Modi Govt

 (فوٹو: پی ٹی آئی)

گجرات: سرکاری اعداد و شمار میں کووڈ سے 10 ہزار موت، معاوضے کے لیے 90 ہزار درخواستیں

گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے کورونا متاثرین کے ذریعے معاوضے سےمتعلق 68370 دعووں کو منظوری دی ہے، حالانکہ اپنے سرکاری اعداد و شمار میں حکومت نے کووڈ 19 سے ہوئی موتوں کی تعداد 10094 ہی بتائی ہے۔

 جسٹس آر ایف نریمن(فوٹو : یوٹیوب)

مقتدرہ جماعت نہ صرف ہیٹ اسپیچ پر خاموش ہیں، بلکہ اس کو بڑھاوا بھی دے رہے ہیں: جسٹس نریمن

سپریم کورٹ کے سابق جج روہنٹن نریمن نے لاء کالج کے ایک پروگرام میں کہا کہ اظہار رائے کی آزادی سب سے اہم انسانی حق ہے، لیکن بدقسمتی سے آج کل اس ملک میں نوجوان، طالبعلم، کامیڈین جیسےکئی لوگوں کی جانب سےحکومت کی تنقیدکیے جانے پر نوآبادیاتی سیڈیشن قانون کے تحت معاملہ درج کیا جا رہا ہے۔

ڈی ڈی اردو السٹریشن: دی وائر

ملازمین کا دعویٰ؛ اُردو نیوز بلیٹن کی تعداد کم کرنے کے معاملے میں پرسار بھارتی کی ’تردید‘ گمراہ کن  

دی وائر نے مرکزی ڈی ڈی اُردو چینل پر بلیٹن کے گھٹائے جانے کے بارے میں ویڈیو اسٹوری کی تھی، اس پر جواب دیتے ہوئے پرسار بھارتی نے اُردو بلیٹن سے متعلق ایک ایسی فہرست پیش کی ہے جو نیٹ ورک کے دوسرے چینلوں پر نشر ہو رہے ہیں۔

1301 Mukul Mono.00_09_08_20.Still006

کیا پرسار بھارتی اُردو  کو نظر انداز کر رہی ہے؟

ویڈیو: کووڈ-19 سے پہلے ڈی ڈی نیوز اورآل انڈیا ریڈیو، دونوں سے اردو کے دس بلیٹن نشر ہو رہے تھے۔ 2020 میں مہاماری کی پہلی لہر کے دوران کووڈ پروٹوکول کی وجہ سے ہندی، انگریزی، اردو ڈیسک پر بلیٹن کی تعداد کم کردی گئی تھی۔ بعد میں تمام زبانوں میں پروگرام بحال کر دیے گئے، لیکن ڈی ڈی نیوز پر اردو کے صرف دو اور آل انڈیا ریڈیو پر تین بلیٹن شروع کیے گئے۔

IMG-20220111-WA0014

اتر پردیش اسمبلی انتخاب: بی جے پی کو لگ سکتے ہیں مزید جھٹکے !

ویڈیو: اتر پردیش میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے کئی وزراء کےاسمبلی انتخاب سے قبل استعفیٰ دینے کے معاملے پرسینئر صحافی برجیش شکلا، منوج سنگھ اور دی وائر کے اجئے آشیرواد کے ساتھ عارفہ خانم شیروانی نےکی بات چیت۔

IMG-20220111-WA0016

یوگی یا مودی؛ اتر پردیش انتخاب کی کمان کس کے ہاتھ؟

ویڈیو: اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب سے قبل اچانک ایک بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا ہے۔ چیف سکریٹری آر کےتیواری کو ہٹانےکے بعد سینٹرل ڈیپوٹیشن پر ہاؤسنگ اور شہری ترقی کی وزارت میں سکریٹری کے طور پرتعینات درگاشنکرمشرا کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔کیایہ مانا جائے کہ نریندر مودی نے انتخاب کی کمان اپنے ہاتھ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،سینئر صحافی شرت پردھان کا نظریہ۔

میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک وزیر اعظم نریندر مودی کےہمراہ۔ (فائل فوٹو بہ شکریہ: پی ایم او انڈیا/ٹوئٹر)

میں نے پی ایم مودی سے کہا کہ 500 کسان مر گئے  تو وہ بولے کیا میرے لیے مرے-ستیہ پال ملک

ہریانہ کے دادری میں میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ جب وہ زرعی قوانین کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے تب ‘وہ بہت گھمنڈ میں تھے’۔ملک نے یہ بھی کہا کہ آنے والے دنوں میں بھی اگر حکومت کسانوں کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گی تو وہ اس کی مخالفت کریں گے اور اپنا عہدہ چھوڑنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

WhatsApp Image 2021-12-18 at 20.37.49 (1)

کیا حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے ہوا 4600 کروڑ روپے کے دال کا گھوٹالہ؟

ویڈیو: حال ہی میں دال مل مالکان کے 4600 کروڑ روپے کے گھپلے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ انکشاف دو صحافیوں نتن سیٹھی اور شری گیریش نے کیا ہے۔ ان کی رپورٹ کے مطابق مل مالکان حکومت کو ناقص معیارکی دالوں کی فراہمی کے لیےذمہ دار تھے۔اس معاملے پر دونوں صحافیوں سےدی وائر کے اندر شیکھر سنگھ کی بات چیت۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

لیبر فورس کی شرکت کی شرح میں کمی کو ملک کے پالیسی ساز نظر انداز نہیں کر سکتے

روزگار کی شرح یالیبر فورس کی شرکت کا تناسب اس بات کا ایک پیمانہ ہے کہ معیشت میں کتنے روزگار کے اہل لوگ اصل میں نوکری کی تلاش میں ہیں۔سی ایم آئی ای کےمطابق،ہندوستان کے لیبر فورس کی شرکت کا تناسب مارچ 2021 میں41.38 فیصدی تھا (جو کہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے بالکل قریب ہے)لیکن گزشتہ ماہ یہ گر کر 40.15 فیصدی رہ گیا۔

گولی باری کے خلاف احتجاج کا اسکرین شاٹ۔ (تصویر: ٹوئٹر/@JKUTNEWS1)

کشمیر: انکاؤنٹر کے خلاف احتجاج اور ملک مخالف نعرے لگانے کے الزام میں ماں بیٹی گرفتار

جموں و کشمیر کی راجدھانی سری نگر کے رنگ ریتھ علاقے میں گزشتہ13 دسمبر کوہوئی گولی باری میں دو دہشت گرد مارے گئے تھے۔اس کے خلاف خواتین نےمظاہرہ کیاتھا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں اور ان ہلاکتوں کے حوالے سے سرکاری بیانات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

مئی2021 میں اتر پردیش کے زیور کے میولا گوپال گڑھ گاؤں میں اپنی بیمار ماں کے ساتھ دینیش کمار۔ (فوٹو: رائٹرس)

اتر پردیش حکومت کا دعویٰ-دوسری لہر کے دوران آکسیجن کی کمی سے کسی کی موت نہیں ہوئی

مرکز کی مودی حکومت نے گزشتہ ماہ جولائی میں پارلیامنٹ کو بتایا تھا کہ ریاستی حکومتوں اور یونین ٹریٹری نے بالخصوص آکسیجن کی کمی کی سے کسی بھی موت کی اطلاع نہیں دی ہے۔حالاں کہ ایک ماہ بعد اگست میں پہلی بار مرکز نے اعتراف کیا تھاکہ آکسیجن کی کمی کے باعث کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی موت ہوئی۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

ماب لنچنگ میں ہلاک یا زخمی ہوئے لوگوں کے بارے میں الگ سے کوئی اعداد و شمار نہیں: حکومت

ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی جواہر سرکار نے پوچھا تھا کہ ملک میں پچھلے پانچ سالوں میں کتنے مسلمانوں اور دلتوں پر بھیڑ نے سرعام حملہ کیا یا ان کو شدید طور پر زخمی کیا،اورجن کی اس وجہ سے موت ہوگئی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانندرائےنے پارلیامنٹ کو بتایا کہ پولیس اورپبلک آرڈر ریاست کے موضوع ہیں۔

(فوٹو: رائٹرس)

مرکزی حکومت کے نیلامی ضابطوں کی وجہ سے دال مل مالکان کو بھاری منافع ہوا

خصوصی رپورٹ: دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ سرکاری ملکیت والی این اے ایف ای ڈی کی نیلامی کےعمل میں تبدیلیوں کے باعث مل مالکان کو گزشتہ چار سالوں میں5.4 لاکھ ٹن خام دالوں کی پروسسنگ کےلیے کم از کم 4600 کروڑ روپے کا منافع ہوا۔ اس سے سرکاری خزانے کا شدیدنقصان ہوا اور ممکنہ طور پر دالوں کی کوالٹی بھی متاثر ہوئی۔

1312 UPSC Protest.00_00_02_11.Still001

جنتر منتر پر ہڑتال پر بیٹھے یو پی ایس سی کے شرکاء

ویڈیو: کورونا وائرس کی وبا نے ملک کے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔مقابلہ جاتی امتحانات میں حصہ لینے والے بھی اس سے اچھوتے نہیں ہیں۔ انہی میں سے ایک دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ امتحان میں شرکت کا ایک اور موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے وہ امتحان کی تیاری نہیں کر سکے اور انہیں حکومت سے انصاف ملنا چاہیے۔

(علامتی تصویر، فوٹو: رائٹرس)

وزارت صحت نے مہلوکین کو بھی کورونا ٹیکہ کاری کا سرٹیفکیٹ جاری کیا: رپورٹ

معاملہ مدھیہ پردیش کے گوالیار ضلع کا ہے، جہاں کے رہنے والے اکشے بھٹناگر نے بتایا کہ مئی میں کوروناانفیکشن کی وجہ سے ان کے بھائی گزر گئے تھے، لیکن وزارت صحت کی جانب سے دسمبر میں آئے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ان کے بھائی کو ٹیکے کی دوسری خوارک لگ گئی ہے۔

کرن تھاپر اورانجلیک کوٹزی۔ (فوٹو: دی  وائر)

کووڈ 19: اومیکران اس وقت زیادہ باعث تشویش نہیں ہے: جنوبی  افریقی میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر

جنوبی افریقی میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدرانجلیک کوٹزی نے کہا کہ کورونا وائرس کے اس نئے ویرینٹ کے مریضوں میں ہلکی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ حالانکہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس کے سنگین معاملے آ سکتے ہیں۔

rohtak.00_14_14_14.Still004

کسانوں کی تحریک: ’زندہ کسانوں کی بات نہ سننے والی حکومت مہلوک کسانوں کی بات کیا سنے گی‘

ویڈیو: ایک سال سے جاری کسانوں کی تحریک میں کسانوں نے بہت کچھ کھویا ہے۔اس دوران تقریباً700سے زیادہ کسانوں کی موت ہوئی، کسی نے خودکشی کی تو کسی کی بیماری کی وجہ سے جان گئی ۔ تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کے پسماندگان سے بات چیت۔

2411 GONDI.00_14_41_06.Still005

ان داتا کو دہشت گرد بتانے والے میڈیا کو کسانوں نے کیا کہا

ویڈیو: دی وائر نے زرعی قوانین کو واپس لینے کے بعد مین اسٹریم میڈیا کے یو ٹرن پر دہلی کی ٹکری بارڈر پر مظاہرہ کر رہے کسانوں سے بات کی۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جس میڈیا نے انہیں دہشت گرد، خالصتانی، غدار کہا، انہیں ان کا سامنا کرنا پڑےگا۔

Capture

راکیش ٹکیت کا چیلنج: ایم ایس پی پر قانون نہیں تو جاری رہے گی کسانوں کی تحریک

ویڈیو: اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں گزشتہ دنوں ہوئے سنیکت کسان مورچہ کی مہاپنچایت میں بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے تحریک کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی بھی کئی مدعے ہیں، جن کے حل کے بعد ہی تحریک کا خاتمہ ہوگا۔

Synced Sequence.00_54_05_24.Still003

ایم ایس پی کو قانونی طور پر نافذ کرنا چاہیے: کسان لیڈر جوگندر سنگھ اگراہاں

ویڈیو: کسان لیڈر جوگندر سنگھ اگراہاں کا کہنا ہے کہ جب تک ایم ایس پی قانون پوری طرح سے نافذ نہیں ہو جاتا تب تک کسانوں کے مطالبات پورا نہیں ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایم ایس پی کی گارنٹی ملنے تک تحریک جاری رہےگی۔

IMG-20211122-WA0029

لکھنؤ کسان مہاپنچایت: ’ہم پر ظلم کرنے والے اب ہاتھ جوڑ رہے ہیں‘

ویڈیو: گزشتہ 22 نومبر کو اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے ایکو گارڈین میں کسان مہاپنچایت ہوئی، جس میں ملک کے کونے کونے سے کسانوں نے حصہ لیا۔اس دوران سنیکت کسان مورچہ نے صاف کر دیا کہ کسانوں کی تحریک جاری رہےگی۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر)

زرعی قانون: کسان کئی محاذ پر جیتے اور میڈیا ہر مورچے پر ہارا …

زرعی قوانین کو اس لیے واپس نہیں لیا گیاکہ وزیر اعظم‘کچھ کسانوں کو یقین دلانے میں ناکام’رہے، بلکہ اس لیے واپس لیا گیا کہ کئی کسان مضبوطی سے کھڑے رہے، جبکہ بزدل میڈیا ان کے خلاف ماحول بناکر ان کی جدوجہد اور طاقت کو کمتربتاتا رہا۔

Nested Sequence 01.00_10_17_21.Still001

زرعی قانون: ’ہم نے اس تحریک میں کچھ نہیں پایا، صرف کھویا ہے‘

ویڈیو: وزیر اعظم نریندر مودی کےتین زرعی قانون واپس لینے کےاعلان کے بعد دہلی کے ٹکری بارڈر پر موجودکسان خوش تو نظر آئے لیکن یہ جیت اور ہار کا ملا جلااحساس تھا۔ کسانوں نے کہا کہ انہوں نے اس تحریک کے دوران بہت کچھ کھویا ہے۔ ان کسانوں سے بات چیت۔

ٹائمز گروپ ایونٹ میں کنگنا رناوت۔(فوٹو کریڈٹ:اسکرین گریب/ٹائمز ناؤ)

کنگنا کی زبان درازی کے پس پردہ کون ہے؟

کہتے ہیں کہ آر ایس ایس کےہزار ہزاربازو اور ہزار ہزار منہ ہیں۔ان ‘ہزار ہزار منہ’میں بی جے پی ایم پی ورون گاندھی کو چھوڑ دیں تو کنگنا کے معاملے پر خاموشی اختیار کرنےکو لےکرزبردست اتفاق رائے ہے۔ پھر اس نتیجہ تک کیوں نہیں پہنچا جا سکتا کہ کنگنا کا منہ بھی ان ہزاروں منہ میں ہی شامل ہے؟

ٹکری بارڈر پر جشن مناتے کسان۔ (فوٹو: یاقوت علی/دی وائر)

آخر کیوں کسانوں کی تحریک نے مودی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا؟

مرکزی حکومت کسانوں کی مانگوں کے سامنے جھکنےکو تیار نہیں تھی، خود وزیر اعظم نے پارلیامنٹ میں مظاہرین کو توہین آمیز طریقے سے‘آندولن جیوی’ کہا تھا۔ بی جے پی کی مشینری نے ہر قدم پر تحریک کو بدنام کرنے اور کچلنے کی کوشش کی،لیکن کسان تحریک کو جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہے۔

لکھیم پورتشدد میں مارے گئے کسانوں کو خراج تحسین پیش کرتے کسان۔ (فوٹو: عصمت آرا/دی وائر)

لکھیم پور کھیری تشدد کے متاثرین نے زرعی قانون کی منسوخی پر کہا-آدھی لڑائی جیتے، انصاف باقی

لکھیم پورکھیری میں ہوئےتشددکےدوران جان گنوانے والے کسانوں اور صحافی رمن کشیپ کے پسماندگان نے زرعی قانون رد ہو جانے کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ اجئےمشرا کو برخاست کرنے کی مانگ کی ہے۔

modi-minister-farmer-protest

نریندر مودی نے زرعی قانون واپس لے لیے، لیکن بی جے پی کسان مخالف بیان کب واپس لے گی؟

جب سے کسانوں نے زرعی قوانین کےخلاف دہلی کی سرحدوں پر احتجاجی مظاہرہ شروع کیا تھا، تب ہی سے بی جے پی لیڈروں سے لےکرمرکزی وزیروں تک نے کسانوں کو دھمکانے اور انہیں دہشت گرد، خالصتانی، نکسلی، آندولن جیوی،شرپسندجیسےنام دےکر انہیں بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔

غازی پور بارڈر پرزرعی قانون واپس لیے جانے کے فیصلے پر جشن مناتے کسان۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سنگھو، ٹکری اور غازی پور بارڈر ہندوستانی جمہوریت کے سفر کے سنگ میل ہیں

کسانوں کی تحریک اس کاجیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اگرمقصد واضح ہو تو اختلاف رائےکے باوجودمشترکہ جد وجہد کی جا سکتی ہے۔ سنیکت کسان مورچہ نے ایک لمبے عرصے بعد مشترکہ جدجہدکی پالیسی کو عملی جامہ پہنایا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سےزرعی قوانین کو رد کرنے کےاعلان کےبعد غازی پور بارڈر میں کسان ایک دوسرے کو مٹھائی کھلاتے ہوئے۔ (فوٹو: رائٹرس)

زرعی قانون واپس لیے جانے کو اپوزیشن نے سرکار کا گھمنڈ ٹوٹنا بتایا، کہا-کسانوں کی جیت

تین متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لیے جانےکےقدم کا مختلف کسان تنظیموں اور اپوزیشن کے لیڈروں نے خیرمقدم کیا ہے۔ بی کے یو کے لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ پارلیامنٹ میں قانون کے رد ہونے کے بعد ہی وہ تحریک کو واپس لیں گے۔ وہیں کانگریس نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے پوچھا کہ قوانین کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کی جان جانے کی ذمہ داری کون لےگا۔

نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: اسکرین گریب)

وزیر اعظم نریندر مودی نے تین متنازعہ زرعی قانون کو رد کیا، کہا-کھیتوں کو لوٹیں کسان

گرونانک کے یوم پیدائش پر ملک کے نام خطاب میں وزیر اعظم نریندرمودی نے ایک سال سے زیادہ سے تنازعہ میں گھرےتین زرعی قوانین کو واپس لیے جانے کااعلان کرتے ہوئے کہا،‘میں ملک سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ لگتا ہے کہ ہماری کوششوں میں کچھ کمی رہ گئی ہے،جس کی وجہ سے ہم کچھ کسانوں کو سچائی سمجھا نہیں سکے۔’

(السٹریشن: دی وائر)

ڈوبھال اور راوت کے حالیہ بیانات میں ملک  کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ نظر آتا ہے

گزشتہ ہفتے نریندر مودی حکومت کےدو ذمہ دارافرادقومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے وسیع تر قومی مفاد کے نام پر قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کو جائز ٹھہرانے کے لیے نئی تھیوری کی تشکیل کی کوشش کی ہے۔

1311 HKB.00_11_54_12.Still002

راہل گاندھی: ہندو دھرم بنام ہندوتوا

ویڈیو: کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بیان دیا ہے کہ جب آپ کے پاس ہندو دھرم ہے تو ہندوتوا کی کیا ضرورت ہے۔اس بیان نے ہندوتوا بنام ہندو دھرم کے پرانے مدعے کو ایک بار پھر بحث میں واپس لا دیا ہے۔ دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی نے اس ویڈیو میں اس موضوع پرتفصیل سے بات کی ہے۔

12 November 2021.00_18_27_23.Still001

کنگنا رناوت: ہندوتوا کی پوسٹر گرل

ویڈیو: گزشتہ دنوں اداکارہ کنگنا رناوت نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ہندوستان کو ‘1947 میں آزادی نہیں، بلکہ بھیک ملی تھی’ اور ‘آزادی 2014 میں ملی ہے’، جب نریندر مودی حکومت اقتدار میں آئی۔ پہلے بھی متنازعہ بیان دیتی رہیں کنگنا کے اس بیان سے ایک بار پھر نیاتنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔

فرانس میں داسو ایویشن کی فیکٹری میں رافیل ہوائی جہاز (فوٹو : رائٹرس)

رافیل سودے سے متعلق ان پانچ بڑے سوالوں کا جواب مودی حکومت  کو ضرور دینا چاہیے

مودی حکومت کے پاس داسو ایوی ایشن کے ساتھ سودے پر سوال اٹھانے کے لیےخاطرخواہ ثبوت تھے۔ ایسے میں یہ سودا کیوں ہوا؟ اگر پچھلی یو پی اےحکومت میں رشوت ملی تھی، تو داسو کو بلیک لسٹ میں کیوں نہیں ڈالا گیا؟

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: پی ایم کیئرس فنڈ سے سری نگر کے اسپتال کو ملے 165 وینٹی لیٹرس خراب نکلے

سری نگرواقع شری مہاراجہ ہری سنگھ ہاسپٹل کو پی ایم کیئرس فنڈ سے تین کمپنیوں نے 165 وینٹی لیٹرس دیے تھے، جس میں سے کوئی بھی کام نہیں کر رہا ہے۔ ان تین میں سے دوکمپنیوں پر وینٹی لیٹر کے معیار کو لےکر پہلے بھی سوال اٹھ چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس یونین ٹریٹری کی جانب سے ان وینٹی لیٹرس کی مانگ نہیں کی گئی تھی۔

SK9A7671.00_13_13_14.Still002

’مودی جی ٹیکے کی سینچری منا رہے ہیں،  پٹرول کی سینچری کیوں نہیں منا رہے ہیں‘

ویڈیو: وزیراعظم نریندرمودی اس وعدے کےساتھ اقتدار میں آئے تھے کہ اگر ان کی سرکار بنی تو لوگوں کو پٹرول کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ دیکھنے کو ملے گی۔سات سال ہو گئے ہیں لوگ سی این جی کی دوگنی قیمت ادا کررہے ہیں، پٹرول نے 100روپے کا اعدادوشمار پار کر لیا ہے اور ڈیزل کی قیمت دوگنی ہو چکی ہے۔ پٹرول ڈیزل اور سی این جی کی بڑھتی قیمتوں کو لےکر دہلی کے لوگوں سے بات چیت۔

دشا روی۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ٹول کٹ کیس: دشا روی کے خلاف جانچ میں کچھ ملا نہیں، پولیس فائل کر سکتی ہے کلوزر رپورٹ

دہلی پولیس نے ماحولیاتی کارکن دشا روی کو کسانوں کے مظاہرہ کی حمایت کرنے والے ٹول کٹ کو شیئر کرنے میں مبینہ رول کی وجہ سے 14 فروری کو بنگلورو سے گرفتارکیا تھا۔ ان پر 26 جنوری کو کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران ہوئےتشدد کے سلسلے میں سیڈیشن اور مجرمانہ سازش کی دفعات لگائی گئی تھیں۔

Don`t copy text!