Narendra Modi

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال۔ (فوٹو کریڈٹ: Facebook/@/AAPkaArvind)

پی ایم مودی کے ’مفت کی ریوڑی‘ والے بیان پر کیجریوال بولے- ایسا کہنے والے ملک کے غدار ہیں

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ماہ لوگوں کو ووٹ کے لیےمفت تحفہ دینے کو ‘ریوڑی کلچر’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ملک کی ترقی کے لیے بہت خطرناک ہے۔ اب دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ عام شہریوں کو مفت تعلیم، صحت اور بجلی فراہم کرنے میں غلط کیا ہے؟

نریندر مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ۔ (فائل فوٹو/السٹریشن: دی وائر)

کیا ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی ختم ہو چکی ہے …

گزشتہ دنوں یوپی میں عمل میں آئی دو گرفتاریوں سے واضح ہے کہ اظہار رائے کی آزادی اب باقی نہیں رہی۔ یا پھر جیسا کہ عیدی امین نے ایک بار کہا تھا کہ ، بولنے کی آزادی توہے، لیکن ہم بولنے کے بعد کی آزادی کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

گجرات فسادات: سیتلواڑ اورسری کمار کے بعد ایس آئی ٹی نے سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ کو گرفتار کیا

سنجیو بھٹ دیگر معاملات میں سال 2018 سے پالن پور جیل میں ہیں۔ ان کی گرفتاری ٹرانسفر وارنٹ کے ذریعےہوئی ہے۔ 2002 کے گجرات فسادات کے معاملے میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو کلین چٹ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا تھا، جس کی بنیاد پر احمد آباد پولیس نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ اور سابق آئی پی ایس افسران آر بی سری کمار اور سنجیو بھٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔

(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

یوپی: الہ آباد میں ’بائے بائے مودی‘ لکھا ہورڈنگ دیکھا گیا، پانچ گرفتار

الہ آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تلنگانہ کی حکمراں جماعت ٹی آر ایس سے وابستہ ایک شخص نے مقامی ایونٹ کمپنی کو ہورڈنگ لگانے کا ٹھیکہ دیا تھا۔معاملے میں ایونٹ کمپنی کے ڈائریکٹر کے علاوہ پوسٹر چھاپنے اور ہورڈنگ لگانے والے شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

اتوار کو احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ کے افسران نے سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ کو میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

گجرات: عدالت نے تیستا سیتلواڑ اور سابق ڈی جی پی سری کمار کو دو جولائی تک پولیس حراست میں بھیجا

احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ نے 25 جون کو سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ اور گجرات کے دو آئی پی ایس افسران آر بی سری کمار اور سنجیو بھٹ کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔ ان تینوں پر گجرات فسادات کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی کو گمراہ کرنے کی سازش کرنے کا الزام ہے، یہ ایس آئی ٹی گجرات فسادات اور وزیر اعلیٰ کے طور پر نریندر مودی کے رول کی تحقیقات کر رہی تھی، اگر اس میں ان کا کوئی رول تھا۔

AKI 26.00_34_21_13.Still002

گجرات فسادات: سپریم کورٹ سے مودی کو کلین چٹ اور تیستا سیتلواڑ کی گرفتاری کے کیا معنی ہیں

ویڈیو: سال 2002 میں گجرات کے مسلم مخالف تشدد میں نریندر مودی کو کلین چٹ دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کی جانب سے ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کیے جانے کے ایک دن سے بھی کم کی مدت میں ریاستی اے ٹی ایس نے عرضی گزاروں میں سے ایک تیستا سیتلواڑ کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن اور سماجی کارکن شبنم ہاشمی سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ۔  (فوٹو : تیستا سیتلواڑ فیس بک)

گجرات فسادات میں نریندر مودی کے رول کی جانچ کا مطالبہ کرنے والی تیستا سیتلواڑ گرفتار  

تیستا سیتلواڑ کے این جی او نے گجرات فسادات کے دوران گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں مارے گئے کانگریس ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی قانونی لڑائی کے دوران حمایت کی تھی۔ احمد آباد پولیس کی کرائم برانچ کی جانب سے درج معاملے میں تیستا کے علاوہ آئی پی ایس افسرسنجیو بھٹ اور آر بی سری کمار کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔

ذکیہ جعفری۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نریندر مودی اور دیگر کو کلین چٹ: ذکیہ جعفری کے بیٹے نے کہا – سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوس ہوں

ذکیہ جعفری کے شوہراور کانگریس کے ایم پی رہے احسان جعفری 28 فروری 2002 کو احمد آباد میں گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں مارے گئے 68 افراد میں شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو ذکیہ کی عرضی خارج کر دی۔سپریم کورٹ 5 اکتوبر 2017 کو ہائی کورٹ کی میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی اپیل کی سماعت کر رہی تھی، جس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور 63 دیگر کو گجرات فسادات سے متعلق معاملوں میں کلین چٹ دےدی گئی تھی۔

ذکیہ جعفری اور نریندر مودی/فوٹو: پی ٹی آئی

گجرات فسادات: ذکیہ کی عرضی خارج؛ سپریم کورٹ نے مودی اور دیگر کو دی گئی کلین چٹ کو برقرار رکھا

ذکیہ جعفری کے شوہراور کانگریس ایم پی احسان جعفری 28 فروری 2002 کو احمد آباد میں گلبرگ سوسائٹی میں مارے گئے 68 لوگوں میں شامل تھے۔ 2017 میں ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلےبرقرار رکھا تھا جس میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور 63 دیگر کو فسادات سے متعلق معاملات میں کلین چٹ دی گئی تھی۔

جمعہ کو دھنباد میں ریلوے ٹریک پر اگنی پتھ اسکیم  کے خلاف احتجاج میں بیٹھے نوجوان۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

رویش کمار کا بلاگ: اگنی ویروں! ’آپ لڑنے لائق نہیں بچے ہیں، فرقہ پرستی آپ کے اندر کی شہری زبان ختم کر چکی ہے‘

نوکریوں کے سلسلے میں نوجوانوں کا کوئی بھی مظاہرہ صرف ان کی اپنی نوکریوں کے لیے ہے۔ اس لیے نوکری اور نوجوانوں کا مبینہ غصہ سیاسی ایشو ہوتے ہوئے بھی ووٹ کا ایشو نہیں۔ جس لڑائی کو آپ لڑنے چلے ہیں، اس کو آپ بہت پہلے روند چکے ہیں۔ آپ نےدوسروں کی ایسی بہت سی لڑائیاں ختم کی، میدان تک ختم کر دیے۔ اب جب کہ میدان دلدل میں بدل گیا ہے، تب اس میں لڑائی کے لیے اتر ے ہیں۔ آپ پھنستے چلے جائیں گے۔

15 اپریل2021 کو سورت کے ایک شمشان میں کووڈ 19 سے جان گنوانے والوں کی لاشیں۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

کووڈ سے ہوئی اموات پر ڈبلیو ایچ او کے اندازے کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے حکومت نے غلط ڈیٹا کا استعمال کیا

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا اندازہ ہے کہ 2020 میں ہی ہندوستان میں 8.30 لاکھ لوگ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔دی رپورٹرز کلیکٹو کے ایک تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان اندازوں کو حقائق سے پرے قرار دے کر مسترد کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے جن اعداد وشمار کا استعمال کیا ، ان کی صداقت مشتبہ ہے۔

گوٹابایا راجا پاکسے، ایم ایم سی فرڈیننڈو، نریندر مودی اور گوتم اڈانی۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/سی ای بی /پی آئی بی)

سری لنکا: نریندر مودی کی جانب سے اڈانی سے سودے کا دباؤ ڈالنے کا دعویٰ کرنے والے اہلکار کا استعفیٰ

سیلون الکٹرسٹی بورڈ کے چیئرمین ایم ایم سی فرڈیننڈو نے جمعہ کو ایک پارلیامانی کمیٹی کے سامنے کہا تھاکہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے کومنار کے ایک پاور پروجیکٹ کو اڈانی گروپ کو دینے کو کہاتھا۔ صدر کی تردید کے بعد انہوں نے بیان واپس لے لیا تھا۔

کرناٹک کے سری رنگا پٹنم  میں واقع جامع مسجد۔ (فوٹو بہ شکریہ: وکی پیڈیا)

کرناٹک: ہندوتوا گروپوں کی جانب سے مسجد میں پوجا کرنے کی دھمکی کے بعد دفعہ 144 نافذ

کرناٹک کے مانڈیا ضلع میں سری رنگا پٹنم قلعے کے اندر جامع مسجد میں ہندوتوا گروپوں نے 4 جون کو پوجا کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں 3 جون سے 5 جون کی شام تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ہندوتوا گروپوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مسجد ہنومان مندر کو منہدم کرنے کے بعد بنائی گئی تھی۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

اب اور تحریک نہیں، ہر مسجد میں شیولنگ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں: موہن بھاگوت

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ روزانہ ایک نیا مسئلہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ ہم کو جھگڑا کیوں بڑھانا؟ گیان واپی کے بارے میں ہمارا عقیدہ روایت سے چلا آ رہا ہے، لیکن ہر مسجد میں شیولنگ کیوں دیکھنا؟ وہ بھی ایک پوجا ہے۔ ٹھیک ہےباہر سے آئی ہے، لیکن جنہوں نےاپنایاہےوہ مسلمان باہر سے تعلق نہیں رکھتے۔ اگرچہ پوجاان کی ادھر کی ہے،اس میں اگر وہ رہنا چاہتے ہیں تو اچھی بات ہے۔ ہمارے یہاں کسی پوجا کی مخالفت نہیں ہے۔

Mughal-Dynasty-Painting-CCBY

بی جے پی اور ہندوتوا بریگیڈ کے لیے مغل نئے ولن ہیں

لفظ مغل کو ہندوستانی مسلمانوں کی نشاندہی کے لیے ‘پراکسی’ بنا دیا گیا ہے۔ پچھلے آٹھ سالوں کے دوران، اس کمیونٹی کو اقتصادی، سماجی حتیٰ کہ جسمانی طور پر – نشانہ بنانا نہ صرف جنونی اور مشتعل ہجوم ، بلکہ سرکاروں کی بھی اولین ترجیحات میں شامل ہوگیاہے۔

321

متھرا-گیان واپی تنازعہ: کیا ہے 1968 کا سمجھوتہ  اور پلیسز آف ورشپ ایکٹ؟

ویڈیو: وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ پر جاری تنازعات کی وجہ سے 1968 کے معاہدے اور 1991 کے عبادت گاہوں کے قانون یعنی پلیسز آف ورشپ ایکٹ کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔ یاقوت علی ان کے بارے میں تفصیل سے بتا رہے ہیں۔

The Wire

یوپی: عدالت نے کسانوں کے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق رپورٹ پر دی وائر اور مدیر کے خلاف درج مقدمہ کو خارج کیا

چھبیس جنوری 2021 کو نئی دہلی میں زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کے دوران احتجاج کررہے ایک شخص کی موت سے متعلق رپورٹ کے سلسلے میں دی وائر، اس کے مدیر سدھارتھ وردراجن اور رپورٹر عصمت آرا کے خلاف یوپی پولیس کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آر کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ خبرمیں کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی نہیں تھی۔

تصاویر: پی ٹی آئی، وکی میڈیا کامنس۔

تاریخی مساجد اور مسلم دور کی یادگاریں نشانے پر

اب پارلیامنٹ کی طرف سے پاس کیے گئے مذہبی مقامات ایکٹ 1991 کو کالعدم کرنے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہندو پریشدکے نشانے پر ملک بھر میں 25ہزار مساجد و قبرستان اور وقف کی جائیدادیں ہیں، جو ان کے مطابق عہد قدیم میں ہندو عبادت گاہیں تھیں۔

ناتھورام گوڈسے۔ (فوٹو بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس)

یوپی: گوڈسے کی سالگرہ پر ہندو مہاسبھا نے کی خصوصی پوجا، میرٹھ کا نام بدل کر ’گوڈسے نگر‘ کرنے کی مانگ

میرٹھ میں ہندو مہاسبھا نے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کے یوم پیدائش پر اپنے دفتر میں خصوصی پوجا کرتے ہوئے ‘ہندو مخالف گاندھی ازم’ کو ختم کرنے کا حلف لیا اور دعویٰ کیا کہ ہندوستان جلد ہی ‘ہندو راشٹر’ بنے گا۔

گیان واپی مسجد۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنائے جانے پر اپنا موقف واضح کرے حکومت: مسلم پرسنل لاء بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ عبادت گاہوں کے بارے میں نچلی عدالتیں جس طرح سے فیصلے کر رہی ہیں، وہ افسوسناک ہے۔ بورڈ نے گیان واپی مسجد کی دیکھ بھال کرنے والی انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کو قانونی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر ہندو فریق نے کہا ہے کہ اگر شیولنگ فوارہ ہے تو اسے چلا کر دکھائیں۔ اس پر مسلم فریق نے کہا کہ وہ اس کے لیے تیار ہیں۔

Gyanvapi-PTI

عدالت نے گیان واپی مسجد کے اس حصے کو سیل کرنے کی ہدایت دی جہاں شیولنگ کے ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے

اترپردیش کے وارانسی ضلع کی ایک عدالت نے گیان واپی مسجد کے سیل کیے گئے مقام پر کسی بھی شخص کے داخلہ پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت دی ہے کہ مسجد میں صرف 20 لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دیں۔ عدالت کی ہدایت پر گیان واپی مسجد کمپلیکس کے سروے اور ویڈیو گرافی کا کام سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان 16 مئی کو تیسرے دن مکمل ہوا۔

گیان واپی مسجد۔ (فوٹو: کبیر اگروال/د ی وائر)

کاشی وشوناتھ مندر – گیان واپی مسجد: عدالت نے کہا، سروے جاری رہے گا، 17 مئی تک رپورٹ جمع کریں

اتر پردیش میں وارانسی کی ایک عدالت نے گیان واپی مسجد کے احاطے میں شرنگار گوری احاطہ کی ویڈیو گرافی-سروے کرنے کے لیے مقرر کردہ ایڈوکیٹ کمشنر کو تبدیل کرنے کے مطالبے کو بھی خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ضلع انتظامیہ سروے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔

دہلی میں ایک ہندو پناہ گزین خاندان۔ (فائل فوٹو: رائٹرس)

سال 2021 میں شہریت حاصل کرنے میں ناکام رہے 800 پاکستانی ہندو ہندوستان سے واپس لوٹے: رپورٹ

ایسے پاکستانی شہریوں کی شہریت کی درخواستوں کو فاسٹ ٹریک کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے دو نوٹیفیکیشن اور شہریت قانون کے پاس ہونے کے باوجود اب تک اس معاملے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

(علامتی تصویر: رائٹرس)

سال 2020 میں مرنے والے 82 لاکھ افراد میں سے 45 فیصد کو کوئی طبی سہولت نہیں ملی: رجسٹرار جنرل

رجسٹرار جنرل آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق سال 2020 میں رجسٹرڈ کل اموات میں سے تقریباً 1.3 فیصد لوگوں کو ایلوپیتھی یا دیگر طبی شعبوں کے اہل پیشہ ور افراد سے طبی سہولیات ملی تھیں۔ مرنے والوں میں سے 45 فیصد کو ان کی موت کے وقت کوئی طبی سہولت نہیں مل پائی تھی۔ 2019 میں طبی سہولیات کے فقدان میں مرنے والوں کی تعداد 35.5 فیصد تھی۔

الہ آباد ہائی کورٹ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بنیادی حق نہیں: الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش کے بدایوں ضلع کے رہنے والے عرفان کی جانب سے دائرعرضی کو خارج کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ اس عرضی میں ضلع انتظامیہ کے دسمبر 2021 کے فیصلے کو رد کرنے کی مانگ کی گئی تھی، جس کے تحت مسجد میں اذان کے وقت لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کرنے کی گزارش کو مسترد کر دیا گیاتھا۔

(فائل فوٹو: رائٹرس)

کووڈ-19 سے دنیا میں ایک اندازے کے مطابق 1.5 کروڑ موتیں ہوئیں، ہندوستان میں 47 لاکھ لوگوں کی جان گئی: ڈبلیو ایچ او

ہندوستان نے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے مصدقہ اعداد و شمار کی دستیابی کے باوجود کورونا وائرس کی وبا سے متعلق اموات کی اعلیٰ شرح کے تخمینے کو پیش کرنے کے لیے ریاضیاتی ماڈل کے استعمال پر شدید اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ماڈل اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کا طریقہ کارمشکوک ہے۔

جی ٹی بی اسپتال میں بھرتی ہونے کا انتظار کرتا ایک کووڈ مریض ۔ (فوٹو: رائٹرس)

کسی بھی ریاست نے مہاماری  کے دوران آکسیجن کی کمی سے موت کی تصدیق نہیں کی: مرکزی حکومت

مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود بھارتی پوار نے پارلیامنٹ میں بتایا کہ ملک میں کووڈ-19 کی وجہ سے اب تک مجموعی طور پر 521358 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ مرکز ی حکومت کی درخواست پر 20 ریاستوں اور یونین ٹریٹری کی جانب سے […]

پی ایم مودی، فوٹو بہ شکریہ: انسٹا گرام

سی آئی سی نے لاک ڈاؤن کے دوران پی ایم کے بال کٹوانے سے متعلق آر ٹی آئی کو احمقانہ بتایا

مئی 2020 میں ایک شخص نے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت جانکاری طلب کی تھی کہ کیا لاک ڈاؤن میں سیلون بند ہونے سے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ پراتنا ہی اثر پڑا، جتنا کسی عام شہری پرپڑا۔

صحافی رعنا ایوب۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

دہلی ہائی کورٹ نے صحافی رعنا ایوب کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی

مرکزی حکومت کی سخت گیر ناقد کے طور پر معروف صحافی رعنا ایوب کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے جاری کردہ لک آؤٹ سرکلر کے پیش نظر 30 مارچ کو لندن روانہ ہونے سے قبل ممبئی ہوائی اڈے پر روک دیا گیا تھا۔ وہ منی لانڈرنگ معاملے میں ملزم ہیں۔ اس کے خلاف ایوب نے دہلی ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی۔

3103. NSC.00_39_52_14.Still025

حکومت ماب لنچنگ کے اعداد و شمار کیوں سامنے نہیں لانا چاہتی؟

ویڈیو: گزشتہ دنوں پارلیامنٹ میں مرکزی حکومت نے کہا کہ ان کے پاس الگ سےماب لنچنگ کا کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ اس ایشو پر ماہرین کے ساتھ بات چیت کہ کیوں حکومت کو ماب لنچنگ کے اعدادوشمار دوسرے جرائم سے الگ سامنے رکھنا چاہیے۔

صحافی رعنا ایوب۔ (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

ای ڈی نے صحافی رعنا ایوب کو بیرون ملک جانے سے روکا، جانچ میں شامل ہونے کو کہا

صحافی رعنا ایوب لندن جانے کے لیے ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچی تھیں، لیکن امیگریشن نے انہیں روک دیا۔ بتایا گیا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ منی لانڈرنگ کیس میں ان سے پوچھ گچھ کرکے ان کا بیان ریکارڈ کرنا چاہتی ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کورونا کے دوران ہندوستان میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے زیادہ موتیں ہوئیں: رپورٹ

لانسیٹ جریدے کے ایک نئے تجزیے کے مطابق، 2020 اور 2021 میں کووڈ-19 کی وبا کے دوران ہندوستان میں ایک اندازے کے حساب سے 40.7 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد سرکاری طور پر ہندوستان میں کووڈ-19 سے ہونے والی اموات سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ حالاں کہ حکومت نے اس رپورٹ کو خارج کر دیا ہے۔

نریندر مودی۔ (فوٹو بہ شکریہ: اسکرین گریب)

آمرانہ ممالک کی فہرست میں ہندوستان ٹاپ 10میں، حالات مزید خراب ہوں گے: رپورٹ

وی-ڈیم انسٹی ٹیوٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں کی حکومت مطلق العنان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2014 میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کے جیتنے کے بعد سے ہندوستان میں جمہوریت کی سطح میں گراوٹ آئی ہے۔ گزشتہ سال کی رپورٹ میں بھی ہندوستان کی درجہ بندی ایک ‘انتخابی تاناشاہی’ والے ملک کے طور پر کی گئی تھی۔

(علامتی تصویر: پی ٹی آئی)

گجرات میں ہزاروں کروڑ کا کوئلہ گھوٹالہ، ریاستی حکومت پر اٹھے سوال

دینک بھاسکر کی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ مرکزی حکومت کی پالیسی کے تحت چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو سستے داموں میں فروخت کیے جانے والے کوئلے کو ریاستی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ایجنسیوں نے کئی گنا زیادہ قیمت پر دوسری ریاستوں کے تاجروں کوفروخت کیا اور دستاویزوں میں فرضی طریقے سے دکھایا گیا کہ یہ کوئلہ اسٹیک ہولڈرز کو ملا ہے۔

Don`t copy text!