lgbt community

(السٹریشن: دی وائر)

ایل جی بی ٹی کیو + کی حمایت کرنے پر آر ایس ایس چیف کے خلاف ہندو شدت پسندوں  نے شکایت درج کرائی

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے گزشتہ دنوں سنگھ کے ماؤتھ پیس‘آرگنائزر’ اور ‘پانچ جنیہ’ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایل جی بی ٹی کیو + کمیونٹی کی حمایت میں مہابھارت کے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئےتبصرہ کیا تھا۔ اسے ہندو مخالف بتاتے ہوئے بھاگوت کے خلاف مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔

Sv-

آر ایس ایس کیوں نفرت اور تشدد کی وکالت کر رہا ہے؟

ویڈیو: گزشتہ دنوں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہندو سماج جنگ میں ہے، اس لڑائی میں لوگوں میں شدت پسندی دیکھنے کو ملے گی۔ان کے اس بیان پردہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن۔

موہن بھاگوت(فوٹو : پی ٹی آئی)

ہندو سوسائٹی جنگ میں ہے، اس لڑائی میں لوگوں میں شدت پسندی آئے گی، سخت بیانات آئیں گے: موہن بھاگوت

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہندوستان ، ہندوستان بنا رہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں اور اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وہ رہنا چاہتے ہیں، رہیں۔ آباؤ اجداد کے پاس واپس آنا چاہتے ہیں، آئیں۔ انہیں بس یہ سوچ ترک کرنی ہوگی کہ ہم کبھی بادشاہ تھے، پھر سے بادشاہ بنیں۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

موہن بھاگوت نے ایل جی بی ٹی کمیونٹی کی حمایت کی، کہا – ان کی پرائیویسی کا احترام کیا جانا چاہیے

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ اس طرح کے رجحان والے لوگ ہمیشہ سےتھے، جب سے بنی نوع انسان کاوجود ہے۔ یہ حیاتیاتی ہے، زندگی کا ایک طریقہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ انہیں ان کی پرائیویسی کا حق حاصل ہو اور وہ محسوس کریں کہ وہ بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں۔