Indian Judiciary

پارلیامنٹ میں رنجن گگوئی۔ (بہ شکریہ : ویڈیوگریب راجیہ سبھا ٹی وی/د ی وائر)

راجیہ سبھا میں رنجن گگوئی کی خاموشی کے ایک سال

گزشتہ سال راجیہ سبھاکی رکنیت حاصل کرنے کے بعد سابق سی جےآئی رنجن گگوئی نے کہا تھا کہ پارلیامنٹ میں ان کی موجودگی مقننہ کے سامنےعدلیہ کے خیالات کو پیش کرنے کا موقع ہوگا، حالانکہ ریکارڈ دکھاتے ہیں کہ اس ایک سال میں وہ ایوان میں نہ کے برابر میں نظر آئے ہیں۔

رنجن گگوئی/فوٹو: پی ٹی آئی

آسام میں بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار ہو سکتے ہیں سابق سی جے آئی رنجن گگوئی

آسام کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کےسینئررہنما ترون گگوئی کا کہنا ہے کہ ان کے ذرائع کے مطابق رنجن گگوئی کا نام اگلے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کےوزیر اعلیٰ کےعہدے کے امیدواروں کی فہرست میں ہیں۔ ریاست میں2021 میں انتخاب ہونے ہیں۔

جسٹس مدن بی لوکر، فوٹو بہ شکریہ : یو ٹیوب اسکرین شاٹ

کورونا بحران کے دوران سپریم کورٹ کا رویہ مایوس کن رہا ہے: جسٹس مدن بی لوکر

سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مدن بی لوکر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سپریم کورٹ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے نہیں نبھا رہا ہے۔ہندوستان کا سپریم کورٹ اچھا کام کرنے میں اہل ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

جسٹس رنجن گگوئی اور ائیرمارشل انجن گگوئی،فوٹو: پی ٹی آئی/bharat-rakshak dot com

ریٹائرمنٹ کے بعد گگوئی بندھوؤں پر حکومت کی مہربانی

سابق سی جے آئی رنجن گگوئی کو صدر رام ناتھ کووند کے ذریعے راجیہ سبھا ممبر نامزدکئے جانے سے پہلے گزشتہ جنوری میں صدر نے ان کے بھائی ریٹائرڈائیرمارشل انجن گگوئی کونارتھ ایسٹرن کاؤنسل کا کل وقتی ممبر نامزد کیاتھا، جبکہ انہوں نے اس شعبے میں زیادہ عرصے تک کام نہیں کیا ہے۔

دی ٹیلی گراف اخبار میں شائع خبر

راجیہ سبھاکے لیے رنجن گگوئی کو نامزد کرنے سے متعلق خبر پر ’دی ٹیلی گراف‘ اخبار کو نوٹس

ملک کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کئے جانے کولےکر انگریزی اخبار ’د ی ٹیلی گراف‘ نے 17 مارچ کو ایک خبر شائع کی تھی، جس کےعنوان میں صدر جمہوریہ کووند کا نام مبینہ طور پر طنزیہ انداز میں لکھا گیا تھا۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جج پرموشن: جسٹس لوکور نے  کالجیئم کے 12 دسمبر کے فیصلے کو عام نہ کرنے پر مایوسی کا اظہار  کیا

12 دسمبر کو سپریم کورٹ کے کالجیئم نے جسٹس پردیپ نندراجوگ اور جسٹس راجیندر مینن کے پروموشن کی تجویز رکھی تھی، لیکن 10 جنوری کو چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والے کالجیئم نے سینئرٹی کو درکنار کرتے ہوئے جسٹس دینیش ماہیشوری اور جسٹس سنجیو کھنہ کا پروموشن کیا۔

MumbaiHighCourt_PTI

اعلیٰ عدالتوں میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ سے نپٹارے کے لئے پڑے ہیں 6 لاکھ معاملے

سال 2016 تک ملک کی 24 اعلی ٰ عدالتوں میں 40.15 لاکھ معاملےنپٹارے کئےلئے پڑے ہیں۔ ان میں سے دس سال یا زیادہ عرصہ سے زیر التوا معاملوں کی تعداد 19.45 فیصد ہے۔ نئی دہلی : بمبئی ہائی کورٹ سمیت ملک کی مختلف اعلیٰ عدالتوں میں تقریباً   6لاکھ معاملے ایک […]

Don`t copy text!