Lawyers

تریپورہ میں ہوئےتشدد اور فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ارکان کے خلاف درج یو اے پی اے کیس کے خلاف دہلی کے تریپورہ بھون میں مظاہرہ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

تریپورہ: فرقہ وارانہ تشدد پر سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے 102 لوگوں پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ

تین نومبر کو لکھے ایک خط میں مغربی اگرتلہ تھانے نے ٹوئٹر کو اس کے پلیٹ فارم سے کم از کم 68 اکاؤنٹس کو بلاک کرنے اور ان کی نجی جانکاری دینے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خلاف یو اے پی اے کی دفعہ13 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔اپوزیشن نے اس کو لےکرمقتدرہ بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔

تریپورہ میں ہوئےتشدد اور فیکٹ پھائنڈنگ ٹیم کےارکان پر درج یو اے پی اے کے معاملے کے خلاف  دہلی کے تریپورہ بھون پر ہوا احتجاج۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تریپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد کا فائدہ کس کو مل رہا ہے …

تریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف تشدد بی جے پی کی سیاسی ضرورت ہے۔ ایک تو انتخاب ہونے والے ہیں اور جانکاروں کا کہنا ہے کہ ہر انتخاب میں ایسےتشدد سے بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے۔اس کے علاوہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہندو سماج کا مزاج بنانے کے لیے ایسے تشددکی تنظیم ضروری ہے۔

(فوٹو:  پی ٹی آئی)

تریپورہ تشدد: فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا حصہ رہے دو وکیلوں کے خلاف یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج

وکیل انصاراندوری اورمکیش اس چاررکنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا حصہ تھے،جس نے تریپورہ میں مسلم مخالف تشدد کی رپورٹ کے بعد خطے میں کشیدگی کے ماحول کے جائزہ کے لیےصوبے کا دورہ کیا تھا۔ مغربی اگرتلہ تھانے کے عہدیداروں کی جانب سےدائر معاملے میں ان پر مذہبی گروہوں کے بیچ عداوت پیدا کرنے،امن و امان کو خراب کرنے سمیت کئی الزام لگائے گئے ہیں۔

سینئر ایڈوکیٹ محمود پراچہ(فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

دہلی: وکیل محمود پراچہ کے دفتر میں چھاپے ماری کے بعد کورٹ نے سرچ وارنٹ پر روک لگائی

محمود پراچہ دہلی فسادات سے متعلق کئی معاملوں میں وکیل ہیں۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل ٹیم نےاس سے پہلے بھی دسمبر 2020 میں بھی پراچہ کے دفتر پر چھاپےماری کی تھی۔ اس دوران سرچ ٹیم نے ان کے کمپیوٹر اورمختلف دستاویزوں کو ضبط کرنے پر زور دیا، جن میں کیس کی تفصیلی جانکاری تھی۔

سینئر ایڈوکیٹ محمود پراچہ(فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

دہلی فسادات: ملزمین کی پیروی کر رہے وکیل کے آفس پر چھاپے ماری، کمپیوٹر اور دستاویز ضبط

سینئرایڈوکیٹ محمود پراچہ دہلی فسادات کے ملزمین کی عدالت میں پیروی کر رہے ہیں۔پراچہ کے اسسٹنٹ وکیلوں کا الزام ہے کہ پولیس کی یہ چھاپےماری تمام ریکارڈ اور دستاویز کو ضائع کرنے کی کوشش تھی۔

کشمیری وکیل بابر قادری(فوٹو: ٹوئٹر/@BabarTruth)

جموں و کشمیر: جان کا خطرہ بتانے کے تین دن بعد وکیل کو گولی مار کر ہلاک کیا

جموں وکشمیر میں ہیومن رائٹس اور نابالغوں سے جڑے کیس لڑنے والے وکیل بابر قادری نے تین دن پہلے ایک ٹوئٹ کرکے پولیس سے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے ایک فیس بک صارف کے خلاف کیس درج کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

Don`t copy text!