pune

کنچن نانورے (فوٹوا سپیشل ارینجمنٹ)

مہا راشٹر: چھ سالوں سے شنوائی کے انتظار میں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کارکن کی حراست میں موت

اسٹوڈنٹ رائٹس کےلیے کام کرنے والی مہاراشٹر کے چندرپورضلع کی کارکن کنچن نانورے کو ماؤنواز تحریک میں مبینہ شمولیت کے لیے2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سنگین بیماریوں سے جوجھ رہیں کنچن کو ضمانت نہیں دی گئی اور طبیعت بگڑنے پر 16 جنوری کو اسپتال میں بھرتی کیا گیا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

مودی کی ریلی کے لیے پیڑ کاٹنے کی مخالفت پر وزیر ماحولیات بولے-پہلے کیوں نہیں تھی بیداری

وزیر ماحولیات پرکاش جاویڈکر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی انتخابی ریلی کے لیے پیڑوں کو کاٹے جانے پر اتنا ہنگامہ کیوں ؟ پہلے بھی وزیر اعظم اور دوسرے رہنماؤں کے لیے پیڑ کاٹے جا چکے ہیں ۔ مجھے حیرت ہے کہ پہلے اس طرح کی بیداری کیوں نہیں تھی ۔

ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی (فوٹو بہ شکریہ:فیس بک)

مہاراشٹر: پونے یونیورسٹی کے وی سی سمیت 4 کے خلاف ایس سی-ایس ٹی ایکٹ میں معاملہ درج

ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی کے ایک اسٹوڈنٹ نے کینٹین سے متعلق اصولوں میں تبدیلی کرنے کو لےکر ہوئے ایک مظاہرہ میں حصہ لیا تھا۔ اسٹوڈنٹ کا الزام ہے کہ ایس سی کمیونٹی سے ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی۔

مہاراشٹر کے پونے میں زیرتعمیر عمارت گری (فوٹو: اے این آئی)

مہاراشٹر: پونے میں بھاری بارش سے دیوار گری، بچوں سمیت 17 لوگوں کی موت، کئی زخمی

یہ حادثہ پونے کے کونڈھوا علاقے میں ایک زیرتعمیر عمارت کے مزدوروں کی ٹن کی جھوپڑی پر گرنے سے ہوا۔ حکومت نے مرنے والوں کے رشتہ داروں کے لئے 5 لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔

Mathura

مبینہ طور پر ’رام رام‘ کا جواب نہ دینے پر غیر ملکی شہری کو چاقو مارا، حملہ آور گرفتار

اتر پردیش کے متھرا کا معاملہ۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے غیر ملکی عقیدت مند کو رام رام کہا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ الزام ہے کہ دوبار رام رام کرنے پر غیرملکی شہری نے اس کو تھپڑ مار دیا، جس کے بعد ملزم نے ان پر چاقو سے وار کردیا۔

ڈاکٹر ارون گدرے (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

جنتر منتر کے پاس مبینہ طور پر مذہب پوچھ‌کر ڈاکٹر سے جئے شری رام کے نعرے لگوائے گئے

نئی دہلی کے کناٹ پلیس کا یہ معاملہ 26 مئی کا ہے۔ الزام ہے کہ صبح کی سیر پر نکلے پونے کے ڈاکٹر ارون گدرے کو روک‌کر کچھ نوجوانوں نے پہلے ان کا مذہب پوچھا اور پھر جئے شری رام کے نعرے لگانے کو مجبور کیا۔

فوٹو: فیس بک

دہشت کا سناتن چہرہ

سناتن سنستھا اور ہندو جن جاگرتی سمیتی جیسی’روحانی’ کہی جانے والی تنظیموں سے مبینہ طور پر وابستہ کئی لوگوں کی گرفتاری ان کی انتہاپسند سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں سامنے آیا ایک اسٹنگ آپریشن بتاتا ہے کہ اپنی منظم تشدد آمیز سرگرمیوں کے باوجود ان تنظیموں کو ملے سیاسی تحفظ کی وجہ سے ان کے خلاف سخت کارروائی سے ہمیشہ بچا گیا۔

Don`t copy text!