Karnataka

Rajiv-Kumar-PTI

راجیو کمار نے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ سنبھالا

راجیو کمار ستمبر 2020 سے الیکشن کمشنر کے طور پر الیکشن کمیشن سے وابستہ تھے۔ 12 مئی کو وزارت قانون نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے طور پر ان کے نام کا اعلان کیا تھا۔ وہ سشیل چندر کی جگہ سنبھالیں گے، جو 14 مئی کو ریٹائر ہوئےہیں۔

جہانگیر پوری میں ترنگا یاترا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نفرت کے خلاف عام شہریوں کا متحد ہونا مطمئن کرتا ہے کہ نفرت ہارے گی

ملک میں جہاں ایک طرف نفرت کے علمبردار فرقہ واریت کی خلیج کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ان کی بھڑکانے اور اکسانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود عام لوگ فرقہ وارانہ خطوط پر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نہیں ہو رہے بلکہ ان کے منصوبوں کو سمجھ کرزندگی کی نئی سطحوں کوتلاش کرنے کی سمت میں بڑھن رہے ہیں۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: حجاب معاملے کو عدالت تک لے جانے والی دو لڑکیاں امتحان دیے بغیر گھر لوٹ گئیں

دونوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انہیں حجاب پہن کر امتحان دینے کی اجازت دی جانی چاہیے، لیکن کالج انتظامیہ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں امتحان ہال میں داخل ہونے سے منع کردیا۔ اس کے بعد دونوں لڑکیاں گھر واپس آگئیں۔

بسواراج بومئی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

کرناٹک میں بدعنوانی کی وجہ سے مٹھ بھی گرانٹ کے لیے 30 فیصد کمیشن دیتے ہیں: لنگایت سنت

یہ الزام ایسے وقت میں سامنےآیا ہے جب 12 اپریل کو اُڈوپی کے ہوٹل میں ایک ٹھیکیدار نے وزیر اور بی جے پی لیڈر کے ایس ایشورپا پر بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اس کے بعد ایشورپا نے وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس الزام پر وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ ان کی حکومت سنت کے الزامات کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

دھارواڑ کے ایک مندر احاطہ میں سنیچر کومسلمان پھل فروش کے ساتھ توڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@harishupadhya)

کرناٹک: مسلم دکانداروں پر حملے کی حمایت میں بی جے پی ایم ایل اے نے کہا – یہ ہندو مندر ہے

کرناٹک کے دھارواڑ میں واقع ایک مندر میں شری رام سینا کے کارکنوں نے گزشتہ سنیچر کو مسلم پھل فروشوں کے ٹھیلوں میں توڑ پھوڑ کی اور ان کے پھلوں کو سڑک پر پھینک دیا۔ اس پر مقامی بی جے پی ایم ایل اے اروند بیلاڈ کا کہنا ہے کہ ہندو مندر میں مسلمانوں کا پہناوا دیکھ کر ہندو بھکت کیسا محسوس کرتے ہوں گے۔

(فوٹو : رائٹرس)

کرناٹک: حجاب اور حلال تنازعہ کے بیچ دائیں بازو گروپ نے کہا – مسلم ڈرائیوروں کا بائیکاٹ کریں

کرناٹک کے دائیں بازو گروپ بھارت رکشا ویدیکے نے بنگلورو سمیت ریاست کے کئی حصوں میں گھر گھر جا کر لوگوں سے کہا ہے کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات نہ لیں، بالخصوص ہندو مندروں یا تیرتھ یاترا کے دوران ایسا نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ریاست میں دائیں بازو گروپوں نےمسلمانوں اور ان کے روزگارکو شدید طور پر نشانہ بنایا ہے۔

 ہندو جن جاگرتی سمیتی کے کوآرڈینیٹرچندرو موگر(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

بنگلورو: مسلمان پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کے تین دن بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں

بنگلورو کی ہندو جن جاگرتی سمیتی کے کوآرڈینیٹر چندرو موگر نے تین دن پہلے ہندوؤں سے صرف ہندو دکانداروں سے پھل خریدنے کی اپیل کی تھی تاکہ پھلوں کی تجارت میں مسلمانوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جاسکے۔ اس کے بعد سے چار سماجی کارکن فرقہ وارانہ منافرت اور تشدد کو فروغ دینے کے الزام میں موگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

علامتی تصویر : فوٹو/ پی ٹی آئی

کرناٹک: حجاب اور حلال گوشت پر تنازعہ کے بعد مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ

کرناٹک میں حجاب اور ‘حلال گوشت’ مخالف مہم کے بعد بجرنگ دل اور شری رام سینا کی قیادت میں دائیں بازو کی تنظیموں نے اب مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شری رام سینا کے کنوینر پرمود متالک نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں نصب لاؤڈ اسپیکر پر پابندی لگائی جائے اور صوتی آلودگی کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جائے۔

کرن مجمدار شا۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

کرناٹک: وزیر اعلیٰ سے کرن مجمدار شا کی اپیل؛ مذہب کی بنیاد پر تفریق کے معاملے کو حل کریں

کرناٹک میں فرقہ وارانہ واقعات مثلاً؛ حجاب ، ہندو مذہبی مقامات پر مسلمانوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہ دینا یا حلال گوشت کے تنازعہ کے پیش نظر بایوکان کمپنی کی سربراہ کرن مجمدار شا نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر تفریق کے اس معاملے کو حل کریں۔ اس پر وزیر اعلیٰ بومئی نے کہا ہے کہ اس طرح کے ایشو پر عوامی فورم پر جانے سے پہلے سب کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

علامتی تصویر، فائل فوٹو: رائٹرس

کرناٹک حلال گوشت تنازعہ: حلال گوشت کے بائیکاٹ کی اپیل کے بیچ مسلم دکاندار پر حملہ

ہندو تنظیموں کا الزام ہےکہ اسلامی تنظیمیں ملک میں ایک متوازی مالیاتی نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔ وہیں اپوزیشن کا الزام ہے کہ بی جے پی یہ سارا کھیل اگلے سال ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات کے لیے کھیل رہی ہے۔

چیف منسٹر بسواراج بومئی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: وزیر اعلیٰ نے کہا – حکومت حلال گوشت کے خلاف لوگوں کے اعتراضات پر غور کرے گی

کرناٹک میں دائیں بازو کے کئی گروپوں نے حلال گوشت کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ ‘اوگادی’ کے بعد ریاست کی مختلف کمیونٹی نان ویجیٹیرین کھانے کا اہتمام کرتی ہیں۔ اوگادی کو ہندو نیا سال ماناجاتا ہے اور اس کے اگلے دن گوشت چڑھانے کی روایت ہے۔ لیکن، سوشل میڈیا پر کچھ دائیں بازو کی تنظیمیں حلال گوشت نہ خریدنے کی اپیل کر رہی ہیں۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے تو حلال گوشت کو ‘اقتصادی جہاد’ بھی قرار دیا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: پاکستان کے یوم جمہوریہ کی مبارکباد کے لیے وہاٹس ایپ اسٹیٹس لگانے پر خاتون گرفتار

معاملہ باگل کوٹ ضلع کا ہے۔ الزام ہے کہ ایک خاتون نے مبینہ طور پر 23 مارچ کو پاکستان کے یوم جمہوریہ کی مبارکباد دیتے ہوئے وہاٹس ایپ اسٹیٹس پوسٹ کیا تھا، جس کے بعد انہیں ایک شخص کی شکایت پر ‘دشمنی پھیلانے’ کے الزام میں گرفتار کیا گیاتھا۔ تاہم اب خاتون کو ضمانت مل گئی ہے۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: حجاب میں ملبوس طالبات کو دسویں بورڈ کے امتحانات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی

گزشتہ 15 مارچ کو کرناٹک ہائی کورٹ نے حجاب تنازعہ سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب پہننا اسلام میں ضروری مذہبی روایت کا حصہ نہیں ہے اور ریاست میں تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کو برقرار رکھا تھا۔ اس کے بعد کرناٹک حکومت نے واضح کیا تھا کہ سب کو ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا ہو گا، ورنہ امتحان دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ہرناز سندھو۔ (فوٹوبہ شکریہ: Facebook/@officialmissdiva)

حجاب کے معاملے پر مس یونیورس ہرناز سندھو نے کہا – لڑکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

مس یونیورس ہرناز سندھو نے ایک تقریب میں حجاب سمیت مختلف ایشوز پر لڑکیوں کو نشانہ بنانا بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو ان کی مرضی سے جینے دیجیے، انہیں ان کی منزل تک پہنچنے دیجیے، انہیں اڑنے دیجیے۔ ان کے پر مت کاٹیے۔

 (علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

مہاراشٹر: حجاب پہننے کو لے کر ہراسانی کا الزام لگاتے ہوئے کالج پرنسپل نے استعفیٰ دیا

پال گھر ضلع کے ایک لاء کالج کی پرنسپل نے حجاب پہننےکو لے کر کالج انتظامیہ کی جانب سے پریشان کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننا پہلے کبھی کوئی ایشو نہیں تھا، لیکن کرناٹک تنازعہ کے بعد ہی یہ ایشو بن گیا ہے۔ دوسری جانب کالج نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

(تصویر: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

آئینی اداروں سے مسلم مخالف تشدد روکنے کی اپیل، صحافیوں نے کہا – خاموشی کوئی آپشن نہیں

ملک کے 28 سینئر صحافیوں اور میڈیا پرسن نے صدر جمہوریہ، سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس کے ججوں، الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر قانونی اداروں سے ملک کی مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ہورہےحملوں کو روکنے کی اپیل کی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: Twitter/@masood_manna)

کرناٹک: حجاب تنازعہ کے بیچ امتحان نہ دے پانے والی طالبات کے لیےنہیں ہوگا دوبارہ امتحان

اس معاملے میں کرناٹک ہائی کورٹ کےحتمی فیصلے کے انتظار میں متعدد طالبات نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ نہ تو کلاس جائیں گی اور نہ ہی پریکٹیکل امتحانات دیں گی۔ اب اس معاملے پر وزیر تعلیم بی سی ناگیش کا کہنا ہے کہ وہ غیر حاضر طالبات کے لیے دوبارہ امتحان نہیں لیں گے، طالبات اگر چاہیں تو سپلیمنٹری امتحانات میں شامل ہو سکتی ہیں۔

امت شاہ کے ساتھ بی جے پی لیڈر یشپال سوورنا (دائیں)۔ (تصویر بہ شکریہ: ٹوئٹر/@YashpalBJP)

حجاب تنازعہ: بی جے پی لیڈر بولے – اس معاملے میں عدالت کا رخ کرنے والی لڑکیاں دہشت گرد تنظیم کی ممبر ہیں

بی جے پی او بی سی مورچہ کے قومی جنرل سکریٹری اور اُڈپی گورنمنٹ پی یو کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے نائب صدر یشپال سورنا نے کہا کہ لڑکیوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ طالبعلم نہیں بلکہ دہشت گرد تنظیم کی ممبر ہیں۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف بیان دے کر وہ ججوں کی توہین کر رہی ہیں۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک: حجاب پر پابندی برقرار، ہائی کورٹ نے کہا- حجاب اسلام کا حصہ نہیں

کرناٹک ہائی کورٹ کی تین ججوں کی بنچ نے اُڈپی کے ‘گورنمنٹ پری یونیورسٹی گرلز کالج’ کی مسلم طالبات کی ان عرضیوں کو خارج کر دیا ہے جن میں حجاب پہننے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ یونیفارم کا اصول ایک معقول پابندی ہے اور آئینی طور پر قابل قبول ہے۔ جس پر لڑکیاں اعتراض نہیں کر سکتیں۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

آئین اور مذہبی آزادی کی آڑ میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے: آر ایس ایس

احمد آباد میں منعقدہ آر ایس ایس کی میٹنگ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں تفرقہ انگیز عناصر کے بڑھنے کا چیلنج بھی خطرناک ہے۔ ہندو سماج میں ہی طرح طرح سے تفرقہ انگیز رجحانات کو ابھار کر سماج کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ہبہ شیخ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

منگلورو: حجاب کے سلسلے میں کالج گیٹ پر تنازعہ کے بعد مسلم لڑکی کے خلاف ایف آئی آر درج

یہ معاملہ منگلورو کےدیانند پائی ستیش پائی گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج کاہے۔حجاب کے سلسلے میں گزشتہ 3 مارچ کو ہبہ شیخ اور ان کی ساتھی طالبات سے کالج گیٹ پر اے بی وی پی سے وابستہ لڑکوں کا جھگڑا ہوا تھا۔ ہبہ نے اس سلسلے میں 19 طالبعلموں کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔ اپنے خلاف ایف آئی آر پر ان کا کہنا ہے کہ انہیں پھنسایا گیا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

حجاب تنازعہ: ساؤتھ دہلی میونسپل کارپوریشن نے اسکولوں میں مذہبی لباس میں اسکول آنے پر پابندی لگائی

ساؤتھ دہلی میونسپل کارپوریشن کی تعلیمی کمیٹی نے اپنے محکمہ تعلیم کے افسروں سے کہا ہےکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایس ڈی ایم سی کےپرائمری اسکولوں کے بچے ‘مذہبی لباس’ پہن کر اسکول نہ آئیں اور انہیں طے شدہ ڈریس کوڈ میں ہی اسکول کے اندرآنے کی اجازت دی جائے۔

16 فروری کو اڈوپی کےپی یو کالج کی طالبہ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک: حجاب تنازعہ کے بیچ بنگلورو کے کالج نے سکھ لڑکی سے پگڑی ہٹانے کو کہا

کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو کے ماؤنٹ کارمل پری یونیورسٹی کالج کا معاملہ۔ 16 فروری کو کالج انتظامیہ نے امرت دھاری سکھ طالبہ اور اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کی صدر سے پگڑی ہٹانے کو کہا تھا، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی پگڑی نہیں ہٹائے گی اور وہ قانونی رائے لے رہے ہیں۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

ہندو اور حجاب

ہندوؤں کے دلوں میں دریائےسخاوت ٹھاٹھیں مار رہا ہے، اور ان کی ترقی پسندی بھی عروج پر ہے۔وہ عورتوں کو ہر پردے اور ہر بندھن سے آزاد دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ شدت پسندی کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ سب کچھ مسلمان عورتوں کے لیے کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ہندو خواتین کو کبھی کسی شدت پسندی یا کسی مذہبی پابندی کا شکار نہیں ہونا پڑتا !

کرناٹک کےشیوموگا میں بجرنگ دل کے کارکن کےقتل کے بعد تشدد اور آتش زنی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

 کرناٹک: شیو موگا میں بجرنگ دل کارکن کے قتل کے بعد تشدد، تین گرفتار

شیوموگا میں 28 سالہ بجرنگ دل کارکن کی ہلاکت کے بعد آخری رسومات کے دوران تشدد بھڑک اٹھا اور پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے، جس میں ایک فوٹو جرنلسٹ اور ایک خاتون پولیس اہلکار سمیت تین افراد زخمی ہوگئے۔ ریاستی بی جے پی لیڈروں نے اس معاملے کی این آئی اے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

حجاب تنازعہ کے بیچ کرناٹک حکومت کرا رہی ہے مسلم طالبات کی گنتی: رپورٹ

کرناٹک کے پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے وزیر بی سی ناگیش نے بتایاکہ روزانہ میڈیا میں آرہی خبروں میں حجاب پر پابندی کی وجہ سے گھر واپس بھیجی گئی طالبات کی تعداد الگ الگ بتائی جا رہی ہے۔ ہمارا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کیا وہ واقعی اس مسئلے سے متاثر ہوئی ہیں یا اپنی پڑھائی پر توجہ دے رہی ہیں۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

کرناٹک حجاب تنازعہ: ’یہ ہماری لڑائی ہے اور ہم اپنی لڑائی ہم خود لڑ لیں گے‘

کرناٹک کے مختلف اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر پابندی عائد کیے جانےکے سلسلے میں جاری تنازعہ اور عدالتی بحث کے بیچ مسلم طالبات کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں سیاسی دباؤ کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔

تاج محل (فوٹو: رائٹرس)

ہنومان چالیسا پڑھنے کے لیے تاج محل میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے وی ایچ پی کارکنوں کو پولیس نے روکا

کرناٹک میں حجاب پہننے کے سلسلے میں جاری تنازعہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے منگل کو آگرہ میں وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے بھگوا پہن کر ہنومان چالیسا پڑھنے کے ارادے سے تاج محل کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ انتخابی ضابطہ اخلاق اور دفعہ 144 نافذ ہونے کی وجہ سے پولیس نے انہیں بیچ راستے میں ہی روک دیا۔ بعد ازاں احتجاج کے طور پر کارکنوں نے ہری پروت پولیس اسٹیشن میں ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا۔

حجاب پہننے کی حمایت میں احتجاجی مظاہرہ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک بی جے پی نے حجاب کے سلسلے میں عدالت کا رخ  کرنے والی لڑکیوں کی ذاتی تفصیلات ٹوئٹر پر شیئر کی

بی جے پی کی کرناٹک یونٹ نے انگریزی اور کنڑ زبانوں میں ایک ٹوئٹ کرکے حجاب کےسلسلے میں عدالت جانے والی طالبات کی ذاتی تفصیلات شیئر کر دی تھیں، جس میں ان کے نام، پتے اور ان کےاہل خانہ کے نام کے ساتھ ذاتی تفصیلات شامل تھیں۔ تاہم اس تنازعہ کے بعد انہیں ٹوئٹر سے ہٹا دیا گیا۔

(السٹریشن: دی وائر)

حجاب تنازعہ: مذہبی آزادی پر امریکی سفیر کا اظہار تشویش، ہندوستان نے کہا؛ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے

کرناٹک میں گزشتہ کئی دنوں سے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے کو لے کر تنازعہ جاری ہے، جس پر ہائی کورٹ میں شنوائی بھی چل رہی ہے۔اس سلسلے میں امریکی حکومت میں بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امور کےسفیر کے اس تبصرے پرہندوستان نے کہا کہ ملک کے اندرونی معاملات پر کسی اور مقصد سے کیے گئے تبصرے قابل قبول نہیں۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

’حجاب مسلم لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا نیا بہانہ ہے‘

ایک ہزار سے زائد حقوق نسواں کے علمبرداروں ، جمہوریت پسند گروپوں، ماہرین تعلیم، وکلاء اور سماج کےمختلف شعبوں سےتعلق رکھنے والے افراد نے کیمپس میں حجاب پہننےوالی طالبات کو نشانہ بنانے کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسلم لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا تازہ ترین بہانہ قرار دیا۔

کرناٹک کے مانڈیا کے ایک کالج میں جئے شری رام کا نعرہ لگانے والی بھیڑکو جواب دیتی مسکان خان ۔ (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

کرناٹک کے ایک کالج میں بھگوا غنڈوں نے حجاب پہن کر آئی لڑکی کو کیوں گھیرا؟

ویڈیو: کرناٹک کے کئی کالجوں میں حجاب کو لے کر پچھلے ایک مہینے سے تنازعہ جاری ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب اڈوپی ضلع کے ایک سرکاری کالج کی چھ طالبات کو حجاب پہننے کی وجہ سے کالج میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ دی وائر کی عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

حجاب کے نام پر ملک کی بیٹیوں کو تعلیم کے حق سے محروم کرنا غیر آئینی ہے

کسی بھی انتظامیہ کو اپنے ادارے کےاصول و ضوابط طے کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن کوئی بھی پالیسی اور ضابطہ آئین کے دائرے میں ہی مرتب ہو سکتا ہے اور مذہبی آزادی اور تعلیم کے آئینی حق کی راہ میں نہیں آ سکتا۔

اڈوپی کے ویمنس کالج کی چھ مسلم طالبات حجاب نہ پہننے دینے کی مخالفت میں کلاس روم کے باہر کھڑی ہیں۔ (تصویر کبہ شکریہ: ٹوئٹر /@masood_manna)

کرناٹک: حجاب پہن کر آنے والی لڑکیوں کو الگ کمرے میں بٹھایا گیا

کرناٹک کے اڈوپی ضلع کے کنڈہ پور میں واقع ایک سرکاری پی یو کالج کے پرنسپل نے مسلم طالبات سے بات چیت کی اور انہیں یونیفارم میں آنے کے حکومتی احکام کے بارے میں بتایا۔حالاں کہ جب طالبات نے حجاب پہننے پر اصرار کیا تو انہیں الگ کمرے میں جانے کوکہا گیا۔

متنازعہ کمرے کے قریب پولیس اہلکار۔ (تمام تصویریں: رابعہ شیریں)

کرناٹک: ہندوتوا تنظیم جن جاگرتی سمیتی  نے اسٹیشن پر بنے نماز ہال کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا

بنگلورو واقع کے ایس آر ریلوے اسٹیشن پر قلیوں کےریسٹ روم میں طویل عرصے سےمسلمان کارکن نماز پڑھ رہے تھے۔ اب ہندو جن جاگرتی سمیتی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو ‘سازش کا حصہ’ قرار دیا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی)

کرناٹک: اسکول میں نماز ادا کرنے پر ہنگامہ

کرناٹک کے کولار ضلع کے ملبگل سومیشور پالیا بالے چنگپا گورنمنٹ کنڑ ماڈل ہائر پرائمری اسکول کا معاملہ۔ 22 جنوری کو ہندو تنظیموں اور گارجین کے ایک طبقے کے ہنگامہ کے بعد اس میں شامل سابق طالبعلموں میں سے ایک نے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی، کولار کے ایم پی اور محکمہ تعلیم سے مداخلت کی مانگ کی ہے۔

Don`t copy text!