LK Advani

کلیان سنگھ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

بابری مسجد انہدام معاملے میں کلیان سنگھ کو پیش کرنے کے لئے سی بی آئی نے دی عرضی

بی جے پی کے سینئر رہنما کلیان سنگھ حال ہی میں راجستھان کے گورنر کے عہدے سے ہٹے ہیں۔ سی بی آئی نے کہا کہ چونکہ اب کلیان سنگھ گورنر کے عہدے سے ہٹ چکے ہیں اس لئے بابری مسجد انہدام معاملے میں ان کے خلاف کارروائی شروع کی جانی چاہیے۔

فوٹو : انڈین ایکسپریس

بہار: نتیش کمار کے لئے سب سے اہم ہے دوسرے مرحلے کی پولنگ

دوسرے مرحلے کی پانچ سیٹوں میں اس بار بھی مہاگٹھ بندھن آگے دکھائی دے رہا ہے۔یہ مرحلہ پہلے مرحلے کے انتخاب سے ان معنوں میں الگ ہے کہ پہلے مرحلے میں جہاں تمام چار سیٹوں پر سیدھا مقابلہ ہوا وہیں اس مرحلے میں دو سیٹوں پر سہ رخی مقابلہ ہے۔

Bjp-leader-ajay-agrawal-facebook-e1555246787718

بی جے پی رہنما نے کہا-اگر انتخاب میں جانبداری نہ ہو تو40 سیٹوں پر سمٹ جائے‌گی پارٹی

بی جے پی رہنما اور سپریم کورٹ کے وکیل اجئے اگروال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھا ہے۔ سال 2014 میں کانگریسی رہنما سونیا گاندھی کے خلاف انتخاب لڑنے والے اگروال کو پارٹی نے اس بار رائےبریلی سے ٹکٹ نہیں دیا ہے۔

Capture

لالو پرساد یادو—گوپال گنج ٹو رائے سینا

لالو پرساد یادو اپنی کتاب میں بتاتے ہیں؛ بہار کی تعمیر میں میں نے مہاتما گاندھی کی اہنسا کے ساتھ منڈیلا، کنگ اور امبیڈکر کے بتائے راستوں کو اختیار کیا۔ جیسی کہ امید تھی میری راہ کانٹوں سے بھری تھی اور یقیناً یہ آسان نہیں تھی۔ لیکن میں اپنے راستے سےمنحرف نہیں ہوا۔

فوٹو :  پی ٹی آئی

لوک سبھا انتخابات 2019: بہار میں اس وقت کون کتنے پانی میں ہے؟

امیدواروں کے انتخاب کے لحاظ سے دیکھیں تو لالو کی غیر موجودگی میں کہیں سے ایسا نہیں لگا کہ تیجسوی کی قیادت میں کوئی نیا آر جے ڈی سامنے آ رہا ہے۔ ایک طرف سنگین جرم میں قصوروار قرار دئے گئے رہنماؤں کی بیویوں (سیوان اور نوادہ)کو ٹکٹ ملا تو دوسری طرف امیدواروں میں جوان چہرے تقریباً غائب رہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

کیا کانگریس میں شامل ہونے جارہے بہاری بابو نے ہوا کا رخ بھانپ لیا ہے؟

شتروگھن سنہا ہوا کا رخ بھانپ لینے والے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اپریل 2014 میں انہوں نے بی جےپی کے 300 سے زیادہ سیٹیں جیتنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اب دہلی، پٹنہ اور ممبئی کے حلقوں میں یہی قیاس آرائی ہے کہ کانگریس اور لالو کی مدح سرائی میں مصروف شترو نے کیا پھر کچھ اندازہ لگا لیا ہے؟

فوٹو بہ شکریہ: دی کارواں

کارواں میگزین کا دعویٰ، یدورپا نے بی جے پی کے بڑے رہنماؤں کو 1000کروڑ روپے دیے

میگزین نے کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدو رپا کی ایک ڈائری کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ارون جیٹلی اور نتن گڈکری کو 150 کروڑ روپے ، راجناتھ سنگھ کو 100 کروڑ روپے ، لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کو 50 کروڑ روپے دیے گئے ۔ اس کے علاوہ 250 کروڑ روپے کی ادائیگی ججوں کو کی گئی ۔

Photo: PTI

کیا مودی حکومت کا ’انڈیا شائننگ لمحہ‘ آ چکا ہے؟ 

1999 میں این ڈی اے-1 نے 8 فیصدجی ڈی پی شرح نمو کے ساتھ اپنی پاری کی شروعات کی تھی، لیکن بعدکے تین مالی سالوں کے درمیان جی ڈی پی شرح نمو میں تیز گراوٹ دیکھی گئی۔ اس کی خاص وجہ زراعتی شرح نمو کا اوندھےمنھ گر‌کرصفر پر آنا تھا۔ یہی کہانی این ڈی اے-2 میں بھی دوہرائی جا رہی ہے۔

Don`t copy text!