Non Violence

موہن بھاگوت(فوٹو : پی ٹی آئی)

ہندوستان عدم تشدد کی بات کرے گا، لیکن اپنے ہاتھوں میں چھڑی رکھے گا: موہن بھاگوت

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ مذہب کی ترقی کے بغیر ہندوستان کی ترقی ممکن نہیں ہے۔ سناتن دھرم ہی ہندو راشٹر ہے۔ اس ہندوستان کے راستے میں جو بھی کھڑا ہوگا اسے ہٹا دیا جائے گا یا ختم کردیا جائے گا۔

Mahatma Gandhi Photo: Wikimedia Coommons, public domain

مہاتما گاندھی: میرے خوابوں کا ہندوستان

ایک ایسا ہندوستان وجود میں آئے جہاں غریب سے غریب انسان بھی یہ سوچے کہ یہ ملک اس کا ہے اور یہاں اس کی آواز کو برابر کی اہمیت حاصل ہے۔ ایک ایسا ہندوستان جہاں اعلیٰ اور ادنی طبقے کا کوئی تصور ہی نہ ہو۔ ایسا ملک جہاں ہر مذہب کے لوگ امن اور بھائی چارہ کے ساتھ رہ سکیں۔ ایسا ہندوستان جہاں چھوا چھوت کی کوئی جگہ نہ ہو، جہاں نشہ کرنے کا کوئی تصور نہ ہو۔ خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہوں۔

علامتی فوٹو: رائٹرس

جس ملک میں لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا جاتا ہے، وہاں گاندھی کو بابائے قوم نہیں کہنا چاہیے: کیرکر وردھا

کیرکر وردھانے کہا جس ملک میں گائے کا گوشت رکھنے کے لئے لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا جاتا ہے اور دانشور وں کو اپنی رائے ظاہر کرنے پر قتل کر دیا جاتا ہے،اس ملک کو مہاتما گاندھی کو اپنا بابائے قوم نہیں کہنا چاہیے۔

علامتی تصویر(فوٹو : پی ٹی آئی)

مہاتما گاندھی کشمیر کے بارے میں کیا سوچتے تھے؟

مہاتما گاندھی نے کہا تھا،کشمیر کی عوام اگر پاکستان میں جانا چاہتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے پاکستان جانے سے روک نہیں سکتی،لیکن اسے پوری آزادی اور آرام کے ساتھ اپنی رائے رکھنے دیا جائے۔ان کے گاؤں کو جلا کر آپ انہیں مجبور نہیں کر سکتے ۔بھلے ہی وہاں مسلم زیادہ تعداد میں ہیں لیکن اگر وہ ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں روکا نہیں جا سکتا۔

فوٹو: pixabay

میں موہن داس کرم چند گاندھی اب بابائے قوم نہیں کہلانا چاہتا…

آج ملک کو حقیقی  باپ کی ضرورت ہے، میرے جیسے صرف نام کے باپ سے کام نہیں چلنے والا ہے۔ آج بڑے-بڑے فیصلے ہو رہے ہیں۔ 56انچ کا سینہ دکھانا پڑ رہا ہے۔ ایسا باپ جو پبلک کو کبھی تھپڑ دکھائے تو کبھی لالی پاپ، اوراپنے طے کئے […]

Mahatma-Gandhi-PTI

مہاتما گاندھی کے پرسنل سکریٹری وی کلیانم کی زبانی’گاندھی جی کا آ خری دن‘

ایسا عام طور پر کہا جا تا ہے کہ گاندھی جی جب آ خری سانس لے رہے تھے تو انہوں نے ’’ہے رام‘‘ پکارا۔مگر سچ یہ ہے کہ جب گاندھی جی کو گولی لگی، تب ان کی زبان سے ایک لفظ کا ادا ہونا بھی ممکن نہیں تھا۔یہ فرضی بات کسی منچلے رپورٹر نے لکھ دی اور دیکھتے دیکھتے پوری دنیا نے اس کو سچ مان لیا۔

gaandhi

فلم ریویو: ہم نے گاندھی کو مار دیا …

سنیما:اس سوچ کو قبول کرنے کا مطلب ہے گاندھی اور جناح  کے نام پر ساورکر کو’ ویر‘ کہنا ۔بھلے آپ نے اس کو ہندو شدت پسند اور مسلم شدت پسند کہہ دیا ہے ۔لیکن اس شدت پسندی میں جہاں بہت سی باتوں کوسادہ بلکہ Generalizeکرنے کی کوشش کی […]

Don`t copy text!