Ram Navami

نورالحسن کے گیراج میں جلی ہوئی ٹرک۔(فوٹو :امیش کمار رائے /دی وائر)

بہار :فساد متاثرہ دکانداروں کو کیوں لگ رہا ہے کہ نتیش حکومت ان کو ٹھگ رہی ہے؟ 

گراؤنڈ رپورٹ :بہار کے اورنگ آباد میں مارچ میں رام نومی کے وقت ہوئے فرقہ وارانہ تشدد میں کئی دکانوں میں لوٹ پاٹ کرکے آگ لگا دی گئی تھی۔اس وقت نتیش حکومت نے متاثر دکانداروں کو معاوضہ دینے کی بات کہی تھی، لیکن چار مہینے کے بعد بھی زیادہ تر دکانداروں کو ایک روپیہ بھی معاوضہ نہیں ملا ہے۔

علامتی فوٹو:پی ٹی آئی

بجرنگ دل پر اب تک پابندی کیوں نہیں؟

تنظیمیں چاہے کوئی بھی ہوں ان سب کی فکر ایک ہی ہے: ہندو دھرم کی رکشا کے نام پر مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں سے بے انتہا نفرت کا اظہار اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے جھوٹ اور فریب کے ساتھ تشدد اور دہشت گردی کا استعمال۔

Hindu Putra News Laundry

خاص رپورٹ:بہارمیں رام نومی کی یاترا کے لیے کس نے دیں تلواریں؟

آن لائن ہزاروں کی تعداد میں تلواریں ایڈوانس میں ہی خریدی گئی تھیں۔یہاں ایک سوال اٹھ سکتا ہے کہ کیا واقعی آن لائن تلوار خریدنا اتنا آسان ہے کہ کوئی بڑی تعداد میں اس کو خرید سکتا ہے؟ اس سوال کا سیدھا سا جواب ہے ہاں۔

تشدد کے بعد رانی گنج میں گشت کرتے پولیس اہلکار/فوٹو:پی ٹی آئی

آسنسول کے امام نےقائم کی مثال ،کہا؛’بدلے کی بات کریں گے تو میں شہر چھوڑ کر چلا جاؤں گا‘

’میں امن چاہتا ہوں۔ میرا بیٹا تو جا چکا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ کوئی خاندان اپنے عزیزوں سے محروم ہوجائے۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ بدلا لیا گیا تو میں آسنسول چھوڑ دوں گا ۔اگر آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں تو انگلی بھی نہیں اٹھائیں گے۔