Ministry of Human Resource Development

Narendra-Modi-Pareeksha-Pe-Charcha-PIB

رویش کا بلاگ: کیا وزیر اعظم کو نہیں معلوم  کہ ڈپریشن بورڈ اگزام کی وجہ سے نہیں تعلیمی صورت حال کی وجہ سے ہے

ملک کے سرکاری اسکولوں میں دس لاکھ اساتذہ نہیں ہیں۔ کالجوں میں ایک لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی کمی بتائی جاتی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں آٹھویں کے بچّے تیسری کی کتاب نہیں پڑھ پاتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ ڈپریشن سے گزریں‌گے کیونکہ اس کے ذمہ دار بچّے نہیں، وہ سسٹم ہے جس کو پڑھانے کا کام دیا گیا ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی (فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے پی آر کےدفتر  نہیں ہوتے

سی سی ایس جیسے قانون کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے مقاصد کو ہی تباہ کر دینا ہے۔اعلیٰ تعلیم میں ترقی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک خیالات کے لین دین کی آزادی نہ ہو۔اگر ان اداروں کا یہ رول ہی ختم ہو جائے تو اعلیٰ تعلیم کی ضرورت ہی کیا رہے‌گی؟ ٹیچر اور ریسرچ اسکالر سرکاری ملازم کی طرح عمل نہیں کر سکتے۔

Kancha_Ilaiah-wikipedia

کانچہ ایلیا کا انٹرویو؛ یونیورسٹی کوئی مذہبی ادارہ نہیں، جہاں ایک ہی طرح کی مذہبی فکر پڑھائی جائے

انٹرویو: دہلی یونیورسٹی کے ایم اے کے نصاب سے مصنف اور مفکر کانچہ ایلیا شیفرڈ کی کتاب ہٹانے کی تجویز پر ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی الگ الگ خیالات کو پڑھانے، ان پر بحث کرنے کے لئے ہوتی ہیں، وہاں سو طرح کے خیالات پر بات ہونی چاہیے۔ یونیورسٹی کوئی مذہبی ادارہ نہیں ہیں، جہاں ایک ہی طرح کے مذہبی افکار پڑھائے جائیں۔

فوٹو: پی ٹی آئی

بہار : جن طلبہ کو کالج میں ہونا چاہیے، وہ پولیس کے ڈنڈے کھا رہے ہیں

بہار میں انٹرمیڈیٹ کے رزلٹ کو لےکے ہنگامہ مچا ہوا ہے۔ تمام طلبہ و طالبات کے رزلٹ میں گڑبڑی سامنے آئی ہیں۔ امتحان میں شامل ہونے کے بعد بھی کئی طالب علموں کو غیرحاضر کر دیا گیا، وہیں کچھ کو کل نمبر سے بھی زیادہ نمبر دے دئے گئے ہیں۔