Mob Lynching in India

فوٹو : سوشل میڈیا

آچاریہ کر پلانی کو ہمیں کیوں یاد کرنا چاہیے؟

1977 میں اندرا کی مخالفت میں کرپلانی نے یہ صاف کردیا تھا کہ اظہار رائےکی آزادی صرف دانشوروں کی ضرورت نہیں بلکہ غربا اور مظلوموں کی بھی اہم ضرورت ہے۔ وہ آمرانہ حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر احتجاج کے لیے آمادہ کرنےمیں بھی یقین رکھتےتھے۔

راجستھان کے الور میں گئو تسکری کے شک میں پیٹ پیٹ کر مار دیے  گئے اکبر خان۔ (فوٹو : جیوتی یادو / دی وائر)

کیا پولیس اکبر خان کے قتل کے ملزمین کو بچا رہی ہے؟

الور ماب لنچنگ معاملے میں پولیس کی طرف سے داخل ادھوری چارج شیٹ نہ صرف جیل میں بند ملزمین کے لئے قانونی طور پر مفید ہے، بلکہ اس سے یہ بھی صاف ہوتا ہے کہ پولیس کا باقی ملزمین کو پکڑنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

فوٹو: ٹوئٹر

ہاپوڑ ماب لنچنگ میں مارے گئے قاسم کے بھائی پر جان لیوا حملہ

قاسم کے بھائی نے شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی گارڈ کے ساتھ غازی آباد کے مسوری سے ہوتے ہوئے ہاپوڑ جا رہا تھا۔ اسی دوران نیشنل ہائی وے 24 پر ایک گاڑی نے سکیورٹی گارڈ اور قاسم کے بھائی کو کچلنے کی کوشش کی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

ماب لنچنگ کے خلاف قانون : کمیٹی نے راجناتھ سنگھ کی صدارت والے وزیروں کے گروپ کو رپورٹ سونپی

گزشتہ ایک سال میں 9ریاستوں میں تقریباً 40لوگوں کو بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مار دیا ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اس پر قانون بنانے کی ہدایت دی تھی۔

ہنس راج اہیر/ فوٹو: پی ٹی آئی

مرکزی حکومت ماب لنچنگ کے خلاف موت کی سزا کا اہتمام والا بل لائے گی: ہنس راج اہیر

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ ہنس راج اہیر نے کہا پیٹ پیٹ کر قتل کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ کوئی بھی مہذب سماج اس کو قبول نہیں کرے گا۔ مرکزی حکومت اس معاملے میں موت کا اہتمام والا بل جلد ہی پیش کرے گی۔

Collage_muslim-Mob-Violence

کیا بیف کے بہانے آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار ماب لنچنگ کو جائز ٹھہرا رہےہیں؟

اندریش کماراور ان جیسوں کے رد عمل پر حیرت نہیں ہوتی لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن اور حدیث کا حوالہ دے کر جھوٹ گڑھ رہے ہیں اور ان کے ارد گرد بیٹھے مدرسوں کے فارغین عالم فاضل لوگ خاموش ہیں تو حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہوتا ہے۔

اکبر خان (فوٹو : جیوتی یادو)

الور ماب لنچنگ : کیا تشدد روکنے کے نام پر سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے؟

الور قتل معاملے میں تو ایک نیا پینترا بھی سامنے آیا۔ وہ یہ کہ گاؤں والوں نے پولیس کو اور پولیس نے گاؤں والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔ درحقیقت یہ پورا کھیل کیس کو قانونی طور پر کمزور کرنے کا ہے۔

بستر پر نڈھال پڑی اکبر کی بیوی اسمینہ اور ان کے بغل میں بیٹھی اکبر کی ماں حبیبن /(فوٹو: دی وائر)

اکبر کے گاؤں سے گراؤنڈ رپورٹ: یقین و اعتماد کی ٹوٹتی سانسیں اور انصاف کی امید

اکبر خان اپنے گھر کے اکیلے کمانے والے تھے، اب ان کے 60 سال کے والد پر بیمار بہو، بزرگ بیوی، 7 پوتے پوتیوں اور 5 گایوں کی ذمہ داری ہے۔ بیٹے کی موت نے ان کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ وہ کسی پر یقین نہیں کر پا رہے ہیں۔ ہر ملنے آنے والے سے بس یہی پوچھ رہے ہیں کہ کہیں کوئی جگہ ہے جہاں انصاف کی فریاد کی جا سکے۔

اکبر خان (فوٹو : جیوتی یادو)

اکبر کے گاؤں سے گراؤنڈ رپورٹ : ’میٹ ہی بیچنا ہوتا تو اکبر 60 ہزار کی گائے نہیں خریدتا ‘

اکبر کا نام ‘ رکبر ‘ نہیں، اکبر ہی ہے۔ جب وہ اپنا آدھار بنوانے گئے تھے، تو بنانے والا میواتی سمجھ نہیں پایا اور ان کا نام ‘ رکبر ‘ لکھ دیا۔ چچا زاد بھائی نے بتایا کہ اس کو آدھار میں نام ٹھیک کروانے کا کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ 7 بچّوں کا پیٹ پالنے والے آدمی نے سسٹم کا دیا نام قبول کر لیا۔

فوٹو: اے این آئی

لوگ بیف کھانا چھوڑ دیں تو رک سکتی ہے ماب لنچنگ :  آر ایس ایس رہنما

آر ایس ایس رہنما اندریش کمار نے رانچی میں سوموار کو ایک پروگرام میں کہا کہ’ماب لنچنگ کو صحیح نہیں ٹھہرایا جا سکتا لیکن اگر لوگ بیف کھانا چھوڑ دیں تو ‘شیطانوں’کے ذریعے کیے جانے والے اس طرح کے جرائم کو روکا جا سکتاہے۔’

فوٹو: اے این آئی

راجستھان: الور میں گئو تسکری کے شک میں ایک شخص کی ماب لنچنگ

گزشتہ شب مبینہ طور پربھیڑ نے اکبر نام کے ایک آدمی کوگائے اسمگلنگ کے شک میں پیٹ پیٹ کر مارڈالا۔پولیس جائے واردات پر پہنچ کر معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔سراغ کے لیے پولیس کھوجی کتوں کا بھی سہارا لے رہی ہے۔

Photo: Facebook

کیا ماب لنچنگ کے خلاف قانون بنانا مسئلے کا حل ہے ؟

ایڈوائزری میں دو دن قبل جاری عدالتی حکم کی جھلک بھی تھی۔مگر جو ہوشیاری حکومت نےکی تھی کہ اس میں گئو رکشکوں ذکر نہیں تھا۔سارا زور صرف بچہ چوری کی افواہوں پر تھا،حیرت ہےکہ سپریم کورٹ نے حکومت کی اس ہوشیاری کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔

سمیع الدین / فوٹو : ہفنگٹن پوسٹ

ہاپوڑ لنچنگ کے عینی شاہد کا الزام ؛ پولیس قاسم کے قاتلوں سے ملی ہوئی ہے

ہاپوڑلنچنگ معاملے میں زخمی سمیع الدین نے کہا ؛ وہ قاسم اور ان پر تشدد کرنے والوں کو پہچانتے ہیں اور ان میں سے کچھ کے نام بھی جانتے ہیں لیکن گزشتہ ایک مہینے میں پولیس کے کسی افسر نے ان سے بات چیت نہیں کی ہے۔