political parties

تریپورہ کی راجدھانی اگرتلا کے ایک پولنگ بوتھ پر منگل کو ریانگ آدیواسی کمیونٹی کی خواتین نے تیسرے مرحلے کے ووٹنگ کے لئے اپنے ووٹ ڈالے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

شہری ہونے کا مطلب  صرف زندہ رہنا اور ووٹ ڈالنا بھر رہ گیا ہے

ملک میں انتخاب ہو رہے ہیں اور جمہوری‎ حقوق کو لےکر تشویش بڑھتی جا رہی ہیں۔ لوگ بدحال زندگی جی رہے ہیں، بیماری، بھوک، ظلم، حادثہ اور تشدد آمیز حملوں میں مارے جا رہے ہیں۔ ذلیل کئے جا رہے ہیں۔ ان کے حقوق دن بہ دن کمزور کئے جا رہے ہیں۔

فوٹو: بہ شکریہ علیزہ بخت

لوک سبھا انتخابات: امیدواروں کو اشتہار دے کر بتانا ہوگا اپنا مجرمانہ ریکارڈ

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہدایات کے مطابق؛ امیدواروں اور جماعتوں کو بڑے پیمانے پر چھپنے والے اخباروں اور معروف ٹی وی چینلوں کے ذریعے کم سے کم 3 الگ الگ تاریخوں پر اپنے مجرمانہ ریکارڈ کو پبلک کرنا ہوگا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

عدالت نے پوچھا-کیا الیکشن کمیشن کے پاس پارٹیوں کو ملنے والے فنڈ اوراخراجات کے انکشاف  کی طاقت نہیں ہے

دہلی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حلف نامہ دائر کرکے یہ بتانے کو کہا ہے کہ اس کے پاس سیاسی پارٹیوں کے اخراجات کے انکشاف کے لیےاور اس کی ریگولیٹری کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کیا اختیارات اور قوت ہیں اور اگر ان باتوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو کیا اقدام کیے جاسکتے ہیں۔

راہل گاندھی: پی ٹی آئی

آر ٹی آئی کے دائرے میں آئیں سیاسی جماعت، عدلیہ، میڈیا اور صنعت کار: راہل گاندھی

کانگریس صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت آر ٹی آئی قانون کو ہی تباہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد عنوانی پر حملے کے کئی طریقے ہیں جن میں لوک پال بھی ہے، لیکن اس کی اجازت ہی نہیں دی جا رہی۔

شریش تلپڑے، راکھی ساونت، جیکی شراف، سنی لیون اور کیلاش کھیر

کوبراپوسٹ کا انکشاف، پیسے لےکر سیاسی پارٹیوں کی آن لائن تشہیرکو راضی تھیں فلمی ہستیاں

کوبراپوسٹ کے اسٹنگ آپریشن میں انکشاف ہوا ہے کہ ابھجیت بھٹاچاریہ، کیلاش کھیر، جیکی شراف، وویک اوبیرائے، سونو سود، راکھی ساونت اورسنی لیون جیسے30 سے زیادہ فلمی ستارے سوشل میڈیا پوسٹ کے لئے دو لاکھ سے دو کروڑ روپے تک لینے کو تیار تھے۔

Election-Commission-1

سیاسی پارٹیاں  آر ٹی آئی کے دائرے سے باہر ہیں : الیکشن  کمیشن

آر ٹی آئی کے تحت بی جے پی، کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، بی ایس پی اور این سی پی کے سیاسی چندے کی مانگی گئی جانکاری کے جواب میں کمیشن نے ایسا کہا۔ جبکہ ان پارٹیوں کو 2013 میں سینٹرل انفارمیشن کمیشن آر ٹی آئی کے دائرے میں لےکر آیا تھا۔