Love Jihad

rr-e1659275618641

اتر پردیش کے کاس گنج میں ’لو جہاد‘ کے نام پر مسلم نوجوان کو پھنسایا

ویڈیو: اتر پردیش کے کاس گنج میں ایک ہندو خاتون نے مسلم نوجوان کے خلاف الزام لگاتے ہوئے کہا تھاکہ نوجوان نے نام بدل کر اور اپنی پہچان چھپا کر اس کے ساتھ ریپ کیا تھا۔ اس معاملے میں الزام لگانے والی خاتون اب اپنے بیان سے پلٹ گئی ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

یوپی: لو جہاد-ریپ کے معاملے میں مسلم شخص کو پھنسانے کے الزام میں دو گرفتار

واقعہ اتر پردیش کے کاس گنج ضلع کا ہے۔ 16 جولائی کو ایک خاتون نے ایک مسلم شخص کے خلاف لو جہاد اورریپ کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اب خاتون نے کہا ہے کہ اس کو اس کام کے لیے دو افراد نے پیسہ دے کر کام پررکھا تھا۔ سازش کرنے والے دونوں ملزمین میں سے ایک کو مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوتھ ونگ کا لیڈر بتایا جا رہا ہے۔

کنہیا لال کو آخری رسومات کے لیے لے جاتے ہوئے(تصویر: پی ٹی آئی)۔

ادے پور قتل کے بہانے سماج کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے

ادے پور میں بہیمانہ قتل کے باوجود اس پروپیگنڈے کو قبول نہیں کیا جا سکتا کہ ہندو خطرے میں ہیں۔ اس قتل کے بہانے جو لوگ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں، وہ قتل و غارت گری اور تشددکے پیروکار ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک منصوبہ بند سازش چلائی جارہی ہے کہ کسی ایک واقعہ پر ہندو اورمسلمان ایک ساتھ ایک آواز میں نہ بول پائیں۔

(علامتی  تصویر، فوٹو: رائٹرس)

اترپردیش: مرادآباد میں ہندو یووا واہنی نے بین مذہبی شادی کو روکا، مقدمہ درج

اتر پردیش کے شہر مراد آباد میں 18 اپریل کو ہندو یوا واہنی کے ایک گروپ نے کلکٹریٹ کے باہر اس نوجوان جوڑے کو گھیر لیا تھا اور لڑکے پر لو جہاد کا الزام لگایا تھا۔ بعد میں واہنی کے ارکان نے ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

آگرہ میں ہندوتوا گروپ نے مسلم نوجوان کے گھر کو آگ لگا دی۔(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر/محمد زبیر)

یوپی: بین مذہبی شادی کے معاملے میں ہندوتوادی بھیڑ نے ایک مسلمان کے گھر کو نذر آتش کیا

واقعہ آگرہ کا ہے۔دھرم جاگرن سمنویہ سنگھ نام کےگروپ نے ساجد نامی شخص پر ایک ہندو لڑکی کو اغوا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ حالاں کہ بعد میں سوشل میڈیا پر آئے ایک ویڈیو میں مذکورہ خاتون نے اپنی جان کو خطرہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس نےاپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

اجمیر جارہی  ٹرین سے ایک مسلمان  مسافر کو گھسیٹ کراس کے ساتھ مارپیٹ کرتے وی ایچ پی کے کارکن ۔ (فوٹو: ویڈیو گریب)

ایم پی: بجرنگ دل کے کارکنوں نے ساتھ سفر کر رہے مسلمان مرد اور ہندو خاتون کو ٹرین سے اتارا

یہ واقعہ 14 جنوری کو اجین ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا۔ الزام ہے کہ بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان پر ‘لو جہاد’ کا الزام لگا کرمار پیٹ بھی کی۔ دونوں شادی شدہ ہیں اور فیملی فرینڈ ہیں۔

مراد آباد میں جوس کی دکان (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

یوپی: ’لو جہاد‘ کا الزام لگاتے ہوئے بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان کی دکان بند کروائی

یہ واقعہ مرادآباد کا ہے، جہاں 23 دسمبر کی شام بجرنگ دل کے کارکنوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں مسلمان ہندو کے نام پر دکان چلا رہے ہیں۔اس دوران کارکنوں نے جوس سینٹر کوبند کرواتے ہوئے ہنگامہ بھی کیا اور ‘ہر ہر مہادیو’، ‘جئے شری رام’کےنعرے لگائے۔

وائرل ویڈیو کا اسکرین شاٹ۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

اتر پردیش:مبینہ طور پر ’اسلام قبول کروانے‘ والے ویڈیو کے سلسلے میں درج کیس میں دونوں لڑکے نابالغ ہندو نکلے

اتر پردیش کےعلی گڑھ ضلع کا معاملہ۔اہل خانہ نے ایف آئی آر پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لڑکے12ویں میں پڑھتے ہیں اور وہ اپنے دوستوں کے بیچ محض ‘بات چیت’ کر رہے تھے۔ اس کو لےکر بےوجہ کسی نے شکایت درج کرائی ہے۔شکایت درج کرانے والے بی جے پی رہنما نے کہا کہ ویڈیوکی وجہ سے لوگوں میں غصہ ہے اور اس کی وجہ سےمذہبی منافرت پھیل سکتی ہے۔

مولانا کلیم صدیقی۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@KhanAmanatullah)

اتر پردیش: مبینہ تبدیلی مذہب کے معاملے میں گرفتار مولانا کلیم صدیقی کو 10دن کی حراست میں بھیجا گیا

مبینہ طور پر‘تبدیلی مذہب کا سب سے بڑاریکٹ’چلانے کےالزام میں یوپی اے ٹی ایس نے اسلامی اسکالر مولانا کلیم صدیقی کو گزشتہ 21ستمبر کو میرٹھ سے گرفتار کیا تھا۔ صدیقی کے وکیل نے کہا ہے کہ پولیس ثبوت کے طور پر ان کے یوٹیوب چینل کو پیش کر رہی ہے جو پہلے سے ہی عوامی ہے اور اس میں کچھ بھی مجرمانہ یاملک کے خلاف نہیں ہے۔

یتی نرسنہانند سرسوتی۔

یوپی: خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں یتی نرسنہانند پر تین ایف آئی آر درج

اس سے پہلے بھی غازی آباد کے ڈاسنہ دیوی مندر کے پجاری یتی نرسنہانند سرسوتی کے خلاف پیغمبر محمد پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے کے الزام میں شکایت درج کرائی جا چکی ہے۔نرسنہانند تب سرخیوں میں آئے تھے، جب ڈاسنہ مندر میں پانی پینے کی وجہ سے ایک نابالغ مسلم لڑکے کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی تھی۔

یتی نرسنہانند اور سورج پال امو۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

نرسنہا نند اور سورج پال امو کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کرنے پر کورٹ نے دہلی پولیس سے رپورٹ طلب کی

گزشتہ4 اگست کو فیصل احمد خان نام کےقانون کے ایک استاذ نے رائٹ ونگ کے شدت پسند رہنماؤں یتی نرسنہانند اورسورج پال امو کے الگ الگ مواقع پرمسلم مخالف بیانات پر جامعہ نگر پولیس اسٹیشن میں شکایتیں کی تھیں۔ کوئی کارروائی نہ ہونے پر 7 اگست کو انہوں نے نے ساکیت ضلع کورٹ سے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کامطالبہ کیا۔

(علامتی  تصویر، فوٹو: رائٹرس)

کشمیر: سکھ خطرے میں ہے کا الارم بجاکر فرقہ وارانہ کھیل کیوں کھیلا گیا…

اکالی دل پچھلی کئی دہائیوں سے بی جےپی کا ایک دم چھلہ بن گئی تھی۔ جب اس کے گڑھ پنجاب میں مرکزی حکومت کےکسانوں کے تئیں رویہ کی وجہ سے اس کی سبکی ہو رہی تھی تو وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے بی جے پی اور حکومت سے الگ تو ہوگئی مگر سکھوں کی اکثریت کی حمایت سے ابھی بھی وہ محروم ہے۔ اس لیے کشمیر میں سکھ خطرے میں ہے کاالارام بجا کر وہ اپنا سیاسی الو سیدھا کرنا چاہتی تھی، جس کو مقامی آبادی نے ناکام بنادیا۔

فوٹو: رائٹرس

عدالت نے جامعہ شوٹر کو ضمانت دینے سے کیا انکار، کہا-ایسے لوگ مہاماری سے زیادہ خطرناک

جنوری2020میں سی اے اے کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس احتجاج کر رہے لوگوں پر ایک نابالغ نوجوان نے گولی چلائی تھی،جس میں جامعہ کا طالبعلم زخمی ہو گیا تھا۔ اب اس نوجوان پر ہریانہ کے پٹودی میں ہوئی ایک مہاپنچایت میں فرقہ وارانہ تقریر کرنے کاالزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔مقامی عدالت نے نوجوان کو ضمانت دینے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ ہیٹ اسپیچ فیشن بن گیا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

ہریانہ: جامعہ میں گولی چلانے والا نوجوان فرقہ وارانہ تقریر کرنے کے الزام میں گرفتار

جنوری2020 میں سی اے اے کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس احتجاج کر رہے لوگوں پر ایک نابالغ نوجوان نے گولی چلائی تھی،جس میں جامعہ کا طالبعلم زخمی ہو گیا تھا۔ اب اس نوجوان پر ہریانہ کے پٹودی میں ہوئی ایک مہاپنچایت میں فرقہ وارانہ تقریر کرنے کاالزام لگا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

مہا راشٹر: بین مذہبی شادی کا کارڈ لیک ہونے کے بعد اس کو ’لو جہاد‘ کا معاملہ بتاتے ہوئے مخالفت کی گئی

معاملہ ناسک کا ہے، جہاں ایک ہندو خاتون کی مسلمان مرد سے شادی کا کارڈ وہاٹس ایپ پر لیک ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے اسے ‘لو جہاد’ بتاتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔ گھر والوں کی رضامندی سے شادی کی تقریب 18 جولائی کو ہونی تھی، لیکن اب اسے رد کر دیا گیا ہے۔

سورج پال امو۔ (فوٹو بہ شکریہ ٹوئٹر)

اگر تاریخ بنانا ہے تو تیمور، اورنگ زیب اور بابر پیدا نہیں ہونے چاہیے: ہریانہ بی جے پی کے ترجمان

ہریانہ بی جے پی کے ترجمان اورکرنی سیناکےصدرسورج پال امو نے تبدیلی مذہب، لو جہاد اور آبادی کنٹرول پر بلائی گئی مہاپنچایت میں کہا کہ اگر بھارت ہماری ماتا ہے تو پاکستان کے ہم باپ ہیں اور ان پاکستانیوں کو ہم یہاں کرایے پر مکان نہیں دیں گے۔ ان کو اس ملک سے نکالو، یہ قرارداد پاس کرو۔

WhatsApp Image 2021-06-29 at 20.51.15

کشمیر پہنچا لو جہاد کا جھوٹ، کیا چاہتی ہیں سکھ دلہنیں؟

ویڈیو: کشمیر میں دو سکھ لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرنےاور نکاح کا معاملہ طول پکڑ چکا ہے۔ سکھ کمیونٹی کے لوگ کشمیر سے لےکر نئی دہلی تک مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ کشمیر میں آئے دن اغوا، دباؤ بناکر تو کبھی بہلا پھسلاکر لڑکیوں کا مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے۔ اس موضوع پر عارفہ خانم شیروانی نے جموں وکشمیر کے صحافیوں گوہر گیلانی، شاکر میر اور سماجی کارکن کنول جیت کور سے چرچہ کی۔

Muzaffarnagar

یوپی: تبدیلی مذہب کا الزام لگانے والی خاتون کا یوٹرن، کہا-ہندو تنظیموں  کے دباؤ میں لگائے تھے الزام

مظفرنگر کی ایک سکھ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے پڑوسی نے مذہب تبدیل کرنے کے لیے مجبور کرنے کے بعد ان سے شادی کی۔ اس شکایت کی بنیاد پر ملزم کے خلاف ریپ ، دھوکہ دھڑی اور تبدیلی مذہب سے متعلق قانون کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئےروپانی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سخت قانون کے ذریعے ہندو لڑکیوں کے تبدیلی مذہب کو روکیں گے: وجئے روپانی

گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے گودھرا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا کہ ان کی سرکار ایک مارچ سے شروع ہو رہے ودھان سبھاسیشن میں لو جہاد کے خلاف قانون لانا چاہتی ہے تاکہ ہندو لڑکیوں کے اغوا اور تبدیلی مذہب کو روکا جا سکے۔

Firozabad-MAP

یوپی: لڑکی کامذہب تبدیل کر نے کےالزام سے انکار، ناراض بھیڑ نے ملزم مسلم نوجوان کے گھر والوں کا پیچھا کیا

اتر پردیش کے فیروزآباد ضلع کے ناگلا ملا گاؤں کا معاملہ۔ لڑکی گزشتہ سال دسمبر میں ملزم مسلم نوجوان کے ساتھ گھر چھوڑکر چلی گئی تھی۔ پولیس نے لڑکی کا پتہ لگا لیا، لیکن پولیس کو ابھی نوجوان کی تلاش ہے۔ فی الحال نوجوان اور لڑکی کے گاؤں میں کشیدگی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

تبدیلی مذہب کے الزام میں کیس درج ہو نے کے ایک مہینے بعد یوپی سرکار نے کہا، نہیں ملے ثبوت

الہ آباد ہائی کورٹ میں معاملے کی شنوائی کے دوران ایک حلف نامہ داخل کرکےیوپی سرکار کی جانب سے عدالت کو یہ جانکاری دی گئی۔ اتر پردیش میں تبدیلی مذہب سے متعلق قانون نافذ ہونے کے ایک دن بعد گزشتہ سال 29 نومبر کو مظفرنگر میں دو مسلمان مزدوروں کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

یوپی: بریلی پولیس نے کہا جبراً تبدیلی مذہب کےمعاملے میں مسلم نوجوانوں کو پھنسایا گیا

معاملہ بریلی ضلع کا ہے، جہاں پہلی جنوری کوایک24 سالہ خاتو ن پر جبراًتبدیلی مذہب کا دباؤ ڈالنے کے الزام میں تین مسلم نوجوانوں پر معاملہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ میں تینوں نوجوانوں پر لگائے گئے الزام غلط پائے گئے ہیں۔

کلکتہ ہائی کورٹ(فوٹو بہ شکریہ: Twitter/@LexisNexisIndia)

بالغ خاتون اپنی مرضی سے شادی اور مذہب تبدیل کرے تو دخل اندازی کی ضرورت نہیں :  کلکتہ ہائی کورٹ

کلکتہ ہائی کورٹ نےایک 19سالہ لڑکی کے والد کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ پولیس کے مطابق، لڑکی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرکے شادی کی تھی اوروہ اپنے والد کے گھر نہیں لوٹنا چاہتی۔

یوپی پولیس( فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش: بین مذہبی شادی کرانے والے وکیل نے پولیس پر ہراساں کر نے کے الزام  لگائے

دہلی کے ایک وکیل نے بتایا کہ اتر پردیش کے ایٹہ ضلع واقع جلیسر کی خاتون کو ان کی مرضی سے مذہب تبدیل کرواکر شادی کروانے میں مدد کی تھی۔ ڈر کی وجہ سےجوڑا لاپتہ ہو گیاہے۔الزام ہے کہ ان کی تلاش میں اتر پردیش پولیس نے وکیل کی فیملی کے لگ بھگ دس لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

’لو جہاد‘ کے نام پر ہراسانی کے ڈر سے لڑکے-لڑکی نے کہا-لوٹ کر یوپی نہیں جا ئیں گے

اتر پردیش کے ایک مسلم نوجوان اور ہندولڑکی نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے نہ صرف ان کی فیملی بلکہ یوپی پولیس سے بھی تحفظ کی مانگ کی ہے۔ دہلی سرکار کی جانب سے تحفظ کا بھروسہ دلائے جانے کے بعد دونوں نے اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کے لیے رجسٹریشن کرایا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/MYogiAdityanath)

اترپردیش تبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قانون کی قانونی ’خامیاں‘ اس کے نفاذکی بدنیتی کو دکھاتی ہیں

مدھیہ پردیش اور اڑیسہ کےتبدیلی مذہب کے انسداد سے متعلق قوانین میں کہیں بھی بین مذہبی شادی کا ذکر نہیں تھا اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اس پر کوئی تبصرہ کیا تھا۔ ایسے میں اتر پردیش سرکار کا ایسا کوئی اختیار نہیں بنتا کہ وہ بنا کسی ثبوت یادلیل کے بین مذہبی شادیوں کو نظم و نسق کے سوال سے جوڑ دے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

یوپی پولیس نے لو جہاد کی افواہ پر مسلمان لڑکے-لڑکی کی شادی رکوائی

اتر پردیش کے کشی نگر ضلع کا معاملہ۔لڑکے نے پولیس پر پٹائی کا الزام لگایا ہے۔ یہ بھی الزام ہے کہ پولیس نے لڑکے-لڑکی کو تب تک حراست میں رکھا جب تک کہ لڑکی کے بھائی نےثبوت دیتے ہوئے یہ نہیں بتایا دیا کہ دونوں پیدائش سے مسلمان ہیں اور مذہب تبدیل نہیں ہوا ہے۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

اتر پردیش: گھر والوں کی رضامندی کے باوجود لکھنؤ پولیس نے بین مذہبی شادی رکوائی

پولیس کے مطابق، ہندو یووا واہنی کے کچھ ممبروں نے شادی کو لےکر اعتراض کیا تھا۔ نئے قانون کے تحت بین مذہبی شادی کے لیے ضلع مجسٹریٹ سے اجازت لینا ضروری کر دیا گیا ہے۔ اس کی جانکاری لڑکے اور لڑکی کے اہل خانہ کو دے دی گئی ہے، انہوں نے منظوری ملنے کے بعد شادی کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

2307 Gondi.00_47_04_06.Still146

یوپی میں ’لو جہاد‘ آرڈیننس: ہندو مسلم شادی  پر کیا ہوگا اثر؟

ویڈیو: مبینہ لو جہاد کو لےکر اتر پردیش سرکار نے آرڈیننس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت شادی کے لیے فریب، لالچ یا جبراًمذہب تبدیل کرائے جانے پر زیادہ سے زیادہ10 سال کی قیداور جرما نے کی سزا کا اہتمام ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

لو جہاد فحش پروپیگنڈہ ہے

بی جے پی لو جہاد کے راگ کو کیوں نہیں چھوڑ رہی؟وہ ہندوؤں میں خوف بٹھا رہی ہے کہ ‘ہماری’عورتوں کا استعمال کرکے ‘ودھرمی’اپنی تعداد بڑھانے کی سازش کر رہے ہیں۔ ‘ودھرمیوں’ کی تعداد میں اضافہ پریشانی کا سبب ہے۔ تعداد ہی طاقت ہے اور وہی برتری کی بنیاد ہے۔ اس لیے ایسی ہر شادی یا رشتے کی مخالفت کی جانی ہے، کیونکہ اس سے ‘ودھرمی’ کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

(علامتی  تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

لو جہاد معاملے میں یوپی پولیس نے سونپی رپورٹ، کہا- کسی سازش یا غیرملکی فنڈنگ کے ثبوت نہیں

اتر پردیش کے کانپور شہر میں کچھ رائٹ ونگ ہندو تنظیموں نے الزام لگایا تھا کہ مسلم نوجوان مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہندو لڑکیوں سے شادی سے کر رہے ہیں۔ اس کے لیے انہیں دوسرے ملکوں سے فنڈ مل رہا ہے اور لڑکیوں سے انہوں نے اپنی پہچان چھپا رکھی ہے۔ اس کی جانچ کے لیے کانپور رینج کے آئی جی نے ایس آئی ٹی بنائی تھی۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

’لو جہاد‘ پر گھماسان: بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کی قانون لانے کی تیاری، اپوزیشن نے کہا-شخصی آزادی کا معاملہ

جہاں ایک طرف کئی بی جے پی مقتدرہ ریاستوں کی سرکاریں‘لو جہاد’کے خلاف بل لانے کی مکمل تیاری کر چکی ہیں، وہیں اپوزیشن نے سرکاروں کے اس طرح کا قانون بنانے کو شخصی آزادی میں دخل اورملک میں فرقہ وارانہ کھائی کو گہرا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/DrNarottamMisra)

مدھیہ پردیش سرکار لائے گی ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون، پانچ سال کی سزا کی تجویز

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے کہا کہ اسمبلی کے آئندہ سیشن میں‘لو جہاد’کے خلاف بل پیش ہوگا، جس میں‘لو جہاد’کوغیر ضمانتی جرم قرار دیتے ہوئے کلیدی ملزم اور اس کا ساتھ دینے والوں کے لیے پانچ سال کی سخت سزا کا اہتمام کیا جائےگا۔

Don`t copy text!