Justice Arun Mishra

جنگل سے آدیواسیوں کو بے دخل کرنے کے مدعے پر نئی دہلی میں مختلف آدیواسی تنظیموں کا مظاہرہ (فوٹو : سنتوشی مرکام / دی وائر)

آدیواسی اور جنگل میں رہنے والوں کو  جنگل سے بے دخل کرنا ان کو قتل کرنے جیسا ہے

جنگل کے حقوق سے متلق قانون – Forest Rights Act 2006کے تحت خارج دعوے کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے آدیواسیوں کو جنگل سے بے دخل کرنے کا حکم دیا تھا، جس پر بعد میں روک لگا دی گئی۔لیکن دعویٰ خارج کیوں ہوا؟ مرکزی حکومت نے عدالت سے کہا کہ دعوے سے متعلق فارم صحیح سے پرنہیں کیےگئے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومتوں کی ملی بھگت سے ان کو خارج کیا گیا ہے تاکہ جنگلات میں معدنیاتی جائیداد کے استحصال کے لئے لیز پردینے میں کسی طرح کی پریشانی نہ ہو۔

جنگل سے آدیواسیوں کو بے دخل کرنے کے مدعے پر نئی دہلی میں مختلف آدیواسی تنظیموں کا مظاہرہ (فوٹو : سنتوشی مرکام / دی وائر)

کیا ملک کے ڈسکورس  سے آدیواسیوں کو سرکاری طور پر باہر کر دیا گیا ہے؟

آدیواسیوں کی جنگل سے بے دخلی کا جو سلسلہ آزادی کے بعد سے کبھی وکاس تو کبھی ماحولیات کے نام پر چلا آ رہا ہے، کیا وہ کسی منطقی نتیجے کی طرف بڑھ رہا ہے؟ حالانکہ جیسےجیسےآدیواسی تباہ ہو رہے ہیں،پریڈوں،عجائب گھر،آرٹ میلہ اور شہری تہواروں میں ان کی نمائش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

آدیواسیوں کو زمین سے بےدخل کرنے کے اپنے حکم پر سپریم کورٹ نے لگائی روک

سپریم کورٹ میں داخل اپنے حلف نامہ میں مرکزی حکومت نے کہا کہ قانون کے تحت اصل میں دعووں کا خارج ہونا آدیواسیوں کو بےدخل کرنے کی بنیاد نہیں ہے۔ قانون میں ایسا کوئی اہتمام نہیں ہے جس کی بنیاد پر دعویٰ کے خارج ہونے کے بعد کسی کو بےدخل کیا جائے۔

ہندوستان میں چھتیس گڑھ کے دھارباگڑا میں ایک کیمپ میں بیٹھے آدیواسی۔ (فائل فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ کے حکم سے 10 نہیں، تقریباً20 لاکھ آدیواسی ہو سکتے ہیں زمین سے بےدخل

قبائلی معاملات کی وزارت کے ذریعے جمع اعداد و شمار کے مطابق 30 نومبر، 2018 تک ملک بھر میں 19.39 لاکھ دعووں کو خارج کر دیا گیا تھا۔ اس طرح سپریم کورٹ کے حکم کے بعد تقریباً20 لاکھ آدیواسی اور جنگل واسیوں کو جنگل کی زمین سے بےدخل کیا جا سکتا ہے۔

)علامتی تصویر : رائٹرس(

کیا سپریم کورٹ کے حالیہ حکم کی وجہ سے 10 لاکھ سے زیادہ آدیواسی اپنی زمین سے بےدخل ہو جائیں گے؟

سپریم کورٹ کے اس حکم سے 16 ریاستوں کے آدیواسی متاثر ہوں‌گے۔عدالت نے کہا، ریاستی حکومتیں یہ یقینی بنائیں ‌گی کہ جہاں دعوے خارج کرنے کے حکم پاس کر دئے گئے ہیں، وہاں سماعت کی اگلی تاریخ کو یا اس سے پہلے نکالا جانا شروع کر دیا جائے‌گا۔