Politics

فوٹو : پی ٹی آئی

مغربی بنگال:بی جے پی یووا مورچہ کا اعلان، جمعہ کی نماز کے خلاف سڑکوں پر پڑھیں گے ہنومان چالیسہ

بی جے وائی ایم کے صدر اوم پرکاش سنگھ کا کہنا ہے کہ ، جمعہ کی نماز کے لیے جی ٹی روڈ کو بند کردیا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ سے مریضوں کی موت ہوجاتی ہے۔ لوگ وقت پر اپنے دفتر نہیں پہنچ پاتے ۔

HBB 21 June.00_27_17_15.Still005

ویڈیو: ایک ملک ایک انتخاب؛ کیا آئینی ڈھانچے پر حملہ ہے؟

ویڈیو: ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں ایک ملک ایک انتخاب کے مدعے پر الیکشن کمیشن کے سابق قانونی صلاح کار ایس کے میندی رتا، سوراج انڈیا پارٹی کے قومی صدر یوگیندر یادو اور دی وائر کے پالیٹیکل ایڈیٹر اجئے آشیرواد سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

(فوٹو : وکی میڈیا کامنس)

رام چندر گہا کا کالم:کیا ہندوستانی کمیونسٹ پارٹیوں کا کوئی مستقبل ہے؟

لوک سبھا چناؤکے بعد مختلف کمیونسٹ پارٹیوں کو ‘متحد’ کرنے اور انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کی بات ہو رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ایک نئی اور متحدہ پارٹی کے لیے ایک نئے نام کی ضرورت ہوگی۔ میرا مشورہ ہے کہ اس نئی پارٹی کے نام میں سے ‘کمیونسٹ’ کا لفظ ہٹا دیا جائے۔ اس کے بجائے اسے ‘ڈیموکریٹک سوشلسٹ’ سے منسوب کیا جائے۔ یہ لیفٹ کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کی جانب پہلا قدم ہوگا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

جے ڈی یو نے کی تین طلاق بل کی مخالفت-کہا بنا مشورے کے مسلمانوں پر نہ تھوپاجائے کوئی قانون

سوموار سے شروع ہورہے پارلیامنٹ کے بجٹ سیشن میں بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کی جانب سے تین طلاق بل کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔غور طلب ہے کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی مدت کار کے دوران بھی اس بل کی مخالفت کی تھی ۔

anupamkher

رویش کا بلاگ: انوپم کھیر کو صحیح غلط کم ہندو اور مسلمان زیادہ دکھتا ہے

انوپم کھیر جیسے کچھ فنکار تختی لےکر میڈیا کو مدعا دیتے ہیں۔ ان کی تصویر اسکرین پر دکھاکر گھر بیٹھے لوگوں کے ذہن میں زہر بھرا جاتا ہے۔ اس عمل میں مسلمان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جاتا ہے۔ لیکن اس سے پہلے جن کے ذہن میں یہ کچرا بھرا جاتا ہے ان کو دوئم درجے کا شہری بنایا جا چکا ہوتا ہے۔ اس لئے وسیع ہندو مفاد میں یہ ضروری ہے کہ تمام نیوز چینل دیکھنا بند کر دیں۔ کیونکہ چینلوں میں مذہب کے نام پر ہندوؤں سے جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

مودی حکومت کی واپسی: مسلمان فکرمند ہیں، خوفزدہ نہیں…

ہمارے لبرل صحافی اور روشن خیال دانشوران فاشزم اورکمیونلزم کے خلاف اپنی لڑائی کو مسلمانوں کے کندھوں پر رکھ کر کیوں لڑنا چا ہتے ہیں؟ ڈر کو مسلمانوں کے ساتھ کیوں چپکا دینا چاہتے ہے؟ جہاں تک مسلمانوں کے ڈر جانے کا سوال ہے تو یہ محض ایک فیک نیوز ہے۔ متھ ہے۔ اور کچھ نہیں۔ مسلمان فکر مند ضرور ہیں، خوف زدہ با لکل نہیں۔تقسیم کے بعد جن مسلمانوں نے پاکستان کو ٹھکرا دیا کم از کم ان کے بارے میں تو ایسا ہر گز نہیں کہا جا سکتا۔

کانگریس صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی (فوٹو : پی ٹی آئی)

لوک سبھا انتخابات :کیا سونیا گاندھی کنگ میکر کا رول ادا کرنے والی ہیں؟

بہت منصوبہ بند طریقے سے پورے الیکشن کے دوران یا مشترکہ محاذ بنانے کے معاملے پر سونیا خاموش رہیں۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ راہل کی والدہ یا کانگریس کی سابق صدر ہونے کا کوئی اثر راہل کی سیاسی سرگرمیوں پر پڑے۔ لیکن اب چناوی سرگرمیاں تھمنے کے بعد، سونیا اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

علامتی تصویر / فوٹو : پی ٹی آئی

کیا اب مسلمان سیاسی پارٹیوں کی مجبوری نہیں ہیں؟

کسی بھی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں بھولے سے بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں کیا۔کانگریس نے تو انتخابی منشور کی رسم اجراء کی تقریب میں غلام نبی آزاد اور احمد پٹیل جیسے قدآور لیڈروں کو بھی دوررکھا۔ بہار کی راشٹریہ جنتا دل ،جس کی پوری سیاست مسلمانوں اوریادو پر منحصر ہے اس نے بھی اپنے منشور میں ایک جگہ بھی مسلم لفظ نہیں لکھا۔

Bengal-Ram_Navami_Violence-PTI

ویڈیو: بنگال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی لمبی تاریخ ہے: نیلانجن مُکھوپادھیائے

ویڈیو:ان دنوں کے اس ایپی سوڈ میں سنیے بنگال میں حالیہ تشدد، ہندتوا کے ابھار ارو آر ایس ایس پر تازہ ترین کتاب (The RSS : Icons of the Indian Right) کے مصنف نیلانجن مُکھوپادھیائے کے ساتھ مہتاب عالم کی بات چیت۔

علامتی تصویر،فوٹو: رائٹرس

رام چندر گہا کا کالم : کیا ہندوستان ایک ہندو پاکستان بننے کی راہ پر گامزن ہے؟

2019 میں بی جے پی کی مہم خصوصی طور پر ہندو اکثریت کے لیے ہے۔ پارٹی ان کے خوف اور عدم تحفظ کے احساسات کو بنیاد بنا کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ اسی لیے امت شاہ مسلمانوں کو ‘دیمک’ بتا چکے ہیں، آدتیہ ناتھ بجرنگ بلی کو علی کے بالمقابل کھڑا کر چکے ہیں اور مودی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ مغربی بنگال میں ہندو ‘جئے شری رام‘ کا نعرہ بھی بلند نہیں کر سکتے۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

جئے شری رام کا نعرہ رام کی عظمت کا اقرار نہیں، غنڈہ گردی  کا اعلان ہے

لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ ان کی رام تحریک مذہبی نہیں تھی۔ وہ رام نام کے پس پردہ مسلمانوں سے نفرت والےسیاسی ہندو کو تیار کرنے کی تحریک تھی۔ جئے شری رام اسی گروپ کا ایک سیاسی نعرہ ہے۔ اس نعرے کا رام سے اور رام کے احترام سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں۔ آپ جب جئے شری رام سنیں تو مان لیں کہ آپ کو جئے آر ایس ایس کہنے کی اور سننے کی عادت ڈالی جا رہی ہے۔

dharti-pakad-politician

انتخابات میں مقدر آزمانے والے آزاد امیدواروں کی دلچسپ کہانیاں

الیکشن کےقصے:دلچسپ بات یہ ہے کہ ان آزاد امیدواروں کا مقصد کسی بھی طرح انتخاب جیتنا نہیں ہے۔ باجوریا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ راشٹرپتی کے انتخاب سے لے کر مقامی سطح کے انتخابات تک میں 278 بارمقدر آزما چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر میں کاغذات نامکمل ہونے کی بنا پر وہ میدان سے باہر ہو گئے۔ انتخاب لڑنے کے ان کے شوق کا یہ عالم ہے کہ شورش زدہ کشمیر تک سے وہ خم ٹھوک چکے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں ضمانت ضبط کرانے کا نایاب تمغہ بھی انہیں کے پاس ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)

اس انتخاب میں مسلمانوں کے لئے کیا ہے؟

آج ہندوستانی سیاست ایک ایسے دور میں ہے جب کوئی بھی سیاسی پارٹی مسلم کمیونٹی کی بات نہیں کرنا چاہتی۔ وہ سیاسی طور پر اچھوت بنا دئے گئے ہیں۔ اب ان کا استعمال اکثریتی آبادی کو ووٹ بینک میں تبدیل کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

Media Bol EP 96

میڈیا بول: لوک سبھا انتخابات میں مودی، میڈیا اور مدعے

ویڈیو: میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے لوک سبھا انتخابات کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کو نریندر مودی کے دئے گئے انٹرویو پر سینئر صحافی پرشانت ٹنڈن اور سوراج انڈیا کے صدریوگیندر یادو کے ساتھ ارملیش کی بات چیت۔

Women Edit

ویڈیو: پارلیامنٹ میں خواتین کی نمائندگی پر کیا ہے عام خواتین کی رائے؟

ویڈیو: پارلیامنٹ میں خواتین کی نمائندگی کے بارے میں سیاسی پارٹیاں اکثر خاموش ہو جاتی ہیں، مردوں کے مقابلے خواتین کو پارٹیاں بھی کم ٹکٹ دیتی ہیں۔ سرشٹی شریواستوا نے بات کی دہلی کی عام عورتوں سے اور جانا کہ وہ انتخابی سیاست پر کیا سوچتی ہیں۔

HBB Ganga Ghat.00_33_22_33.Still005

ویڈیو: بہار کے دنگل میں کس طرف بہے گی گنگا

ویڈیو: ہم بھی بھارت کے اس ایپی سوڈ میں پٹنہ کے گاندھی گھاٹ پر لوک سبھا انتخابات کے بارے میں صحافی نویدتا جھا، فیضان احمد،پروفیسر ڈیزی نارائن، پروفیسر شنکر دت پٹنہ یونیورسٹی،ڈاکٹر حسنین قیصر اور اسماں خان سے دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت۔

تریپورہ کی راجدھانی اگرتلا کے ایک پولنگ بوتھ پر منگل کو ریانگ آدیواسی کمیونٹی کی خواتین نے تیسرے مرحلے کے ووٹنگ کے لئے اپنے ووٹ ڈالے۔ (فوٹو : پی ٹی آئی)

شہری ہونے کا مطلب  صرف زندہ رہنا اور ووٹ ڈالنا بھر رہ گیا ہے

ملک میں انتخاب ہو رہے ہیں اور جمہوری‎ حقوق کو لےکر تشویش بڑھتی جا رہی ہیں۔ لوگ بدحال زندگی جی رہے ہیں، بیماری، بھوک، ظلم، حادثہ اور تشدد آمیز حملوں میں مارے جا رہے ہیں۔ ذلیل کئے جا رہے ہیں۔ ان کے حقوق دن بہ دن کمزور کئے جا رہے ہیں۔

چودھری چرن سنگھ (فوٹو : دی وائر)

جب چودھری چرن سنگھ نے کہا-اگر میری پارٹی کا امیدوار کسان-مزدوروں سے دھوکہ کرتا ہو، تو ووٹ نہ دینا

الیکشن کے قصے: چودھری چرن سنگھ نے ایک انتخابی جلسہ میں رائےدہندگان سے کہا تھا کہ اگر ان کی پارٹی کے امیدوار کا کردار خراب ہو یا وہ شراب پیتا ہو، تو وہ اس کو ہرانے میں نہ جھجکیں۔

آرٹ ورک : پرینکا کمار

الیکشن نامہ: سنیے،کیا بےروزگاری سچ مچ ایک انتخابی مدعا بن پایا ہے؟

آڈیو : دی وائر اردو اور سنو انڈیا کے اس خاص پوڈ کاسٹ سیریز الیکشن نامہ کے اس ایپی سوڈ میں سنیے اس لوک سبھا انتخاب میں نوجوانوں کا رول کیا ہے اور ان کے ایشوز کیا ہیں۔ ساتھ ہی جانیے ان نوجوانوں کے بارے میں جو ان انتخابات میں حصہ تو لے رہے ہیں پر چرچہ میں نہیں ہیں۔

Mx-6de8h

میڈیا بول: الیکشن میں کشمیر-اقتدار کاسچ یا سیاسی رہنما کا جھوٹ

ویڈیو: بی جے پی اور کانگریس دونوں کے انتخابی منشور میں کشمیر کو لے کر وعدے کیے گئے ہیں۔جہاں بی جے پی نے اس کو نیشنل سکیورٹی سے جوڑا وہی کانگریس نے کشمیر مسئلہ کے حل کی بات کی۔ میڈیا بول کے اس ایپی سوڈ میں سنیے کشمیر کو لے کر ان وعدوں پر فلمساز سنجے کاک اور سینئر صحافی سید نزاکت حسن کے ساتھ ارملیش کی بات چیت۔

Narendra-Modi-Amit-Shah-Reuters

عام انتخابات 2019 میں بی جے پی کی بڑی جیت کا دعویٰ کھوکھلا ہے

2014 لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی کی زبردست جیت کا اعادہ 2019 میں نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت کے مقابلے اتر پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان، جھارکھنڈ، بہار اور دہلی جیسی ریاستوں میں بی جے پی اپنی بنیاد کھوتی نظر آ رہی ہے۔

ایک پروگرام میں زیرتربیت آئی اے ایس افسروں کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو : پی آئی بی)

لیٹرل انٹری: سرکاری محکمہ میں جوائنٹ سکریٹری بنے پرائیوٹ سیکٹر  کے 9 افسر

عام طور پر یو پی ایس سی کے ذریعے منعقد آئی اے ایس، آئی ایف ایس یا دوسری مرکزی سروسوں کے امتحان میں منتخب افسروں کو کیریئر میں لمبا تجربہ حاصل کرنے کے بعد جوائنٹ سکریٹری کے عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے۔