Madrasa

(علامتی تصویر: رائٹرس)

یوپی حکومت کا مدارس کا سروے کرانے کا قدم اس تعلیمی نظام کو بے معنی قرار دینے کی کوشش ہے: جمعیۃ

اتر پردیش کی حکومت نے ریاست کے غیرتسلیم شدہ مدارس کا سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بارے میں جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ مدارس فرقہ پرستوں کی نظرمیں کھٹکتے ہیں اور انہیں بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔

علامتی فوٹو : رائٹرس

بی جے پی حکومتیں مدرسوں کے پیچھے پڑی ہیں: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بی جے پی کی قیادت والی مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے مدارس کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس سے متاثر بی جے پی کی مرکزی حکومت اور کچھ ریاستوں کی حکومتیں اقلیتوں بالخصوص مسلم کمیونٹی کے تئیں منفی رویہ اپنا رہی ہیں۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

اب اتر پردیش میں کسی بھی نئے مدرسے کو سرکاری گرانٹ نہیں ملے گی

اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت دانش آزاد انصاری نے بتایا کہ اب ریاست کے کسی اور مدرسے کو گرانٹ کی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا، لیکن جن مدارس کو فی الحال سرکاری گرانٹ مل رہی ہے، انہیں یہ ملتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ مدارس کے معیار پر توجہ دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

علامتی فوٹو : رائٹرس

اتر پردیش کے مدرسوں میں اب سے قومی ترانہ لازمی

اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے رجسٹرار ایس این پانڈے نے بتایا کہ 9 مئی کو اس سلسلے میں تمام ضلع اقلیتی بہبود کے افسران کو ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نئے تعلیمی سیشن سے تمام مدارس میں دعا کے وقت قومی ترانہ پڑھنا لازمی کر دیا گیا ہے۔

Photo: Reuters

یو پی کے مدارس کو ہدایت : یوم آزادی منائیں ، بھارت ماتا کی جئے بولیں

اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی نے مدرسوں کو یہ حکم دیا ہے ۔ وہیں ریاست کے اقلیتی فلاح و بہبود وزیر لکشمی نرائن چودھری کا کہنا ہے کہ جو ہندوستان میں پیدا ہوا ہے اس کو تو ’بھارت ماتا کی جئے‘ بولنا ہی چاہیے۔

Photo Credit : http://www.imass.org.in

50 ہزار مدرسہ ٹیچروں کو دو سالوں سے نہیں ملی تنخواہ ،8 جنوری کو مظاہرہ

 50000سے زیادہ مدرسہ ٹیچروں کو گزشتہ دو سالوں سے مرکزی حکومت کی طرف سے تنخواہ نہیں ملی ہے،جس کی وجہ سے بہت سے ٹیچر نوکری چھوڑنے کے لیے مجبور ہیں ۔ نئی دہلی :اترپردیش،اتراکھنڈ،مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ سمیت ملک کے 16صوبوں میں لگ بھگ 50000سے زیادہ مدرسہ ٹیچروں […]

Don`t copy text!