pro-Pakistani

سید علی شاہ گیلانی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سید علی گیلانی…ہمارے ابا جی

گیلانی صاحب کے بار بار اسلام و قرآن اور اقبال کے تذکرہ سے بھی کئی لوگ نالاں رہتے تھے مگر ہندوستان میں بائیں بازو کے افراد کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے اور وہ بھی ان کو خوب نبھاتے تھے۔ ممبئی میں ایک بار آندھرا پریش کے تعلق رکھنے والے ایک بائیں بازو کے لیڈر نے جن کا کشمیر آنا جانا لگا رہتا تھا اوران کو میری رشتہ داری کا علم نہیں تھا بتایاکہ گیلانی صاحب کشمیر کے گنے چنے مخلص اور سنجیدہ لیڈروں میں سے ہیں۔ وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کررہے تھے کہ بطور کشمیری ان کی قدر کروں۔

گیلانی کے انتقال کے بعد سری نگر کے حیدر پورہ میں 02 ستمبر کو تعینات پولیس اہلکار۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

جموں و کشمیر: کیسے سید گیلانی کی لاش اہل خانہ سے لےکر عجلت میں تجہیز و تکفین کے عمل کو انجام دیا گیا

سابق حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ پہلے جموں وکشمیر پولیس اس بات پر رضامند ہوئی تھی کہ ان کے اہل خانہ ان کی تجہیز وتکفین کے انتظامات کر سکیں گے، لیکن بعد میں پولیس ان کی لاش لے کر چلی گئی۔

بشیر احمد بھٹ۔ (فوٹوبہ شکریہ، ارجمند شاہین)

مبینہ طور پر آرمی ٹرک سے ہوئے حادثے کا ویڈیو بنانے والے شخص پر پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج

جموں وکشمیر کے باندی پورہ ضلع کے ندیہال گاؤں کا معاملہ۔ الزام ہے کہ گزشتہ14 جولائی کو بشیر احمد بھٹ نام کے نوجوان نے اپنی دکان کے باہرآرمی ٹرک سے ایک بزرگ خاتون کو کچلے جانے کےواقعہ کا ویڈیو بنایا تھا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا۔ اسی ویڈیو کی وجہ سے بشیر کو حراست میں لےکر اس پر این ایس اے لگایا گیا ہے اور جموں کی جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔