Ranjan Gogoi

جسٹس رنجن گگوئی اور ائیرمارشل انجن گگوئی،فوٹو: پی ٹی آئی/bharat-rakshak dot com

ریٹائرمنٹ کے بعد گگوئی بندھوؤں پر حکومت کی مہربانی

سابق سی جے آئی رنجن گگوئی کو صدر رام ناتھ کووند کے ذریعے راجیہ سبھا ممبر نامزدکئے جانے سے پہلے گزشتہ جنوری میں صدر نے ان کے بھائی ریٹائرڈائیرمارشل انجن گگوئی کونارتھ ایسٹرن کاؤنسل کا کل وقتی ممبر نامزد کیاتھا، جبکہ انہوں نے اس شعبے میں زیادہ عرصے تک کام نہیں کیا ہے۔

دی ٹیلی گراف اخبار میں شائع خبر

راجیہ سبھاکے لیے رنجن گگوئی کو نامزد کرنے سے متعلق خبر پر ’دی ٹیلی گراف‘ اخبار کو نوٹس

ملک کے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کئے جانے کولےکر انگریزی اخبار ’د ی ٹیلی گراف‘ نے 17 مارچ کو ایک خبر شائع کی تھی، جس کےعنوان میں صدر جمہوریہ کووند کا نام مبینہ طور پر طنزیہ انداز میں لکھا گیا تھا۔

فوٹو: پی ٹی آئی

جسٹس ایس اے بوبڈے نے ہندوستان کے 47 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لیا

ایس اے بوبڈے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ وہ کئی اہم بنچ کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ممبئی میں مہاراشٹر نیشنل لاء یونیورسٹی اور ناگپور میں مہاراشٹر نیشنل لاء یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں۔

ایودھیا زمین تنازعہ معاملے میں پانچ رکنی بنچ کے جج

ایودھیا معاملے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے پانچ جج کون ہیں؟

رام جنم بھومی- بابری مسجد زمینی تنازعہ معاملے میں سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی بنچ نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس بنچ میں چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدا لنذیر شامل ہیں۔

 جسٹس شرد ارویند بوبڈے۔ (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

کالجیئم میں خاطر خواہ شفافیت، اس کے انکشاف کی ضرورت نہیں: متوقع سی جے آئی بوبڈے

ملک کے اگلے چیف جسٹس شرد ارویند بوبڈے نے یہ بھی کہا کہ حکومت ججوں کی تقرری میں دیری نہیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی معاملے کی سماعت سے ہٹنے سےمتعلق سے جج کو کوئی وجہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

2019 کی پہلی ششماہی میں بچوں سے ریپ کے 24 ہزار سے زیادہ معاملے درج ہوئے

سپریم کورٹ نے ملک میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ریپ کے معاملوں پراز خود نوٹس لیتے ہوئے اس بارے میں ہدایات تیار کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ سی جے آئی کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ یہ چونکانے والا ہے کہ اس سال اب تک درج 24 ہزار سے زیادہ معاملوں میں سے صرف 6449 معاملوں میں شنوائی شروع ہوئی ہے۔

سپریم کورٹ (فوٹو : پی ٹی آئی)

غیر ملکی شہریوں کی حراست کا معاملہ: سپریم کورٹ نے آسام حکومت کو لگائی پھٹکار

آسام میں غیر ملکی لوگوں کی حراست سے جڑے ایک معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے پوچھا کہ غیر ملکی شہری کیسے مقامی آبادی کے ساتھ گھل-مل گئے اور ان کا پتا لگانے کے لئے ریاستی حکومت کیا کر رہی ہے۔ عدالت نے آسام کے چیف سکریٹری کو طلب کیا۔

Don`t copy text!