Kargil

گزشتہ13 دسمبر کو ہوئے بند کے دوران ایک چوک پر سناٹا۔ (فوٹو اسپیشل: ارینجمنٹ)

لداخ کے لوگ مودی حکومت سے ناراض کیوں ہیں؟

اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے الگ کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ بنائے جانے کے بعد سے اس کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اوریہاں کے باشندوں کو زمین اور ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینے کا مطالبہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔عام طور پر لداخ کےمسلم اکثریتی کارگل اور بودھ اکثریتی لیہہ کے علاقے ایک دوسرے سے بنٹے رہتے ہیں، لیکن اس بار لوگوں نے متحد ہو کر خطے کی آئینی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

2308 Kargil .00_12_31_07.Still006

’70 سال بعد لداخ کے لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا گیا‘

ویڈیو: جموں وکشمیرکے خصوصی ریاست کا درجہ ختم کیے جانے کے بعد اس کو یونین ٹریٹری میں تقسیم کرنے کے حکومت کے فیصلے پر لداخ کے لیہ کے لوگ جہاں خوش ہیں وہیں کارگل میں لوگ اس کے خلاف ہیں ۔ حالاں کہ نوکری اور زمین کے تحفظ کو لے کر لیہ اور کارگل دونوں جگہوں کے لوگ فکر مند ہیں ۔

گورنر ستیہ پال ملک (فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: گورنر ستیہ پال ملک نے کہا؛ بے گناہوں کو نہیں، کشمیر کو لوٹنے والوں کو مارو

گورنر ستیہ پال ملک نے اتوار کو کہا کہ دہشت گرد سکیورٹی اہلکاروں سمیت بےگناہوں کا قتل کرنا بند کریں اور اس کے بجائے ان لوگوں کو نشانہ بنائیں جنہوں نے سالوں تک کشمیر کی دولت لوٹی۔ بیان کے طول پکڑنے پر انہوں نے وضاحت دی کہ انہوں نے جو بھی کہا، غصے میں کہا۔

فوٹو : پی ٹی آئی

لداخ کوالگ ڈویژن کا درجہ: کیا ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا بیج بویا جا رہا ہے؟

گورنر ستیہ پال ملک نے 8؍ فروری کو ایک اہم اور سیاسی طورپر حساس فیصلے میں لداخ خطے کو علاحدہ ڈویژن بنانے کاحکم جاری کیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ریاست کے دُور دراز کے خطوں کی ترقی کا بہانہ ایک طرف ، مرکز سوچے سمجھے منصوبےکے تحت ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

کارگل 
وار میموریل / فوٹو : پی ٹی آئی

کارگل کی جنگ کا مفصل اور معتبر دستاویز؛’اے سولجرس ڈائری: کارگِل د اِنسائیڈ اسٹوری‘

ڈائری کی طرز پر لکھی گئی یہ کتاب کارگل کی جنگ کا اولین سچا، مفصل اور معتبر دستاویز ہے۔ اس میں ان واقعات کی حقیقی تصویر ملتی ہے کہ کیسے ہماری افواج نے بہادری سے لڑتے ہوئے انہیں مار بھگایا۔

BSF stand guard at border

کرگل-سکردو کے بچھڑے لوگ : سرحدوں میں گم روشنی

 یہ درد وہی محسوس کر سکتا ہے جس کی ماں سکردو(بلتستان)میں گزر چکی ہو اور اس کی موت کی خبر کئی سالوں بعد  اس کے بیٹے کوکرگل میں مل جائے ، غرض یہ کی لائن آف کنڑول صرف  دو علاقوں کو تقسیم ہی نہیں کرتی بلکہ رشتوں  ،جذبات […]

Don`t copy text!