Journalism

رویش کمار/ فوٹو: دی وائر

ریمن میگسیسے ایوارڈ: رویش نے کہا-ہمیشہ جیتنے کے لئے ہی نہیں یہ بتانے کے لئے بھی لڑا جاتا ہے کہ کوئی تھا جو میدان میں اترا تھا

ایشیا کا نوبیل مانا جانے والا میگسیسے ایوارڈ رویش کمار کو ان کی صحافتی خدمات کے لیے دیا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ، دنیا صحت اور معاشی بنیادوں پر عدم مساوات کو دیکھتی ہے ، مگر اب وقت آگیا ہے کہ ہم علم کی بنیاد پر بھی عدم مساوات کودیکھیں ۔

فوٹو : دی وائر

جب صحافی سسٹم کی زبان بولنے لگے…

حکومت کی مداخلت یا انتظامیہ کے دباؤ کا الزام لگانا ایک کمزور بہانہ ہے-میڈیا پیشہ وروں نے خود ہی خود کو اپنے اصولوں سے دور کر لیا ہے۔ وہ بےآواز کو آواز دینے یا حکمراں طبقے سے جوابدہی کی مانگ کرنے والے کے طور پر اپنے کردارکو نہیں دیکھتے ہیں۔ اگر وہ خود سسٹم کا حصہ بن جائیں‌گے، تو وہ ان سے سوال کیسے پوچھیں‌گے؟

IMG_2882

ویڈیو: رویش کمار کو ریمن میگسیسے ایوارڈ ملنے پر عوام کی رائے

ویڈیو: صحافی رویش کمار کو سال 2019 کے ریمن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا کیا گیا ہے۔ایشیا کا نوبیل مانا جانے والا میگسیسے ایوارڈ رویش کمار کو صحافت میں ان کے اہم رول کے لئے دیا گیا ہے۔ ایوارڈ فاؤنڈیشن نے ان کے پروگرام کو عام لوگوں سے جڑا بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ بےآوازوں کی آواز بنتے ہیں، تب آپ ایک صحافی ہیں۔

رویش

صحافی رویش کمار کو ملا 2019 کا ریمن میگسیسے ایوارڈ

ایشیا کا نوبیل مانا جانے والا میگسیسے ایوارڈ رویش کمار کو صحافت میں ان کے اہم رول کے لئے دیا گیا ہے۔ ایوارڈ فاؤنڈیشن نے ان کے پروگرام کو عام لوگوں سے جڑا بتاتے ہوئے کہا کہ اگر آپ بےآوازوں کی آواز بنتے ہیں، تب آپ ایک صحافی ہیں۔

صحافی نہا دکشت (فوٹو : دی وائر)

صحافی نہا دکشت کو ملا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے یہ ایوارڈ 4 ممالک کے 5 صحافیوں کو دیا گیا ہے۔ نہا دکشت کو یہ ایوارڈ مختلف ریاستوں میں ہوئی ایکسٹرا جوڈیشیل کلنگ اور این ایس اے کے غلط استعمال کو لےکر کی گئی ان کی رپورٹس کے لئے ملا ہے۔

برکھا دت اور کپل سبل (فوٹو : فیس بک / پی ٹی آئی)

ترنگا ٹی وی: برکھا دت نے کپل سبل پر لگایا ملازمین‎ کی تنخواہ روکنے کا الزام

نیوز چینل ترنگا ٹی وی کی کنسلٹنگ ایڈیٹر برکھا دت نے کہا کہ چینل کے پرموٹر اور کانگریسی رہنما کپل سبل نے جنوری 2019 میں چینل کے ملازمین‎ کی تقرری کرتے وقت کم از کم دو سال کی مدت کار دینے کی بات کہی تھی، اب وہ اس سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

valsad-Map

گجرات: سرکاری پروجیکٹ پر رپورٹ کرنے کی وجہ سے صحافی پر حملہ، 1 گرفتار

یہ معاملہ گجرات کے ولساڈ کا ہے۔ الزام ہے کہ ایک تالاب کے رینوویشن پروجیکٹ کو لےکر شائع خبر سے گاؤں کا سابق سرپنچ ناراض تھا اور اس نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل‌کر صحافی اور ان کی فیملی پر حملہ کیا۔

ریڈ

دی وائر کی عارفہ خانم شیروانی اور فیاض احمد وجیہہ کوملا ریڈ انک ایوارڈ

بہترین صحافت کے لیے ممبئی پریس کلب کی طرف سے دیا جانے والا یہ ایوارڈ پالیٹکس کی کٹیگری میں عارفہ خانم شیروانی کو شری شری روی شنکر کے انٹرویو اور فیاض احمد وجیہہ کو آرٹس کیٹگری میں ایک پبلشنگ ہاؤس کے بارے میں کی گئی ویڈیو رپورٹ کے لیے ملا ہے۔

Narendra-Modi-Karan-Thapar-1024x511

کرن تھاپر کے مشہور پروگرام کے پیچھے کی ان سنی کہانیاں

رہنماؤں کی شان میں قصیدے پڑھنے کے اس دور میں آمنے سامنے بیٹھ‌کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال‌کر سخت اور مشکل سوالوں کے لئے معروف کرن تھاپر کی کتاب ‘میری ان سنی کہانی’ کو پڑھنا باعث تسکین ہے، کیونکہ عدم اتفاق اور سوال پوچھنا ہی جمہوریت کی طاقت ہے۔

فوٹو : مہراج بٹ/کشمیر لائف

کشمیر: جہاں صحافی ہونا آسان نہیں ہے…

تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ سنچر کو ملک کے 70ویں یوم جمہوریہ پر سری نگر مں مختلف پریس اداروں سے وابستہ سنئرق فوٹو گرافروں کو یوم جمہوریہ کی تقریب مں عکس بندی سے روکا گاہ ۔حر ت یہ ہے کہ پولسہ نے خود انہںی تقریب مںٹ شرکت کے لئے سکو رٹی پاس جاری کار تھا۔

وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ایوارڈ لیتے ہوئے امت سنگھ

دی وائر کو ملا دو رام ناتھ گوئنکا جرنلزم ایوارڈ

دی وائر ہندی کے سینئر کرسپانڈنٹ رہے امت سنگھ کو یہ ایوارڈ ’بہترین ہندی جرنلزم -پرنٹ‘کٹیگری میں جموں وکشمیر پولیس پر کی گئی ان کی گراؤنڈ رپورٹ کے لیے دیا گیا ہے۔ دی وائر انگریزی میں انوائرمینٹل رپورٹنگ (پرنٹ )کی کٹیگری میں سندھیا روی شنکر کویہ ایوارڈ دیا گیا۔

Gossip_Flickr

گاسپ یا گپ شپ کے بغیر نہ سیاست ہے نہ صحافت

گاسپ کی تخلیق کے کچھ غیر محررہ اصول ہوتے ہیں، جیسے اسے وہیں نوٹ نہ کریں یا اس سے متعلق سوال جواب نہ کریں۔ بتانے والے یعنی ذرائع کا تحفظ یقینی ہونا چاہیے۔ گاسپ یا گپ شپ لکھنے والے کو آزادی حاصل ہوتی ہے، مگر اس میں حقائق کا متاثر نہ ہونا ایک اہم شرط ہے۔

TWU_MumbaiEvent

اُردو : ’ترقی پسند ادب زوال پذیر ہے کیونکہ اپنے آپ کو ترقی پسند کہنے والے اب اُردو میں نہیں لکھتے‘

ویڈیو:دی وائر اُردو کی پہلی سالگرہ کے موقع پر گزشتہ 18اگست کو ممبئی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جہاں اردو میں ترقی پسند ادب کی موجودہ صورت حال پر نندتا داس،رخشندہ جلیل،جاوید آننداور مہتاب عالم سے دانش حسین کی بات چیت ۔

فوٹو: وکی پیڈیا

کلدیپ نیئر،ایک انسان دوست جنہیں اپنی اردو والی پہچان پر اصرار تھا

کلدیپ نیئر نے اپنے کاموں سے ایک پوری نسل کی ذہن سازی کا کام کیا۔ نو واردان صحافت میں ان کی خاص دلچسپی تھی۔ اس کا ندازہ ذاتی طور پر مجھے علیگڑھ مسلم یونیورسیٹی میں اپنی طالب علمی کے زمانے میں ہوا۔

فوٹو: آئی آئی ایم سی ویب سائٹ

آئی آئی ایم سی : اردو جرنلزم کورس کی خستہ حالی کے لیے ذمہ دار کون؟

آئی آئی ایم سی کے سبھی کورسیز کے مقابلے میں اردوجرنلزم کورس میں ہی سب سے کم امید وار آتے ہیں۔ ہر تعلیمی سال کے آخر میں مختلف میڈیا ہاؤس کیمپس سلیکشن کے لئے آتے ہیں،لیکن اردو میڈیا ہاؤس بہت کم آتے ہیں۔

shujaat-bukhari-facebook

ہم نے کئی بار ساتھ میں موت کو دھوکہ دیا ، مگر آخر میں وہ اکیلا چلا گیا…

شجاعت کے ساتھ میری دوستی کا سفر غالباً 1988 میں گورنمنٹ کالج سوپور سے شروع ہوا۔ جرنلزم اور سماجی سرگرمیاں تو انکی روح میں تھیں۔کالج میں ہی اسنے ایک’پیرراڈایز رائٹرز فورم ‘تشکیل دی تھی جس کی نشستیں کالج کے سبزہ زار میں چنار کے پیڑوں کے تلے ہوتی تھیں۔

فوٹو : رائٹرس

یہ چپی میڈیا نہیں،پپی میڈیا ہے، جو حکومت کے پھینکےگئے ٹکڑوں پر پل رہا ہے

ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہمیں بولنا پڑتا ہے۔ چپی توڑنی پڑتی ہے۔ ٹوکنا پڑتا ہے ان کو بھی جو جھوٹ بول رہے ہیں اور ساتھ دینا پڑتا ہے ان کا جو سچ بول رہے ہیں۔ اب وقت ہے ان کو ٹوکنے کا، جنہوں نے کروڑوں روپیوں میں ہمارا اعتماد بیچ دیا ہے۔ کوبراپوسٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے، یہ چپی میڈیا نہیں ہے ‘ پپی میڈیا ‘ ہے، جو حکومت کے پھینکے گئے ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔

Episode 51

میڈیا بول: کوبرا پوسٹ اسٹنگ اور توتی کورن تشدد

ویڈیو: میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے کوبرا پوسٹ ویب سائٹ کے ذریعے مختلف میڈیا ہاؤس پر کیے گئے اسٹنگ آپریشن اور تمل ناڈو کے توتی کورن میں ہوئے تشدد پر راجستھان پتریکا کے صلاح کار مدیر اوم تھانوی اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کے ساتھ ارملیش کی بات چیت۔

CobraPostII

کوبرا پوسٹ کا انکشاف،ٹائمس آف انڈیا ،انڈیا ٹو ڈے، ہندوستان ٹائمس،زی نیوز،وغیرہ پیڈ نیوز چھاپنے کے لئے تیار

کوبرا پوسٹ کے دوسرے حصے کو آج پریس کلب آف انڈیا میں جاری کیا جانا تھا۔ لیکن اس اسٹنگ آپریشن میں شامل میڈیاگروپ دینک بھاسکرنے دہلی ہائی کورٹ کی پناہ لے لی۔

2015 میں بی جے پی کی دیوالی ملن تقریب میں صحافیوں سے ملتے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ /فوٹو : org bjp.)

پریس کی آزادی کے اصلی دشمن باہر نہیں، بلکہ اندر ہی ہیں

مودی کے انتخاب جیتنے کے بعد یا پھر اس سے کچھ پہلے ہی میڈیا نے اپنا غیر جانبدارانہ رویہ طاق پر رکھنا شروع کر دیا تھا۔ ایسا تب ہے جب حکومت اور وزیر اعظم نے میڈیا کو پوری طرح سے نظرانداز کیا ہے۔ میڈیا اہلکاروں کی جتنی زیادہ توہین کی گئی ہے، وہ اتنا ہی زیادہ اپنی وفاداری دکھانے کے لئے بےتاب نظر آ رہے ہیں۔

روہت سردانا /فوٹوبشکریہ : فیس بک / روہت سردانا

روہت سردانا کو  گنیش شنکر ودیارتھی ایوارڈ دینے والوں کی عقل پر ترس کھایا جا سکتا ہے

جس ہندو مسلم یکجہتی کے لئے گنیش شنکر ودیارتھی نے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کی اسی ہندوستان میں ہندو مسلم فرقہ پرستی کو بڑھاوا دینے والی صحافت کرنے والے روہت سردانا کو ان کے نام پر انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔