MEA

اروناچل پردیش کے دورے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (فوٹوبشکریہ ٹوئٹر)

امت شاہ کا اروناچل کا دورہ بیجنگ کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے: چین

چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ مانتے ہوئے اس پر اپنادعویٰ کرتا ہے اور کسی بھی ہندوستانی رہنما کے یہاں آنے پر اعتراض کرتا ہے۔ چین کےبیان کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا اعتراض بےوجہ ہے، اروناچل ہندوستان کا غیر منقسم حصہ ہے۔

سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کپیٹن امریندر سنگھ، فوٹو: اے این آئی

کرتارپور جانے والے پہلے جتھے میں شامل ہوں‌ گے منموہن سنگھ: امریندر سنگھ

پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ انہوں نے صدر جمہوریہ رامناتھ کووند، وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سے شری کرتارپور صاحب گرودوارہ جانے والے پہلے جتھے کا حصہ بننے اور شری گرونانک دیو جی کی 550ویں پرکاش پرو کے موقع پر منعقد ہونے والے پروگرام کے لئے مدعو کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (فوٹو بہ شکریہ : انفارمیشن منسٹری پاکستان)

ٹرمپ کی قلابازی اور مرگ مفاجات

کیا امریکہ ہماری موجودہ عالمی تنہائی میں کچھ ہاتھ بٹائے گا یا پھر سو پیاز اور سو جوتے ہی ہمارا مقدر رہیں گے؟ کیا اس سب کا ہماری مقتدرہ نے جائزہ لیا ہے؟ یا ہم فقط کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرواتے رہیں گے اور عمران خان دوسرے ورلڈ کپ سے دل بہلاتے رہیں گے؟

2017 میں امریکہ کے دورے پر گئے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو بہ شکریہ : پی آئی بی)

ٹرمپ کے کشمیر پر ثالثی کے دعویٰ سے نریندر مودی کی سیاسی سمجھ پر سوال اٹھتے ہیں

جہاں ساری دنیا کو اس بات کا احساس جلدہی ہو گیا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ایک قابل اعتماد ساتھی نہیں ہے، نریندر مودی نے اس کے باوجود ہندوستان کے واشنگٹن سے رشتے مضبوط کئے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کی قیمت کیا ہوگی۔

jaishankar-mea-1200x566

کون ہیں ہندوستان کے نئے وزیر خارجہ جئےشنکر؟

جئے شنکر کو خارجہ سکریٹری بنائے جانے کی کانگریسی لیڈران نے اس لئے مخالفت کی تھی کہ ان کے مطابق ایک امریکہ نواز آفیسر کی تعیناتی سے ہندوستان کی غیر جانبدارانہ شبیہ متاثر ہوگی۔ وکی لیکس فائلز نے جئے شنکر کی امریکہ کے ساتھ قربت کو طشت از بام کردیا تھا۔ بتایا گیا کہ جئےشنکر کی تعیناتی سے ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔

sushma-deendayal-jaishankar

وزارت خارجہ کو وزارت بھاجپا نہ بنائیں

انگریزی ترجمہ کے مقابلے اصل ہندی میں لکھے گئے  جملے کہیں زیادہ کھل‌کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی تعریف و توصیف اور حمد و ثنا کرتے  نظر آتے ہیں۔ ‘بھارتیہ جنتا پارٹی ‘نےخود اپنی زبان سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملک کاواحد سیاسی متبادل قرار ددیاہے۔ راشٹریہ سویم […]

Don`t copy text!