JDU

بی جے پی رہنما سشیل کمار مودی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: پاسوان کی راجیہ سبھا سیٹ سے بی جے پی نے سابق نائب وزیر اعلیٰ سشیل مودی کو امیدوار بنایا

لوک جن شکتی پارٹی کے بانی اورمرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کےانتقال کے بعد یہ سیٹ خالی ہو گئی ہے۔ایل جے پی کے بہار این ڈی اے سے باہر آکر اپنے بل بوتے اسمبلی انتخاب لڑنے کے فیصلے کے ساتھ ہی بی جے پی نے اس سیٹ پر پھر سے اپنا دعویٰ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو اس نے اپنے کوٹے سے پاسوان کو دی تھی۔

لالو یادو(فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: لالو کے ذریعے ایم ایل اے خریدنے کے الزامات کے بیچ بی جے پی کے وجئے سنہا اسمبلی اسپیکر بنے

بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اوربی جےپی رہنما سشیل مودی نے الزام لگایا ہے کہ چارہ گھوٹالے میں سزا کاٹ رہے لالو یادو نے اسمبلی اسپیکر کےانتخاب سے پہلے ان کے ایک ایم ایل اے کو اسمبلی میں غیرحاضر رہنے کے عوض میں وزیر کاعہدہ دینے کا لالچ دیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایک آڈیو کلپ بھی جاری کیا ہے۔ معاملے کی جانچ کے حکم دے دیے گئے ہیں۔

میوہ لال چودھری۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

بہار: بدعنوانی کے الزامات پر تنازعہ کے بعد وزیر تعلیم بنائے گئے میوہ لال چودھری کا استعفیٰ

سیاست میں آنے سے پہلے میوہ لال چودھری بھاگلپور کے بہار اگریکلچر یونیورسٹی کے وی سی تھے۔ اسسٹنٹ پروفیسر کی بحالی میں بے ضابطگی کے الزامات اور ایف آئی آر درج کیے جانے کے مد نظر انہیں2017 میں نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

نریندر مودی اور راہل گاندھی (فوٹو : رائٹرس)

کیا ہندوستانی مسلم رائے دہندگان کو متبادل حکمت عملی کی ضرورت ہے؟

مودی کے رتھ کو روکنے میں ناکامی کی ذمہ دارکانگریس ہے، جس کی من مانی اور زیادہ سے زیادہ سیٹیں لڑنے کی ضد نے سیکولر اتحاد کی کامیابی میں روڑے اٹکائے۔اب یہ اہم سوال مسلمانوں کے سامنے ہے کہ کیا وہ سیکولر پارٹیوں کا دامن تھامے رکھیں، جنہیں ان کی تعلیم و ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں اور جو ان کو صرف ووٹ بینک کی نظر سے دیکھتے ہیں یا جنوبی صوبہ کیرالا کا ماڈل اپنا لیں؟

 بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیتے ہوئےنتیش کمار۔ (فوٹو: ٹوئٹر/@Jduonline)

بہار: نتیش کمار ساتویں بار بنے وزیر اعلیٰ، دو نائب وزیر اعلیٰ بنائے گئے

بہاراسمبلی انتخاب میں125 سیٹیں حاصل کرکےاکثریت پانے والی این ڈی اے گٹھ بندھن نے 15سالوں تک نائب وزیر اعلیٰ رہےسشیل مودی کی جگہ بی جے پی کے دورہنماؤں تارکشور پرساد اور رینو دیوی کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا ہے۔ نتیش کمار کے ساتھ کل 14وزیروں نے حلف لیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کانگریس تبدیلیوں کو لے کر سنجیدہ نہیں، شاید پارٹی نے ہر ہار کو مقدر مان لیا ہے: کپل سبل

سینئر کانگریسی رہنما کپل سبل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب لوگ کانگریس کو ایک مؤثر متبادل نہیں مان رہے ہیں۔ سبل کانگریس کے ان 23رہنماؤں میں سے ایک ہیں ،جنہوں نے صدرسونیا گاندھی کوخط لکھ کر پارٹی میں تبدیلی لانے، جوابدہی طے کرنے اور ہار کا صحیح تجزیہ کرنے کامطالبہ کیا تھا۔

بہار کے نوادہ میں آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو کے ساتھ راہل گاندھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: مہاگٹھ بندھن کی ہار پر آر جے ڈی رہنما نے راہل گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا، کانگریس کا جوابی حملہ

بہاراسمبلی انتخاب میں کانگریس کے خراب مظاہرہ پر آر جے ڈی کے سینئررہنما شیوانند تیواری نے کہا کہ گٹھ بندھن کےلیے کانگریس رکاوٹ کی طرح رہی، اس نے انتخاب70 سیٹوں پر لڑا، لیکن70 ریلیاں بھی نہیں کیں۔انتخاب کے وقت راہل گاندھی پکنک منا رہے تھے۔

فوٹو بہ سکریہ، فیس بک

بہار: کیا اویسی واقعی بی جے پی کے ایجنٹ ہیں؟

کیا اویسی کی پارٹی نے بہار انتخاب میں ووٹ کاٹنے کا کام کیا جس سے مہاگٹھ بندھن کو شدید نقصان ہوا؟ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ مجلس نے جن پانچ سیٹوں پر جیت درج کی ہے وہاں اگریہ امیدوار ہی نہیں ہوتے تو مہا گٹھ بندھن کو کامیابی ملتی ؟

ایک عوامی اجلاس میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/جے ڈی یو)

بہار کی سیاست میں نتیش کمار کا کوئی متبادل نہیں ہے

جے ڈی یو کو بی جے پی سے کم سیٹیں ملنے کے بعد نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ بننے کو لےکر سوال اٹھ رہے تھے، لیکن ایسی رائے ہے کہ عوام، بالخصوص خواتین کے این ڈی اےکو چننے کا سہرا نتیش کمار کو ہی جاتا ہے، ایسے میں ان کی قیادت میں نئی سرکار کا بننا ناگزیر ہے۔

مسجد پر ہوئے حملے میں زخمی افراد(فوٹو اسپیشل ارینجمنٹ)

بہار اسمبلی انتخاب کے بعد بی جے پی حامیوں  نے جلوس کے دوران مسجد میں توڑ پھوڑ کی

مشرقی چمپارن کے جموآ گاؤں کا معاملہ۔الزام ہے کہ بی جے پی حامیوں نے اس دوران کئی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی اور جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے مسجد کا مائیک اور اس کے گیٹ توڑ دیے۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

hqdefault

میڈیا بول: بہار انتخابی نتائج کے مضمرات

ویڈیو: بہار اسمبلی انتخاب میں تمام ایگزٹ پول اور اندازے غلط ثابت ہوئے۔ میڈیا بول کےاس ایپی سوڈمیں ارملیش بہار کے غیر متوقع انتخابی نتائج اور ریاست کے سیاسی مستقبل کو لےکر سینئر صحافی اروند موہن اور دی وائر کے پالیٹیکل افیئرس ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے چرچہ کر رہے ہیں۔

پٹنہ میں منگل کو وکٹری سائن دکھاتے بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سشیل کمار مودی، بی جے پی کے بہار انچارج بھوپیندر یادو، بہار بی جے پی صدرسنجے جیسوال،مرکزی وزیر نتیانند رائے اور دیگر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار اسمبلی انتخاب: این ڈی اے کو 125 سیٹوں کے ساتھ اکثریت، آر جے ڈی بنی سب سے بڑی پارٹی

بہاراسمبلی کی243 سیٹوں میں سےآر جے ڈی کی قیادت والی مہاگٹھ بندھن کو کل 110 سیٹوں پر جیت ملی ہے۔آر جے ڈی نے 75،بی جے پی نے 74،جے ڈی یو نے 43، کانگریس نے 19، سی پی آئی ایم ایل نے 12 اور اےآئی ایم آئی ایم نے 5 سیٹوں پر جیت درج کی ہے۔ایل جے پی کو صرف ایک سیٹ ہی مل سکی۔

نتیش کمار(فوٹو: پی ٹی آئی)

نتیش کے بہار اسمبلی انتخاب کو اپنا ’آخری انتخاب‘ بتانے کے کیا معنی ہیں

نتیش کمار نے تیسرےمرحلہ کے انتخابی مہم کےآخری دن کہا کہ یہ ان کا آخری انتخاب ہے۔ کیایہ ووٹنگ سے پہلے سیمانچل کے اقلیتوں سمیت ان کے روایتی ووٹرس کی ہمدردی حاصل کرنے کا کوئی انتخابی ہتھکنڈہ ہے یا اس کا کوئی گہرا سیاسی مفہوم ہے؟

فوٹو: پی ٹی آئی

بہار اسمبلی انتخاب پر سب کی نظریں کیوں ٹکی ہیں؟

بہارکے انتخابی نتائج کا ہندوستان کے مجموعی سیاسی نقشہ پراثر اندازہونا یقینی ہے۔کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دوران مہاجربہاری مزدوروں کی مشکلات کا ازالہ کرنے میں ناکامی کی وجہ سے جب بی جے پی نے دیکھا کہ اس کا’وکاس’کا نعرہ کام نہیں کر رہا ہے، تو وہ اپنی سابقہ روش پر اتر آئی ہے۔

(فوٹو: دی وائر)

خصوصی ریاست کا درجہ ملنے پر ہی بہاریوں کو بے روزگاری اور غریبی سے نجات ملےگی: کے سی تیاگی

انٹرویو:بہار اسمبلی انتخاب سے پہلے بنتے بگڑتے سیاسی گٹھ جوڑ کے بیچ جے ڈی یو کے قومی ترجمان کے سی تیاگی کا دعویٰ ہے کہ این ڈی اے دوبارہ اقتدارمیں آ رہی ہے اور نتیش کمار ہی وزیراعلیٰ بنیں گے۔ ان سے وشال جیسوال کی بات چیت۔

Bihar DGP Gupteshwar Pandey. Photo: Twitter/@IPSGupteshwar

کیا بہار انتخاب سے عین پہلے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے کا دوسری بار رضا کارانہ ریٹائرمنٹ لینا محض اتفاق ہے

بہار کے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے نے سال 2009 میں پہلی بار وی آرایس لیا تھا اور تب چرچہ تھی کہ وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے، حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ اب اسمبلی انتخاب سے کچھ ہی مہینے پہلے ان کے دوبارہ وی آرایس لینے کے فیصلے کو ان کے سیاسی عزائم سے جوڑکر دیکھا جا رہا ہے۔

AKI 11 Sep.00_30_38_12.Still004

بی جے پی کیوں چاہتی ہے سشانت کے مدعے پر ہو بہار انتخاب؟

ویڈیو: اسمبلی انتخاب نزدیک آتے ہی بہار کی سیاست گرمانے لگی ہے۔ آرجےڈی کےقدآوررہنما رگھوونش پرساد سنگھ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سشانت سنگھ کی موت کو بھی مدعا بنایا جا رہا ہے۔ اس پر دی وائر کے پالیٹیکل افیئرس ایڈیٹر اجئے آشیرواد اور سیاسی مبصر سجن کمار سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

بی جے پی کلچرل ونگ کی طرف سے ‘جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت’کےہیش ٹیگ والاا سٹیکر۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

بہار: 15 سال اقتدار میں رہ چکی بی جے پی کے لیے سشانت سنگھ راجپوت کی موت انتخابی مدعا کیوں ہے؟

سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی جانچ سی بی آئی، ای ڈی اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کر رہے ہیں اور تینوں ہی مرکزی حکومت کےماتحت ہیں۔ مرکز اور بہار میں این ڈی اے کی ہی سرکار ہے۔ ایسے میں سوال ہے کہ ‘جسٹس فار سشانت سنگھ راجپوت’ہیش ٹیگ چلاکر بہار میں بی جے پی جسٹس کس سے مانگ رہی ہے؟

رابڑی دیوی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

بہار: آر جے ڈی کے پانچ ایم ایل سی نے استعفیٰ دیا، رگھوونش پرساد سنگھ نے بھی قومی نائب صدر کا عہدہ چھوڑا

سال کے اواخر میں ہونے والے بہار اسمبلی انتخاب سے پہلے اس سیاسی اتھل پتھل سے آر جے ڈی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ پانچ ایم ایل سی کے پارٹی چھوڑنے کے بعد 75رکنی ایوان میں آر جے ڈی کے ممبروں کی تعداد محض تین رہ گئی ہے۔ مطلوبہ تعداد کے بغیررابڑی دیوی اپوزیشن لیڈر کی کرسی گنوا سکتی ہیں۔

پرشانت کشور(فوٹو : پی ٹی آئی)

نتیش کمار سے الگ ہو ئے پرشانت کشور بہار اسمبلی انتخابات میں کیا گل کھلائیں‌ گے؟

جے ڈی یو سے باہر نکالے جانے کے بعد پرشانت کشور نے ‘ بات بہار کی ‘مہم شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے وہ مثبت سیاست کرنے کے خواہشمند نوجوانوں کو جوڑنا چاہتے ہیں۔مہم کے تحت ان کے ذریعے دیے جا رہے اعداد وشمار بہار کی این ڈی اے حکومت کی ریاست میں پچھلے 15 سالوں میں ہوئی ترقی کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

سشیل مودی نے بہار میں این پی آر کے لیے تاریخ کا اعلان کیا، جے ڈی یو کی بھی حمایت

بہار کے نائب وزیراعلیٰ سشیل مودی نے مغربی نگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور کیرل کے وزیراعلیٰ پی وجین کو چیلنج دیا کہ وہ سی اےاے اور این پی آر نافذ نہ کریں، اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی وزیر اعلیٰ سی اے اے اور این پی آر نافذ کرنے سے انکار نہیں کر سکتا، چاہے وہ ان کے خلاف کیوں نہ ہو۔

 نتیش کمار(فوٹو : پی ٹی آئی)

فرقہ وارانہ فسادات میں بہار اول کیوں ہے؟

ایک سال کی تاخیرسے جاری کئے گئے این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق،سال 2017 میں ملک میں فسادات کے کل 58729 معاملے درج کیے گئے۔ ان میں سے 11698 فسادات بہار میں ہوئے۔2017 میں ہی ملک میں کل 723 فرقہ وارانہ / مذہبی فسادات ہوئے۔ ان میں سے اکیلے بہار میں 163 معاملے ہوئے، جو کسی بھی صوبے سے زیادہ ہے۔

modi-nitish-kumar-pti

نتیش کمار کا دعویٰ ؛ ہماری حکومت میں نہیں ہوئے فسادات، جانیے کیا ہے حقیقت

نتشب کمار نے ایک حالیہ انٹرویو مںم کہا تھا کہ ا ن کی 13 سالہ حکومت مں صرف ایک بار نوادہ مںا کرفوی لگا اور وہ بھی محض 48 گھنٹے کے لئے۔ مگر مڈییا رپورٹس کی مانں ، تو ان کا یہ دعویٰ بھی سچائی سے پرے ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

مودی حکومت نے ساڑھے 4سالوں میں اشتہار پر خرچ کئے 5000 کروڑ روپے

مودی حکومت میں اشتہار پر خرچ کی گئی رقم یو پی اے حکومت کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔یو پی اے نے 10سال کی مدت میں اشتہار پر اوسطاً 504کروڑروپے سالانہ خرچ کیا تھا، وہیں مودی حکومت میں ہرسال اوسطاً 1202 کروڑ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔

Newspapers-pexels-photo

اخباروں کی اشاعت سےمتعلق دعوے کی جانچ کرا رہی ہے حکومت : وزیر اطلاعات و نشریات

وزیراطلاعات و نشریات نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ اخباروں کو ان کی اشاعت کی تعداد کے دعوے کی تصدیق کے بعد ہی اشتہارات دیے جاتے ہیں۔ان کی اشاعت کے دعوے کی رجسٹرار آف نیوز پیپرس فار انڈیا( آر این آئی) سے جانچ کرائی ہے۔

نورالحسن کے گیراج میں جلی ہوئی ٹرک۔(فوٹو :امیش کمار رائے /دی وائر)

بہار :فساد متاثرہ دکانداروں کو کیوں لگ رہا ہے کہ نتیش حکومت ان کو ٹھگ رہی ہے؟ 

گراؤنڈ رپورٹ :بہار کے اورنگ آباد میں مارچ میں رام نومی کے وقت ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں کئی دکانوں میں لوٹ پاٹ کرکے آگ لگا دی گئی تھی۔اس وقت نتیش حکومت نے متاثر دکانداروں کو معاوضہ دینے کی بات کہی تھی، لیکن چار مہینے کے بعد بھی زیادہ تر دکانداروں کو ایک روپیہ بھی معاوضہ نہیں ملا ہے۔

نریندر مودی اور نتیش کمار۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

کیابہار میں بی جے پی-جے ڈی یو اتحاد کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے؟

بہار میں ان دنوں رونما ہو رہے سیاسی واقعات بتا رہے ہیں کہ بی جے پی اور جے ڈی یو کے درمیان 2013 کے پہلے جیسا تال میل تھا، ویسا اب نہیں رہا اور اس بار بی جے پی-جے ڈی یو اتحاد کی عمر بھی بہت لمبی نہیں رہنے والی ہے۔

Don`t copy text!