protests

10 جون 2022 کو الہ آباد میں مظاہرین کے ساتھ ریپڈ ایکشن فورس کی جھڑپ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

الہ آباد: نوجوانوں سے خالی اٹالے کی گلیوں کو انصاف کا انتظار ہے …

انصاف کا اصول ہے کہ ،سو مجرم بھلے ہی چھوٹ جائیں، لیکن ایک بھی بے قصور نہ پکڑا جائے، لیکن الہ آباد کے اٹالہ میں پتھر بازی کے بعد بڑے پیمانے پر کی گئی گرفتاریوں میں انصاف کے اس اصول کو الٹ دیا گیا ہے۔

الہ آباد میں 10 جون کو تشدد کے بعد 12 جون کو انتظامیہ نے جاوید محمد کے گھر کو مسمار کر دیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ تشدد کے کلیدی  سازش کار تھے۔ (تصویر: رائٹرس)

پیغمبر پر تبصرہ : الہ آباد میں ہوئے مظاہروں کے لیے جاوید محمد پر این ایس اے لگایا گیا

پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے کے خلاف 10 جون کو الہ آباد میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے رہنما اور سی اے اے مخالف مظاہروں میں شامل رہے جاوید محمد کو اتر پردیش پولیس نےگرفتار کیا تھا۔ ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ جب پولیس ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت اکٹھا کرنے میں ناکام رہی تو اس نے این ایس اے لگا دیا۔

سہارنپور میں بلڈوزر کے ذریعے توڑے گئے  مکان کا کچھ حصہ۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

سہارنپور تشدد: ملزمین کو موصول ہوئے گھر توڑے جانے کے نوٹس، متاثرین نے کہا – انتقامی کارروائی

بی جے پی لیڈروں کی جانب سے پیغمبر اسلام پر تبصرہ کرنے کے بعد منعقد مظاہرے کے دوران سہارنپور میں پیش آنے والے تشدد کے واقعات میں ملزم بنائے گئے افراد کے اہل خانہ کو گھر توڑے جانے سے متعلق نوٹس مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوٹس کا 10 جون یعنی تشدد کے دن ہی جاری ہونا ان پر سوال کھڑے کرتا ہے۔

SV Apoorvanand.00_29_33_19.Still002

کیا حکومت ہی ملک میں انارکی پھیلا رہی ہے؟

ویڈیو: اگنی پتھ سے لے کر سی اے اے، زرعی قانون اور نوٹ بندی کی وجہ سے ملک میں احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں مودی کی حکومت کے بارے میں دی وائر کے بانی ایڈیٹر سدھارتھ وردراجن اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند کی بات چیت۔

سی جے آئی این وی رمنا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

سابق نوکرشاہوں نے یوپی کے ’بلڈوزر جسٹس‘ کو ختم کرنے کے لیے سی جے آئی سے مداخلت کی اپیل کی

سابق نوکر شاہوں کے کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ نے ملک کے چیف جسٹس کے نام ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ مسئلہ اب صرف مقامی سطح پر پولیس اور انتظامیہ کی ‘زیادتیوں’ کا نہیں ہے بلکہ یہ حقیقت یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی ہے، قانونی کارروائی اور’قصوروار ثابت نہ ہونے تک بے قصور ماننے’کے نظریہ کو بدلا جا رہا ہے۔

مولانا ارشد مدنی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

جمیعۃ نے انتظامیہ پر مذہب کی بنیاد پر مظاہرین کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگایا

جمعیۃ علماء ہند ارشد مدنی گروپ نے کہا کہ مظاہرہ کرنا ہر ہندوستانی شہری کا جمہوری حق ہے،لیکن موجودہ حکمرانوں کے پاس اس کے لیےدو پیرامیٹرز ہیں۔ مسلم اقلیت احتجاج کرے تو ناقابل معافی جرم، لیکن اگر اکثریتی طبقہ سڑکوں پر آکر پرتشدد کارروائیاں کرے تو انہیں منتشر کرنے کے لیے ایک ہلکا لاٹھی چارج بھی نہیں کیا جاتا۔

الہ آباد میں جاوید محمد کا گھر منہدم کرتا شہری انتظامیہ کا بلڈوزر ۔ (تصویر: رائٹرس)

بلڈوزر پر سوار ہندوستان تیزی سے ہندو فسطائیت کی راہ  پرگامزن  ہے

پہلے مسلمانوں کو سزا دینے کے لیے قتل عام کیا جاتا تھا، بھیڑ ان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالتی تھی، ان کو نشانہ بناکر قتل کیا جاتا تھا، وہ حراستوں اورفرضی انکاؤنٹر میں مارے جاتے تھے یا جھوٹے الزامات میں قید کیے جاتے تھے۔ اب ان کی جائیدادوں کو بلڈوز سے منہدم کردینا اس فہرست میں شامل ایک نیا ہتھیار ہے۔

جمعہ کو دھنباد میں ریلوے ٹریک پر اگنی پتھ اسکیم  کے خلاف احتجاج میں بیٹھے نوجوان۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

رویش کمار کا بلاگ: اگنی ویروں! ’آپ لڑنے لائق نہیں بچے ہیں، فرقہ پرستی آپ کے اندر کی شہری زبان ختم کر چکی ہے‘

نوکریوں کے سلسلے میں نوجوانوں کا کوئی بھی مظاہرہ صرف ان کی اپنی نوکریوں کے لیے ہے۔ اس لیے نوکری اور نوجوانوں کا مبینہ غصہ سیاسی ایشو ہوتے ہوئے بھی ووٹ کا ایشو نہیں۔ جس لڑائی کو آپ لڑنے چلے ہیں، اس کو آپ بہت پہلے روند چکے ہیں۔ آپ نےدوسروں کی ایسی بہت سی لڑائیاں ختم کی، میدان تک ختم کر دیے۔ اب جب کہ میدان دلدل میں بدل گیا ہے، تب اس میں لڑائی کے لیے اتر ے ہیں۔ آپ پھنستے چلے جائیں گے۔

Arfa-Justice-Govind-Mathur

یوپی حکومت کی توڑ پھوڑ مکمل طور پر غیر قانونی، معاوضہ ملنا چاہیے: ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس

دی وائر سے بات چیت میں الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے جسٹس گووند ماتھر نے کہا کہ جیسا اتر پردیش میں چل رہا ہے، ایسا ہی چلتا رہا تو قانون یا پولیس کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ من مانا ہے۔

آفرین فاطمہ کے گھر کے باہر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری موجودگی کے درمیان ایک جے سی بی بلڈوزر۔ (فوٹو کریڈٹ: ٹوئٹر/ابو شیزو)

الہ آباد تشدد: اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ آفرین فاطمہ کا گھر توڑے جانے کی مذمت

اتر پردیش انتظامیہ نے جے این یو کی اسٹوڈنٹ آفرین فاطمہ کے والد اور ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے رہنما جاوید محمد کے الہ آباد واقع گھر کو بلڈوز چلا کرزمین دوزکر دیا تھا۔ پولیس نے یہ قدم جاوید کو 10 جون کو شہر میں ہوئے احتجاجی مظاہروں کا ‘ماسٹر مائنڈ’ قرار دینے کے بعد اٹھایا تھا۔ مذکورہ مظاہرہ بی جے پی لیڈروں کے پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے کے بعد ہوا تھا۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

سیڈیشن پر سپریم کورٹ کے آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے شرجیل امام نے عبوری ضمانت کے لیے عرضی داخل کی

رواں سال جنوری میں دہلی کی ایک عدالت نے 2019 کے سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہروں کے دوران مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقاریر کے الزام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے طالبعلم شرجیل امام کے خلاف سیڈیشن کا الزام طےکیا تھا۔ اسی ماہ سپریم کورٹ نے سیڈیشن کے قانون پر غوروخوض ہونے تک اس سے متعلق تمام کارروائیوں پر روک لگانے کی ہدایت دی ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

دہلی فسادات: ہیٹ اسپیچ معاملے میں عدالت نے کہا – بیان مسکراتے ہوئے دیا جائے تو یہ جرم نہیں ہے

دہلی ہائی کورٹ دہلی فسادات سے پہلے ہیٹ اسپیچ کے الزام میں بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورماکے خلاف ایف آئی آر کے مطالبے کو خارج کرنے کے سلسلے میں چیلنج دینے والی ایک عرضی پر سماعت کر رہی ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ انتخابی بیان بازی میں رہنما کئی طرح کی باتیں کرتے ہیں، لیکن ہمیں کسی بھی پیش رفت کی مجرمانہ نوعیت کو دیکھنا ہوگا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات: ہیٹ اسپیچ معاملے میں عدالت نے سونیا گاندھی، راہل گاندھی، کپل مشرا سمیت کئی لیڈروں کو دوبارہ نوٹس بھیجا

دہلی ہائی کورٹ فروری 2020 میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات سے متعلق مختلف عرضیوں کی سماعت کر رہی ہے، جن میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ سی اے اے مخالف مظاہروں کے بعد ہوئے فسادات میں مبینہ طور پر ہیٹ اسپیچ کے معاملے میں ان لیڈروں کی جانچ کی جائے۔

یوگی آدتیہ ناتھ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

امریکی لا فرم نے ’انکاؤنٹر‘ میں ہلاکتوں کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

امریکی وکیلوں کے ایک بین الاقوامی گروپ گورینیکا 37 نے یو ایس ٹریژری ڈپارٹمنٹ کے پاس جمع کرائی گئی ایک درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ سابق ڈی جی پی اوم پرکاش سنگھ اور کانپور کےایس پی سنجیو تیاگی کےخلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے عالمی پابندیاں عائد کی جائیں۔

ہاتھرس گینگ ریپ متاثرہ کے آخری رسومات کی ادائیگی کرتے پولیس اہلکار۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

اتر پردیش میں لاء اینڈ آرڈر کو بہتر بنانے کے بی جے پی کے دعووں میں کتنی سچائی ہے؟

گزشتہ پانچ سالوں میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے خواتین، اقلیتوں اور اختلاف رائے کا اظہار کرنے والوں پر ہوئے جبر واستبدادکو نظر انداز کیا ہے یا اس عمل میں خود اس کا رول رہا ہے۔ اس صورتحال میں بھی ستم ظریفی یہ ہے کہ بی جے پی ریاست میں امن و امان کے خودساختہ ریکارڈ کو کامیابی کےطور پر پیش کر رہی ہے۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

جامعہ تشدد کے معاملے میں جے این یو کے طالبعلم شرجیل امام کو ضمانت

دہلی کی ایک عدالت نے دسمبر 2019 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئےتشدد سے متعلق معاملےمیں شرجیل امام کوضمانت دیتے ہوئے کہا کہ جرم کی نوعیت اور اس حقیقت کو دھیان میں رکھتے ہوئے ان کی عرضی کو منظور کیا جاتا ہے کہ انہیں جانچ کے دوران گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

ویڈیوگریب۔

بی جے پی اور نرسنہانند سے وابستہ ہندوتوا لیڈر نے ایک مسلمان کو ٹرین میں پیٹا

معاملے کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے،جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدت پسند ہندوتوا لیڈریتی نرسنہانند کی پیروکار مدھو شرما مسلمان شخص کا بال پکڑ کر کھینچ رہی ہیں اور انہیں تھپڑ مار رہی ہیں۔دھکا دینے کاالزام لگاتے ہوئے انہوں نے اس کو پاؤں چھونے کے لیے بھی مجبور کیا۔

بچے کے ساتھ کھڑا یتی نرسنہانند سرسوتی۔ (فوٹو: اسکرین گریب)

غازی آباد: ڈاسنہ مندر میں ’غلطی‘ سے جانے والے دس سالہ مسلم بچے سے پولیس کی پوچھ تاچھ

ڈاسنہ مندر کے پجاری اوررائٹ ونگ کےشدت پسند رہنمایتی نرسنہانند سرسوتی نےالزام لگایا کہ بچے کو ان پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچہ اس علاقے سے واقف نہیں تھا اور انجانے میں مندر میں چلا گیا تھا۔ اس کے بیان کی سچائی جاننے کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی فسادات کی جانچ کو لے کر کئی بار پولیس پر سوال اٹھانے والے ایڈیشنل سیشن جج کا تبادلہ

ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو دہلی کےکڑکڑڈوما ضلع عدالت میں دنگوں سے متعلق کئی معاملوں کی شنوائی کر رہے تھے۔ ان کاتبادلہ نئی دہلی ضلع کےراؤز ایونیو عدالت میں خصوصی جج (پی سی قانون) (سی بی آئی)کے طور پر کیا گیا ہے۔جسٹس یادو نے دہلی دنگوں کو لےکر پولیس کی جانچ کو لےکر سوال اٹھاتے ہوئے کئی بار اس کی سرزنش کر چکے ہیں۔ انہوں نے اکثر معاملوں میں جانچ کے معیار کو گھٹیا بتایا تھا۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: متضاد بیانات پر عدالت نے کہا-حلف اٹھا کر جھوٹی گواہی دے رہے پولیس گواہ

دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے فسادات سےمتعلق ایک معاملے کو سنتے ہوئے کہا کہ پولیس گواہوں میں سے ایک حلف لےکر غلط بیان دے رہا ہے۔کورٹ نے ایسا تب کہا جب ایک پولیس اہلکار نے تین مبینہ دنگائیوں کی پہچان کی لیکن ایک اور افسر نے کہا کہ جانچ کے دوران ملزمین کی پہچان نہیں ہو سکی۔ یہ پہلی بار نہیں ہیں جب عدالت نے دہلی دنگوں کے معاملے میں پولیس پر سوال اٹھائے ہیں۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات پل بھر میں نہیں ہوئے، منصوبہ بند سازش تھی: ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ فروری2020 میں ملک کی قومی راجدھانی کو ہلا دینے والے فسادات واضح طور پرپل بھر میں نہیں ہوئے اور ویڈیوفوٹیج میں موجود مظاہرین کے طرزعمل سے یہ صاف پتہ چلتا ہے۔یہ حکومت کے کام کاج میں خلل ڈالنے کے ساتھ ساتھ شہر میں لوگوں کی عام زندگی کو متاثرکرنے کے لیے سوچی سمجھی کوشش تھی۔

TISS

شرجیل امام کے حق میں نعرے بازی پر درج سیڈیشن کیس میں دو طالبعلموں کو پیشگی ضمانت

گزشتہ سال فروری میں ممبئی کے آزاد میدان میں ہوئے ایک ایل جی بی ٹی کیو پروگرام میں جے این یواسٹوڈنٹ شرجیل امام کے حق میں مبینہ نعرے بازی کے لیے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے دو طالبعلموں کے خلاف سیڈیشن کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ ، فیس بک

السلام علیکم سے پتہ چلتا ہے کہ شرجیل امام کی تقریر ایک خاص کمیونٹی کے لیے تھی: دہلی پولیس

شرجیل امام کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 13 دسمبر 2019 اور اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں16جنوری 2020 کو شہریت قانون کے خلاف مبینہ طور پرمتنازعہ بیانات دینے کا الزم ہے ۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر دھمکی دی تھی کہ آسام اور بقیہ شمال مشرقی صوبوں کو ‘ہندوستان سے الگ’کر دیا جائے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: زخمی نوجوانوں کو قومی ترانہ گانے کے لیے مجبور کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کی پہچان

گزشتہ سال دنگوں کے دوران ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا،جس میں زخمی حالت میں پانچ نوجوان زمین پر پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کم از کم سات پولیس اہلکارنوجوانوں کو گھیرکرقومی ترانہ گانے کے لیےمجبورکرنے کے علاوہ انہیں لاٹھیوں سے پیٹتے ہوئےنظر آتے ہیں۔ ان میں سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی، جس کی پہچان 23 سال کے فیضان کے طورپر ہوتی ہے۔ ان کی ماں کا کہنا تھا کہ پولیس کسٹڈی میں بےرحمی سے پیٹے جانے اور وقت پر علاج نہ ملنے سے ان کی جان گئی۔

فوٹو: رائٹرس

دہلی فسادات: مسلم نوجوان کے قتل معاملے میں سات لوگوں کے خلاف فرد جرم عائد

گزشتہ سال 25 فروری کو 18سالہ مونس اپنےوالد سے مل کر اور مٹھائیاں لےکر گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ تبھی دنگے بھڑک گئے۔ جب وہ دہلی کے یمنا بس اسٹینڈ پر اترا تو اس نے دنگوں کو بھڑکتے دیکھا۔ مشتعل بھیڑ نے اس کے مسلم ہونے کا پتہ چلنے کے بعد لاٹھی ڈنڈوں اور پتھروں سے پیٹ پیٹ کر اس کی جان لے لی۔

والد مہاویر نروال کے ساتھ نتاشا نروال۔ (فوٹوبہ شکریہ: ٹوئٹر)

دہلی فسادات: والد کی کووڈ 19 سے موت کے بعد نتاشا نروال کو کچھ شرطوں کے ساتھ ملی ضمانت

دہلی ہائی کورٹ نے اس بات کا نوٹس لیا کہ دہلی فسادات کےمعاملے میں گرفتار کی گئیں نتاشا نروال کی فیملی میں آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے کوئی نہیں ہے۔ پچھلے سال 22 فروری 2020 کو دہلی کے جعفرآبادمیٹرو اسٹیشن کے باہرشہریت قانون کے خلاف ہوئے ایک احتجاج میں حصہ لینے پر 23 مئی2020 کو نروال کو ان کی ایک ساتھی دیوانگنا کلیتا کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

WhatsApp Image 2021-03-24 at 23.37.24 (1)

بہار اسمبلی میں آر جے ڈی رہنماؤں کی پٹائی؛ جمہوریت  کے لیے شرمناک دن

ویڈیو: بہار اسمبلی میں رہنماؤں کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کے واقعہ کی پورے ملک میں مذمت کی جا رہی ہے۔ اس پورے معاملے پر راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان شکتی سنگھ، سینئر صحافی فیضان احمد اور دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن سے عارفہ خانم شیروانی کی بات چیت

فوٹو: ویڈٰیو اسکرین گریب

دہلی فسادات: پولیس کا دعویٰ-’قومی ترانہ والے ویڈیو‘ میں موجود نوجوان کی حراست کے وقت  تھانے کا کیمرہ خراب تھا

گزشتہ سال دہلی فسادات کے دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں کچھ پولیس والے پانچ مسلم نوجوانوں کو پیٹتے ہوئے انہیں قومی ترانہ گانے کو مجبور کررہے تھے۔ بعد میں ان میں سے ایک 23 سالہ فیضان کی موت ہو گئی تھی۔ فیضان کی ماں نے پولیس اہلکاروں پر حراست میں قتل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انصاف کی فریاد کی ہے۔

یتی نرسنہانند کے ساتھ مرکزی وزیر گریراج سنگھ۔ بیچ میں بی جے پی کے بی ایل شرما ہیں اور پیچھے سفید قمیص اور گمچھے میں یتی کا قریبی اور 'ہندو فورس'کا بانی دیپک سنگھ ہندو۔

دہلی فسادات سے ٹھیک پہلے شدت پسند ہندوتوادی رہنما نے لگاتار مسلمانوں کے ’قتل عام‘ کی اپیل کی تھی

خصوصی سیریز: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکر دی وائر کےخصوصی سلسلہ کے دوسرے حصہ میں جانیےشدت پسند ہندوتوادی رہنمایتی نرسنہانند کو، جن کی نفرت اور اشتعال انگیزی نے ان شرپسندوں کے اندرشدت پسندی کا بیج بویا، جنہوں نے فروری 2020 کے آخری ہفتے میں شمال-مشرقی دہلی میں قہر برپاکیا۔

AKI MOno 1 MARCH.00_35_41_03.Still010

دہلی فسادات: موج پور کے دکانداروں کو نقصان کے مقابلے بہت کم معاوضہ ملا

گراؤنڈ رپورٹ: شمال – مشرقی دہلی کے موج پور علاقے میں پچھلے سال ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران تمام دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ دکانداروں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جتنے نقصان کا دعویٰ کیا تھا، اس سے کافی کم معاوضہ انہیں دیا گیا۔

راگنی تیواری، دیپک سنگھ ہندو اور انکت تیواری۔

دہلی فسادات کی اصل سازش؛ جس کو پولیس نے نظر انداز کیا

خصوصی رپورٹ: سال 2020 کے دہلی فسادات کو لےکردی وائر کی سیریز کے پہلے حصہ میں جانیے ان ہندوتووادی کارکنوں کوجنہوں نےنفرت پھیلانے، بھیڑجمع کرنے اور پھر تشددبرپا کرنے میں اہم رول ادا کیا۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات: حکومت کی یقین دہانی کے بعد متاثرین کو ملا 10 فیصدی سے بھی کم معاوضہ

گراؤنڈ رپورٹ:شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے دنگوں میں متاثرہ موج پور،اشوک نگر جیسے علاقوں کے55 دکانداروں نے نقصان کی بھرپائی کے لیےکل 3.71 کروڑ روپے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن دہلی سرکار نے اس میں سے 36.82 لاکھ روپے کی ہی ادائیگی کی ہے۔ جودعوے کے مقابلے9.91 فیصدی ہی ہے۔

نکیتا جیکب۔ (فوٹو بہ شکریہ : ٹوئٹر)

ٹول کٹ معاملے میں نکیتا جیکب کو تین ہفتے کے لیے پیشگی ضمانت ملی

بامبے ہائی کورٹ نےممبئی کی وکیل نکیتا جیکب کو راحت دیتے ہوئے دہلی کی متعلقہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا ہے۔ یہ معاملہ کسانوں کے احتجاج کے سلسلے میں ماحولیاتی کارکن گریتا تنبیرکی جانب سے شیئر کیے گئے ٹول کٹ سے متعلق ہے۔

1502 AKI.00_33_35_07.Still002

اکیس سالہ دشا روی کی گرفتاری کیا مودی سرکار کی بوکھلاہٹ دکھاتی ہے؟

ویڈیو:کسانوں کی تحریک سےمتعلق ٹول کٹ معاملہ اب بڑا سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ دہلی پولیس نے اس معاملے میں ماحولیاتی کارکن دشا روی کو بنگلورو سے گرفتار کیا ہے۔ اس پورے مسئلے پر پولیس اور سرکار نے کس طرح سے کام کیا، بتا رہی ہیں دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی۔

حراست میں دشا روی۔ (فوٹوبہ شکریہ : ٹوئٹر)

دشا روی کی گرفتاری ہم سب کے منھ پر اس اقتدار کا بوٹ ہے…

دوسرے ممالک ہوں گے جہاں گریتااسٹار ہیں ، ہم اپنی گریتا دشا روی کو جیل میں رکھتے ہیں۔ وہ کوئی اور زمانہ ہوگا اور کوئی اور ملک جہاں مفاد سے اوپر اٹھ کر فطرت اور ماحولیات کی فکرکرنے والوں کا استقبال ہوتا ہے۔ یہاں ان کو جیل ملتا ہے۔

جے سی سی کی جانب سےجاری سی سی ٹی وی فوٹجد مں  پولسض اہلکار لائبریری مںھ بٹھے  طلبا کو لاٹھی سے مارتے دکھ رہے تھے۔ (بہ شکریہ: ٹوئٹر/ویڈیوگریب)

جامعہ تشدد: پولیس پر ایف آئی آر کی عرضی خارج، عدالت نے کہا-سرکاری ڈیوٹی تھی

دسمبر2019 میں سی اے اے کے خلاف ایک احتجاج میں ہوئے جھڑپ کے بعد دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ کیمپس میں گھس کر لاٹھی چارج کیا تھا، جس میں تقریباً 100 لوگ زخمی ہوئے تھے۔ یونیورسٹی نے بنا اجازت کیمپس داخل ہونے اور طلباا ورسکیورٹی گارڈز پر حملے کے الزام میں پولیس پر ایف آئی آر درج کرنے کی عرضی دائر کی تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

دہلی فسادات:  قومی ترانہ گانے پر مجبور کیے گئے نوجوان کی موت کی جانچ کی مانگ کو لے کر عرضی

دہلی ہائی کورٹ نے دہلی دنگے کے دوران 23 سالہ فیضان کی موت کے معاملے میں عدالت کی نگرانی میں جانچ کی مانگ سےمتعلق عرضی پر دہلی سرکار اور کرائم برانچ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دنگوں کے دوران ایک ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار زمین پر فیضان سمیت کچھ زخمی نوجوانوں سے قومی ترانہ گانے کو کہتے دکھ رہے تھے۔ فیضان کی اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔

شرجیل امام، فوٹو بہ شکریہ ، فیس بک

شرجیل امام کی رہائی، فوراً رہائی … ہندوستان میں مسلمانوں کے یقین کے لیے ضروری ہے

الزام ہے کہ شرجیل امام نے نارتھ -ایسٹ کو ہندوستان سے کاٹ دینے کا اکساوا دیتے ہوئے بیان دیے تھے۔ انہوں نے اتنا ہی کیا تھا کہ سرکار پر دباؤ ڈالنے کے لیے راستہ جام کرنے کی بات کہی تھی۔ کسان ابھی چاروں طرف سے دہلی کا راستہ بند کرنے کی بات کہہ رہے ہیں، تاکہ سرکار پر دباؤ بڑھے اور وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے۔ کیا اسے دہشت گردانہ کارروائی کہا جائےگا؟

Don`t copy text!