Kashmir

فوٹو: رائٹرس

کشمیر کے محکمہ آپباشی نے بجائی خطرے کی گھنٹی

پچھلے کئی سالوں سے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے لیے پانی ایک اہم ایشو کی صورت اختیار کر گیا ہے، مگر جھیل ولر کی صحت کے حوالے سے کبھی بھی دونوں ممالک نے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی ہے۔ ہندوستان کے لیے شاید اس کی اتنی اقتصادی اہمیت نہیں ہے، مگر پاکستانی زراعت اور پن بجلی کے لیے اس کی حیثیت شہ رگ سے بھی زیادہ ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

’نیو انڈیا‘ میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کا کوئی وارث ہی نہیں بچا ہے

سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے پندرہ سال بعد کے ‘نیو انڈیا’ میں اقلیتی برادریوں بالخصوص مسلمانوں کے مسائل یا حقوق کے بارے میں بات کرنے کو اکثریت کے مفادات پر ‘حملہ’ سمجھا جاتا ہے۔ خود مسلمانوں کے لیے اب سب سے بڑا مسئلہ ان کی جان و مال کی حفاظت کا بن چکا ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/د ی وائر)

یوپی: پاکستان کی جیت کا جشن منانے کے ملزم کشمیری طالبعلم ضمانت کے بعد بھی جیل میں ہیں

الزام ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کرکٹ میچ میں پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست کے بعد آگرہ میں زیر تعلیم تین کشمیری طالبعلموں نے پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی کی تھی۔ ان کے خلاف سیڈیشن، سائبر دہشت گردی اور سماجی منافرت […]

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

یوپی: پاکستان کی جیت کا جشن منانے کے ملزم  کشمیری طالبعلموں کو پانچ مہینے بعد ضمانت

گزشتہ سال اکتوبر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کرکٹ میچ میں ہندوستان کو پاکستان کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ الزام ہے کہ آگرہ کے ایک انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم تین کشمیری طالبعلموں نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے تھے۔ ان کے خلاف سیڈیشن، سائبر دہشت گردی اور سماجی منافرت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

کرن تھاپر اور ارندھتی رائے

ہندو راشٹر واد ہندوستان کو توڑ سکتا ہے، لیکن ملک ایک دن اس کے خلاف احتجاج کرے گا: ارندھتی رائے

دی وائر کے لیے کرن تھاپرکو دیےاپنے انٹرویومیں ارندھتی رائے نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے، لیکن مجھے ہندوستان کے لوگوں پر بھروسہ ہے اور امید ہے کہ ملک ایک دن اس اندھیرے غار سے باہر نکلےگا۔

نوم چومسکی (فائل فوٹو بہ شکریہ: Wikimedia Commons)

اسلامو فوبیا نے ہندوستان میں اپنی سب سے مہلک شکل اختیار کرلی ہے: نوم چومسکی

امریکی تارکین وطن کی تنظیموں کی جانب سے ‘ہندوستان میں فرقہ واریت’ کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب میں بھیجے گئے مختصر سے پیغام میں ممتاز دانشور اور ماہر لسانیات نوم چومسکی نے کہا کہ مغرب میں بڑھ رہےاسلامو فوبیانے ہندوستان میں مہلک شکل اختیار کرلی ہے، جہاں مودی حکومت منظم طریقے سے سیکولر جمہوریت کو ختم کر رہی ہے اور ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کر رہی ہے۔

کشمیر پریس کلب، فوٹو بہ شکریہ: مہران بھٹ

کیا کشمیر پریس کلب پر حملہ صحافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہے

پچھلے کئی برسوں سے نہ صرف کشمیر بلکہ ملک کے دیگر خطوں میں پریس اور شہری حقوق کے ادارےمسلسل نگرانی میں ہیں۔ کشمیر کے صحافیوں پر تو کچھ زیادہ ہی مہربانی ہے۔ ان کے گھروں پر چھاپے، پولیس کی طرف سے طلبی اور پوچھ گچھ، صحافیوں کے فون اور لیپ ٹاپ کو ضبط کرنا ان دنوں معمول بن گیا ہے۔

کشمیر پریس کلب، فوٹو بہ شکریہ: مہران بھٹ

کشمیر: کیا پریس کلب پر حملہ صحافت پر قدغن لگانے کا ایک ماڈل ہے…

کشمیر میں حالیہ واقعات اور اس سے قبل بھی یہ بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ وہاں کام کرنے والے صحافیوں کو تلوار کی دھار پر چلنا پڑتا ہے۔ مگر 2018کے بعد کشمیر پریس کلب کی صورت میں خطے کے صحافیوں کو ایک آواز ملی تھی۔ یہ شاید واحد صدا تھی، جو صحافیوں کے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کر رہی تھی۔

صحافی سجاد گل (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

کشمیری صحافی پر پی ایس اے لگاتے ہوئے پولیس نے کہا، حکومت کے حق میں کم رپورٹ کرتے تھے

صحافی سجاد گل کو انکاؤنٹر میں مارے گئے لشکر طیبہ کے ایک دہشت گرد کےاہل خانہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت لگائے گئے الزامات میں کہا گیا ہے کہ سجاد ہمیشہ ملک مخالف ٹوئٹس کی تلاش میں رہتے ہیں اور وہ یونین ٹریٹری جموں و کشمیر کی پالیسیوں کے تئیں منفی ر ہے ہیں ۔ وہ لوگوں کو حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لیے حقائق کی جانچ کیے بغیر ٹوئٹ کرتے ہیں۔

وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ملک کے خلاف سازش کرنے والے کسی بھی یوٹیوب چینل اور ویب سائٹ کو بلاک کیا جائے گا: وزیر اطلاعات و نشریات

‘ہندوستان مخالف پروپیگنڈہ’ اورفرضی خبریں پھیلانے کے الزام میں 20 یوٹیوب چینل اور دو ویب سائٹ کو بلاک کیے جانے کے کچھ دن بعد وزیر اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ حکومت ملک کے خلاف ‘سازش کرنے والوں’ پر اس طرح کی کارروائی جاری رکھے گی۔

صحافی سجاد گل (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

کشمیر: ضمانت کے فوراً بعد صحافی کے خلاف پی ایس اے کا معاملہ درج، اہل خانہ نے کہا-امیدیں ٹوٹ گئیں

پانچ جنوری کی رات ویب پورٹل ‘دی کشمیر والا’سے وابستہ ٹرینی صحافی اورطالبعلم سجاد گل کو مجرمانہ طور پر سازش کرنے کے الزام میں ضلع باندی پورہ میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد پولیس نےانہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت معاملہ درج کرکے جیل بھیج دیا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

کشمیر: کیا انکوائری کمیشنوں اور کمیٹیوں نے اب تک انصاف کا گلہ گھونٹا ہے

سال 2018میں اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے پایا کہ 1990سے کشمیر میں 506مجسٹریل انکوائریا ں تشکیل دی گئی تھیں، ان میں 108انکوائیریوں میں خاطیوں کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔ مگر کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکی۔ایک جائزے کے مطابق 2011میں گیارہ، 2012میں آٹھ، 2013میں سات، 2014میں سات، 2015میں دس، 2016میں آٹھ، 2017میں سات اور 2018میں انکوائریوں کا حکم دیا گیا تھا۔ مگر ان سبھی انکوائریوں کا حال ابھی تک پس پردہ ہے۔

2112 Sumedha.00_15_16_20.Still002

اترپردیش: ٹی-20 میں پاکستان کی جیت کے بعد جیل میں بند کشمیری طلبا، اہل خانہ کر رہے ہیں انصاف کا مطالبہ

ویڈیو: اتر پردیش کی آگرہ یونیورسٹی سے منسلک ایک پرائیویٹ کالج کے تین کشمیری طالبعلموں کو 24 اکتوبر کو ٹی-20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست کے بعد جیت کا جشن منانے کےالزام میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ ان کے اہل خانہ اب تک انصاف کی اپیل کر رہے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ انہیں آخر کب رہا کیا جائے گا۔

شاہ گنڈ میں شوکت احمد گنائی کا خاندان۔ (تصویر: جہانگیر علی/ دی وائر)

ٹی-20 میں پاکستان کی جیت: جیل گئے کشمیری طالبعلموں کے گھر والے دہشت میں، نہیں ہو رہی ضمانت پر شنوائی

اتر پردیش کی آگرہ یونیورسٹی سے منسلک ایک پرائیویٹ کالج کےتین طالبعلموں کو 24 اکتوبر کو پاکستان کےٹی -20کرکٹ ورلڈ کپ میں ہندوستان کو شکست دینے کے چار دن بعد جیل بھیج دیا گیا تھا ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت نہ ہونے سے ان کے گھر والے مایوس ہیں۔

گزشتہ13 دسمبر کو ہوئے بند کے دوران ایک چوک پر سناٹا۔ (فوٹو اسپیشل: ارینجمنٹ)

لداخ کے لوگ مودی حکومت سے ناراض کیوں ہیں؟

اگست 2019 میں جموں و کشمیر سے الگ کرکے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ بنائے جانے کے بعد سے اس کو مکمل ریاست کا درجہ دینے اوریہاں کے باشندوں کو زمین اور ملازمت کے تحفظ کی ضمانت دینے کا مطالبہ آئے دن ہوتا رہتا ہے۔عام طور پر لداخ کےمسلم اکثریتی کارگل اور بودھ اکثریتی لیہہ کے علاقے ایک دوسرے سے بنٹے رہتے ہیں، لیکن اس بار لوگوں نے متحد ہو کر خطے کی آئینی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

(فوٹو:  پی ٹی آئی)

سری نگر انکاؤنٹر میں تین مشتبہ دہشت گردوں کی موت، عینی شاہدین نے پولیس کے دعووں پر سوال اٹھایا

سری نگر میں 24 نومبر کی شام پولیس انکاؤنٹرمیں تین مشبہ دہشت گردوں کو مار گرایا گیا تھا، لیکن مقامی لوگوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جن لڑکوں کو پولیس نے انکاؤنٹر میں مارا، وہ نہتے تھے اور سڑک کنارے کھڑے تھے۔

Photo: PTI

کشمیر کی ہیبت ناک کہانیاں

پچھلے تین سالوں میں کشمیر میں حکومتی اور میڈیا سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 837 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جب میں 172 سیکورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔ ان میں سے اکثر افراد کو لائن آف کنٹرول کے پاس ورثاکی موجودگی اور آخری رسومات کے بغیر ہی پولیس نے خود ہی نامعلوم قبروں میں دفن کر دیا ہے۔

انکاؤنٹر میں مارے گئے محمد الطاف بھٹ کے سوگواراہل خانہ۔ (تمام فوٹو: فیضان میر)

کشمیر: حیدر پورہ انکاؤنٹر میں مارے گئے شہریوں کے اہل خانہ نے کہا، ان کا استعمال ہیومن شیلڈ کے طور پر ہوا

گزشتہ15نومبر کو سری نگر کے حیدر پورہ علاقے میں ایک شاپنگ کمپلیکس میں دہشت گردوں سے انکاؤنٹر کے دوران دو مشتبہ دہشت گردوں کی موت کے ساتھ ہی دو شہریوں کی بھی موت ہوئی تھی ۔ ان میں سے ایک شاپنگ کمپلیکس کے مالک محمد الطاف بھٹ اور دوسرے ڈینٹسٹ ڈاکٹر مدثر گل شامل ہیں۔ پولیس نے دونوں کےدہشت گردوں کا ساتھی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ کاالزام ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ان کا استعمال ‘ہیومن شیلڈ’کے طور پر کیا۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

کشمیر کے گلیشیروں کی تباہی کسی ایٹمی جنگ سے کم نہیں

دہشت گردی یا فوجی کشیدگی یا سرحدی تنازعات، قومی سلامتی کے لیےخطرات تو ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں، خاص طور پر جب وہ جان بوجھ کر عمل میں لائی جاتی ہوں سے، اس سے بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔اس سے جنگوں سے بھی زیادہ افراد کی ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ویسے دونوں ممالک کو چاہیے کہ کم از کم اس معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کرکے خطے کو ماحولیاتی تبدیلی کے طوفان سے بچائیں۔دوسرا طریقہ ہے کہ سارک تنظیم کے ذریعے کوئی میکانزم ترتیب دیا جائے۔

ارشد یوسف پال کی ماں اور دوسرے رشتہ دار(فوٹو: فیضان میر)

پاکستان کی حمایت میں نعرے بازی: گرفتار کشمیری طلبا کے اہل خانہ کے پاس کیس لڑنے کے پیسے نہیں

اتر پردیش کےآگرہ میں انجینئرنگ کی پڑھائی کر رہےکشمیر کےتین طالبعلموں کو گزشتہ24 اکتوبر کو ہندوستان پاکستان کے بیچ ٹی20ورلڈ کپ کرکٹ میچ میں پاک کی جیت پر جشن منانے کے الزام میں سیڈیشن سے متعلقہ دفعات میں گرفتار کیا گیا ہے۔تینوں طالبعلم غریب گھروں سے ہیں اور پرائم منسٹر اسپیشل اسکالر شپ اسکیم کے تحت پڑھ رہے ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے انہیں معاف کرنے کی اپیل سرکار سے کی ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

رگھناتھ کستور اور ابن حسام کا کشمیر

کشمیری پنڈتوں اور بہاری مزدوروں کی ہلاکتوں پر پورے ہندوستان میں ایک طوفان سا آگیا ہے۔ کئی مقتدر مسلم رہنمابھی کشمیری مسلمانوں کو باور کرا رہے ہیں کہ اقلیتوں کی حفاظت کے لیے ان کو میدان میں آنا چاہیے۔یہ سچ ہے کہ اقلیت کی سلامتی اور ان کا تحفظ اکثریتی فرقہ کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے۔ مگر کشمیر میں اکثریتی طبقہ تو اپنے جان و مال پر بھی قدرت نہیں رکھتا۔ فوجی گرفت کے بیچوں بیچ اْدھار زندگی گزارنے والا کیسے کسی اور کی زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے؟

Sumedha Mono .00_04_11_03.Still004

کرکٹ میچ میں ہندوستان کی شکست کے لیے کیوں نشانہ بنے کشمیری طلبا اور محمد سمیع؟

ویڈیو: ملک میں ہندوستان-پاکستان کا کرکٹ میچ محض ایک کھیل کی طرح نہیں، ایک جنگ کی طرح دیکھا جاتا ہے اور کھیل کےجذبہ کو نکال کر اس کو انا کی لڑائی بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین میچ میں ہوئی ہار کو کھیل میں ہوئی ہار کے طور پر نہیں لے پاتے۔اس بار جب ہندوستان کی ہار ہوئی تو سوشل میڈیا پر اس کا ٹھیکراہندوستانی ٹیم کےگنیدباز محمدسمیع پر پھوڑا جانے لگا اور پاکستان کی جیت پر مبینہ طور پر ‘خوش’ہونے کے لیے کشمیری طلباکو پیٹے جانے کی خبر آئی۔

شاہد احمد راتھر۔(فوٹو: فیضان میر)

کشمیر: سی آر پی ایف کی گولی سے مزدور کی موت، گھر والوں نے کہا-جان بوجھ کر ماری گئی گولی

شوپیاں ضلع میں پیش آئے اس واقعہ میں مارے گئےشخص کی پہچان شاہد احمد راتھر کےطور پر ہوئی ہے، جو ایک مزدور تھے۔سی آر پی ایف نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردوں کی طرف سے ہوئی گولی باری کا جواب دیتے وقت یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ پر وادی کے مین اسٹریم کی پارٹیوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئےغیرجانبدارانہ جانچ کی مانگ کی ہے۔

جائے وقوع پر پہنچےسیکیورٹی فورسز۔ (فوٹو: فیضان میر)

جنوبی کشمیر میں دہشت گردوں نے بہار کے دو اور مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کیا

یہ واقعہ کلگام ضلع میں پیش آیا۔یہ جنگجو تنظیم ‘دی ریزسٹنس فرنٹ’کے بانی عباس شیخ کا آبائی ضلع ہے، جس نے سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ کشمیر میں رہنے والے مقامی اور غیر مقامی اقلیتوں پر حالیہ حملوں کی زیادہ تر ذمہ داری قبول کی ہے۔ رواں ماہ میں اب تک شہریوں کو نشانہ بنانے والی فائرنگ میں11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی اسکول کی پرنسپل سپندر کور کی آخری رسومات کے دوران سوگوار رشتہ دار۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

دہشت گردوں کے حملے میں مارے گئے پرنسپل اور ٹیچر کی آخری رسومات ادا کی گئیں، جموں و کشمیر میں احتجاجی مظاہرہ

جموں وکشمیر میں گزشتہ چھ دنوں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں سات شہری ہلاک ہوئے، جن میں سے چھ سرینگر میں ہلاک ہوئے۔مہلوکین میں سے چار اقلیتی کمیونٹی سے ہیں۔سات اکتوبر کو سرینگر میں پرنسپل سپندر کور اور ٹیچر دیپک چند کوہلاک کر دیا گیا۔ پانچ اکتوبر کو کشمیری پنڈت کمیونٹی کے معروف کیمسٹ ماکھن لال بندرو سمیت تین لوگوں اور دو اکتوبر کو دو شہریوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

کشمیر کے ماتا برگھ شکھا بھگوتی مندر میں کی گئی توڑ پھوڑ (فوٹو: ویڈیوگریب)

کشمیر: قدیم  مندر میں توڑ پھوڑ، پولیس نے مقدمہ درج کیا

جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں گزشتہ سنیچر کو نامعلوم لوگوں نےمٹن علاقے میں پہاڑ پرواقع ماتا برگھ شکھابھگوتی مندرمیں توڑ پھوڑ کی۔یہ واقعہ ایسےوقت میں رونماہوا،جب مرکزی حکومت1990 کی دہائی کی شروعات میں گھاٹی چھوڑکر گئے کشمیری پنڈتوں کی بازآبادی کو لےکر قدم اٹھا رہی ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

اولمپک میں ہندوستان کی جیت سے لاتعلق کیوں رہا کشمیر؟

جس دن اخباراور ٹی وی چینل جیولن تھرو میں نیرج چوپڑا کے اس کارنامے کی تفصیلات چھاپ رہے تھے،جس دن نیرج کے پہلے کوچ نسیم احمد کشور انہیں یاد کر رہے تھے، اسی دن دہلی میں سینکڑوں لوگ ہندوستان کے نسیم احمد جیسے نام والوں کو کاٹ ڈالنے کے نعرے لگا رہے تھےاورہندوؤں کو ان کا قتل عام کرنے کا اکساوا دے رہے تھے۔ یہ لوگ بھی، نسیم احمدجیسے نام ایک طرح سے ہندوستان کے کشمیر ہیں، پورے ہندوستان میں بکھرے ہوئے!

(فوٹو: رائٹرس)

کشمیر اور خطے کی جیو اکانومکس کا خواب

جہاں مغربی اور عرب ممالک ان دنوں ہندوستان کی ناراضگی کے پیش نظر حکومتی سطح پر کشمیر سے دامن بچا کر ہی چلتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ انسانی حقوق کے حوالے سے کوئی بیان جاری کرکے خاموش ہو جاتے ہیں، وسط ایشائی ممالک کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے خاصے فکرمند دکھائی دے رہے تھے۔

عمران قیوم کے والد۔ (فوٹو: منیب الاسلام)

’پولیس نے میرے بھائی کو ماردیا اور اب وہ نہیں چاہتے کہ ہم اس کی قبر پر دعا بھی کر پائیں‘

گزشتہ دنوں جموں وکشمیر پولیس نے ایک انکاؤنٹر میں عمران قیوم نام کےایک شخص کو دہشت گرد بتاتے ہوئے مار گرانے کے بعد ان کو دفن کر دیا۔عمران کے اہل خانہ نے پولیس کے دعووں کی تردیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فرضی انکاؤنٹر تھا۔ انہوں نے معاملے کی جانچ کے لیےلیفٹیننٹ گورنراورسینئر پولیس افسران کو خط بھی لکھا ہے۔

(علامتی  تصویر، فوٹو: رائٹرس)

کشمیر: سکھ خطرے میں ہے کا الارم بجاکر فرقہ وارانہ کھیل کیوں کھیلا گیا…

اکالی دل پچھلی کئی دہائیوں سے بی جےپی کا ایک دم چھلہ بن گئی تھی۔ جب اس کے گڑھ پنجاب میں مرکزی حکومت کےکسانوں کے تئیں رویہ کی وجہ سے اس کی سبکی ہو رہی تھی تو وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بی جے پی اور حکومت سے الگ تو ہوگئی مگر سکھوں کی اکثریت کی حمایت سے ابھی بھی وہ محروم ہے۔ اس لیے کشمیر میں سکھ خطرے میں ہے کاالارام بجا کر وہ اپنا سیاسی الو سیدھا کرنا چاہتی تھی، جس کو مقامی آبادی نے ناکام بنادیا۔

علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے انتخابات کے تئیں سرینگر میں عدم دلچسپی کیوں؟

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فی الوقت انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ 724 امیدوار 25 جولائی کو 45 انتخابی حلقوں میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ ان میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے 33حلقوں سے 602 امیدوارجبکہ مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں سے 122 امیدوار میدان میں ہیں۔

فوٹو: بہ شکریہ ٹوئٹر@MirwaizKashmir

کشمیر: مظلوم عوام کی بیداری کی 90 ویں سالگرہ

سال 2019سے سرکاری طور پر ان شہدا کو نظر انداز کرکے یہ ثابت کر دیا گیا کہ عوام ابھی بھی حقیقی آزادی سے محروم ہیں۔ وہ ابھی اپنے خوا بوں اور خواہشوں کے مطابق نظام حیات تعمیر نہیں کرسکے جس کے لیے بے انتہا قربانیاں دی گئیں۔

WhatsApp Image 2021-06-29 at 20.51.15

کشمیر پہنچا لو جہاد کا جھوٹ، کیا چاہتی ہیں سکھ دلہنیں؟

ویڈیو: کشمیر میں دو سکھ لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرنےاور نکاح کا معاملہ طول پکڑ چکا ہے۔ سکھ کمیونٹی کے لوگ کشمیر سے لےکر نئی دہلی تک مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کشمیر میں آئے دن اغوا، دباؤ بناکر تو کبھی بہلا پھسلاکر لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے۔ اس موضوع پر عارفہ خانم شیروانی نے جموں وکشمیر کے صحافیوں گوہر گیلانی، شاکر میر اور سماجی کارکن کنول جیت کور سے چرچہ کی۔

(فوٹو:  رائٹرس)

جموں وکشمیر: غیر کشمیری افسروں سے امید نہیں، یہ کہنے پر ایک شخص کو گرفتار کر جیل بھیجا گیا

کشمیر گھاٹی میں گاندربل کےصفاپورہ کے رہنے والےسجاد راشد صو فی نے 10 جون کولیفٹیننٹ گورنر کے صلاح کار کے ساتھ مقامی لوگوں کی بات چیت کے دوران یہ تبصرہ کیا تھا۔ مبینہ طور پر ان کے اس تبصرے سے گاندربل کی ڈپٹی کمشنر ناراض ہو گئیں، جو اتر پردیش سے ہیں۔ مختلف کمیونٹی کے بیچ عداوت کو بڑھاوا دینے کے لیے ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ153 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

کشمیر کی زمینی صورت حال پر ایک تازہ رپورٹ

جن دنوں یہ گروپ کشمیر کے دورہ پر تھا، حکومت نے بتایا کہ حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق ہاؤس اریسٹ نہیں ہیں اور کہیں بھی آ جا سکتے ہیں۔ اگلے روز یہ گروپ ان کی رہائش گا ہ پر پہنچا۔ مگر سیکورٹی اہلکاروں نے ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے دی۔

Don`t copy text!