس اور شواہد کےمقابلےحکومت کےسیاسی مقاصدکو ترجیح دی۔

فوٹو:پی ٹی آئی

کیا ہندوستان میں جمہوریت خطرے میں ہے؟

وزیراعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد تو صحافت کی دنیا ہی بدل گئی۔حالات اس قدر بدل چکے ہیں کہ حکومت سے متعلق معمولی اسٹوری کا بھی ایڈیٹر حضرات ایک طرح کا آپریشن کر دیتے ہیں۔ ان کو خدشہ رہتا ہے کہ اگر یہ اسٹوری حکومت کو پریشان کرے گی تو ادارے کے اشتہارات بند ہوں گےیا مالکان یا ادارے کی کمپنی کو کسی نہ کسی کیس میں گھسیٹا جائے گا۔

فائل فوٹو: رائٹرس

انتخابات اور ای وی ایم مشین

اتر پردیش میں 2017 کے اسمبلی انتخابات نے ای وی ایم کو شکوک شبہات کے گھیرے میں مزید دھکیل دیا۔ چونکہ انتخابات وزیر اعظم نریندر مودی کے نوٹ بندی کے اعلان کے بعد منعقد کیے گئے تھے اور ہر جگہ عوام اس پر خار کھائے ہوئے تھے، اس لیے ان انتخابات میں بی جے پی کی بھاری جیت کسی کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ گراؤنڈ پر کوئی ایسے اشارے نہیں مل رہے تھےکہ بی جے پی کو اس قدر پذیرائی حاصل ہوگی۔

نئی دہلی کا نظام الدین مرکز واقع علاقہ:(فوٹو: پی ٹی آئی)

نظام الدین مرکز کو نہ کھولنے کی دلیل دیتے ہوئے حکومت  نے کہا، سرحد پار تک ہو سکتا ہے اثر

پچھلے سال مارچ میں دہلی کا نظام الدین مرکز کو رونا ہاٹ اسپاٹ بن کر ابھرا تھا۔ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے کئی لوگوں کے کورونا وائرس سے متاثر پائے جانے کے بعد 31 مارچ 2020 سے ہی یہ بند ہے۔

ایم جے اکبر۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ایم جے اکبر کو ہٹانے کے لیے 150 سے زیادہ صحافیوں  نے وی آن نیوز کو خط لکھا

گزشتہ دنوں سابق مرکزی وزیر ایم جےاکبر زی میڈیا کے انگریزی چینل‘وی آن’سےجڑے ہیں۔ اب ان کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہوئے صحافیوں کے ایک گروپ نے اس ادارے سے کہا ہے کہ کام کرنے کی جگہ پر جنسی ہراسانی اور جنسی ہراساں کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

جلیانوالہ باغ کی طرف  جانے والی تنگ راہداری کی پرانی تصویر(بائیں)اورجدیدکاری  کے بعد کی تصویر(دائیں) (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر)

جلیانوالہ باغ کی جدید کاری اور تزئین پر تنازعہ، حکومت پر تاریخ کو مٹانے اور مسخ کرنے کا الزام

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ 28 اگست کو امرتسر واقع یادگارجلیانوالہ باغ کمپلیکس کا افتتاح کیا تھا۔ تزئین اور جدیدکاری کے تحت 1919 کی اس خونچکاں یادگارکو دکھانے کے لیے ساؤنڈ اینڈ لائٹ شو کانظم کیا گیا ہے۔ 13 اپریل1919 کو جلیانوالہ باغ میں نہتے لوگوں پر جنرل ڈائر نے گولیاں چلوائی تھیں، جس میں تقریباً 1000 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

IMG-20210828-WA0003

راجستھان میں مسلمان بھکاری کو پیٹنے کے ملزم نے قبول کیا گناہ

ویڈیو: راجستھان کے اجمیرشہر میں کانپور کے رہنے والے عثمان علی کو ان کے نام اور مذہب کی وجہ سے ہی پیٹا گیا تھا۔ رائٹ ونگ کارکن للت شرما نے ان کی فیملی کے ساتھ بھی مارپیٹ کی تھی۔ اس کے باوجود پولیس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ دی وائر سے بات چیت میں للت شرما کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے نہیں ڈرتے۔ چونکہ انہیں بجرنگ دل کے رہنماؤں اور مقامی پولیس کی بھی حمایت حاصل ہے۔

دانش صدیقی۔ (فوٹو: رائٹرس)

افغان فوج کی واپسی کے دوران دانش صدیقی کو پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا: رائٹرس

گزشتہ 16جولائی کو افغانستان کےقندھار شہر کےاسپن بولڈک میں افغانی فوج اور طالبان کے بیچ جھڑپ کوکورکرنے کے دوران پیولٹزرانعام یافتہ فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی موت ہو گئی تھی۔ اب انٹرنیشنل نیوز ایجنسی رائٹرس نے ان کی موت کو لےکر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔

(السٹریشن: دی وائر)

وزارت داخلہ نے دہلی میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار لوگوں کے نام بتانے سے کیوں انکار کیا

گزشتہ دنوں لوک سبھا میں وزیرمملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے ‘عوامی مفاد’کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی پولیس کی جانب سے درج یو اے پی اےمعاملوں کی جانکاری دینے سےمنع کردیا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس بارے میں ساری جانکاری عوامی طور پر دستیاب ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ دہلی میں اس سخت قانون کے تحت گرفتار 34 لوگوں میں اکثر مذہبی اقلیت ہیں۔

15 اپریل2021 کو سورت کے ایک شمشان میں کووڈ 19 سے جان گنوانے والوں کی لاشیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

گجرات: ڈیتھ رجسٹر کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ کووڈ موت کا سرکاری ڈیٹا 27 گنا کم ہے

صوبے کی170بلدیات میں سے 68 کے ڈیٹا کےتجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ مارچ 2020 اور اپریل2021 کے بیچ16892‘اضافی موتیں’ ہوئیں۔اگر پورے صوبے کے لیےاسی ڈیٹاکی توسیع کریں تو اس کا مطلب ہوگا کہ گجرات میں کووڈ سے ہوئی اصل موتوں کا ڈیٹا کم از کم 2.81 لاکھ ہے۔

عللامتی تصویر، فوٹو:، پی ٹی آئی

کیا ہندوستان اور پاکستان کے بیچ نفرت ختم نہیں ہو سکتی؟

یہ سچ ہے کہ برسوں تک مسلمانوں اور پاکستان کے متعلق میرے خیالات کچھ اچھے نہیں تھے۔ کئی مسلمانوں کے ساتھ علیک سلیک تو تھی، مگر دادی کی کہانیاں یاد کرکے میں ان سے مزید تعلقات استوار کرنے سے کتراتی تھی۔سال 2015 میں کچھ ایسا ہواکہ میری کاپا پلٹ ہوگئی۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

پہلی بار مرکز نے تسلیم کیا کہ آکسیجن کی کمی سے کورونا مریضوں کی موت ہوئی تھی

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ آندھر اپردیش کو چھوڑکر کسی بھی صوبے نے بالخصوص آکسیجن کی دستیابی کی کمی کی وجہ سےکووڈ 19مریضوں کی موت کی اطلاع نہیں دی ہے۔اس سے پہلے مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ کووڈ 19 مہاماری کی دوسری لہر کے دوران کسی بھی صوبے یا یونین ٹریٹری سے آکسیجن کے فقدان میں کسی بھی مریض کی موت کی خبر نہیں ملی ہے۔

ہندوتوادی نوجوان کو وارننگ دیتے ایس ایچ او سی پی بھاردواج۔

دہلی: مولوی کو پریشان کرنے سے رائٹ ونگ گروپ کو روکنے والے تھانہ انچارج سسپنڈ

یہ معاملہ دہلی کے آدرش نگر میں ایک فلائی اوور پر بنے مزار سے جڑا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں ہندوتووادی تنظیم سے جڑے کچھ نوجوان وہاں پہنچتے ہیں اور مولوی سےسوال جواب کرتے ہوئے بحث کرنے لگتے ہیں۔تب بیچ بچاؤ کےلیےایس ایچ او آ جاتے ہیں۔اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔دہلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کے مدنظر انہیں سسپنڈ کیا گیا ہے، لیکن کارروائی کو اس واقعہ سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

اولمپک میں ہندوستان کی جیت سے لاتعلق کیوں رہا کشمیر؟

جس دن اخباراور ٹی وی چینل جیولن تھرو میں نیرج چوپڑا کے اس کارنامے کی تفصیلات چھاپ رہے تھے،جس دن نیرج کے پہلے کوچ نسیم احمد کشور انہیں یاد کر رہے تھے، اسی دن دہلی میں سینکڑوں لوگ ہندوستان کے نسیم احمد جیسے نام والوں کو کاٹ ڈالنے کے نعرے لگا رہے تھےاورہندوؤں کو ان کا قتل عام کرنے کا اکساوا دے رہے تھے۔ یہ لوگ بھی، نسیم احمدجیسے نام ایک طرح سے ہندوستان کے کشمیر ہیں، پورے ہندوستان میں بکھرے ہوئے!

(فوٹو: رائٹرس)

کشمیر اور خطے کی جیو اکانومکس کا خواب

جہاں مغربی اور عرب ممالک ان دنوں ہندوستان کی ناراضگی کے پیش نظر حکومتی سطح پر کشمیر سے دامن بچا کر ہی چلتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی بیان جاری کرکے خاموش ہو جاتے ہیں، وسط ایشائی ممالک کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے خاصے فکرمند دکھائی دے رہے تھے۔

2021-04-29T171818Z_1_LYNXMPEH3S16N_RTROPTP_4_HEALTH-CORONAVIRUS-INDIA-OXYGEN-1200x600

سی آئی سی نے آکسیجن سپلائی سےمتعلق کمیٹی کی جانکاری مانگی تو مرکز نے کہا-ایسی کوئی کمیٹی بنی ہی نہیں

سی آئی سی کے حکم کی تعمیل میں ایک خط میں سرکار کی طرف سے لکھا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے مدنظر آکسیجن کی خاطرخواہ دستیابی کو یقنیی بنانے کے لیے سکریٹری ،محکمہ برائے فروغ صنعت و داخلی تجارت(ڈی پی آئی آئی ٹی) کی سربراہی میں ایسی کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی تھی۔ اس پر آر ٹی آئی کے تحت جانکاری مانگنے والے کارکن نے کہا ہے کہ جب ایسی کوئی کمیٹی وجود میں ہی نہیں تھی تو پھر سرکار نے سی آئی سی کے سامنے اس کمیٹی کے ریکارڈ کو عوامی نہ کرنے کی لڑائی کیوں لڑی۔

(السٹریشن دی وائر)

جموں وکشمیر: 2019 سے یو اے پی اے کے تحت 2300 سے زیادہ لوگوں پر کیس، لگ بھگ آدھے ابھی بھی جیل میں

اس بیچ مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ 2019 میں یو اے پی اے کے تحت 1948 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور 34 ملزمین کو قصوروار ٹھہرایا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 31 دسمبر 2019 تک ملک کی مختلف جیلوں میں478600قیدی بند تھے،جن میں144125 قصوروار ٹھہرائے گئے تھے جبکہ 330487 زیر سماعت و 19913 خواتین تھیں۔

فوٹو: رائٹرس

کشمیر: آئینی سرجیکل اسٹرائیک کے دو سال

دو سال قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ پچاس ہزار نوکریاں فوری طور فراہم کی جائیں گی۔تاہم دوسال بعد صورتحال یہ ہے جموں وکشمیر میں بےروزگار نوجوانوں کی تعداد 6لاکھ سے زائد ہے جن میں ساڑھے تین لاکھ کشمیر اور تقریباًاڑھائی لاکھ جموں صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ایک طرف ترقی و خوشحالی کی باتیں ہورہی ہیں تو دوسری جانب عملی طور یہاں روزگار کے مواقع محدود کیے جارہے ہیں۔

ہریانہ کے مانیسر میں ایک پلانٹ کے باہر آکسیجن سلینڈر بھروانے کی قطار میں کھڑے مریضوں کے اہل خانہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اس سرکار کے جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں …

گزشتہ 20 جولائی کومرکز کی نریندر مودی سرکار کی جانب سے راجیہ سبھا میں کہا گیا کہ کورونا وائرس انفیکشن کی دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی غیرمتوقع ڈیمانڈ کے باوجودکسی بھی صوبےیایونین ٹریٹری میں اس کے فقدان میں کسی کے مرنے کی اسے جانکاری نہیں ہے۔اس کے پاس اس بات کی جانکاری بھی نہیں ہے کہ دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کر رہے کسانوں میں سے اب تک کتنے اپنی جان گنوا چکے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کو طالبان نے بے رحمی سے قتل کیا تھا: رپورٹ

امریکہ کی ایک میگزین واشنگٹن اگزامنر کےمطابق، طالبان نے رائٹرس کے جرنلسٹ دانش صدیقی کی پہچان کی تصدیق کرنے کے بعدانہیں اور ان کےساتھ کے لوگوں کو مارا تھا۔ پیولٹزرانعام یافتہ دانش قندھار شہر کےاسپن بولڈک میں افغان فوجیوں اور طالبان کے بیچ جھڑپ کو کور کرنے گئے ہوئے تھے۔

WhatsApp Image 2021-07-27 at 17.41.47

کرشی کی بات: کیا ہے مہنگی دال کی وجہ؟

ویڈیو: دال اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان میں ہر سال غذائیت مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔دی وائر کے خاص پروگرام ‘کرشی کی بات’کے پہلے ایپی سوڈ میں اس موضوع پر ماہر زراعت دیویندر شرما کے ساتھ اندر شیکھر سنگھ کی بات چیت۔

وہاٹس ایپ سی ای او ول کیتھ کارٹ۔ (السٹریشن: دی وائر)

سال 2019 کے این ایس او مالویئر حملے کے 1400متاثرین میں سرکاری افسر شامل تھے: وہاٹس ایپ سی ای او

وہاٹس ایپ کے سی ای او ول کیتھ کارٹ نے کہا ہے کہ انہیں2019 میں وہاٹس ایپ صارفین پر ہوئے حملے اور لیک ڈیٹا کی بنیاد پر پیگاسس پروجیکٹ کی رپورٹنگ میں مماثلت دکھتی ہے۔ 2019 میں وہاٹس ایپ صارفین پر ہوئے پیگاسس حملے کو لےکر فیس بک کی ملکیت والی کمپنی نے این ایس او گروپ پر مقدمہ کیا ہے۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد اپنی بیوی رنجیتا ایلنگبام کے ساتھ صحافی کشورچندر وانگ کھیم۔

منی پور: ’گوبر سے کووڈ کا علاج نہ ہونے کی بات‘ کہنے کی وجہ سے جیل میں ڈالے گئے صحافی رہا

منی پور کےصحافی کشورچندر وانگ کھیم نے بی جے پی صدرایس ٹکیندرسنگھ کی کووڈ 19 مہاماری سے موت کے بعد فیس بک پر ایک طنزیہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ گئوموتر(گائے کا پیشاب) اور گوبر کام نہیں آیا۔گزشتہ مئی مہینے میں گرفتاری کے فوراً بعد انہیں ضمانت مل گئی تھی، لیکن انتظامیہ نے انہیں جیل میں ڈال کر این ایس اے لگا دیا تھا۔

2107 Mukul.00_08_46_01.Still001

ہمیں گنگا میں تیرتی لاشوں سے معافی مانگنی چاہیے: آر جے ڈی ایم پی منوج جھا

ویڈیو: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی )کےایم پی منوج جھا نے راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے کہا کہ پارلیامنٹ کو ان لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے، جو کووڈ 19 کی دوسری لہر کے دوران مارے گئے، لیکن جن کی موت کو قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان اموات نے ہماری ناکامی کا ایک زندہ دستاویز چھوڑ دیا ہے۔

(علامتی  تصویر، فوٹو: رائٹرس)

کشمیر: سکھ خطرے میں ہے کا الارم بجاکر فرقہ وارانہ کھیل کیوں کھیلا گیا…

اکالی دل پچھلی کئی دہائیوں سے بی جےپی کا ایک دم چھلہ بن گئی تھی۔ جب اس کے گڑھ پنجاب میں مرکزی حکومت کےکسانوں کے تئیں رویہ کی وجہ سے اس کی سبکی ہو رہی تھی تو وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بی جے پی اور حکومت سے الگ تو ہوگئی مگر سکھوں کی اکثریت کی حمایت سے ابھی بھی وہ محروم ہے۔ اس لیے کشمیر میں سکھ خطرے میں ہے کاالارام بجا کر وہ اپنا سیاسی الو سیدھا کرنا چاہتی تھی، جس کو مقامی آبادی نے ناکام بنادیا۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات کے تئیں سرینگر میں عدم دلچسپی کیوں؟

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فی الوقت انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ 724 امیدوار 25 جولائی کو 45 انتخابی حلقوں میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ ان میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 33حلقوں سے 602 امیدوارجبکہ مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں سے 122 امیدوار میدان میں ہیں۔

دانش صدیقی۔ (فوٹو: رائٹرس)

افغانستان میں جنگ کی کوریج کے دوران ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کی موت

افغانستان کے قندھار ضلع میں اسپن بولڈک کےمرکزی بازار کےعلاقےپرپھرسے قبضہ کرنے کےلیے افغان اسپیشل فورسز طالبان کے ساتھ لڑ رہے تھے،جب خبررساں ایجنسی رائٹرس کے فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی اور ایک سینئر افغان اہلکارہلاک ہوگئے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے یہاں پرجنگ جاری ہے۔ ملک سے امریکی افواج کےانخلا کے بیچ سرکاراور طالبان جنگجوؤں کے بیچ لڑائی تیز ہو گئی ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

پوری دنیا میں انفارمیشن سے متعلق سب سے زیادہ سرکاری درخواستیں ہندوستان سے موصول ہوئیں: ٹوئٹر

ٹوئٹر کی دوسالہ شفایت کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 2020 کی دوسری ششماہی کے دوران سرکاری اطلاعات یا انفارمیشن کے لیے ہندوستان سے جو درخواستیں موصول ہوئیں، وہ عالمی سطح پر25 فیصدی ہیں۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

ہریانہ میں کووڈ 19 سے ہوئی اموات کے سرکاری اعداد و شمار سے سات گنا زیادہ جانیں گئیں: رپورٹ

ہریانہ کے سول رجسٹریشن سسٹم کے ذریعےاپریل 2020 سے مئی2021 کے بیچ60397 اموات درج کی گئی ہیں، جو کورونا سے ہوئی اموات کے سرکارکی جانب سے فراہم کیے گئے سرکاری اعداد و شمار 8303 کے مقابلے 7.3 گنازیادہ ہے۔

WhatsApp-Image-2021-07-10-at-2.03.09-PM-1200x600

کیا ہندوستان میں مذہبی رواداری اور نفرت ساتھ ساتھ ہیں؟

ویڈیو: حال ہی میں پیو ریسرچ سینٹر نے 2019 کے اواخر اور 2020 کی شروعات کے بیچ17زبانوں میں لگ بھگ 30000بالغان کےانٹرویوز پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ ‘ہندوستان میں مذہبی رواداری اور علیحدگی’کے عنوان سےاس مطالعے نےہندوستانی سماج میں مذہب کی حرکیات میں جامع بصیرت فراہم کی ہے۔ اس موضوع پر پروفیسر اپوروانند نے ماہر تعلیم پرتاپ بھانو مہتہ کے ساتھ بات چیت کی۔

صحافی کشورچندر وانگ کھیم اور کارکن ایریندرو لیچومبام۔

منی پور: ’گوبر سے کووڈ کا علاج نہ ہونے‘ کی بات کہنے والے کارکن اور صحافی دو مہینے سے جیل میں

منی پور بی جے پی کے صدرسیکھوم ٹکیندر سنگھ کی کورونا انفیکشن سے موت کے بعدصحافی کشورچندر وانگ کھیم اور کارکن ایریندرو لیچومبام نے اپنے فیس بک پوسٹ کے ذریعے سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا تھا کہ کورونا کا علاج گائےکا پیشاب یاگوبر نہیں بلکہ سائنس ہے۔

1706 YAQUT AAP OXYGEN.00_25_19_19.Still029

پھل بیچنے والوں کو ہندو اور مسلمان میں بانٹنے سے کس کا فائدہ؟

ویڈیو: دہلی کےاتم نگر علاقے میں لگ بھگ 500 ریہڑی پٹری کی دکانیں روز لگتی ہیں۔ ان میں سے اکثر مسلمان دکاندار ہیں۔ گزشتہ 18 جون کو ایک پھل بیچنے والے اور ایک دکاندار کے بیچ ہوئی کہا سنی کے بعد بجرنگ دل نے کچھ پوسٹر لگائے تھے جس میں لکھا تھا ‘سبھی ہندوؤں سے گزارش ہے کہ کسی بھی غیرسماجی فروٹ ریہڑی والے سے خریداری نہ کریں’۔ اس کے بعد پھل بیچنے والوں کو اپنی روزی کمانے کے لیے مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)

پی ایم کیئرس نے آرڈر کیے گئے وینٹی لیٹر میں سے محض تین چوتھائی کی ادائیگی کی: آر ٹی آئی

مرکزی حکومت نےتقریباً ایک سال پہلے کہا تھا کہ ہندوستان میں بنے50000 وینٹی لیٹر کے لیے پی ایم کیئرس فنڈ سے 2000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حالانکہ وینٹی لیٹرس خریدنے اور اس کے ڈسٹری بیوشن کے سلسلے میں صرف 1532 کروڑ روپے ہی جاری کیے گئے ہیں۔ وزارت صحت کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ نجی کمپنیوں کے ذریعے بنائے 16000وینٹی لیٹر کو رونا وائرس کی دوسری لہر کے بعد بھی ابھی تک اسپتالوں میں نہیں لگائے گئے ہیں۔

نریندر مودی۔ (فوٹوبہ شکریہ : پی آئی بی)

پریس کی آزادی کو کنٹرول کرنے والے 37 ممالک کے سربراہوں کی فہرست میں نریندر مودی کا نام شامل: رپورٹ

رپورٹرس ودآؤٹ بارڈرس نے پریس کی آزادی کو کنٹرول کرنے والے 37ممالک کے سربراہوں یاقائدکی فہرست جاری کی ہے، جس میں شمالی کوریا کے کم جونگ ان اور پاکستان کے عمران خان کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی کا نام شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سب وہ ہیں جو ‘سینسرشپ کا میکانزم بناکر پریس کی آزادی کو روندتے ہیں،صحافیوں کو من مانے ڈھنگ سے جیل میں ڈالتے ہیں یا ان کے خلاف تشددکو ہوا دیتے ہیں۔

Don`t copy text!