Media

AKi 22 September.00_24_42_14.Still005

ڈیجیٹل میڈیا سے مودی حکومت کو ڈر کیوں لگتا ہے؟

ویڈیو: سدرشن ٹی وی کے متنازعہ شو کو لے کر سپریم کورٹ میں چل رہی شنوائی میں میڈیاریگولیشن کی تجویز پر مرکز نے کہا ہے کہ پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کے بجائے ایسا پہلے ڈیجیٹل میڈیا کے لیے کیا جانا چاہیے۔ اس موضوع پردی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے بانی  اور صدر سید ظفر محمود۔ (فوٹو: دی  وائر)

ہم اچھے کام میں بھروسہ رکھتے ہیں اور آئین کے حساب سے ہی کام کر تے ہیں: زکوٰۃ فاؤنڈیشن

انٹرویو:سدرشن نیوزکے متنازعہ‘یوپی ایس سی جہاد’پروگرام میں زکوٰۃ فاؤنڈیشن پر کئی طرح کے الزام لگائے گئے ہیں۔اس پروگرام، اس سے متعلق تنازعہ اور الزامات کو لےکر زکوٰۃ فاؤنڈیشن کے بانی اورصدرسید ظفر محمود سے بات چیت۔

(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@SureshChavhank)

میڈیا میں پیغام جانا چاہیے کہ کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا: جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ

سدرشن نیوز کے ایک پروگرام کے متنازعہ ایپی سوڈ کے ٹیلی کاسٹ کی عرضی پر شنوائی کرتے ہوئے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کسی پر روک لگانا ایٹمی میزائل کی طرح ہے، لیکن ہمیں آگے آنا پڑا کیونکہ کسی اور کے ذریعے کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی تھی۔

فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@SureshChavhank

سپریم کورٹ نے ’یوپی ایس سی جہاد‘ شو کو مسلمانوں کو بدنام کر نے کی کوشش قرار دیا، لگائی روک

سدرشن نیوز کے بند اس بول شو کے‘نوکر شاہی جہاد’ایپی سوڈکےٹیلی کاسٹ کو روکتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہونے کے ناطے یہ کہنے کی اجازت نہیں دے سکتے کہ مسلمان سول سروسز میں گھس پیٹھ کر رہے ہیں۔ اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صحافی کو ایسا کرنے کی پوری آزادی ہے۔

گزشتہ6 ستمبر کو این سی بی کی پوچھ تاچھ کے لیے جاتی ہوئی ریا چکرورتی کے ساتھ میڈیااہلکاروں  کے ذریعے دھکامکی کی گئی تھی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ریا چکر ورتی کے معاملے نے ان کو نہیں بلکہ معاشرے کی خرابیوں اور عورت مخالف رویے کو بے نقاب کیا ہے

قرون وسطی کے یورپ میں خواتین کو جادوگرنی بتاکر‘وچ ٹرائل’ہوا کرتے تھے، جن کے بعد پچاسوں ہزارخواتین کو ستونوں سے باندھ کر زندہ جلا دیا گیا تھا۔اس وقت اذیت دےکر (ٹارچر)خواتین سے جرم قبول کروا لیا جاتا تھا۔ ریا کا بھی‘میڈیا ٹرائل’نہیں ہوا ہے، ‘وچ ٹرائل’ ہوا ہے۔

1009 AKI Swara Bhaskar.00_23_57_19.Still002

ریا بنام کنگنا پر سورا بھاسکر کا جواب

ویڈیو: اداکارہ ریا چکرورتی کی گرفتاری سے لےکر کنگنا رناوت کی وائی سیکورٹی جیسے مدعے نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ اس پراداکارہ سورا بھاسکر سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفا خانم شیروانی کی بات چیت۔

(بہ شکریہ : سدرشن نیوز/ویڈیوگریب)

وزارت اطلاعات و نشریات نے دی ’یوپی ایس سی جہاد‘ والے شو کو نشر کر نےکی اجازت، عدالت نے بھیجا نوٹس

وزارت اطلاعات و نشریات نے جمعرات کو سدرشن نیوز کے شو‘بند اس بول’کے متنازعہ نوکر شاہی جہاد والے ایپی سوڈ کو نشر کرنے کی اجازت دی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ نے اس کے خلاف دائر ہوئی عرضی پر وزارت سے جواب مانگاہے۔

ریا چکرورتی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

ضمانت عرضی میں ریا نے کہا، این سی بی نے اقبال جرم کے لیے مجبور کیا

سیشن عدالت میں دائر ضمانت عرضی میں ریا نے کہا ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا اور انہیں اس معاملے میں پھنسایا جا رہا ہے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا کہ ریا سے این سی بی پوچھ تاچھ کے دوران وہاں کوئی خاتون افسرموجود نہیں تھی۔

2307 Gondi.00_47_33_01.Still073

’میرے حجاب کی وجہ سے میڈیا پورٹل نے مجھے نوکری نہیں دی‘

ویڈیو: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری لینے والی غزالہ احمد نے الزام لگایا ہے کہ ان کے حجاب پہننے کی وجہ سے ایک ہندی میڈیا پورٹل نے انہیں نوکری دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ نوکری کے لیے ان کا انتخاب ہو چکا تھا، لیکن جب میڈیا پورٹل کو حجاب کا پتہ چلا تو انہیں منع کر دیا گیا۔

(بہ شکریہ: سدرشن نیوز/ویڈیوگریب)

مسلمانوں کے خلاف سدرشن ٹی وی کے زہریلے پروپیگنڈے کی مذمت کرنا ہی کافی نہیں ہے

رہنماؤں کی ہیٹ اسپیچ، سوشل میڈیا اور نیوز چینلوں کے ذریعے سماج میں شدت پسندی اور نفرت انگیز خیالات کو بالکل نارمل انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور ایسا کرنے والوں میں سریش چوہانکے اکیلے نہیں ہیں۔

سشانت معاملے کو لےکر مختلف  ٹی وی چینلوں کی کوریج(بہ شکریہ : متعلقہ  چینل/ویڈیوگریب)

اداریہ: میڈیا کے غنڈوں کو ان کی جگہ دکھانے کا وقت آ گیا ہے

ان دنوں ٹی وی نیوز چینلوں کی وجہ سے ریا چکرورتی لعنت ملامت، استہزا اور طعن و تشنیع   کانشانہ  بن چکی ہیں، جن پر بنا کسی ثبوت کے تمام طرح کے الزام  لگائے گئے ہیں۔ کچھ وقت پہلے تک ریا چکرورتی عوام کے بیچ  معروف نہیں تھیں۔ حالانکہ […]

(بہ شکریہ : سدرشن نیوز/ویڈیوگریب)

دہلی ہائی کورٹ نے سدرشن نیوز کے ’نوکر شاہی جہاد‘ پروگرام  پر روک لگائی

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے سدرشن نیوز کے ایڈیٹر ان چیف سریش چوہانکے کے شو ‘بند اس بول’کے متنازعہ ‘یوپی ایس سی جہاد’ایپی سوڈ پر روک لگا دی ہے۔ 28 اگست کو رات آٹھ بجے اس شوکو نشر ہونا تھا۔

AKI 27 August 2020.00_24_37_22.Still007

سدرشن ٹی وی کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی چھوٹ کس نے دی؟

ویڈیو: نیوزچینل سدرشن نیوز نے 28 اگست کونشر ہونے والے اپنے ایک شو کا ٹریلر جاری کیا ہے۔ اس میں چینل کے ایڈیٹران چیف سریش چوہان کے ‘نوکر شاہی میں مسلمانوں کی گھس پیٹھ کی سازش کا بڑاانکشاف ’ کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ اس موضوع پر ‘ستیہ ہندی’ کے مدیر آشوتوش اور کیرل کےسابق ڈی جی پی سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(بہ شکریہ: سدرشن نیوز/ویڈیوگریب)

یو پی ایس سی جہاد ٹریلر: آئی پی ایس ایسوسی ایشن کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کیا سدرشن نیوز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

سدرشن نیوز کے چیف ایڈیٹرسریش چوہان کے اپنے شو ‘بند اس بول’کے متنازعہ ٹریلر میں‘جامعہ کے جہادی’کہتے نظر آ رہے ہیں۔ جامعہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ صرف یونیورسٹی اور ایک کمیونٹی کی امیج کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے، بلکہ یو پی ایس سی کی ساکھ کو بھی داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔

ونود دوا ، فوٹو: دی وائر

ونود دوا نے سپریم کورٹ سے کہا، سرکار کی ہر تنقید سیڈیشن کے دائرے میں نہیں آتی

ہماچل پردیش کے ایک بی جے پی رہنما کی شکایت پر ونود دوا پرفرضی خبریں پھیلانے اور وزیر اعظم کے خلاف توہین آمیز لفظوں کا استعمال کرنے کےالزام میں سیڈیشن سمیت کئی دفعات میں کیس درج کیا گیا ہے۔ دوا نے عدالت میں کہا کہ اگر وہ وزیر اعظم کی تنقید کرتے ہیں، تو یہ سرکار کی تنقید کے دائرے میں نہیں آتا۔

ایریندرو لیچومبم۔ (فوٹو: Erendro Leichombam/Facebook)

منی پور: فیس بک پوسٹ کی وجہ سے سیاسی کارکن پر سیڈیشن کا مقدمہ درج

سال 2017 میں سماجی کارکن اروم شرمیلا کے ساتھ ایک سیاسی پارٹی بناکراسمبلی انتخاب لڑنے والے سیاسی کارکن ایریندرو لیچومبم منی پور میں بی جی پی کی قیادت والی سرکار کے بولڈناقد رہے ہیں۔ اس سے پہلے انہیں مئی 2018 میں فیس بک پر ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

WhatsApp Image 2020-07-28 at 20.36.26 (1)

میڈیا بول: ملک کورونا سے بےحال، ٹی وی پر ایودھیا اور رافیل!

ویڈیو: کووڈ 19کےدورمیں ملک کی عوام بےحال ہے، لیکن میڈیا کاایک بڑا حصہ، بالخصوص ٹی وی چینلوں کے لیے ان دنوں بڑے مسئلے ہیں ایودھیا میں رام مندر کا بھومی پوجن، رافیل کاہندوستان آنا، سرحدی کشیدگی یا ایک اداکار کی خودکشی سے جڑے معاملے۔ اس بارے میں سینئر صحافی ارملیش کا نظریہ

HBB Ramchndra Guha 17 July.00_46_42_12.Still002

’نریندر مودی کا کوئی صلاح کار گروپ  نہیں، صرف چاپلوسی گروپ ہے‘

ویڈیو: راجستھان میں کانگریس رہنما سچن پائلٹ کی بغاوت اور گہلوت سرکار کے بحران میں پڑنے سے سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر چنی ہوئی سرکاروں کو خوف یا لالچ سے گرایا جا سکتا ہے اور اپنی من مرضی کی پارٹی کی سرکار کو بنایا جا سکتا ہے تو پھر جمہوریت میں انتخابات کے معنی ہی کیا رہ گئے؟ جانے مانے مؤرخ رام چندر گہا سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ بحران کے بیچ جان اور نوکری گنواتے صحافیوں کی سننے والا کون ہے؟

کووڈانفیکشن کےخطرے کے بیچ بھی ملک بھر کےمیڈیااہلکار لگاتار کام کر رہے ہیں، لیکن میڈیااداروں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ جوکھم اٹھاکر کام کررہے ان صحافیوں کو کسی طرح کا بیمہ یا اقتصادی تحفظ دینا تو دور، انہیں بناوجہ بتائے نوکری سے نکالا جا رہا ہے۔

1407 nsc.02_09_31_23.Still003

میڈیا بول: راجستھان میں سرکار پلٹ پروجیکٹ اور نیوز چینل

ویڈیو: راجستھان میں کئی دنوں سے چل رہی سیاسی کھینچ تان کے بیچ سچن پائلٹ کو نائب وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے ریاستی صدرکے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس سیاسی الٹ پھیر اور اس دوران میڈیا کے رول پرسینئر صحافی ارملیش کا نظریہ۔

(فوٹو: دیپک گوسوامی)

کرکٹ سمراٹ: کرکٹ شائقین نے اپنے دیرینہ رفیق کو کھو دیا…

کرکٹ سے متعلق ہر چھوٹی بڑی جانکاری اور اعدادوشمار سے آراستہ رسالہ‘کرکٹ سمراٹ’ اب شائع نہیں ہوگا۔تقریباً 42 برسوں تک پورے ملک میں کرکٹ شائقین کے لیے کسی پسندیدہ ناول کی طرح مقبول اس رسالے کی اشاعت لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہوئے نقصان کی نذر ہو گئی۔

ونود دوا ، فوٹو: دی وائر

ونود دوا سیڈیشن معاملے میں جانچ رپورٹ نہیں سونپنے پر سپریم کورٹ نے پولیس کو پھٹکار لگائی

ایک بی جے پی رہنما کی جانب سے صحافی ونود دوا پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو شو کے ذریعے‘فرضی جانکاریاں’ پھیلائی ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف توہین آمیز لفظوں کا استعمال کیا ہے۔ شکایت پر ہماچل پردیش پولیس نے سیڈیشن کا معاملہ درج کیا ہے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

جموں و کشمیر کی نئی میڈیا پالیسی پریس کی آزادی کو متاثر کر نے والی ہے: پریس کاؤنسل

جموں وکشمیر انتظامیہ نے گزشتہ دنوں ریاست کی نئی میڈیا پالیسی کو منظوری دی ہے، جس کے تحت وہ شائع اورنشرہونے والےمواد کی نگرانی کرےگا اور یہ طے کرےگا کہ کون سی خبر ‘فیک، اینٹی سوشل یا اینٹی نیشنل رپورٹنگ’ہے۔ پریس کاؤنسل نے اس بارے میں انتظامیہ سے جواب مانگا ہے۔

ونود دوا ، فوٹو: دی وائر

سپریم کورٹ کا ونود دوا کے خلاف جانچ رد کر نے سے انکار، فوری گرفتاری پر روک

صحافی ونود دوا مختلف ریاستوں میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر رد کرنے کی اپیل کے ساتھ سپریم کورٹ پہنچے تھے۔سپریم کورٹ نے چھ جولائی تک ان کی گرفتاری پر روک لگاتے ہوئے مرکز، ہماچل پردیش سرکار اور پولیس کو نوٹس جاری کرکے کہا کہ دوا سے پوچھ تاچھ کے لیے انہیں 24 گھنٹے کا نوٹس دینا ہوگا۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

جموں وکشمیر کی نئی میڈیا پالیسی: انتظامیہ  طے کرے گی فیک نیوز اور ملک مخالف صحافیوں کی تعریف

دو جون کو جاری جموں وکشمیر کی نئی میڈیا پالیسی کے مطابق، سرکار اخباروں اور دوسرے میڈیا چینلوں پر آنے والے مواد کی نگرانی کر کےیہ طے کرےگی کہ کون سی خبر ‘فیک، اینٹی سوشل یا اینٹی نیشنل’ ہے۔ ایسا پائے جانے پر متعلقہ ادارے کو سرکاری اشتہار نہیں دیےجا ئیں گے، ساتھ ہی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔

AKI 13 May.00_52_14_05.Still008

میڈیا بول: سچ بولنا-لکھنا بھی جب جرم ہو جائے

ویڈیو: بی جے پی ترجمان نوین کمار کے ذریعےسینئر صحافی ونوددوا پر ‘فرضی خبر پھیلانے’ کا الزام لگایا گیا ہے۔ وہیں، بنگلور میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹرآکار پٹیل پرسوشل میڈیا پر ‘بھرکاؤ’پوسٹ کرنے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس مدعے پر سینئر صحافی ارملیش کا نظریہ

(فوٹو: پی ٹی آئی)

رویش کا بلاگ: صرف امید سے صحافت نہیں چلتی …

رپورٹنگ کی روایت کو اداروں کے ساتھ سماج نے بھی ختم کیا، وہ اپنی سیاسی پسندکی وجہ سے میڈیا اور جوکھم لےکر خبریں کرنے والوں کو دشمن کی طرح گننے لگا۔ کوئی بھی رپورٹر ایک آئینی ماحول میں ہی جوکھم اٹھاتا ہے، جب اسے بھروسہ ہوتا ہے کہ سرکاریں عوام کے ڈر سے اس پر ہاتھ نہیں ڈالیں گی۔

ونود دوا ، فوٹو: دی وائر

بی جے پی رہنما کی شکایت پر سینئر صحافی ونود دوا کے خلاف ایف آئی آر درج

بی جے پی ترجمان نوین کمار کے ذریعےسینئر صحافی ونوددوا پر ‘فرضی خبر پھیلانے’ کا الزام لگایا گیا ہے۔ وہیں، بنگلور میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹرآکار پٹیل پرسوشل میڈیا پر ‘بھرکاؤ’پوسٹ کرنے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔

انڈمان نکوبار کے صحافی  زبیر احمد(فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

انڈمان: غلط خبر پھیلانے کے الزام میں گرفتار صحافی  نے کہا، تکلیف دہ سوال پوچھنے کا نتیجہ

انڈمان نکوبار کے ایک آزاد صحافی زبیر احمد نے ٹوئٹر پر مقامی انتظامیہ سے پوچھا تھا کہ کووڈ 19 کے مریض سے فون پر بات کرنے پر لوگوں کو کورنٹائن کیوں کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ غلط جانکاری پھیلا رہے تھے۔

گوہر گیلانی ، فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر

جموں و کشمیر: ہائی کورٹ نے یو اے پی اے کے تحت ملزم  بنائے گئے صحافی کو عبوری راحت دینے سے انکار کیا

یو اے پی اے کے تحت ملزم بنائے گئے کشمیری صحافی اور قلکار گوہر گیلانی کی گرفتاری سے عبوری تحفظ اورایف آئی آر رد کرنے کی مانگ والی عرضی پرشنوائی کرتے ہوئے جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے سرکار کو نوٹس جاری کرکے 20 مئی سے پہلے جواب داخل کرنے کاحکم دیا۔

مسرت زہرہ، فوٹو بہ شکریہ فیس بک

جموں کشمیر: ملک مخالف پوسٹ کے الزام میں خاتون فوٹو جرنلسٹ کے خلاف یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج

واشنگٹن پوسٹ اور الجزیرہ جیسےانٹرنیشنل میڈیااداروں کے ساتھ کام کرنے والی 26 سالہ خاتون فوٹوجرنلسٹ مسرت زہرہ کشمیر کی دوسری صحافی ہیں جن پر یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں کے گوجر برادری کا الزام، تبلیغی جماعت کو لے کر چلی نفرت انگیز مہم کے بعد ہوا بائیکاٹ

جموں میں دودھ کا کاروبار کرنے والے گوجر برادری کا الزام ہے کہ دہلی میں ہوئے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شامل کئی لوگوں کے کو رونا سے متاثر پائے جانے کے بعد سے ان کو اس سے جوڑکر ‘نفرت انگیز مہم’ چلاتے ہوئے کہا گیا کہ وہ انفیکشن لا رہے ہیں اس لیے ان سے دودھ نہ خریدا جائے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

حکومت نے ریاستوں سے کہا: یقینی بنائیں کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا کام کاجاری رہے

تمام ریاستوں اور یونین ٹریٹری کے چیف سکریٹری کو لکھے خط میں وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ ٹی وی چینل اور نیوز ایجنسی مصدقہ اطلاعات پہنچانے کے بےحد ضروری ذرائع ہیں۔ جھوٹی اور فرضی خبروں سے بچنا ہوگا۔

فوٹو: رائٹرس

امریکی صحافی کو واپس بھیجنے سے متعلق  پرسار بھارتی کی خبر کو وزارت خارجہ  نے غلط بتایا

ملک کاعوامی نشریاتی ادارہ پرسار بھارتی نے ٹوئٹ کرکے کہا تھا کہ وزارت خارجہ نے امریکہ میں واقع ہندوستانی سفارت خانے سے ہندوستان مخالف رویے کو لے کر وال اسٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیائی ڈپٹی بیورو چیف ایرک بیل مین کو فوری اثر سے واپس بھیجنے کی ایک اپیل کو دیکھنے کے لیے کہا ہے۔ حالانکہ وزارت خارجہ کے ذرائع نے کہا کہ پرسار بھارتی نے غلط جانکاری دی۔

Don`t copy text!