Police Atrocities

2018 میں کاس گنج میں ہوئےتشدد میں مارے گئے چندن گپتا۔ (فوٹو بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

کیا چندن گپتا ہندوتوا قوم پرستی کا شکار ہوا؟

کاس گنج میں سال 2018 میں مارے گئے چندن گپتا کے والدکہہ رہے ہیں کہ نوجوانوں کو اس راستےپر نہیں جانا چاہیے جس پر ہندوتوایاقوم پرستی کے جوش وجنون میں ان کا بیٹا چل پڑا تھا۔ کیا ان کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس موت کے بعد یا اس کے بدلے جو چاہتے تھے، وہ نہیں ملا؟ یا وہ اس کے خطرے کو سمجھ پائے ہیں؟

WhatsApp Image 2021-11-11 at 21.45.43 (1)

کاس گنج میں الطاف کی موت: کیا یہ پولیس حراست میں کیا گیا قتل ہے؟

ویڈیو: اتر پردیش کے کاس گنج ضلع میں ایک‘گمشدہ’لڑکی کےمعاملے میں حراست میں لیے گئے 22 سالہ نوجوان الطاف کی پولیس تھانے میں گزشتہ 8 نومبر کو موت ہو گئی تھی۔اس کو لےکر ایک ایس ایچ او سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو سسپنڈ کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ الطاف نے ٹوائلٹ کے نل کی ٹوٹی سے پھانسی لگاکر خودکشی کی ہے۔

0

شمال-مشرقی دہلی: ’میری پٹائی کے بعد جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی گئی‘

ویڈیو: شمال-مشرقی دہلی کی حمیدہ ادریسی کا الزام ہے کہ گزشتہ30 اگست کو ان کےکرایہ دار اور پڑوسیوں کے بیچ جھگڑا ہوا تھا۔انہوں نے بیچ بچاؤ کرکے معاملہ کو ختم کرا دیا تھا۔ بعد میں دیال پور تھانے کے ایس ایچ او گریش جین اور دوسرے پولیس اہلکار انہیں جبراً تھانے لے گئے اور ان کی بےرحمی سے پٹائی کی گئی۔ حالانکہ پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

حمیدہ ادریسی(فوٹو: غزالہ  احمد)

دہلی: مسلم خاتون کا الزام، پولیس حراست میں مجھے بے رحمی سے پیٹا گیا

مسلم خاتون کا الزام ہے کہ گزشتہ30 اگست کو ان کے کرایہ دار اور پڑوسیوں کے بیچ جھگڑا ہوا تھا۔انہوں نے مداخلت کر کےمعاملہ کو ختم کرا دیا تھا۔بعد میں شمال-مشرقی دہلی کے دیال پور تھانے کے ایس ایچ او گریش جین اور دیگرپولیس اہلکار انہیں زبردستی تھانے لے گئے اور ان کی بےرحمی سے پٹائی کی گئی۔ ایس ایچ او نے الزامات کی تردید کی ہے۔

نندنی سندر(فوٹو: Special arrangement)

جھو ٹے الزامات کی ذہنی اذیت کے لیے کارکنوں کو معاوضہ دے چھتیس گڑھ حکومت: این ایچ آرسی

چھتیس گڑھ پولیس نے سکما ضلع کے ایک شخص کےقتل کے الزام میں نومبر 2016 میں کچھ ہیومن رائٹس کارکنوں کو نامزد کیا تھا۔ فروری2019 میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر ریاستی سرکار نے معاملے کی جانچ کی اور قتل میں کارکنوں کارول نہ پائے جانے پر الزام واپس لیتے ہوئے ایف آئی آر سے نام ہٹا دیا۔

AKI 20 May Deepak Bundele.00_18_06_10.Still001

مدھیہ پردیش پولیس نے کہا-مسلمان سمجھ کر پیٹ دیا تھا

ویڈیو: مدھیہ پردیش کے بیتول میں 23 مارچ کو دیپک بندیلے نام کے ایک وکیل کو ریاست کی پولیس نے بےرحمی سے پیٹا تھا، جب وہ علاج کے لیے سرکاری ہاسپٹل جا رہے تھے۔ دیپک بندیلے سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

وکیل دیپک بندیلے۔

مدھیہ پردیش پولیس نے وکیل سے مارپیٹ کے بعد معافی مانگی، کہا-مسلمان سمجھ کر پیٹ دیا تھا

معاملہ مدھیہ پردیش کے بیتول کا ہے۔ وکیل دیپک بندیلے کا الزام ہے کہ گزشتہ23 مارچ کو جب وہ دوا لینے جا رہے تھے تو پولیس نے راستے میں روک کر ان کی پٹائی کی اور اب ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اپنی شکایت واپس لے لیں۔

ایس آر پی کلوری/فوٹو: پی ٹی آئی

چھتیس گڑھ: ایس آر پی کلوری کا تبادلہ، بنایا گیا ٹرانسپورٹ کمشنر

متنازعہ پولیس افسر آئی جی کلوری کو گزشتہ دنون اکانومک آفینس ونگ(ای او ڈبلیو)اور اینٹی کرپشن بیورو(اے سی بی)کی ذمہ داری دینے پر بھوپیش بگھیل حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ 15 ایم پی نے کلوری کے خلاف جانچ کے لیے سی ایم کو خط لکھا تھا۔

فائل فوٹو: پی ٹی آئی

چھتیس گڑھ: غیر قانونی گرفتاری، میڈیا معاملوں کی جانچ کے لیے بنے گی کمیٹی

کانگریس حکومت ان معاملوں کو لے کر ایک کمیشن کی تشکیل کرنے جا رہی ہے۔ اس کمیشن کی جانچ کے نتائج کی بنیاد پر غلط الزامات میں پھنسائے گئے یا گرفتار کیے گئے لوگوں کی رہائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن کا مقصد چھتیس گڑھ میں صحافیوں کے اظہار رائے کی آزادی کو قوت بخشنا ہوگا۔

نندنی سندر،فوٹو:Special arrangement

چھتیس گڑھ: آدیواسی قتل معاملے میں نندنی سندر اور دیگر ملزمین کو کلین چٹ

نومبر 2016 میں چھتیس گڑھ پولیس نے دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر نندنی سندر اور جے این یو کی پروفیسر ارچنا پرساد سمیت 6 لوگوں پر سکما کے ایک آدیواسی کے قتل کا معاملہ درج کیا تھا۔ اب چارج شیٹ میں پولیس نے کہا کہ جانچ میں ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

پروفیسر نندنی سندر اور نئی دنیا کے رائے پور ایڈیشن میں28 نومبر کو شائع خبر

جاگرن گروپ کے اخبار نے ڈی یو پروفیسر نندنی سندر کو بتایا ’ماؤوادی‘

جاگرن گروپ کے اخبار نئی دنیا نے دہلی یونیورسٹی کی پروفیسر اور سماجی کارکن نندنی سندر کی عرضی پر سپریم کورٹ کے ذریعے چھتیس گڑھ حکومت کو بھیجے گئے نوٹس کی خبر میں سندر کو ماؤوادی کارکن بتایا ہے۔ نئی دہلی:جاگرن گروپ کے اخبار نئی دنیا کے رائے […]

چھتیس گڑھ کے سینئر پولیس افسر ایس آر پی کلوری۔  (فوٹو بشکریہ: فیس بک/ Govind Raj Naidu)

چھتیس گڑھ : کیا سی بی آئی سیاسی دباؤ میں سینئر پولیس افسر کلوری کو بچانے میں لگی ہے؟

سی بی آئی کی انٹرنل رپورٹ کے مطابق دو گواہوں نے2011 میں چھتیس گڑھ میں بستر ضلع‎ کے تاڑمیٹلا گاؤں میں پولیس افسر ایس آر پی کلوری کو آدیواسیوں کے گھروں میں آگ لگاتے ہوئے دیکھا تھا، لیکن جانچ ایجنسی کی فائنل چارج شیٹ سے اس کو ہٹا دیا گیا ہے۔

Don`t copy text!