Jammu-Kashmir

فوٹو: پی ٹی آئی

عمر عبداللہ کی حراست پر سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے مانگا جواب

جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیے جانے کے خلاف ان کی بہن سارہ عبداللہ پائلٹ نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ پچھلے سال اگست میں ریاست کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد سے ہی عمر نظربند ہیں۔

مرحوم جوان سنجے کمار سنہا کی بیوی بےبی دیوی(فوٹو : امیش کمار رائے)

حکومت سے کیوں ناراض ہیں پلواما حملے میں شہید ہونے والوں کی فیملی

خصوصی رپورٹ : 14 فروری 2019 کو جموں و کشمیر کے پلواما ضلعے‎ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں بہار کے رہنے والے دو سی آر پی ایف جوان بھی مارے گئے تھے۔ حملے کے ایک سال بعد ان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ شہادت کے بعد حکومت کی طرف سے بڑے-بڑے وعدے کئے گئے تھے، لیکن سارے کاغذی نکلے۔

فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر کو سینٹرل جیل میں کیوں نہیں بدل دیتی مرکزی حکومت: یوسف تاریگامی

جموں وکشمیر کے سابق ایم ایل اے اور سینئرسی پی ایم رہنما یوسف تاریگامی نے ریاست کے بڑے رہنماؤں کی حراست کو لےکر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر جموں وکشمیر میں حالات معمول پر ہیں تو حکومت وہاں الیکشن کیوں نہیں کراتی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

عمر عبداللہ حراست معاملہ: سپریم کورٹ جج نے شنوائی سے خود کو الگ کیا

آج جب شنوائی شروع ہوئی تو تین ججوں کی بنچ میں شامل جسٹس موہن شانتاناگودر نے خود کو اس کی شنوائی سے الگ کر لیا۔ بہن سارہ عبداللہ پائلٹ نے پی ایس اے کے تحت عمر عبداللہ کی حراست کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی (فوٹو : پی ٹی آئی)

عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پی ایس اے لگانے کے لئے جموں و کشمیر انتظامیہ نے دی عجیب و غریب دلیل

جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے خلاف پی ایس اے لگانے کے لئے جو الزام لگائے گئے ہیں ان میں ان کی بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہیں، خطرناک سازش رچنے کی اہلیت کی وجہ سے سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو’ڈیڈی گرل‘اور’کوٹا رانی‘کہا گیاہے۔

نیشنل کانفرنس کے رہنما اور جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر : عمر عبداللہ کی پی ایس اے کے تحت حراست کے خلاف ان کی بہن سپریم کورٹ پہنچیں

جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت نظربند کرنے کے خلاف ان کی بہن سارہ عبداللہ پائلٹ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے ان کی فوراً رہائی کی مانگ کی ہے۔

عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی (فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر: محبوبہ، عمر عبداللہ کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج

اس کے ساتھ ہی دو دیگر رہنماؤں پر بھی اس قانون کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے، جن میں نیشنل کانفرنس کے سنیئر رہنما علی محمد ساگر اور پی ڈی پی کے سرتاج مدنی شامل ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد سے ہی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نظربند ہیں۔

2901 Anmol Interview Master.00_23_28_21.Still002

’کشمیری پنڈتوں کا کیا…صحیح سوال پوچھیں، کھلواڑ نہ کریں…‘

ویڈیو: کشمیری پنڈتوں کا کیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو کئی سالوں سے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس سوال نے صرف کشمیری پنڈتوں کے زخم ہرے کیے اور مسلمانوں کی خراب امیج کو پیش کیا ۔ اس مدعے پر ٹیچر انمول ٹکو سے سرشٹی شریواستو کی بات چیت۔

ایلس ویلس، فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

جموں وکشمیر: امریکی حکام نے ہندوستان سے سیاسی قیدیوں کو رہا کر نے کی اپیل کی

ہندوستانی حکومت کے ذریعے منعقد رائے سینا ڈائیلاگ میں حصہ لینے کے بعد واپس لوٹ کر جنوبی اوروسط ایشیا کی اسسٹنٹ سکریٹری ایلس ویلس نے شہریت ترمیم قانون کو لےکرملک گیر احتجاج پر کہا کہ ایک مستحکم جمہوری تجزیہ ہونا چاہیے چاہے وہ سڑکوں پر ہو، چاہے سیاسی اپوزیشن ، میڈیا یا عدالتوں کے ذریعے ہو۔

فوٹو : پی ٹی آئی

جموں و کشمیر میں آج سے 2 جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال

جموں و کشمیر انتظامیہ کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، موبائل فون پر 2جی اسپیڈ کے ساتھ انٹرنیٹ سہولت 25 جنوری سے شروع ہو جائے‌گی۔ سوشل میڈیا کی سائٹ تک وادی کے لوگوں کی رسائی نہیں ہوگی اور طے شدہ ویب سائٹس تک ہی ان کی رسائی ہو سکے‌گی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

سیاسی قیدیوں کی رہائی سے کشمیر میں حالات نارمل  ہوں گے، نہ کہ فوٹو کھنچوانے سے: محبوبہ مفتی

پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، انٹرنیٹ کی بحالی اور گھاٹی میں لوگوں کا ڈر دور کرنے سے حالات نارمل ہوں گے، نہ کہ وزراء کے فوٹو کھنچوانے سے۔

Jammu-Kashmir-Mobile-PTI10_14_2019_000233B-e1579346236239

جموں و کشمیر میں بحال ہوئی پری پیڈ موبائل خدمات

جموں کشمیر انتظامیہ کے افسروں نے بتایا کہ یونین ٹریٹری میں سبھی مقامی پری پیڈ موبائل فون پر کال کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے جموں علاقے کے سبھی دس ضلعوں اور شمالی کشمیر کے دو ضلعوں کپواڑہ اور باندی پورا میں فکس لائن انٹرنیٹ کمیونی کیشن سروس مہیا کرنے کو کہا گیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: سپریم کورٹ کے حکم کے بعد براڈبینڈ، 2 جی انٹرنیٹ خدمات جزوی طور پر بحال

سپریم کورٹ نے پچھلے ہفتہ اپنے ایک بےحد اہم فیصلے میں جموں و کشمیر انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر پابندی سے متعلق تمام احکام پر غور کرے۔ یہ پابندی گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد سے لگائی گئی تھی۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر انتظامیہ نے 26 لوگوں پر لگا پی ایس اے ہٹایا

جن 26 لوگوں پر سے پبلک سیفٹی ایکٹ ہٹایا گیا ہے ان میں سے کچھ یونین ٹریٹری سے باہر اتر پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں میں بند ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نذیر احمد رونگا بھی شامل ہیں، جنہیں اتر پردیش کی مرادآباد سینٹرل جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

دو سال میں سیڈیشن کے معاملوں میں ہوا دوگنا اضافہ، جھارکھنڈ میں سب سے زیادہ معاملے

این سی آربی کے ذریعے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق 2016 کی مقابلے 2018 میں سیڈیشن کے دوگنے معاملے درج ہوئے ہیں۔ جن ریاستوں میں یہ معاملے درج ہوئے ان میں جھارکھنڈ پہلے نمبر پر ہے، اس کے بعد آسام، جموں و کشمیر، کیرل اور منی پور ہیں۔

فوٹو: رائٹرس

سپریم کورٹ نے کہا-غیر معینہ مدت کے لیے انٹرنیٹ بین کی اجازت نہیں، کشمیر انتظامیہ تمام پابندیوں پر پھر سے غور کرے

سپریم کورٹ نے کہا کہ کہ انٹرنیٹ کا حق آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت بولنے اور اظہار رائے کی آزادی کا حصہ ہے۔ انٹرنیٹ پر پابندی لگانے کا کوئی بھی حکم جوڈیشیل جانچ کے دائرے میں ہوگا۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

17 غیر ملکی سیاسی رہنما کو آج جموں و کشمیر کا دورہ کرائے‌ گی حکومت، یورپی یونین شامل نہیں

اپنی مرضی سے خود کے چنے ہوئے لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھنے کی وجہ سے یورپی یونین کے سیاسی رہنما نے جموں و کشمیر کا یہ دورہ ٹال دیا۔ وہ ریاست کے تین سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جو 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے ہی حراست میں ہیں۔

14 اگست، 2019 کو سرینگر میں ہوئے ایک مظاہرہ کے بعد(فوٹو : رائٹرس)

جموں و کشمیر میں 2017 اور 2018 کے مقابلے 2019 میں پتھربازی کے واقعات میں اضافہ، 1996 معاملے درج: آر ٹی آئی

جموں و کشمیر میں 2018 میں پتھر پھینکنے کے 1458 اور 2017 میں 1412 واقعات درج کئے گئے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کو خصوصی ریاست کا درجہ ہٹانے کے بعد سے یہاں 1193 واقعات درج کئے گئے ہیں۔ اگست 2019 میں ریاست میں پتھربازی کے کل 658 واقعات سامنے آئے، جبکہ اس سے پہلے جولائی میں صرف 26 واقعات ہوئے تھے۔

سابق فارین  سکریٹری شیوشنکر مینن(فوٹو : رائٹرس)

شہریت قانون اور کشمیر جیسے اقدامات سے ہندوستان نے خود کو ’الگ تھلگ‘ کر لیا: سابق فارین سکریٹری

سابق فارین سکریٹری شیوشنکر مینن نے کہا کہ حال کے دنوں میں ہم نے جو حاصل کیا وہ ہماری (ہندوستان کی) بنیادی امیج کو پاکستان سے جوڑتا ہے، جو ایک عدم روادار ملک ہے۔ ہم نے مخالفین کو ایک اسٹیج دیا ہے، جس پر ہم پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔

Photo: Muzamil Bhat/People’s Archive of Rural India

جموں و کشمیر: ریاست کا درجہ بدلنے سے سیاحت پر اثر کو لے کر مرکزی وزیر نے جھوٹ بولا

گزشتہ نومبر میں مرکزی وزیر پرہلاد پٹیل نے راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم ہونے اور مختلف پابندیوں کے بعد ریاست میں سیاحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت محکمہ سیاحت کے ذریعے دی گئی جانکاری ان کے دعویٰ کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔

81437746_1201379893398586_191910370124759040_n

بندھوا مزدوری: ہم در در بھٹکنا نہیں چاہتے، ہماری بازآبادکاری ہو

ویڈیو: جموں وکشمیر کے راجوری تحصیل کے دو اینٹ-بھٹوں سے 91 بندھوا مزدوروں کو چھڑا کر دہلی لایا گیا ہے۔ ان میں عورتوں اور مردوں کے علاوہ 41 بچے بھی ہیں۔یہ سبھی مزدور چھتیس گڑھ کے جانج گیر-چانپا اور رائے گڑھ ضلع کے ہیں۔ ان سے دی وائر کی سنتوشی مرکام کی بات چیت۔

فوٹو: پی ٹی آئی

پانچ مہینے بعد کشمیر میں موبائل ایس ایم ایس خدمات شروع، انٹر نیٹ پر اب بھی پابندی

گزشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد سے انتظامیہ نے کمیونی کیشن کی سبھی لائنوں –لینڈ لائن ٹیلی فون خدمات، موبائل فون خدمات اور انٹر نیٹ خدمات کو بند کر دیا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: حراست میں چار مہینے تک رکھے جانے کے بعد پانچ کشمیری سیاسی رہنما رہا

جموں و کشمیر کےحکام نے بتایا کہ رہا کئے گئے پانچوں رہنما نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے ہیں، جنہیں احتیاطاً حراست میں رکھا گیا تھا۔ 5 اگست سے سابقہ ریاست کےتین سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے ساتھ مین اسٹریم اور علیحدگی پسند خیمے کے سینکڑوں رہنماؤں کو احتیاطاً حراست میں رکھا گیاہے۔

 چیف اکانومک ایڈوائزرارویند سبرامنیم (فوٹو : پی ٹی آئی)

بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے ہندوستان، آئی سی یو میں جا رہی معیشت: سابق چیف اکانومک ایڈوائزر

نریندر مودی حکومت میں چیف اکانومک ایڈوائزر رہتے ہوئے ارویند سبرامنیم نے دسمبر 2014 میں دوہرے بیلنس شیٹ کا مسئلہ اٹھایا تھا، جس میں نجی صنعت کاروں کے ذریعے لئے گئے قرض بینکوں کےاین پی اے بن رہے تھے۔سبرامنیم نے کہا کہ ہندوستان کی معیشت ایک بار پھر سے دوہرےبیلنس شیٹ کے بحران سے جوجھ رہی ہے۔

(فائل فوٹو : رائٹرس)

کشمیر سے مواصلات پر پابندی ختم کرنے اور بندیوں کو رہا کرنے کے لئے امریکی پارلیامنٹ میں تجویز

ہندنژاد-امریکی رکن پارلیامان پرمیلا جئے پال نے امریکی پارلیامنٹ میں جموں و کشمیر پر ایک تجویز پیش کرتے ہوئے ہندوستان سے وہاں لگائی گئی مواصلات پر پابندیوں کو جلد سے جلد ہٹانے اور سبھی باشندوں کی مذہبی آزادی محفوظ رکھے جانے کی اپیل کی۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

اترپردیش کی مختلف جیلوں میں جموں و کشمیر کے 234 قیدی بند ہیں: حکومت

مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر انتطامیہ کی طرف سے دیے گئے اعداد وشمار کی بنیاد پر بتایا ہے کہ جموں و کشمیر میں لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کے لیے وادی میں 4 اگست سے 5161 لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے 609 لوگوں کو احتیاط کے طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ وکی پیڈیا

جموں و کشمیر انتظامیہ ریاست کے آر ٹی آئی معاملوں کو نپٹانے میں جان بوجھ کر تاخیر کر رہی

آر ٹی آئی کے تحت حاصل دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ مرکز کے ڈی او پی ٹی نے جموں و کشمیر میں آر ٹی آئی کے تحت زیر التوا معاملوں کا تصفیہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے ذریعے کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ حالانکہ اب جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک کمیٹی بنا دی ہے جس کے بعد ہی اس پر کوئی آخری فیصلہ لیا جا سکے‌گا۔

فوٹو : رائٹرس

کشمیر: لوگ مقامی اخبارات سے ناراض کیوں ہیں؟

فون او رانٹرنیٹ خدمات کے متاثر ہونے کے بعد سے اب تک صحافیوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ایک فوٹو جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ ، میں نے کبھی اپنے کیمرے کو بند نہیں کیا ہے لیکن گزشتہ 17 ہفتوں کے دوران جہاں بھی گیا مجھے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔وہیں ایک دوسری صحافی کا کہنا ہے کہ ، میں نے کشمیر کی صحیح تصویر کو پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب میری اسٹوری چھپتی تھی تو اس میں میرا لکھا ہوا 40 فیصد ہی ہوتا تھا اور باقی وہ خود ہی شامل کرتے تھے۔

سندیپ چکرورتی (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

ہندوستانی سفیر کے اسرائیل کی طرح کشمیری پنڈتوں کو وادی میں بسانے والے بیان پر تنازعہ

امریکہ میں ہندوستانی سفیر سندیپ چکرورتی نے ایک پروگرام کے دوران کہا تھا کہ کشمیری پنڈت جلدہی وادی لوٹ سکتے ہیں، کیونکہ اگر اسرائیلی لوگ یہ کر سکتے ہیں تو ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔

فوٹو: رائٹرس

کیا ہندوستان سری لنکا کو اقلیتوں کے حقوق کا سبق پڑھا سکتا ہے؟

صدر گوٹا بایا کے بھائی اور وزیر اعظم مہندا راجا پکشا نے کہا تھا کہ ہندوستان نے جموں و کشمیر میں جو اقدامات کیے ہیں، سر ی لنکا ان کو نظر انداز نہیں کر سکتا ہے۔ جو حکومت خود اپنے ملک میں اقلیتوں کے حقوق غصب کرکے ایک ریاست کو تحلیل کرسکتی ہے وہ ایک پڑوسی ملک کو کس طرح اقلیتوں کو حقوق دینے کے لیے مجبور کرسکتی ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر میں پابندیوں کے خلاف عرضی پر شنوائی پوری، فیصلہ محفوظ

جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ہٹانے کے ساتھ ہی وہاں ذرائع ابلاغ پر لگی پابندیوں کو چیلنج دیتےہوئے کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد، کشمیر ٹائمس کی مدیر انورادھا بھسین اور دیگرلوگوں نے عرضیاں دائر کی تھیں۔

جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک (فوٹو : پی ٹی آئی)

بدعنوانی کے معاملے میں کشمیر کے بڑے رہنماؤں کو جیل جانا پڑےگا: ستیہ پال ملک

جموں و کشمیر کے سابق گورنرستیہ پال ملک نے کہا کہ جو لوگ جموں وکشمیر میں جمہوری طریقوں سے چنے گئے، دو پیڑھی پہلے تک ان کے دادا اسکول ٹیچر ہوا کرتے تھے لیکن آج ان کے سرینگر، دہلی، دبئی، لندن اور فرانس میں گھر ہیں اور کشمیر میں کئی ہوٹلوں میں پارٹنرشپ ہے۔

(علامتی تصویر : پی ٹی آئی)

دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس سوشل میڈیا پوسٹ کی نگرانی کر رہی ہے

جموں و کشمیر پولیس کے ذریعے انجانے میں صحافیوں کو بھیجے گئے ای میل میں ’ ڈی این اے فائل ‘نام سے ایک فائل تھی، جس میں ایسے سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹ تھے، جو کہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بارے میں لکھے گئے تھے۔

Don`t copy text!