Rajnath Singh

فوٹو : پی ٹی آئی

ہم چاہتے ہیں کہ آسام میں این آر سی دوبارہ ہو: ہمنتا بسوا شرما

آسام میں ‘غیر ملکیوں’ کی شناخت کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہوئی این آر سی کی حتمی فہرست اگست 2019 میں شائع ہوئی تھی، جس میں 3.3 کروڑ درخواست گزاروں میں سے 19 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جگہ نہیں ملی تھی۔ حتمی فہرست سامنے آنے کے بعد سے ہی ریاست کی بی جے پی حکومت اس پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور کانگریس صدر راہل گاندھی۔ (فوٹو: پی آئی بی/پی ٹی آئی)

لداخ: گلوان میں مبینہ طور پر چینی جھنڈا لہرایا گیا، راہل نے پی ایم سے چپی توڑنےکو کہا

پہلی جنوری کو سرکاری چینی میڈیا کے ایک صحافی نے اپنے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ گلوان میں چینی قومی پرچم لہرایا گیا ہے۔ لداخ میں واقع یہ وہی وادی ہے جہاں جون 2020 میں چین اور ہندوستان کے فوجیوں کے درمیان خونریز تصادم ہوا تھا۔شین شیوئی نام کےاس صحافی کوسوشل میڈیا پر اپنی تحریروں کے ذریعے چینی پروپیگنڈے کی قیادت کے لیے جانا جاتا ہے۔

گلوان گھاٹی کی سٹیلائٹ تصویر جہاں گلوان ندی شیوک ندی سے ملتی ہے۔ (فوٹو: دی  وائر/گوگل میپس)

قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیامنٹ کے سوالنامے سے ہندوستان اور چین کی سرحد سے متعلق 17 سوالوں کو ہٹا یا گیا

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ منیش تیواری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ستمبر 2020 سے اب تک لوک سبھا سکریٹریٹ نےقومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے ہندوستان اور چین کےسرحدی تنازعہ کے بارے میں سترہ سوالوں کاجواب دینے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اور بھی کئی سوال ہیں، جن کا حکومت جواب نہیں دے رہی۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ (فوٹو : پی ٹی آئی)

مذہبی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم ایک تاریخی غلطی تھی: راجناتھ سنگھ

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 1971 کی جنگ میں پاکستان پر ہندوستان کی فتح اور بنگلہ دیش کی آزادی کے 50سال مکمل ہونے پر ایک پروگرام میں کہا کہ تاریخ میں ایسامشکل سے ہی دیکھنے کو ملےگا کہ جنگ میں کسی ملک کو شکست دینےکےبعدہندوستان نے اس پر اپنی بالادستی کا اظہار نہیں کیا، بلکہ اسے وہاں کی سیاسی طاقتوں کے حوالے کر دیا۔

کرن تھاپر اور راج موہن گاندھی۔ (فوٹو: دی  وائر)

وزیر دفاع کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ گاندھی کے کہنے پر ساورکر نے رحم کی درخواست دائر کی: راج موہن گاندھی

سینئر صحافی کرن تھاپر سے بات کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کے پوتے اور پروفیسر راج موہن گاندھی نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کےگاندھی کی صلاح پر وی ڈی ساورکر کے معافی نامہ لکھنے کے دعوے کی تردید کی اور اس کومضحکہ خیز بتایا۔

(فوٹو :پی ٹی آئی )

راجناتھ سنگھ نے دروغ گوئی سے کیوں کام لیا؟

اگر راجناتھ سنگھ کو جھوٹ ہی سہی، ساورکر کے معافی نامےکو قابل قبول بنانے کےلیے گاندھی کاسہارا لینا پڑا تو یہ ایک اور بار ساورکر پر گاندھی کی اخلاقی فتح ہے۔ اخلاقی پیمانہ گاندھی ہی رہیں گے، اسی پر کس کر سب کو دیکھا جائےگا۔جب جب ہندوستان اپنی راہ سےبھٹکتا ہے، دنیا کے دوسرے ملک اور رہنماہمیں گاندھی کی یاد دلاتے ہیں۔

WhatsApp Image 2021-10-13 at 8.17.00 PM (1)

کیا ساورکر کی امیج کو مسخ شدہ حقائق سے وہائٹ واش کیا جا رہا ہے؟

ویڈیو: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ایک مخصوص طبقہ ونایک دامودر ساورکر کی رحم کی درخواست کو غلط طریقے سےمشتہرکر رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ساورکر نے جیل میں اپنی سزا کاٹتے ہوئے مہاتما گاندھی کے کہنے پر انگریزوں کے سامنے رحم کی درخواست دائر کی تھی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

متعلقہ شخص کو سننے کے بعد ہی شہریت پر کوئی فیصلہ دیا جائے: گوہاٹی ہائی کورٹ

فارن ٹریبونل کے یک طرفہ آرڈر کو درکنار کرتے ہوئے گوہاٹی ہائی کورٹ نے کہا کہ شہریت کسی شخص کا سب سے اہم حق ہے۔ اس سے پہلے ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا تھا کہ شہریت ثابت کرنے کے لیے کسی شخص کو ووٹر لسٹ میں شامل سبھی رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات کا ثبوت دینا ضروری نہیں ہے۔

اگست 2019 میں گوہاٹی کے ایک این آرسی مرکز پر اپنے دستاویز دکھاتے مقامی لوگ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

آسام اسمبلی انتخاب کے بیچ این آر سی کے موضوع پر اتنی خاموشی کیوں ہے…

ایسےصوبے میں جہاں این آرسی کی وجہ سےتقریباً20 لاکھ آبادی‘اسٹیٹ لیس’ ہونے کے خطرے کا سامنا کر رہی ہو، وہاں کے سب سے اہم انتخاب میں اس بارے میں تفصیلی بحث کی عدم موجودگی سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں ۔

بنگلہ دیش میں نریندر مودی کے دورے کے دوران ہوئے مظاہرے۔ (فوٹوبہ شکریہ: bdnews24.com)

مودی کی سیاست کے خلاف غصے کا نشانہ بنگلہ دیش کے ہندوؤں کو کیوں بنایا جا رہا ہے

ایک ملک میں اقلیتوں پر حملے کی مخالفت کے دوران جب اسی ملک کے اقلیتوں پر حملہ ہونے لگے تو شبہ ہوتا ہے کہ یہ حقیقت میں کسی ناانصافی کے خلاف یا برابری جیسے کسی اصول کی بحالی کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے بھی ایک اکثریتی تعصب ہی ہے۔

بنگلہ دیش میں متوآکمیونٹی  کا مندر۔ (فوٹو: Special arrangement)

کیا مودی کا بنگلہ دیش دورہ بنگال کے رائے دہندگان کو لبھانے کی قواعد ہے

وزیر اعظم نریندر مودی 26 مارچ سے شروع ہونےوالے دو روزہ بنگلہ دیش دورے کے دوران ڈھاکہ سے تقریباً 190 کیلومیٹر دوراوراکانڈی میں متوآکمیونٹی کے مندر جائیں گے۔ جانکاروں کے مطابق، یہ مغربی بنگال میں متوآکمیونٹی کو لبھانے کی قواعد ہے۔

فوٹو: رائٹرس

کون ہیں لاشوں کے سوداگر؟

وقت آگیا ہے کہ پلوامہ، پارلیامنٹ، ممبئی اور اکشر دھام حملوں کی غیر جانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا جائے اور معلوم کیا جائے کہ جانکاری ہوتے ہوئے بھی پیش بندی کیوں نہیں کی گئی۔ آخر معصوم افراد کو دہشت گردی کی خوراک کس نے بننے دیا اور اس سے کیا سیاسی فوائد حاصل کئے گئے؟

وزیر داخلہ  امت شاہ (فوٹو:  پی ٹی آئی)

کووڈ 19 ٹیکہ کاری مکمل ہو نے کے بعد سی اے اے کو نافذ کیا جائے گا: امت شاہ

بنیادی طور پرمشرقی پاکستان کےمتوآکمیونٹی کے لوگ ہندو ہیں۔مغربی بنگال میں اس کمیونٹی کی آبادی تقریباً 30 لاکھ ہے۔ نادیہ شمالی اور جنوبی 24 پرگنہ اضلاع کی کم سے کم چار لوک سبھا سیٹوں اور 30 سے زیادہ ودھان سبھا سیٹوں پر اس کمیونٹی کا اثر ہے۔

فوٹو : پی ٹی آئی

این آر سی کی فہرست جاری ہو نے کے ڈیڑھ سال بعد این آر سی کنوینر نے ہائی کورٹ سے کہا-حتمی فہرست آنا باقی

آسام میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہوئی این آر سی کی حتمی فہرست31 اگست 2019 کو شائع ہوئی تھی، جس میں 19 لاکھ لوگوں کے نام نہیں آئے تھے۔اب این آر سی کنوینر ہتیش شرما نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں دائر ایک حلف نامے میں کہا ہے کہ وہ ضمنی فہرست تھی اور اس میں 4700 نااہل نام شامل ہیں۔

(فوٹو بہ شکریہ: فیس بک)

سرکار اور اس کی ایجنسیاں میڈیا اداروں پر انتقامی جذبے سے کر رہی ہیں کارروائی: ایڈیٹرس گلڈ

پرسار بھارتی نےگزشتہ15اکتوبر کو خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی اور یواین آئی کا سبسکرپشن رد کر دیا ہے۔ سرحد پر ہوئے تصادم کے بیچ پی ٹی آئی کے ذریعے جون مہینے میں ہندوستان میں چین کے سفیر کا انٹرویو کرنے پر پرسار بھارتی نے ایجنسی کی کوریج کو ‘ملک مخالف’ قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ تمام رشتے توڑنے کی دھمکی دی تھی۔

فوٹو : پی ٹی آئی

آسام: این آرسی کی حتمی فہرست سے تقریباً دس ہزار ’نا اہل‘ افراد کے نام ہٹانے کی ہدایت

این آرسی آسام کےکنوینرہتیش دیو شرمانےتمام ڈپٹی کمشنروں اورسول رجسٹریشن کے رجسٹراروں کو لکھے خط میں کہا ہے کہ حتمی فہرست میں قرار دیے گئے غیرملکی، ڈی ووٹرس اور غیرملکی ٹریبونل میں زیرالتوازمرے کےلوگوں کےنام ہیں اوران کی پہچان کرکےانہیں حذف کیا جائے۔

پرسار بھارتی بلڈنگ، چینی سفیر اور پی ٹی آئی بلڈنگ۔ (فوٹو بہ شکریہ: وکی میڈیا کامنس/ Adbh266 CC BY SA 3.0)

پی ٹی آئی کوریج کو ’اینٹی نیشنل‘ ٹھہرانے والے پرسار بھارتی کے خط کو نہیں ملی تھی اس کے بورڈ سے منظوری

جون میں چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی کے بیچ پی ٹی آئی کے ذریعےہندوستان میں چین کےسفیر کا انٹرویو کرنے پر پبلک براڈکاسٹر پرسار بھارتی نے اس کی کوریج کو اینٹی نیشنل قرار دیتے ہوئے اس کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔

فارنرس ٹربیونل، دھبری۔ (فوٹو: مسعود زمان)

آسام: سرحدی اضلاع کے فارنرس ٹربیونل میں مسلمان وکلاء کو ہٹا کر ہندوؤں کی تقرری کی گئی

مذہب کی بنیادپر فارنرس ٹربیونل کےسرکاری وکلاءکی تقرری سے پہلے ریاستی حکومت سرحدی اضلاع میں این آرسی سے باہر رہنے والے لوگوں کی شرح کو لےکر کئی بار اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔

کامروپ ضلع یں این آر سی کی حتمی فہرست کی  اشاعت کے بعد اپنا نام چیک کرتے مقامی  لوگ۔ (فوٹو پی ٹی آئی)

آسام این آر سی کا ایک سال: حتمی فہرست سے باہر ہو ئے 19 لاکھ لوگوں کا کیا ہوا

این آر سی کی حتمی فہرست کی اشاعت کے ایک سال بعد بھی اس میں شامل نہ ہونے والےلوگوں کو آگے کی کارروائی کے لیے ضروری ریجیکشن سلپ کا انتظار ہے۔ کارروائی میں ہوئی تاخیر کے لیے تکنیکی خامیوں سے لےکر کورونا جیسے کئی اسباب بتائے جا رہے ہیں، لیکن جانکاروں کی مانیں تو بات صرف یہ نہیں ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

وزارت دفاع کی ویب سائٹ سے ’چینی در اندازی‘ سے متعلق جانکاری غائب

وزارت دفاع کی ویب سائٹ سے غائب ہوئے دستاویزوں میں چین کے ذریعےلداخ کے مختلف حصوں میں تجاوزات کی بات کہی گئی تھی۔یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے جون میں‘کسی کے ہندوستانی سرحد میں نہ آنے’ کے دعوے کے الٹ ہے۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

ملک گیر بائیکاٹ کے بیچ ہندوستان نے چینی کمپنی سے خریدا کورونا جانچ کٹ

خصوصی رپورٹ: کووڈ 19سےمتعلق کاموں کو دیکھنے کے لیے آئی سی ایم آر وزارت صحت کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے۔ ہندوستان اور چین کےمابین جاری کشیدگی اور چین کی کمپنیوں کے بائیکاٹ کی مانگ کے بیچ اس کی جانب سے 33 لاکھ کووڈ جانچ کٹ کے لیے ٹینڈر نکالا گیا تھا، جس میں13.10 لاکھ کی خریداری چینی کمپنی سے ہوئی ہے۔

AKI 30 JUne.00_22_51_03.Still004

کیا ہندوستانی فوج کی موت کا انتقام ٹک ٹاک پابندی ہے؟

ویڈیو: گزشتہ29 جون کو منسٹری آف انفارمیشن اینڈ ٹکنالوجی  نے ہندوستان میں چین کے 59 ایپ پر پابندی عائد کردی ہے۔ ان میں ٹک ٹاک، ہیلو، وی چیٹ، یو سی براؤزر جیسےاہم  ایپ بھی شامل ہیں۔ اس موضوع پر انٹرنیٹ فریڈم  فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹراپار گپتا سے دی […]

(علامتی تصویر،فوٹو: پی ٹی آئی)

کشمیری عوام کو دو مہینے کا ایل پی جی اسٹاک رکھنے کی ہدایت، وادی میں تشویش میں اضافہ

ایسا مانا جا رہا ہے کہ ایل اے سی پرہندوستان اور چین کے مابین جاری تعطل کے تناظرمیں یہ ہدایت دی گئی ہے، حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں قومی شاہراہ کے بند ہونے اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات کو دھیان میں رکھتے ہوئے لوگوں سے سلنڈر کا اسٹاک رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، نئی دہلی میں پرسار بھارتی کی بلڈنگ اور چین میں ہندوستانی  سفیروکرم مسری۔

چین معاملے پر انٹرویو سے خفا پرسار بھارتی نے پی ٹی آئی کو ’اینٹی نیشنل‘ کہا

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نےجمعہ کی شام کوچین میں ہندوستانی سفیر وکرم مسری کا بیان ٹوئٹ کیا تھا جو چین کے ہندوستان میں دراندازی نہیں کرنے کے وزیراعظم نریندر مودی کے دعوے کے برعکس تھا۔ اس کے بعد پبلک براڈکاسٹر پرسار بھارتی نے پی ٹی آئی کے ساتھ تمام تعلقات کوتوڑنے کی دھمکی دی ہے۔

(فوٹو: رائٹرس)

گلوان گھاٹی: سیٹلائٹ تصویروں میں دکھائی دیے چین کے بنائے ڈھانچے

اسپیس ٹکنالوجی کمپنی میکسرکی جانب سے جاری کی گئیں تصاویردکھاتی ہیں کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول(ایل اے سی)کےنزدیک چین نے دفاعی نقطہ نظرسے ڈھانچے بنائےہیں۔ماہرین کے مطابق ان کی طرف سے اسی کے ذریعے ہندوستانی سرحدمیں دراندازی کی گئی ہوگی۔تصویروں میں ٹینک وغیرہ اورہتھیار سے لیس گاڑیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔

(فوٹوبہ شکریہ: cinestaan.com)

ہندوستان اور چین کے دوستانہ تعلقات کی مثال ہے ڈاکٹر کوٹنس کی امر کہانی

خواجہ احمد عباس کی سنیمائی زندگی اور ان کےتخلیقی استعداد کے بارے میں بہت سی باتیں کہی اورلکھی جا چکی ہیں، لیکن آج ہندستان اور چین کے بیچ جاری کشیدگی میں ان کےناول ڈاکٹر کوٹنس کی امر کہانی کی اہمیت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

نئی دہلی میں ویڈیو کانفرنسنگ کےذریعے ہندوستان- چین سرحدی تنازعے پر کل جماعتی اجلاس  کے دوران وزیر اعظم  نریندر مودی۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

حکومت کہہ رہی ہے یہ سیاست کا وقت نہیں ہے، لیکن وہ خود کیا کر رہی ہے

اپوزیشن کے سوال کرنے کو چھوٹا پن بتایا جا رہا ہے۔ 20 جوانوں کی ہلاکت کے بعد کہا گیا کہ بہاررجمنٹ کے جوانوں نے شہادت دی،یہ بہار کے لوگوں کے لیےفخر کی بات ہے۔دوسری ریاستوں کے جوان بھی مارے گئے، ان کا نام الگ سے کیوں نہیں؟ صرف بہار کا نام کیوں؟ کیا یہ بیہودگی نہیں ہے؟

چینی صدر اور ہندوستان کے وزیراعظم۔ (فوٹو: رائٹرس)

کیوں چین کے ساتھ تجارت پر پابندی ہندوستان کے لیے منافع بخش نہیں ہے

ہندوستان اور چین کے مابین تجارتی پابندیاں عائدکرنے سے سب سے زیادہ نقصان متوسط طبقہ اورکم آمدنی والے لوگوں کوبرداشت کرنا پڑےگا۔ ہندوستان میں چین کے بنے سامانوں کی مانگ اس لیے زیادہ ہے، کیونکہ دوسرے ممالک کے سامانوں کے مقابلےیہ سستے اور ہندوستان کی بڑی آبادی کی صلاحیت کے مطابق دستیاب ہیں۔

فوٹو: وکی پیڈیا

لداخ: جو کبھی متحدہ ہندوستان، تبت، چین، ترکستان اور وسط ایشیا کی ایک اہم گزر گاہ تھا…

افغانستان کی طرح یہ خطہ بھی عالمی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں یعنی گریٹ گیم کا شکار رہا ہے۔ مغلوں اور بعد میں برطانوی حکومت نے لداخ پر بر اہ راست علمداری کے بجائے اس کو ایک بفر علاقہ کے طور پر استعمال کیا۔

AKI 23 June 2020.00_11_04_04.Still002

چین پر منموہن سنگھ نے مودی کو یاد دلایا راج دھرم

ویڈیو: ہندوستان-چین سرحدپرکشیدگی کے مدنظر19 جون کوکل جماعتی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان پر ہوئے تنازعہ کے بعد سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ قومی سلامتی، حکمت عملی اور سرحدوں کے مدعے پر انہیں سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔ اس موضوع دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی کا نظریہ

AKI 23 June 2020.00_12_06_22.Still004

میڈیا بول: چینی دراندازی کے بہانے کورونا کی ناکامی پر پردہ ڈالتے چینل

ویڈیو: پچھلے کئی دنوں سے ہندوستان-چین سرحد پر جاری کشیدگی کی وجہ سے ملک میں کورونا وائرس سے ہو رہی اموات کو میڈیا اور سرکار نظر اندازکر رہی ہے۔ملک میں بڑھ رہی غریبی اور بےروزگاری پر نہ تو سرکار کی کوئی توجہ ہے اور نہ ہی میڈیا کی۔ اسی موضوع پر سینئر صحافی ارملیش کا نظریہ۔

لداخ کے پاس بالٹال میں ایک عارضی  کیمپ کے پاس موجودہندوستانی فوج۔ (فوٹو: رائٹرس)

سال 2016 سے 2018 کے بیچ چینی فوج نے 1025 بار سرحد پردر اندازی کی: حکومت

لداخ کی گلوان گھاٹی میں ہندوستان اور چین کے جوانوں کے بیچ پرتشدد جھڑپ میں 20 ہندوستانی جوانوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے مابین رشتوں میں تلخی آگئی ہے۔ وہیں ہندوستان میں اس کو لےکر سیاسی بیان بازی بھی تیز ہو گئی ہے۔

Don`t copy text!