Kashmir

فاروق عبداللہ اور کرن تھاپر (فوٹو: دیوی دت)

کشمیری آج خود کو ہندوستانی نہیں مانتے، وہ چین کے زیر اقتدار رہنے کو تیار ہیں: فاروق عبداللہ

نیشنل کانفرنس کےصدراور جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ وہ آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کودوبارہ نافذ کروانے اور جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ دلوانے کے لیےپرعزم ہیں اور اس کے لیے آخری سانس تک پرامن ڈھنگ سے لڑیں گے۔

عرفان کی موت کے بعدمظاہرہ کرتےلوگ۔ (فوٹو: پیرزاد وسیم)

کشمیر: حراست میں لیے جانے کے بعد نوجوان کی موت، گھر والوں نے پولیس پر لگایا قتل کا الزام

جموں وکشمیر پولیس نے دہشت گردوں کو پناہ دینے کےالزام میں23سالہ عرفان احمد ڈار نام کے ایک نوجوان کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ عرفان حراست سے بھاگ گئے تھے اور بعد میں ان کی لاش ملی تھی، لیکن اس نے موت کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔

علامتی تصویر / ٖفوٹو : رائٹرز

’کشمیریوں کو جان لینا چاہیے کہ اب وہ ہمارے غلام ہیں‘

رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال کے دوران 12سے 15ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔مصنفین کے مطابق ایک شخص کو گرفتار کرکے آگرہ جیل میں بس اس وجہ سے پہنچایا گیا کہ کسی فوٹو میں اس کو کسی کی نماز جنازہ ادا کرتے ہو ئے دیکھا گیا تھا۔

آغا اشرف علی، فوٹو بہ شکریہ:Rafiq Kathwari

استادوں کے استاد آغا اشرف علی، جنہوں نے کشمیری مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا

جنوبی ایشیاکے جید ماہرین تعلیم سروپلی رادھا کرشنن، ذاکر حسین، خواجہ غلام السیدین یا پاکستان کے عطا الرحمان جیسی شخصیات کی صف میں آغا صاحب کو ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کشمیر ی مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کروانے اور خطے کی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

فوٹو: رائٹرس

کیا ہندو اکثریتی ہندوستان میں کشمیر کی مسلم شناخت قائم رہے گی؟

گر چہ لگتا تھا کہ آبادی کے تناسب کو بگاڑنے میں کئی سال لگ جائیں گے اور امید تھی کی اس دوران تاریخ کا پہیہ پلٹ کر شاید کشمیری عوام کی مدد کو آئےگا، مگر باہری افراد کی اتنی بڑی تعداد کو اگر یک مشت شہریت دی جاتی ہے تو آباد ی کا تناسب راتوں رات بگڑنے کا اندیشہ ہے۔

جموں و کشمیر(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے ایک سال مکمل ہو نے سے پہلے پوری گھاٹی میں کرفیو

جموں و کشمیرانتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ پرتشددمظاہروں کےخدشات کے مدنظرسرینگر اور گھاٹی کے دوسرے حصوں میں کرفیو لگایا گیا ہے، کیونکہ علیحدگی پسنداور پاکستان اسپانسرڈتنظیمیں پانچ اگست کو یوم سیاہ منانے کامنصوبہ بنا رہے ہیں۔

ارندھتی رائے(فوٹو: پی ٹی آئی)

کیرل: بی جے پی رہنما نے کالی کٹ یونیورسٹی کے نصاب سے ارندھتی رائے کی تقریر ہٹانے کا مطالبہ کیا

کیرل کےگورنرعارف محمد خان کو لکھے گئے خط میں ریاستی بی جے پی صدرکے سریندرن نے کہا کہ ارندھتی رائے کی‘ملک مخالف’تقریرمیں ملک کی سالمیت اورخودمختاریت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔

فوٹو: بہ شکریہ ٹوئٹر@MirwaizKashmir

تیرہ جولائی: پیرس کے باسطل سے سرینگر کی سینٹرل جیل تک

بندوقوں کے دہانے ان لوگوں کی طرف کردیے گئےجو باغ میں نماز ادا کرنے کےلیے صف بستہ تھے۔ ایک شخص دیوار کی بلندی سے اذان دے رہا تھا کہ پولیس کی گولی سے ڈھیر ہوگیا۔ جو ش وجنوں کا یہ عالم تھا کہ اس کی جگہ دوسرے نے اذان وہاں سے جاری رکھی، جہاں سے پہلا شخص گولی لگنے سے شہید ہو گیا تھا۔ اس کو بھی گولی سے بھون دیا گیا۔ اس طرح 22افراد جام شہادت نوش کر گئے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی، فائل فوٹو: پی ٹی آئی

کشمیری عوام کے حقوق کی بحالی اور افغانستان میں ایک حقیقی عوامی نمائندہ حکومت ہی خطے کی سلامتی کی ضامن ہے

ہندوستان افغانستان کے معاملات کو کشمیر کے ساتھ منسلک کرتا آیا ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو بھی باور کرانے کی ضرورت ہے کہ اس خطے میں امن و سلامتی تبھی ممکن ہے جب کشمیر میں بھی سیاسی عمل کا آغاز کرکے اس مسئلہ کا بھی کوئی حتمی حل تلاش کرایا جائے۔

فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر کو سینٹرل جیل میں کیوں نہیں بدل دیتی مرکزی حکومت: یوسف تاریگامی

جموں وکشمیر کے سابق ایم ایل اے اور سینئرسی پی ایم رہنما یوسف تاریگامی نے ریاست کے بڑے رہنماؤں کی حراست کو لےکر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر جموں وکشمیر میں حالات معمول پر ہیں تو حکومت وہاں الیکشن کیوں نہیں کراتی۔

2901 Anmol Interview Master.00_23_28_21.Still002

’کشمیری پنڈتوں کا کیا…صحیح سوال پوچھیں، کھلواڑ نہ کریں…‘

ویڈیو: کشمیری پنڈتوں کا کیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو کئی سالوں سے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ اس سوال نے صرف کشمیری پنڈتوں کے زخم ہرے کیے اور مسلمانوں کی خراب امیج کو پیش کیا ۔ اس مدعے پر ٹیچر انمول ٹکو سے سرشٹی شریواستو کی بات چیت۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

17 غیر ملکی سیاسی رہنما کو آج جموں و کشمیر کا دورہ کرائے‌ گی حکومت، یورپی یونین شامل نہیں

اپنی مرضی سے خود کے چنے ہوئے لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھنے کی وجہ سے یورپی یونین کے سیاسی رہنما نے جموں و کشمیر کا یہ دورہ ٹال دیا۔ وہ ریاست کے تین سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جو 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے ہی حراست میں ہیں۔

14 اگست، 2019 کو سرینگر میں ہوئے ایک مظاہرہ کے بعد(فوٹو : رائٹرس)

جموں و کشمیر میں 2017 اور 2018 کے مقابلے 2019 میں پتھربازی کے واقعات میں اضافہ، 1996 معاملے درج: آر ٹی آئی

جموں و کشمیر میں 2018 میں پتھر پھینکنے کے 1458 اور 2017 میں 1412 واقعات درج کئے گئے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کو خصوصی ریاست کا درجہ ہٹانے کے بعد سے یہاں 1193 واقعات درج کئے گئے ہیں۔ اگست 2019 میں ریاست میں پتھربازی کے کل 658 واقعات سامنے آئے، جبکہ اس سے پہلے جولائی میں صرف 26 واقعات ہوئے تھے۔

Photo: Muzamil Bhat/People’s Archive of Rural India

جموں و کشمیر: ریاست کا درجہ بدلنے سے سیاحت پر اثر کو لے کر مرکزی وزیر نے جھوٹ بولا

گزشتہ نومبر میں مرکزی وزیر پرہلاد پٹیل نے راجیہ سبھا میں بتایا تھا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم ہونے اور مختلف پابندیوں کے بعد ریاست میں سیاحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ آر ٹی آئی کے تحت محکمہ سیاحت کے ذریعے دی گئی جانکاری ان کے دعویٰ کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

واجپائی :معتدل یا موقع پرست سیاستداں؟

اٹل بہاری واجپائی کے تئیں بہتر خراج عقیدت یہی ہوسکتا ہے کہ ہزاروں بے گناہ اور معصوم افرادکو مزیدآگ کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے سرحد کے دونوں طرف کے عوام کے لئے امن کی راہیں ہموار کی جائیں اور دیرینہ تنازعات کے لئے کوششوں کو تیز کیا جائے۔

Agganistan_Reuters

افغانستان میں امن کی کوششوں سے مسئلہ کشمیرکا کیا رشتہ ہے؟

مسئلہ کشمیر اور اس کے انسانی عوامل کو نظر انداز کرنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ جتنی جلدی یہ عالمی برادی کی سمجھ میں آجائے، بہتر ہے۔ مانا کہ ہندوستان ایک بڑی تجارتی منڈی ہے، مگر تجارت کے لیے بھی تو امن لازمی ہے۔

فوٹو : رائٹرس

کشمیر: لوگ مقامی اخبارات سے ناراض کیوں ہیں؟

فون او رانٹرنیٹ خدمات کے متاثر ہونے کے بعد سے اب تک صحافیوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ایک فوٹو جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ ، میں نے کبھی اپنے کیمرے کو بند نہیں کیا ہے لیکن گزشتہ 17 ہفتوں کے دوران جہاں بھی گیا مجھے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔وہیں ایک دوسری صحافی کا کہنا ہے کہ ، میں نے کشمیر کی صحیح تصویر کو پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب میری اسٹوری چھپتی تھی تو اس میں میرا لکھا ہوا 40 فیصد ہی ہوتا تھا اور باقی وہ خود ہی شامل کرتے تھے۔

سندیپ چکرورتی (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

ہندوستانی سفیر کے اسرائیل کی طرح کشمیری پنڈتوں کو وادی میں بسانے والے بیان پر تنازعہ

امریکہ میں ہندوستانی سفیر سندیپ چکرورتی نے ایک پروگرام کے دوران کہا تھا کہ کشمیری پنڈت جلدہی وادی لوٹ سکتے ہیں، کیونکہ اگر اسرائیلی لوگ یہ کر سکتے ہیں تو ہم بھی یہ کر سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر میں پابندیوں کے خلاف عرضی پر شنوائی پوری، فیصلہ محفوظ

جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ہٹانے کے ساتھ ہی وہاں ذرائع ابلاغ پر لگی پابندیوں کو چیلنج دیتےہوئے کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد، کشمیر ٹائمس کی مدیر انورادھا بھسین اور دیگرلوگوں نے عرضیاں دائر کی تھیں۔

(علامتی تصویر : پی ٹی آئی)

دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس سوشل میڈیا پوسٹ کی نگرانی کر رہی ہے

جموں و کشمیر پولیس کے ذریعے انجانے میں صحافیوں کو بھیجے گئے ای میل میں ’ ڈی این اے فائل ‘نام سے ایک فائل تھی، جس میں ایسے سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹ تھے، جو کہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بارے میں لکھے گئے تھے۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ نے لگائی پھٹکار، کہا-انتظامیہ کشمیر میں عائد پابندیوں سے متعلق ایک ایک سوال کا جواب دے

کشمیر میں لگی پابندی پر عرضی داخل کرنے والوں کی جانب سے پیش ایک وکیل نے جب کہا کہ ہردن ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے باوجود ہانگ کانگ ہائی کورٹ نے مظاہرین پر سے سرکاری پابندی ہٹا لینے کی مثال دی ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو بنائے رکھنے میں ہندوستان کا سپریم کورٹ کہیں زیادہ بہترہے۔

فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر میں حالات معمول پر ہو نے کے امت شاہ کے دعوے کو نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے مکر و فریب بتایا

پارلیامنٹ سیشن میں فاروق عبداللہ کو حصہ لینے کی اجازت دینے کے اپوزیشن کے مطالبہ پر مرکزی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے ایمرجنسی کے دوران 30 رکن پارلیامان کو حراست میں رکھا تھا۔ اس پر نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ریڈی کا تبصرہ اس بات کی دلیل ہےکہ جموں و کشمیر ایمرجنسی کے برے دور سے گزر رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر میں 4 اگست سے اب تک 5000 لوگ گرفتار: امت شاہ

وزارت داخلہ نے لوک سبھا میں کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد پتھربازی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ حالانکہ، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری سے 4 اگست تک اوسطاً ہر مہینے پتھربازی کے 50 واقعات ہوئے۔وہیں 5 اگست کے بعد ایسے معاملے اوسطاً ہر مہینے بڑھ‌کر 55 ہو گئے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (فوٹو بہ شکریہ : انفارمیشن منسٹری پاکستان)

کیا کشمیریوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر پاکستان سفارتی محاذ پر اپنی کوشش جاری رکھ سکتا ہے؟

آخر کون امن نہیں چاہتا؟ اس کی سب سے زیادہ ضرورت تو کشمیریوں کو ہی ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی صاحب سے بس یہی گزارش ہے کہ امن، قدر و منزلت، انصاف و وقار کا دوسرا نام ہے، ورنہ امن تو قبرستان میں بھی ہوتا ہے۔ جن تجاویز پر آپ امن کے خواہاں ہیں، وہ صرف قبرستان والا امن ہی فراہم کر سکتے ہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

سابق وزرائے اعلیٰ  کے نظربند رہنے سے اگر گھاٹی میں امن  ہے، تو بہتر ہے وہ ایسے ہی رہیں:وزیر

مرکزی وزیر نے کہا، ‘ہمارے پاس ایک نیا نظام ہے اوریہ نظام سیدھے مرکز کو رپورٹ کرتا ہے اور ہم اسے اس حلقے کے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے اور کامیاب بنانے کے لئے اس کا سہرا دیتے ہیں۔’

جموں و کشمیر(فوٹو: پی ٹی آئی)

سو دنوں میں مزید نوکری -مزید فیکٹری کے وعدوں کے برعکس، کشمیریوں کو ملی مزید پابندیاں-مزید افواج

رام چندر گہا کا کالم: مکیش امبانی کشمیر میں سرمایہ کاری سے متعلق بالکل خاموش ہیں؛ جبکہ سرکار نے سرمایہ کاری میلے کو غیر معینہ مدت کے لیے آگے بڑھا دیا ہے۔ وعدے تو مزید نوکری، مزید فیکٹریز کے کیے گئے تھے، مگر 5اگست کے بعد سے کشمیریوں نے پایا کیا ہے؛ مزید افواج، مزید پابندیاں۔ اس نے ان میں گہرا غصہ پیدا کر دیا ہے۔

سرینگر کی ڈل جھیل میں شکارے میں یورپی یونین کے رکن پارلیامان کا وفد(فوٹو: پی ٹی آئی)

یورپی رکن پارلیامان کے کشمیر دورے کو فنڈ کر نے والے گروپ پر کیوں اٹھ رہے ہیں سوال؟

کشمیر میں یورپی رکن پارلیامان کے دورے کو مبینہ طور پر فنڈ دینےوالا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار نان-الائنڈ اسٹڈیز، شریواستو گروپ کا حصہ ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر اس کے کئی کاروبار ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ دستاویز ایساکوئی بزنس نہیں دکھاتے، جس سے وہ یورپی رکن پارلیامان کو ہندوستان بلانے اور وزیراعظم سے ملاقات کروانے میں اہل ہوں۔

Don`t copy text!