Karawal Nagar

یتی نرسنہانند کے ساتھ مرکزی وزیر گریراج سنگھ۔ بیچ میں بی جے پی کے بی ایل شرما ہیں اور پیچھے سفید قمیص اور گمچھے میں یتی کا قریبی اور 'ہندو فورس'کا بانی دیپک سنگھ ہندو۔

دہلی فسادات سے ٹھیک پہلے شدت پسند ہندوتوادی رہنما نے لگاتار مسلمانوں کے ’قتل عام‘ کی اپیل کی تھی

خصوصی سیریز: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکر دی وائر کےخصوصی سلسلہ کے دوسرے حصہ میں جانیےشدت پسند ہندوتوادی رہنمایتی نرسنہانند کو، جن کی نفرت اور اشتعال انگیزی نے ان شرپسندوں کے اندرشدت پسندی کا بیج بویا، جنہوں نے فروری 2020 کے آخری ہفتے میں شمال-مشرقی دہلی میں قہر برپاکیا۔

راگنی تیواری، دیپک سنگھ ہندو اور انکت تیواری۔

دہلی فسادات کی اصل سازش؛ جس کو پولیس نے نظر انداز کیا

خصوصی رپورٹ: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکردی وائر کی سیریز کے پہلے حصہ میں جانیے ان ہندوتووادی کارکنوں کوجنہوں نےنفرت پھیلانے، بھیڑجمع کرنے اور پھر تشددبرپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: گواہوں کی صداقت پر شکوک و شبہات کا اظہار کر تے ہو ئے عدالت نے تین لوگوں کو ضمانت دی

گزشتہ سال فروری میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئےتشددکے دوران گوکل پوری اوردیال پوری علاقوں میں آگ زنی اور توڑ پھوڑ کے معاملوں کے تین ملزمین کو ضمانت دیتے ہوئے مقامی عدالت نے کہا کہ ان کے نام نہ ایف آئی آر میں ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی خصوصی الزام ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: عدالت نے دو ملزمین کو ضمانت دی، کہا-پولیس اہلکاروں کی گواہی پر شک

ملزمین کو ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے ذریعے کی گئی شناخت کا بہ مشکل کوئی مطلب ہے، کیونکہ بھلے ہی وہ واقعہ کے وقت علاقے میں تعینات تھے، پر انہوں نے ملزمین کا نام لینے کے لیے اپریل تک کا انتظار کیا، جبکہ انہوں نے صاف طور پر کہا ہے کہ انہوں نے ملزمین کو 25 فروری 2020 کو دنگے میں مبینہ طور پر شامل دیکھا تھا۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی تشدد: 19معاملوں میں پولیس کی دلیل، ملزم کو ضمانت دینے سے غلط پیغام جائے گا

گزشتہ 29 مئی کو دہلی ہائی کورٹ نے فساد کے ایک ملزم کو ضمانت دیتے ہوئے پولیس کی اس دلیل کو خارج کر دیا تھا کہ ضمانت دینے سے سماج میں غلط پیغام جائےگا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ عدالت کا کام قانون کے مطابق انصاف کرناہے، نہ کہ سماج کو پیغام دینا۔

People gather outside Al-Hind hospital in New Delhi, February 27, 2020. Photo: Reuters/Anushree Fadnavis

دہلی تشدد: پولیس چارج شیٹ میں متاثرین کا علاج کر نے والے ہاسپٹل کے مالک کا نام شامل

دہلی پولیس نے تشدد کے دوران ویٹر دلبر نیگی کےقتل کے معاملے میں درج چارج شیٹ میں الہند ہاسپٹل کے مالک ڈاکٹر ایم اے انورکو ملزم بنایا ہے۔ اس ہاسپٹل میں متاثرین کا علاج بھی کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر انور اور ارشد پردھان کو فاروقیہ مسجد میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہوئے مظاہرے کا آرگنائزر بتایا گیا ہے۔

video

دہلی تشدد کی سازش اور پھر جانچ کی سازش

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران ہیڈ کانسٹبل رتن لال کےقتل معاملے میں پولیس نے کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔اس میں سماجی کارکن ہرش مندر کا بھی ذکر ہے۔کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف مظاہروں کے دوران ہرش نے اشتعال انگیز بیانات دیے تھے۔اس موضوع پر دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن اور ہرش مندر کے ساتھ پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔

فوٹو: رائٹرس

امریکی صحافی کو واپس بھیجنے سے متعلق  پرسار بھارتی کی خبر کو وزارت خارجہ  نے غلط بتایا

ملک کاعوامی نشریاتی ادارہ پرسار بھارتی نے ٹوئٹ کرکے کہا تھا کہ وزارت خارجہ نے امریکہ میں واقع ہندوستانی سفارت خانے سے ہندوستان مخالف رویے کو لے کر وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیائی ڈپٹی بیورو چیف ایرک بیل مین کو فوری اثر سے واپس بھیجنے کی ایک اپیل کو دیکھنے کے لیے کہا ہے۔ حالانکہ وزارت خارجہ کے ذرائع نے کہا کہ پرسار بھارتی نے غلط جانکاری دی۔

Harsh Mander. Photo: Flickr/IFPRI South Asia CC BY NC ND 2.0

مرکز کے ذریعے ہرش مندر کی تقریر کو ’بھڑکاؤ‘ کہنے کا دعویٰ غلط ہے

سماجی کارکن ہرش مندر کے ذریعے سپریم کورٹ میں بی جے پی رہنماؤں کی ہیٹ اسپیچ پر ایف آئی آر درج کروانے کے لئے عرضی لگائی گئی ہے۔ اس کے جواب میں سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے مندر کی ایک پرانی تقریر کے حصہ کاحوالہ دیتے ہوئے اس کو تشدد بھڑکانے والا کہا ہے۔

image

اگر کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر کے لیے جیل بھی جانا پڑا، تو میں جاؤں گا: ہرش مندر

ویڈیو: شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کےبعد ہیٹ اسپیچ دینے کے لیے بی جے پی رہنماؤں -کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما پر ایف آئی آر درج کرانے کے لیے سماجی کارکن ہرش مندر نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔اس بارے میں ان سے دی وائر کے بانی مدیر ایم کے وینو کی بات چیت۔

اولڈ مصطفیٰ آباد کے الہند اسپتال میں ایک مریض(فوٹو : رائٹرس)

دہلی تشدد کے دوران سرکاری طبی خدمات کا تھا برا حال، حکومت خاموش تماشائی بنی رہی: رپورٹ

جن سواستھ ابھیان نامی ادارے کی طرف سے جاری ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے مطابق دہلی تشدد کے دوران حکومت متاثرین کو مناسب علاج مہیا کرانے میں ناکام رہی اور کئی جگہوں پر مریضوں کو امتیازی سلوک اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔

XiMFUDhV

’جنگ میں بھی طبی سہولیات مہیا کرائی جاتی ہیں لیکن دہلی فسادات میں ایسا نہیں ہوا‘

ویڈیو: دہلی فسادات پر جن سواستھ ابھیان نامی تنظیم کی طرف سے ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں اس دوران مہیا طبی سہولیات پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ سماجی کارکن ہرش مندر بھی رپورٹ بنانے والی ٹیم کا حصہ تھے اور ان کا کہنا ہے کہ جس وقت دہلی فسادات میں جل رہی تھی، حکومتیں عوام کے بیچ نہ ہو کر سوشل میڈیا پر سرگرم تھیں۔ ان سے ریتو تومر کی بات چیت۔

سبھدرا مکھرجی، فوٹو: بہ شکریہ فیس بک

دہلی میں ہو ئے فسادات سے ناراض بنگالی اداکارہ نے بی جےپی سے دیا استعفیٰ

بنگلہ فلموں کی اداکارہ سبھدرا مکھرجی نے بی جےپی سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسی پارٹی میں نہیں ہونا چاہیے جو اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرنے میں امتیاز کرتی ہو۔ میں ایسی پارٹی سے دوری بنانا پسند کروں گی، جس میں انوراگ ٹھاکر اور کپل مشراجیسے لوگ ہوں۔

کرن تھاپر اور اجئے راج شرما، فوٹو: دی وائر

میں کمشنر ہوتا تو کپل مشرا اور انوراگ ٹھاکر کو گرفتار کر چکا ہوتا: دہلی کے سابق کمشنر

بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل اور دہلی کے کمشنر رہ چکے اجئے راج شرما نے سینئر صحافی کرن تھاپر سے بات کرتے ہوئے دہلی میں ہوئے حالیہ تشدد کے دوران پولیس کے رول پر سوال اٹھائے اور کہا کہ وہ فسادات کو سنبھالنے میں ناکام رہی۔

Don`t copy text!