National Conference

فوٹو: دی وائر

کشمیر کا مواصلاتی محاصرہ: عصبیت کی بدترین مثال

جے کے سی سی ایس نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں بتایا ہے کہ مواصلاتی رابطوں کو بند کرنے میں کشمیر دنیا کی تاریخ میں پہلی مثال ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال رواں کے ماہ جنوری میں جب ٹو جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئیں، تب سے بھی 70 بار عارضی طور پر اس کو معطل کرنے کے احکامات صادر کیے گئے ہیں۔

HBB 5 August 2020.00_38_23_09.Still002

ایودھیا کی دیوالی کشمیر تک کیوں نہیں پہنچی؟

ویڈیو:وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ اگست کو ایودھیا میں رام مندر کا سنگ بنیاد رکھا۔ دوسری طرف پچھلے سال اسی دن مرکزی حکومت نے پارلیامنٹ میں جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ ختم کرنے کااعلان کیا تھا۔ اس مدعے پر سابق راءچیف اے ایس دُلت، کشمیر پر مرکزکی سابق مذاکرہ کار رادھا کمار اور دفاعی امور کے ماہرایئر مارشل (ریٹائرڈ)کپل کاک سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

HBB 4 August 2020.61860.Still002

آرٹیکل370 ہٹنے کے ایک سال بعد کشمیر کا حال؟

ویڈیو: پچھلے سال پانچ اگست کومرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کاخصوصی درجہ ہٹاکر اس کو دو یونین ٹریٹری میں تقسیم کر دیا تھا۔ اس کی پہلی سالگرہ پر سیاسی کارکن شہلا رشید اور سٹی پلانر انیسہ درابو سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

HBB-28-July.00_23_18_06.Still002-1200x600

کشمیر کو مودی سرکار نے ہندو راشٹر کا سنگ بنیاد بنایا: پی ڈی پی رہنما

ویڈیو: جموں وکشمیر سےآرٹیکل 370کے خاتمہ کو ایک سال ہونے والے ہیں۔ریاست کاخصوصی درجہ ختم کر کے اس کو یونین ٹریٹری میں بانٹنے کے بعدمودی سرکار کی جانب سے کئی طرح کے دعوے کیے گئے تھے، آج ان کی زمینی سچائی کیا ہے؟ اس بارے میں پی ڈی پی کے سینئررہنما نعیم اختر سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹرعارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر پرمودی حکومت کی آئینی سرجیکل اسٹرائیک کی برسی

ایک سال کے بعد اس آئینی اسٹرئیک کی افادیت اور حصولیابیو ں کی جو دستاویز ہندوستانی حکومت نے جاری کی ہے، اس کے مطابق کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے سے کھلے میں رفع حاجت کرنے کو روکنے پر صد فیصد کامیابی حاصل ہوئی ہے۔لیجیے ہم تو سمجھےتھے کہ پانچ اگست کو اٹھائے گئے اقدامات کا مقصد کشمیر میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانا، سڑکوں کو سونے سے مزین کرنا اور ہندوستان کے تئیں عوام میں نرم گوشہ پیدا کروانا تھا، مگر مودی حکومت نے تو اس سے بھی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔

عمرعبداللہ(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/@Omar-Abdullah)

جب تک جموں و کشمیر یونین ٹریٹری رہے گا، اسمبلی انتخاب نہیں لڑوں گا: عمر عبداللہ

نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرتے ہوئے دلیل دی گئی تھی کہ آرٹیکل370کی وجہ سے ریاست میں دہشت گردانہ واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر ایسا ہی تھا تو ایک سال بعد مرکزی حکومت سپریم کورٹ میں یہ کیوں کہہ رہی ہے کہ یہاں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

 احمد آباد میں ہوئے ایک پروگرام میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

مودی حکومت کی حصولیابی: وزارت داخلہ نے ترمیم شدہ فہرست میں سی اے اے کو شامل کیا

قابل ذکر ہے کہ پہلے جاری کی گئی فہرست میں سی سی اے کو حصولیابی کے طور پر شامل نہیں کیا گیا تھا ۔وہیں وزارت داخلہ نےاپنی حصولیابیوں میں جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والےآئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کرنے کو تاریخی قدم بتایا ہے۔

(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر میں صرف انٹرنیٹ نہیں، کشمیریوں کی زندگی کے کئی دروازے بند تھے

گزشتہ 5 مارچ کو سات مہینے کے بعد جموں و کشمیر میں انٹرنیٹ سے پابندی ہٹائی گئی ہے۔ ایک طبقے کا ماننا تھا کہ یہ پابندی امن امان کی بحالی کے لئے ضروری تھی ، حالانکہ مقامی لوگوں کے مطابق یہ پابندی تفریح یا سوشل میڈیا پر نہیں بلکہ عوام کے جاننے اور بولنے پرتھی۔

فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر کو سینٹرل جیل میں کیوں نہیں بدل دیتی مرکزی حکومت: یوسف تاریگامی

جموں وکشمیر کے سابق ایم ایل اے اور سینئرسی پی ایم رہنما یوسف تاریگامی نے ریاست کے بڑے رہنماؤں کی حراست کو لےکر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر جموں وکشمیر میں حالات معمول پر ہیں تو حکومت وہاں الیکشن کیوں نہیں کراتی۔

ایلس ویلس، فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر

جموں وکشمیر: امریکی حکام نے ہندوستان سے سیاسی قیدیوں کو رہا کر نے کی اپیل کی

ہندوستانی حکومت کے ذریعے منعقد رائے سینا ڈائیلاگ میں حصہ لینے کے بعد واپس لوٹ کر جنوبی اوروسط ایشیا کی اسسٹنٹ سکریٹری ایلس ویلس نے شہریت ترمیم قانون کو لےکرملک گیر احتجاج پر کہا کہ ایک مستحکم جمہوری تجزیہ ہونا چاہیے چاہے وہ سڑکوں پر ہو، چاہے سیاسی اپوزیشن ، میڈیا یا عدالتوں کے ذریعے ہو۔

فوٹو : پی ٹی آئی

جموں و کشمیر میں آج سے 2 جی موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال

جموں و کشمیر انتظامیہ کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، موبائل فون پر 2جی اسپیڈ کے ساتھ انٹرنیٹ سہولت 25 جنوری سے شروع ہو جائے‌گی۔ سوشل میڈیا کی سائٹ تک وادی کے لوگوں کی رسائی نہیں ہوگی اور طے شدہ ویب سائٹس تک ہی ان کی رسائی ہو سکے‌گی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

سیاسی قیدیوں کی رہائی سے کشمیر میں حالات نارمل  ہوں گے، نہ کہ فوٹو کھنچوانے سے: محبوبہ مفتی

پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، انٹرنیٹ کی بحالی اور گھاٹی میں لوگوں کا ڈر دور کرنے سے حالات نارمل ہوں گے، نہ کہ وزراء کے فوٹو کھنچوانے سے۔

Jammu-Kashmir-Mobile-PTI10_14_2019_000233B-e1579346236239

جموں و کشمیر میں بحال ہوئی پری پیڈ موبائل خدمات

جموں کشمیر انتظامیہ کے افسروں نے بتایا کہ یونین ٹریٹری میں سبھی مقامی پری پیڈ موبائل فون پر کال کرنے اور ایس ایم ایس بھیجنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سے جموں علاقے کے سبھی دس ضلعوں اور شمالی کشمیر کے دو ضلعوں کپواڑہ اور باندی پورا میں فکس لائن انٹرنیٹ کمیونی کیشن سروس مہیا کرنے کو کہا گیا ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: سپریم کورٹ کے حکم کے بعد براڈبینڈ، 2 جی انٹرنیٹ خدمات جزوی طور پر بحال

سپریم کورٹ نے پچھلے ہفتہ اپنے ایک بےحد اہم فیصلے میں جموں و کشمیر انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر پابندی سے متعلق تمام احکام پر غور کرے۔ یہ پابندی گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد سے لگائی گئی تھی۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

جموں و کشمیر انتظامیہ نے 26 لوگوں پر لگا پی ایس اے ہٹایا

جن 26 لوگوں پر سے پبلک سیفٹی ایکٹ ہٹایا گیا ہے ان میں سے کچھ یونین ٹریٹری سے باہر اتر پردیش اور راجستھان جیسی ریاستوں میں بند ہیں۔ ان میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر نذیر احمد رونگا بھی شامل ہیں، جنہیں اتر پردیش کی مرادآباد سینٹرل جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

فوٹو: رائٹرس

سپریم کورٹ نے کہا-غیر معینہ مدت کے لیے انٹرنیٹ بین کی اجازت نہیں، کشمیر انتظامیہ تمام پابندیوں پر پھر سے غور کرے

سپریم کورٹ نے کہا کہ کہ انٹرنیٹ کا حق آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت بولنے اور اظہار رائے کی آزادی کا حصہ ہے۔ انٹرنیٹ پر پابندی لگانے کا کوئی بھی حکم جوڈیشیل جانچ کے دائرے میں ہوگا۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

17 غیر ملکی سیاسی رہنما کو آج جموں و کشمیر کا دورہ کرائے‌ گی حکومت، یورپی یونین شامل نہیں

اپنی مرضی سے خود کے چنے ہوئے لوگوں سے ملنے کی خواہش رکھنے کی وجہ سے یورپی یونین کے سیاسی رہنما نے جموں و کشمیر کا یہ دورہ ٹال دیا۔ وہ ریاست کے تین سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جو 5 اگست کو ریاست کا خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے ہی حراست میں ہیں۔

14 اگست، 2019 کو سرینگر میں ہوئے ایک مظاہرہ کے بعد(فوٹو : رائٹرس)

جموں و کشمیر میں 2017 اور 2018 کے مقابلے 2019 میں پتھربازی کے واقعات میں اضافہ، 1996 معاملے درج: آر ٹی آئی

جموں و کشمیر میں 2018 میں پتھر پھینکنے کے 1458 اور 2017 میں 1412 واقعات درج کئے گئے۔ گزشتہ سال پانچ اگست کو خصوصی ریاست کا درجہ ہٹانے کے بعد سے یہاں 1193 واقعات درج کئے گئے ہیں۔ اگست 2019 میں ریاست میں پتھربازی کے کل 658 واقعات سامنے آئے، جبکہ اس سے پہلے جولائی میں صرف 26 واقعات ہوئے تھے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

پانچ مہینے بعد کشمیر میں موبائل ایس ایم ایس خدمات شروع، انٹر نیٹ پر اب بھی پابندی

گزشتہ سال 5 اگست کو جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد سے انتظامیہ نے کمیونی کیشن کی سبھی لائنوں –لینڈ لائن ٹیلی فون خدمات، موبائل فون خدمات اور انٹر نیٹ خدمات کو بند کر دیا تھا۔

(فائل فوٹو : رائٹرس)

کشمیر سے مواصلات پر پابندی ختم کرنے اور بندیوں کو رہا کرنے کے لئے امریکی پارلیامنٹ میں تجویز

ہندنژاد-امریکی رکن پارلیامان پرمیلا جئے پال نے امریکی پارلیامنٹ میں جموں و کشمیر پر ایک تجویز پیش کرتے ہوئے ہندوستان سے وہاں لگائی گئی مواصلات پر پابندیوں کو جلد سے جلد ہٹانے اور سبھی باشندوں کی مذہبی آزادی محفوظ رکھے جانے کی اپیل کی۔

فوٹو : رائٹرس

کشمیر: لوگ مقامی اخبارات سے ناراض کیوں ہیں؟

فون او رانٹرنیٹ خدمات کے متاثر ہونے کے بعد سے اب تک صحافیوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ایک فوٹو جرنلسٹ کا کہنا ہے کہ ، میں نے کبھی اپنے کیمرے کو بند نہیں کیا ہے لیکن گزشتہ 17 ہفتوں کے دوران جہاں بھی گیا مجھے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ۔وہیں ایک دوسری صحافی کا کہنا ہے کہ ، میں نے کشمیر کی صحیح تصویر کو پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن جب میری اسٹوری چھپتی تھی تو اس میں میرا لکھا ہوا 40 فیصد ہی ہوتا تھا اور باقی وہ خود ہی شامل کرتے تھے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ میں جموں و کشمیر میں پابندیوں کے خلاف عرضی پر شنوائی پوری، فیصلہ محفوظ

جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کے زیادہ تراہتماموں کو ہٹانے کے ساتھ ہی وہاں ذرائع ابلاغ پر لگی پابندیوں کو چیلنج دیتےہوئے کانگریسی رہنما غلام نبی آزاد، کشمیر ٹائمس کی مدیر انورادھا بھسین اور دیگرلوگوں نے عرضیاں دائر کی تھیں۔

(علامتی تصویر : پی ٹی آئی)

دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس سوشل میڈیا پوسٹ کی نگرانی کر رہی ہے

جموں و کشمیر پولیس کے ذریعے انجانے میں صحافیوں کو بھیجے گئے ای میل میں ’ ڈی این اے فائل ‘نام سے ایک فائل تھی، جس میں ایسے سوشل میڈیا پوسٹس کے اسکرین شاٹ تھے، جو کہ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بارے میں لکھے گئے تھے۔

بند کے دوران سرینگر کا لال چوک (فوٹو : رائٹرس)

سپریم کورٹ نے لگائی پھٹکار، کہا-انتظامیہ کشمیر میں عائد پابندیوں سے متعلق ایک ایک سوال کا جواب دے

کشمیر میں لگی پابندی پر عرضی داخل کرنے والوں کی جانب سے پیش ایک وکیل نے جب کہا کہ ہردن ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے باوجود ہانگ کانگ ہائی کورٹ نے مظاہرین پر سے سرکاری پابندی ہٹا لینے کی مثال دی ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو بنائے رکھنے میں ہندوستان کا سپریم کورٹ کہیں زیادہ بہترہے۔

فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی(فوٹو : پی ٹی آئی)

کشمیر میں حالات معمول پر ہو نے کے امت شاہ کے دعوے کو نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے مکر و فریب بتایا

پارلیامنٹ سیشن میں فاروق عبداللہ کو حصہ لینے کی اجازت دینے کے اپوزیشن کے مطالبہ پر مرکزی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ کانگریس نے ایمرجنسی کے دوران 30 رکن پارلیامان کو حراست میں رکھا تھا۔ اس پر نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ریڈی کا تبصرہ اس بات کی دلیل ہےکہ جموں و کشمیر ایمرجنسی کے برے دور سے گزر رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ (فوٹو : پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر میں 4 اگست سے اب تک 5000 لوگ گرفتار: امت شاہ

وزارت داخلہ نے لوک سبھا میں کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد پتھربازی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ حالانکہ، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری سے 4 اگست تک اوسطاً ہر مہینے پتھربازی کے 50 واقعات ہوئے۔وہیں 5 اگست کے بعد ایسے معاملے اوسطاً ہر مہینے بڑھ‌کر 55 ہو گئے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان (فوٹو بہ شکریہ : انفارمیشن منسٹری پاکستان)

کیا کشمیریوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر پاکستان سفارتی محاذ پر اپنی کوشش جاری رکھ سکتا ہے؟

آخر کون امن نہیں چاہتا؟ اس کی سب سے زیادہ ضرورت تو کشمیریوں کو ہی ہے۔ اشرف جہانگیر قاضی صاحب سے بس یہی گزارش ہے کہ امن، قدر و منزلت، انصاف و وقار کا دوسرا نام ہے، ورنہ امن تو قبرستان میں بھی ہوتا ہے۔ جن تجاویز پر آپ امن کے خواہاں ہیں، وہ صرف قبرستان والا امن ہی فراہم کر سکتے ہیں۔

فوٹو : پی ٹی آئی

سابق وزرائے اعلیٰ  کے نظربند رہنے سے اگر گھاٹی میں امن  ہے، تو بہتر ہے وہ ایسے ہی رہیں:وزیر

مرکزی وزیر نے کہا، ‘ہمارے پاس ایک نیا نظام ہے اوریہ نظام سیدھے مرکز کو رپورٹ کرتا ہے اور ہم اسے اس حلقے کے لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے اور کامیاب بنانے کے لئے اس کا سہرا دیتے ہیں۔’

جموں و کشمیر(فوٹو: پی ٹی آئی)

سو دنوں میں مزید نوکری -مزید فیکٹری کے وعدوں کے برعکس، کشمیریوں کو ملی مزید پابندیاں-مزید افواج

رام چندر گہا کا کالم: مکیش امبانی کشمیر میں سرمایہ کاری سے متعلق بالکل خاموش ہیں؛ جبکہ سرکار نے سرمایہ کاری میلے کو غیر معینہ مدت کے لیے آگے بڑھا دیا ہے۔ وعدے تو مزید نوکری، مزید فیکٹریز کے کیے گئے تھے، مگر 5اگست کے بعد سے کشمیریوں نے پایا کیا ہے؛ مزید افواج، مزید پابندیاں۔ اس نے ان میں گہرا غصہ پیدا کر دیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی

مرکز نے سپریم کورٹ سے کہا، کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے فیصلے کا جوڈیشیل ریویو نہیں ہو سکتا

سپریم کورٹ کی آئینی بنچ 14 نومبر سے اس معاملے کی شنوائی کرے گی۔ مرکز کو پانچ اگست کے صدر جمہوریہ کے حکم کے خلاف دائر عرضیوں پر اپنا جوابی حلف نامہ دائر کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

سرینگر کی ڈل جھیل میں شکارے میں یورپی یونین کے رکن پارلیامان کا وفد(فوٹو: پی ٹی آئی)

یورپی رکن پارلیامان کے کشمیر دورے کو فنڈ کر نے والے گروپ پر کیوں اٹھ رہے ہیں سوال؟

کشمیر میں یورپی رکن پارلیامان کے دورے کو مبینہ طور پر فنڈ دینےوالا انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار نان-الائنڈ اسٹڈیز، شریواستو گروپ کا حصہ ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر اس کے کئی کاروبار ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ حالانکہ دستاویز ایساکوئی بزنس نہیں دکھاتے، جس سے وہ یورپی رکن پارلیامان کو ہندوستان بلانے اور وزیراعظم سے ملاقات کروانے میں اہل ہوں۔

سرینگر میں تعینات سکیورٹی اہلکار (فوٹو : پی ٹی آئی)

یونین ٹریٹری جموں و کشمیر بننے کے دوسرے دن بھی وادی بند، سرینگر کے کچھ حصوں میں پابندیاں

جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ ہٹانے کے 89 ویں دن بھی بند جاری۔نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانے کے مرکزی حکومت کے قدم کو غیر آئینی قرار دیا۔ وادی میں کچھ لوگوں نے حکومت پر ان کا خصوصی درجہ اور پہچان چھیننے کا الزام لگایا۔

Don`t copy text!