right to privacy

شہلا رشید، فوٹو: انسٹا گرام

ہائی کورٹ نے شہلا رشید کے خلاف پروگرام پر زی نیوز اور سدھیر چودھری سے جواب طلب کیا

نومبر 2020 میں زی نیوز کی ایک نشریات میں شہلا رشید کے والد کا انٹرویو دکھایا گیا تھا، جس میں انہوں نے شہلا پر دہشت گردانہ فنڈنگ سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔ شہلا نے دہلی ہائی کورٹ میں دائر عرضی میں مطالبہ کیا ہے کہ چینل ان سےغیرمشروط معافی مانگے۔

شہلا رشید، فوٹو: پی ٹی آئی

شہلا رشید کے خلاف زی نیوز کی نشریات سے این بی ڈی ایس اے ناراض، ویڈیو ہٹانے کی ہدایت

نومبر 2020 میں زی نیوز کی ایک نشریات میں شہلا رشید کے والد کا انٹرویو دکھایا گیا تھا، جس میں انہوں نے شہلا پر دہشت گردانہ فنڈنگ ​​سے متعلق سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام لگایا تھا۔این بی ڈی ایس اے نے یہ کہتے ہوئے کہ اس نشریات میں غیرجانبداری کا فقدان تھا، چینل سے اس کی ویب سائٹ سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارموں سے اس ویڈیو کو ہٹا نےکوکہا ہے۔

Aadhaar-1200x560-Illustration-by-The-Wire

پانچ سو سے زائد افراد اور 23 تنظیموں نے آدھار-ووٹر آئی ڈی لنک کی مخالفت کی، کہا-بےحد خطرناک

الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ سے‘فرضی ووٹر’کو باہر نکالنے کا حوالہ دیتے ہوئے ووٹر آئی ڈی کو آدھار سے لنک کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ حالانکہ جانکاروں نے کہا کہ جب ووٹر لسٹ کے مقابلے آدھار ڈیٹابیس میں پہلے سے ہی زیادہ خامیاں ہیں تو اسے ووٹر آئی ڈی سے جوڑکر حل کیسے نکالا جا سکےگا۔

جسٹس ارون مشرا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن  کے اگلے چیئرمین ہوں گے سابق جج جسٹس ارون مشرا

اس عہدے کے لیے تین سابق چیف جسٹس کو بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا، لیکن ان سب کو درکنار کرکےسلیکشن کمیٹی نے جسٹس ارون مشرا کو ترجیح دیا۔ پچھلے سال فروری میں سپریم کورٹ میں جج کےعہدے پررہتے ہوئےانہوں نےوزیر اعظم مودی کی تعریف کی تھی، جس کی وجہ سے ان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ وہ کس حد تک سرکار کے قریبی ہیں۔

شہلا رشید، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک

شہلارشید کے خلاف توہین آمیز اور ذاتی مواد شائع کر نے سے ان کے والد اور میڈیا پر روک

شہلارشید، ان کی والدہ زبیدہ اختر اور بہن آصمہ رشید نے یہ کہتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا کہ ان کے والد عبدالرشید شورا جھوٹے اور بیہودہ الزام لگاکر ان کی عزت کو کم کرنے کا کام کر رہے ہیں، جس میں انہیں ملک مخالف کہنا تک شامل ہے۔ مدعا علیہان میں عبدل، کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس، فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور گوگل شامل ہیں۔

جسٹس ارون مشرا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

سپریم کورٹ اس سطح پر آگئی ہے کہ جج بار سے خوف زدہ ہو نے لگے ہیں: بار ایسوسی ایشن صدر

بدھ کو ریٹائر ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس ارون مشرا کو ان کے ساتھیوں کی جانب سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے الوداعیہ دیا گیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر دشینت دوے نے اس تقریب میں انہیں بولنے کا موقع نہیں دیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے ملک کے چیف جسٹس کوخط لکھا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران ہاوڑہ کے ایک شیلٹر ہوم میں بےگھر لوگ(فوٹو: رائٹرس)

ارندھتی رائے کی خصوصی تحریر: کورونا وائرس کی وبا نے معاشرے کی بیماریوں کو بے نقاب کردیا ہے

جس طرح کورونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے اور وہاں موجود بیماریوں کے اثرات کو تیز کر دیتا ہے ، ٹھیک اسی طرح اس نے مختلف ممالک اور معاشرےمیں رسائی حاصل کر کےان کی کمزوریوں کو بے نقاب کردیا ہے۔

جسٹس بی این شری کرشنا۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)

آروگیہ سیتو ایپ کے استعمال کو لازمی بنانا غیرقانونی: جسٹس بی این شری کرشنا

پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کا پہلا مسودہ لےکر آنے والی کمیٹی کے چیئرمین جسٹس بی این شری کرشنا نے کہا کہ آروگیہ سیتو کے استعمال کو لازمی بنانے کے لیے جاری احکامات کو خاطر خواہ قانونی جواز نہیں مانا جا سکتا ہے۔

(فوٹوبہ شکریہ: فیس بک/MyGovIndia)

آروگیہ سیتو کو لےکر نئے احکامات جاری، ڈیٹا سے چھیڑ چھاڑ پر جیل کا اہتمام

آج 12 مئی سے شروع ہو رہی اسپیشل راجدھانی ٹرینوں کے مسافر کے لیے آروگیہ سیتو ایپ کولازمی کر دیا گیا ہے۔مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے ضابطوں کے بعد ایپ کا ڈیٹا اکٹھا ہونے کے ٹھیک 180 دن بعد ڈی لٹ ہو جائےگا۔

mcms

شہریوں کے تحفظ اور پرائیویسی کو داؤ پر لگارہا ہے آروگیہ سیتو ایپ

حکومت کا دعویٰ کہ اس ایپ کے ذریعے کچھ خاص دوری تک کے ہی انفیکشن کی جانکاری مل سکتی ہے۔ حالانکہ ایک فرانسیسی ہیکر نے پی ایم او اوروزارت دفاع جیسی ہائی پروفائل جگہوں کا ڈیٹاعوامی کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ اس ایپ کے ذریعے ملک کے کونے کونے کی جانکاری مل سکتی ہے۔

Aarogya-Setu-Collage

آروگیہ سیتو ایپ پر کیوں اٹھ رہے ہیں سوال

ملک میں بڑھتے کو روناانفیکشن کے معاملوں کے بیچ مرکزی حکومت نے آروگیہ سیتو موبائل ایپ لانچ کیا ہے، جس کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کووڈ 19 خلاف لڑائی میں ایک اہم قدم بتایا ہے۔ حالانکہ ایپ کی صلاحیت کو لے کر ماہرین کی رائے سرکار کے دعووں کے برعکس ہے۔

جسٹس بی این شری کرشنا،فوٹو بہ شکریہ:Rizvi Institute of Management Studies and Research

پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل بےحد خطرناک، یہ ملک کو ’آرویلین اسٹیٹ‘ میں بدل سکتا ہے: جسٹس شری کرشنا

جسٹس بی این شری کرشنا کی صدارت میں پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کے پہلے مسودہ کو تیار کیا گیا تھا۔ حالانکہ حکومت نےاس میں کئی ترمیم کر دیے ہیں، جس کے تحت مرکز کو یہ حق ملتا ہے کہ وہ ‘ ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے مفاد میں’کسی سرکاری ایجنسی کو پرائیویسی کے اصولوں کےدائرے سے باہر رکھ سکتے ہیں۔

aadhaar-Reuters

پرائیویسی کے حق کے لئے سنگین خطرہ ہے آدھار

پرائیویسی کو بنیادی حق ماننے کےاُصول پر مبنی ہونے کےبجائے آدھارحقیقت میں اس کی مخالفت میں کھڑا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آدھار پر پھر سے غور و فکر کی ضرورت ہے۔ پرائیویسی کو شہریوں کا بنیادی حق قرار دینے والے سپریم کورٹ کے فیصلے […]

فوٹوبشکریہ:kylaborg/Flickr, CC BY 2.0)

پرائیویسی کا حق اور ہمارا معاشرہ

پرائیویسی کےحق  پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اقتدار اور معاشرے کے موقف کے بارے میں مجموعی طور پر سوچنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ کو معلوم ہو کہ چینی موبائل کمپنیوں سے لےکر، امریکی گوگل سے فیس بک، واٹس ایپ تک نہ جانے کتنی ذاتی کمپنیاں […]

aadhaar-right-to-privacy-supreme-court-social

پرائیوسی کے حق کی نگرانی ؟

پرائیوسی کے حق کوعام طور پر یوں سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک فرد کو اپنے نجی معاملات کو راز رکھنے کا حق دیتا ہے اور اس میں کسی بھی طرح کی مداخلت کو ناجائز مانا جاتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں یہ حق آئینی طور پر موجود […]

RightToPrivacy

رازداری (پرائیویسی) کا حق بنیادی حقوق کے زمرہ میں: سپریم کورٹ

چیف جسٹس جے ایس کیہئر کی صدارت والی آئینی بنچ نے آج کہا کہ رازداری کا حق بنیادی حقوق کے زمرہ میں آتا ہے۔ اس سلسلہ میں آئینی بینچ نے ایم پی سنگھ اور کھڑگ سنگھ معاملے میں عدالت عظمی کے پہلے کے فیصلے کو بھی پلٹ دیا۔ […]